کیا شیخ الوظائف لوگوں کا ایمان خراب کر رہے ہیں ۔۔۔!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے اپنے دروس میں کئی مرتبہ یہ واقعہ ارشاد فرمایا اور ابھی ربیع الاول 1443 ہجری مطابق 2021 کے بیان میں فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس سے سلام کا جواب آنا اور مصافحہ کے لیے دستِ مبارک باہر نکلنے کے واقعات ہمارے کئی اکابرین کی زندگی میں موجود ہے تو اس بات کو عقل کی ترازو میں تولنے والے چند لوگوں نے یہ کہہ کر مسترد کرنے کی کوشش کی کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔۔۔ تو ایسے احباب کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ باتیں عقل سے نہیں عشق سے تعلق رکھتی ہیں اگر وہ اتنے نیک ہو گئے تھے کہ اللہ کریم نے ان پر بطورِ کرامت اس قسم کے حالات ظاہر کر دیے تھے تو آپ کو کیا اعتراض ہے۔۔۔!

سوال: علمائے کرام سے جاننا چاہتا ہوں کہ

1 حضرت حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کا جو واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے روضۂ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اس طرح سلام کیا ”السلام علیک یا جدی“ تو روضۂ اطہر سے جواب آیا ”وعلیک السلام یا ولدی“ تو کیا یہ صحیح ہے؟

2 حضرت عبد الرحمن ملا جامی رحمہ اللہ کا مشہور واقعہ کہ آپ نے چند اشعار: ”ز مہجوری برآمد جانے عالم ۔۔۔ ترحم یا نبی اللہ ترحم الخ“ جب روضۂ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پڑھا تو روضۂ مبارک سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ نکالا اور ملا جامی رحمہ اللہ نے مصافحہ کیا، حاضرین حاجیوں نے بھی یہ واقعہ اپنے آنکھوں سے دیکھا، یہ واقعہ صحیح ہے؟ کیوں کہ اہل حق علماء کرام اس کو خوب بیان کرتے ہیں اور بعض لوگ سخت انکار کرتے ہیں اور یہ بھی بتا دیں کہ یہ پورا واقعہ کون سی کتاب میں پایا جائے گا؟

جواب: سید الرسل و خاتم الانبیاء، سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں، اور آپ درود و سلام پڑھنے والوں کے درود و سلام کا جواب دیتے ہیں، یہ بات مسلم ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ دنیوی میں خرقِ عادت کے طور پر چند امور بطورِ معجزہ ظاہر ہوئے ہیں، اور ان کا صدور مسلم عقیدہ ہے اسی طرح آپ کی حیاتِ برزخیہ دنیویہ جسدیہ میں اگر اس طرح کے کچھ واقعات صادر ہوں تو یہ نہ عقلاً ممتنع ہے اور نہ ہی شرعاً، اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے، نیز اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ اولیاء کی کرامات حق ہیں، لہٰذا اگر اللہ کے کسی ولی کے لیے خرقِ عادت کے طور پر روضۂ اقدس سے سرورِ کائنات حضرت رسولِ مقبول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک باہر آئے، یا آپ کے روضۂ اقدس سے کسی کے سلام کا بلند آواز سے جواب دیا جائے تو یہ ممکن ہے، بلکہ اس قسم کے ایک نہیں کئی واقعات موجود ہیں، جن کو اہل علم نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے، ہر دست اس سلسلے میں سید احمد رفاعی رحمہ اللہ کا مشہور واقعہ ذکر ہے جو کہ مشہور صوفی بزرگ ہیں، ان کا واقعہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے ”الحاوی للفتاوی“ میں نقل کیا ہے:

سید احمد رفاعی رحمہ اللہ جب 555ھ میں حج سے فارغ ہو کر زیارت کے لیے حاضر ہوئے اور قبرِ اطہر کے مقابل کھڑے ہوئے تو یہ دو شعر پڑھے:

