کیا عبقری کی طرح حکیم الامت بھی من گھڑت تعویذات دیتے تھے

دوائی اور علاج ایک وسیلہ ہے شفاء دینے والی ذات اللہ رب العزت ہی کی ہے اسی طرح عملیات بھی ایک وسیلہ ہے اور شفاء من جانب اللہ ہی ہوتی ہے۔ شیخ الوظائف کے کلینک پر جائیں تو وہاں بڑے واضح حروف میں یہ الفاظ لکھے ہوتے ہیں۔ ”نہ دعویٰ نہ وعدہ شفاء من جانب اللہ“ اسی لیے بزرگانِ دین کا یہ معمول تھا کہ جب بھی ان کے پاس کوئی پریشان حال آتا وہ اسے کسی نہ کسی بہانے سے اللہ کے نام کے ساتھ جوڑتے تاکہ وہ شخص کسی غیر اللہ کے پاس جا کر اللہ اور اس کے رسول سے دور ہی نہ ہو جائے۔۔۔! ایسے ہی ایک بزرگ کے حالات پیشِ خدمت ہیں: حکیم الامت مولانا اشرف علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احقر کو حضرت مرشدی سیدی حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا تھا اگر کوئی حاجت مند تعویذ وغیرہ لینے آئے تو انکار مت کیا کرو جو خیال میں آیا کرے لکھ دیا کرو چنانچہ احقر کا معمول ہے کہ اس کی حاجت کے مطابق کوئی آیاتِ قرآنی یا کوئی اسم الٰہی سوچ کر لکھ دیتا ہوں، اور بفضلہ تعالیٰ اس میں برکت ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک خاتون کی مانگ بار بار کوشش کے باوجود سیدھی نہ نکلتی تھی، احقر نے کہا ”اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ“ پڑھ کر مانگ نکالو چنانچہ اس کا پڑھنا تھا کہ مانگ سیدھی نکل آئی۔ احقر نے یہ حکایت اس لیے بیان کی ہے کہ اگر کوئی طالبِ صادق بھی معمول کو اختیار کرے تو نفع اور برکت کی امید ہے۔ (عملیات کا پی نمبر 17۔ اعمالِ قرآنی ص 3 مصنف مولانا اشرف علی تھانوی، ناشر: دالاشاعت کراچی) یاد رکھیں! عبقری وظائف اور اعمال بناتا نہیں بتاتا ہے اور مشاہدہ کسی دلیل کا محتاج نہیں ہوتا۔۔۔! بس یہ دیکھا جائے کہ اس میں قرآن وسنت کے خلاف کوئی دلیل نہ ہو۔
عبقری میں جادو کی کاٹ کا ذکر بار بار کیوں کیا جاتا ہے

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے نئی نئی بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں اسی طرح دورِ حاضر میں جادوگر اور جادو بھی نت نئے طریقے سے ہماری جان مال اور عزت پر ڈاکہ ڈال رہا ہے جادو بڑی بڑی ہستیوں کیلئے بیماریوں حتیٰ کہ جان لینے کا بھی ذریعہ بنا ہے ذیل کی دو مثالیں اس موضوع کو سمجھانے کیلئے کافی ہیں۔ مولانا عبدالحی صاحب رحمہ اللہ کا جادو کی وجہ سے انتقال فرمایا مولانا عبدالحی صاحب بڑے صاحبِ کمال تھے تقریباً 38 یا 40 سال کی عمر ہوئی کسی نے جادو کر دیا تھا، مولوی صاحب کے سرہانے خون کی ایک شیشی دبی ہوئی نکلی، اس سے شبہ ہوا تھا کہ کسی نے جادو کیا اور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا، اس تھوڑی سی عمر میں بہت کام کیا، سمجھ میں نہیں آتا، وقت میں بہت برکت تھی، ہر فن سے مناسبت تھی، اور ہر فن کے خدمت کی۔ (عملیات و تعویذات کا پی نمبر 17) مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع رحمہ اللہ پر جادو کا اثر (مکتوب گرامی: حضرت اقدس مفتی محمد شفیع صاحب بنام حکیم الامت رحمہ اللہ) ناکارہ خادم تقریباً ایک ماہ سے بیمار ہے، ضعف اس قدر ہو گیا کہ نشست برخاست مشکل ہو گئی، میرے قویٰ تقریباً ساقط ہوتے جا رہے ہیں حالت روز بروز گرتی جاتی ہے۔ حضرت میاں صاحب مدظلہ نے اپنے طریقے کے مطابق، میری حالت کو دیکھا تو فرمایا کہ جادو کے اثرات بالکل نمایاں ہیں اور تمام اعضاء بدن میں اس کا اثر ہو چکا ہے، اس وقت زیادہ اہتمام سے ان کا علاج کر رہا ہوں، ڈیڑھ ماہ تک مختلف طبیبوں کا علاج کرتا رہا، ذرا برابر فائدہ محسوس نہ ہوا، حضرت والا بھی اگر کوئی تعویذ جادو کو دور کرنے کیلئے عطا فرمائیں تو انشاء اللہ تعالیٰ باعثِ برکاتِ عظیمہ ہوگا۔ جواب حکیم الامت رحمہ اللہ (تعویذ) ملفوف ہے (لپٹا ہوا ہے) پاس رکھیے اور بعد نمازِ فجر اگر کوئی محب (خیر خواہ، ہمدرد) چینی کی پلیٹ وغیرہ پر سورۂ فاتحہ اور یہ دعا لکھ کر دھو کر پلا دیا کرے تو زیادہ بہتر ہے۔ ”يا حَيُّ حينَ لا حَيَّ فِي ديمومَةِ مُلْكِهِ وبَقائِهِ ياحَيُّ“ (بحوالہ البلاغ کراچی، اشاعتِ خصوصی مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب ص 189) محترم قارئین! اب آپ ہی بتائیں جب اتنے بڑے بڑے اکابر پر جادو کا اثر ہو گیا ہے اسی وجہ سے عبقری جادو کے توڑ کیلئے عملیات پر اتنا زور دیتا ہے۔
شیخ الوظائف کا کیا مفاد ہے وجہ جان لیں

