محترم قارئین! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تسبیح خانہ کے منبر سے بارہا 625 بار بسم اللہ الرحمن الرحیم کا تعویذ لکھنے اور اسے اپنے پاس رکھنے کا ذکر ہوتا ہے۔ ناقدین یہ اعتراض کرتے ہیں کسی خاص وقت اور خاص تعداد میں کوئی وظیفہ، عمل، نقش یا تعویذ لکھنا صحیح نہیں ہے۔
میں ان مخلصین کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اگر شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب حفظہ اللہ خاص وقت یا مخصوص دن کے اعمال و وظائف بتائیں تو یہ صحیح نہیں ہے لیکن شیخ الوظائف حفظہ اللہ کے علاوہ اگر کسی اور ذرائع سے ایسے اعمال یا وظائف ملیں تو ان کی تنقید کہاں چلی جاتی ہے؟ تسبیح خانہ لاہور میں جمادی الاول کی تیسری جمعرات 625 بار بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کا تعویذ لکھوایا جاتا ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کیا اس طرح کا کوئی عمل ہمارے ”اکابرین“ کی تعلیمات میں ہے یا یہ تسبیح خانہ کی بدعت ہے؟
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کے والد مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اپنی کتاب جواہر الفقہ میں لکھتے ہیں کہ "جو شخص یکم محرم کی پہلی تاریخ کو ایک سو تیرہ (113) مرتبہ پوری بسم اللہ الرحمن الرحیم کاغذ پر لکھ کر اپنے پاس رکھے گا ہر طرح کی آفات و مصائب سے محفوظ رہے گا، مجرب ہے۔” (جواہر الفقہ، جلد دوم، ص 187 مکتبہ دارالعلوم کراچی)
پس ثابت ہوا کہ تسبیح خانہ کے منبر سے شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب حفظہ اللہ قرآن وسنت یا اکابرین کی زندگی کے تجربات بیان فرماتے ہیں جو کسی بھی صورت میں بدعت نہیں ہو سکتے ہیں۔
والسلام و طالب دعا شریکِ دورہ حدیث جامعہ اشرفیہ لاہور