فِي حَالَةِ الْبُعْدِ رُوحِي كُنْتُ أُرْسِلُهَا

تُقَبِّلُ الْأَرْضَ عَنِّي فَهِيَ نَائِبَتِي

وَهَذِهِ نَوْبَةُ الْأَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ

فَامْدُدْ يَمِينَكَ كَيْ تَحْظَىٰ بِهَا شَفَتِي

ترجمہ: "دوری کی حالت میں، میں اپنی روح کو خدمتِ اقدس میں بھیجا کرتا تھا، وہ میری نائب بن کر آستانۂ مبارک چومتی تھی، اب جسموں کی حاضری کی باری آئی ہے، اپنا دستِ مبارک عطا کیجیے، تاکہ میرے ہونٹ اس کو چومیں۔”۔اس پر قبرِ شریف سے دستِ مبارک نکلا اور انہوں نے اس کو چوما۔ انتہی

وَفِي بَعْضِ الْمَجَامِيعِ: حَجَّ سَيِّدِي أَحْمَدُ الرِّفَاعِيُّ فَلَمَّا وَقَفَ تُجَاهَ الْحُجْرَةِ الشَّرِيفَةِ أَنْشَدَ

فِي حَالَةِ الْبُعْدِ رُوحِي كُنْتُ أُرْسِلُهَا

تُقَبِّلُ الْأَرْضَ عَنِّي فَهِيَ نَائِبَتِي

وَهَذِهِ نَوْبَة… الْأَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ

فَامْدُدْ يَمِينَكَ كَيْ تَحْظَىٰ بِهَا شَفَتِي

فَخَرَجَتِ الْيَدُ الشَّرِيفَةُ مِنَ الْقَبْرِ الشَّرِيفِ فَقَبَّلَهَا”.

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے فضائل حج میں ”البنیان المشید“ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس وقت تقریباً نوے ہزار کا مجمع مسجدِ نبوی میں تھا، جنہوں نے اس واقعہ کو دیکھا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک کی زیارت کی، جن میں حضرت محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا نام نامی بھی ذکر کیا جاتا ہے۔

اسی طرح علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے سلام کے جواب آنے سے متعلق بھی واقعات نقل کیے ہیں، نمونہ کے طور پر چند کا تذکرہ ذیل میں ہے:

1۔ سید نور الدین ایجی شریف عفیف الدین رحمہ اللہ کے والد ماجد کے متعلق لکھا ہے کہ جب وہ روضۂ مقدسہ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا "السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ” تو سارے مجمع نے جو وہاں حاضر تھا سنا کہ قبر شریف سے "وعلیک السلام یا ولدی” کا جواب ملا۔

"وَفِي مُعْجَمِ الشَّيْخِ برهانِ الدِّينِ البِقَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي الْإِمَامُ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِي الْفَضْلِ النُّوَيْرِيُّ أَنَّ

السَّيِّدَ نُورَ الدِّينِ الْإِيجِيَّ وَالِدَ الشَّرِيفِ عَفِيفِ الدِّينِ لَمَّا وَرَدَ إِلَى الرَّوْضَةِ الشَّرِيفَةِ وَقَالَ: السَّلَامُ

عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، سَمِعَ مَنْ كَانَ بِحَضْرَتِهِ قَائِلًا مِنَ الْقَبْرِ يَقُولُ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَا وَلَدِي”.

2۔ شیخ ابو نصر عبد الواحد بن عبد الملک بن محمد بن ابی سعد الصوفی الکرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حج سے فراغت کے بعد زیارت کے لیے حاضر ہوا، حجرۂ شریفہ کے پاس بیٹھا تھا کہ شیخ ابوبکر دیار بکری رحمہ اللہ تشریف لائے، اور مواجہہ شریفہ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کیا "السلام علیک یا رسول اللہ” تو میں نے حجرۂ شریفہ کے اندر سے یہ آواز سنی "وعلیک السلام یا ابا بکر” اور ان سب لوگوں نے جو اس وقت حاضر تھے اس کو سنا۔

"وَقَالَ الْحَافِظُ مُحِبُّ الدِّينِ بْنُ النَّجَّارِ فِي تَارِيخِهِ: أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ دَاوُدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ هِبَةِ اللهِ بْنِ الْمُسْلِمَةِ

أَنَا أَبُو الْفَرَجِ الْمُبَارَكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ النَّقُورِ قَالَ: حَكَى شَيْخُنَا أَبُو نَصْرِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ عَبْدِ

الملكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعْدٍ الصُّوفِيِّ الْكَرْخِيِّ قَالَ: حَجَجْتُ وَزُرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا أَنَا

جَالِسٌ عِنْدَ الْحُجْرَةِ إِذْ دَخَلَ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ الدِّيَارُ بَكْرِيُّ وَوَقَفَ بِإِزَاءِ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

وَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ دَاخِلِ الْحُجْرَةِ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أَبَا بَكْرٍ،

وَسَمِعَهُ مَنْ حَضَرَ”.

