کیا عبقری کی طرح حکیم الامت بھی من گھڑت تعویذات دیتے تھے

دوائی اور علاج ایک وسیلہ ہے شفاء دینے والی ذات اللہ رب العزت ہی کی ہے اسی طرح عملیات بھی ایک وسیلہ ہے اور شفاء من جانب اللہ ہی ہوتی ہے۔ شیخ الوظائف کے کلینک پر جائیں تو وہاں بڑے واضح حروف میں یہ الفاظ لکھے ہوتے ہیں۔ ”نہ دعویٰ نہ وعدہ شفاء من جانب اللہ“

اسی لیے بزرگانِ دین کا یہ معمول تھا کہ جب بھی ان کے پاس کوئی پریشان حال آتا وہ اسے کسی نہ کسی بہانے سے اللہ کے نام کے ساتھ جوڑتے تاکہ وہ شخص کسی غیر اللہ کے پاس جا کر اللہ اور اس کے رسول سے دور ہی نہ ہو جائے۔۔۔! ایسے ہی ایک بزرگ کے حالات پیشِ خدمت ہیں:

حکیم الامت مولانا اشرف علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احقر کو حضرت مرشدی سیدی حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا تھا اگر کوئی حاجت مند تعویذ وغیرہ لینے آئے تو انکار مت کیا کرو جو خیال میں آیا کرے لکھ دیا کرو چنانچہ احقر کا معمول ہے کہ اس کی حاجت کے مطابق کوئی آیاتِ قرآنی یا کوئی اسم الٰہی سوچ کر لکھ دیتا ہوں، اور بفضلہ تعالیٰ اس میں برکت ہوتی ہے۔

چنانچہ ایک خاتون کی مانگ بار بار کوشش کے باوجود سیدھی نہ نکلتی تھی، احقر نے کہا ”اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ“ پڑھ کر مانگ نکالو چنانچہ اس کا پڑھنا تھا کہ مانگ سیدھی نکل آئی۔ احقر نے یہ حکایت اس لیے بیان کی ہے کہ اگر کوئی طالبِ صادق بھی معمول کو اختیار کرے تو نفع اور برکت کی امید ہے۔

یاد رکھیں! عبقری وظائف اور اعمال بناتا نہیں بتاتا ہے اور مشاہدہ کسی دلیل کا محتاج نہیں ہوتا۔۔۔! بس یہ دیکھا جائے کہ اس میں قرآن وسنت کے خلاف کوئی دلیل نہ ہو۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026