عبقری کی سچی وضاحت
انسان کے اوپر جو بھی حالات آتے ہیں وہ اس کے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے اور ان حالات میں درستگی کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ رب العزت کی طرف رجوع ہے اور رجوع کا بڑا ذریعہ اللہ کا ذکر ہے اور اس لیے شریعتِ مطہرہ میں ذکر کی کوئی قید نہیں کھڑے، بیٹھے، لیٹے حتیٰ کہ پاک ناپاک ہر حالت میں کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اسی وجہ سے شیخ الوظائف جو بھی مریض آتا ہے آپ سب سے پہلے اسے اللہ کے ذکر سے مانوس کرنے کیلئے فرماتے ہیں کہ آپ نے ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرنا ہے۔
تو ہو کسی بھی حال میں مولا سے لو لگائے جا
چند اہل علم کے فتاویٰ پیشِ خدمت ہیں:
سوال: السلام علیکم، حضرت! کیا ناپاکی کی حالت میں ذکر واذکار اور درود شریف پڑھ سکتے ہیں؟ وضاحت فرما دیں۔
جواب: ناپاکی کی حالت میں قرآن مجید میں جو دعائیں آئی ہیں، ان کو دعا کی نیت سے پڑھنا درست ہے، نیز ذکر و اذکار مثلاً: درود شریف، استغفار، کلمہ طیبہ یا کوئی اور وظیفہ پڑھنا بھی درست ہے۔
دلائل: الشامية: (293/1 ، ط: دار الفكر) (ولا بأس) لحائض وجنب (بقراءة أدعية ومسها وحملها وذكر الله تعالى، وتسبيح) (قوله بقصده) فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به. الهندية : (38/1، ط: دار الفكر) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب (No-108758)، دارالافتاء دارالاخلاص، کراچی۔
دارالافتاء انڈیا کا فتویٰ: جی ہاں ذکر بھی کر سکتے ہیں اور درود شریف بھی پڑھ سکتے ہیں۔ (فتویٰ جواب نمبر: 58523)
جامعہ علوم اسلامیہ کراچی کا فتویٰ: ناپاکی (جنابت یعنی غسل فرض ہونے) کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کے علاوہ، دیگر ذکر واذکار، دعائیں، اور درود شریف وغیرہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
(فتویٰ نمبر: 144004201070 دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن۔)
اللہ کریم کے فضل و کرم سے عبقری اور تسبیح خانہ کی بھرپور کوشش یہی ہے کہ بندہ مخلوق سے کٹ کر رب سے جڑنے والا بن جائے۔