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے ”فضائلِ حج“ اور ”فضائلِ درود شریف“ میں اس طرح کے کئی واقعات کئی کتابوں سے نقل کیے ہیں، لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کے لیے اس قسم کے واقعات کا پیش آجانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ آپ نے جن دو واقعات کا ذکر کیا ہے ان میں سے پہلا واقعہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے ”فضائلِ درود شریف“ میں نقل کیا ہے:

1 حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ میں نے ملا جامی رحمہ اللہ کی کتاب ’یوسف زلیخا‘ اپنی دس سال کی عمر میں والد صاحب سے پڑھی، اور ان ہی سے یہ قصہ سنا کہ حضرت مولانا جامی رحمہ اللہ یہ نعت (جو یوسف زلیخا نامی کتاب کے شروع میں ہے) لکھنے کے بعد جب ایک مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے، ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضۂ اقدس کے پاس کھڑے ہو کر اس نظم کو پڑھیں گے، چنانچہ جب حج کے بعد مدینہ منورہ حاضری کا ارادہ کیا تو امیرِ مکہ نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا کہ اس کو (یعنی جامی کو) مدینہ نہ آنے دیں، امیرِ مکہ نے ممانعت کر دی، مگر ان پر جذب و شوق اس قدر غالب تھا کہ یہ چھپ کر مدینہ منورہ کی طرف چل دیے، امیرِ مکہ نے دوبارہ خواب دیکھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ آ رہا ہے اس کو یہاں نہ آنے دو، امیرِ مکہ نے آدمی دوڑائے اور ان کو راستے سے پکڑوا کر بلایا، ان پر سختی کی اور جیل خانہ میں ڈال دیا، اس پر امیرِ مکہ کو تیسری مرتبہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ کوئی مجرم نہیں ہے، بلکہ اس نے کچھ اشعار کہے ہیں، جن کو یہاں آ کر میری قبر پر کھڑے ہو کر پڑھنے کا ارادہ کر رہا ہے، اگر ایسا ہوا تو قبر سے مصافحہ کے لیے ہاتھ نکلے گا جس میں فتنہ ہوگا، اس پر ان کو جیل سے نکالا گیا اور بہت اعزاز و اکرام کیا گیا۔

2 دوسرا واقعہ ’الجمعیۃ، شیخ الاسلام نمبر‘ میں اس طرح مذکور ہے: مشہور عالم اور بزرگ مولانا مشتاق احمد انبیٹھوی مرحوم نے بیان فرمایا کہ ایک بار زیارتِ بیت اللہ سے فراغت کے بعد دربارِ رسالت میں حاضری ہوئی تو مدینہ طیبہ کے دورانِ قیام مشائخِ وقت سے یہ تذکرہ سنا کہ امسال روضۂ اطہر سے عجیب کرامت کا ظہور ہوا ہے، ایک ہندی نوجوان نے جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر صلاۃ و سلام پڑھا تو دربارِ رسالت سے ”وعلیکم السلام یا ولدی“ کے پیارے الفاظ سے اس کو جواب ملا۔ اس واقعہ کو سن کر قلب پر ایک خاص اثر ہوا۔ مزید خوشی کا سبب یہ بھی تھا کہ یہ سعادت ہندی نوجوان کو نصیب ہوئی ہے۔ دل تڑپ اٹھا اور اس ہندی نوجوان کی جستجو شروع کی؛ تاکہ اس محبوب بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو سکوں اور خود اس واقعہ کی بھی تصدیق کر لوں۔ تحقیق کے بعد پتا چلا کہ وہ ہندی نوجوان سید حبیب اللہ مہاجر مدنی رحمہ اللہ کا فرزندِ ارجمند ہے۔ گھر پہنچا ملاقات کی، تنہائی پا کر اپنی طلب و جستجو کا راز بتایا، ابتدا میں خاموشی اختیار کی، لیکن اصرار کے بعد کہا: ”بے شک جو آپ نے سنا وہ صحیح ہے۔“ یہ نوجوان تھے مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ۔

نیز حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ نے درسِ ختمِ بخاری شریف جامع مسجد سورتی، رنگون، برما میں حضرت شیخ الاسلام حسین احمد مدنی صاحب رحمہ اللہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: "میں نے پڑھا ہے اور اپنے بعض بزرگوں سے سنا ہے کہ ایک مرتبہ آپ روضۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہوئے، سلام پڑھا ’الصلاۃ والسلام علیک یا رسول اللہ‘۔ روضۂ اقدس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ’وعلیک السلام یا ولدی‘۔

لہذا اس طرح کے واقعات کا ظہور کوئی ان ہونی بات ہے، نہ ہی ناممکن ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں بے شمار معجزات عطا فرمائے، دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی بطورِ معجزہ کسی خرقِ عادت کا ظہور اہل سنت والجماعت کے ہاں باعثِ تعجب یا انکار نہیں ہے، بلکہ یہ محبت اور دلی شوق کی باتیں ہیں، اللهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه! فقط واللہ اعلم۔

امام سیوطی رحمہ اللہ نے الحاوی للفتاوی میں اس واقعے کو نقل کیا ہے اور اسی کے حوالے سے حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ نے فضائل اعمال (2/ 130، ط: ادارہ اشاعتِ دینیات پرائیوٹ لمیٹڈ) میں حج کے فضائل کے تحت اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم، دارالافتاء، دارالعلوم انڈیا۔

اس قسم کے مزید حوالہ جات (ابن عساکر و مستدرک حاکم۔ شرح الصدور، صفحہ 78۔ شوقِ وطن ص 23، مصنف: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ محمد علی روڈ بمبئی۔ اشعۃ اللمعات ج 1 ص 715۔ البصائر ص 38۔ تاریخ بغداد ص 123 ج 1۔ ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ص 41 ج 1، زاہد الکوثری، مقالات الکوثری ص 38 ج 1۔ نفحات الانس صفحہ 193۔ بیاضِ مجلسِ نفیس، ص 310، حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہہم، ناشر: صفہ ٹرسٹ لاہور۔ آپ بیتی نمبر 5، ص 11۔ سوانح قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی، ج 1، ص 275،

ناشر: حضرت مولانا محمد یوسف متالا، دارالعلوم العربیہ الاسلامیہ، انگلینڈ۔ تصوف کا انسائیکلو پیڈیا، ص 61، مصنف: امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیریؒ، مترجم: مولانا محمد عبدالنصیر بن عبدالبصیر العلوی، ناشر: مکتبہ رحمانیہ، لاہور۔ اخبار الاخیار، ص 78، از شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ، مقدمہ: مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ، ناشر: دارالاشاعت، کراچی۔ خطہ پاک اوچ، صفحہ 298 بحوالہ کتاب: مشائخ احمد آباد، ج 1، ص 136۔ تجلیاتِ غفوری، ص 77، تالیف: مولانا محمد روح اللہ نقشبندی غفوری، ناشر: مکتبہ عمر فاروقؒ۔ تذکرۂ غوثیہ، ص 81، مرتبہ: مولانا شاہ گل حسنؒ، ناشر: خزینۂ علم و ادب لاہور۔

مقتدائے اسلام اور صوفیائے کرامؒ کے آخری لمحات ص 446 مصنف: مولانا روح اللہ صاحب نقشبندیؒ نا شر: دراالاشاعت کراچی۔ خطباتِ حکیم الاسلام، ج 7، ص 16، ترتیب: مولانا نعیمہ احمد مدرسہ جامعہ خیرالمدارس ملتان، ناشر: مکتبہ امدادیہ، ملتان۔ المہند اور اعتراضات کا علمی جائزہ، صفحہ 67، تالیف: مولانا محمد الیاس گھمن، ناشر: دارالایمان۔ خوشبو والا عقیدہ یعنی عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم، صفحہ 99، افادات: ولی کامل الشیخ مولانا محمد حسن دامت برکاتہم، ناشر: ادارہ محمدیہ لاہور۔ یہ تو چند حوالہ جات ہیں ایسے اور سینکڑوں حوالہ جات پیش کیے جاسکتے ہیں۔

یہ بات جان لیں۔۔۔۔!

شیخ الوظائف وہی کچھ بتاتے ہیں، جو کچھ قرآن و سنت اور ہمارے اکابرین رحمہم اللہ کی زندگی میں موجود ہے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026