شیخ الوظائف دامت برکاتہم لاکھوں کی تعداد میں پودے لگانے کی کیوں ترغیب دیتے ہیں اور کیوں اس کی حفاظت کی تلقین کرتے ہیں، اس میں ان کا کیا مفاد ہے آئیے جانتے ہیں۔۔۔! آپ نے اپنے تمام مراکز خانقاہ تسبیح خانہ لاہور، درود محل لاہور، ہجویری محل شیخوپورہ، روحانی منزل مری، گوشہ درود و سلام کراچی، عبقری حویلی احمد پور شرقیہ میں لاکھوں کی تعداد میں پودے لگائے ہیں۔ اس میں آپ کے پیشِ نظر احادیثِ مبارکہ پر عمل کرنا ہے جن میں پودے لگانے کی ترغیب اور ان کی حفاظت کی تعلیم دی گئی ہے چند احادیثِ مبارکہ پڑھیے اور آپ کے جذبہ اتباعِ سنت کو داد دیجئے۔۔۔! 1 سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان نے کوئی درخت لگایا اور اس کا پھل آدمیوں اور جانوروں نے کھایا تو اس لگانے والے کے لیے صدقہ کا ثواب ہے۔“ (بخاری) 2 حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کہ جب مسلمان کوئی درخت یا کھیتی اگاتا ہے، پھر اس سے کوئی انسان، جانور یا کوئی بھی چیز کچھ کھا لیتی ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے۔“ (مسلم) 3 حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کہ جب کوئی شخص کوئی درخت اگاتا ہے تو جتنا پھل اس میں سے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بقدر اس کے لیے اجر لکھ دیتا ہے۔“ (مسند احمد) 4 حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس علم حاصل کرنے کی غرض سے کچھ طلبہ آئے، تو انھوں نے دیکھا کہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ درخت لگا رہے ہیں، تو ان طلبہ نے تعجب سے عرض کیا کہ آپ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو کر یہ دنیوی کام کر رہے ہیں؟ تو حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس شخص نے کوئی درخت اگایا، تو اس میں سے کوئی انسان، پرندہ یا کوئی اور جانور جو کچھ بھی کھاتا ہے تو اللہ اس کو اس کا اجر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ خشک نہ ہو جائے۔“ (الترغیب والترھیب) 5 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سات اعمال ایسے ہیں جن کا اجر و ثواب بندے کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے، حالانکہ وہ قبر میں ہوتا ہے: (1) جس نے علم سکھایا (2) یا نہر کھدوائی (3) یا کنواں کھودا (یا کھدوایا) (4) یا کوئی درخت لگایا (5) یا کوئی مسجد تعمیر کی (6) یا قرآن شریف ترکے میں چھوڑا (7) یا ایسی اولاد چھوڑ کر دنیا سے گیا جو مرنے کے بعد اس کے لیے دعائے مغفرت کرے۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد) 6 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اگر قیامت قائم ہونے لگے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو (جس کو وہ لگانا چاہ رہا ہو) تو اگر قیامت قائم ہونے سے پہلے اسے لگا سکتا ہے تو لگا لے۔“ (اتحاف الخیرۃ المہرۃ)
عبقری پر من گھڑت وظائف کا الزام تعلیماتِ اکابر کی روشنی میں

عبقری پر من گھڑت وظائف کا الزام لگانے والے تعلیماتِ اکابر سے ناآشنا ہیں انھیں یہ بھی پتا نہیں کہ من گھڑت کا مطلب کیا ہوتا ہے اگر یہی ہوتا ہے جو وہ بیان کرتے ہیں تو ان اعمال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو نہ قرآن میں ہیں اور نہ ہی احادیثِ مبارکہ میں بلکہ ہمارے اکابر کے مشاہدات میں ہیں کیا یہ سب حضرات بدعتی تھے۔۔۔! عالم ربانی محدث کبیر حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب بانی جامعہ مدنیہ جدید لاہور کی یاد میں نکلنے والے رسالے میں ذکر کیے جانے والے چند عملیات پیشِ خدمت ہیں: حزب البحر سے جنات کو دور کریں جادو اور جنات کے اثر کو رفع کرنے کیلئے حضرت جی رحمہ اللہ نے یہ وظیفہ بھی اسی مکتوب میں تحریر فرمایا ”دعائے حزب البحر“ جو مناجاتِ مقبول مطبوعہ تاج کمپنی کے آخر میں ہے صرف ایک بار پڑھتے رہیے، یہ سحر و جن کے علاج میں قوع التاثیر ہے، زیادہ سے زیادہ تین بار پڑھی جا سکتی ہے، صبح کے بعد عصر کے بعد اور مغرب کے بعد، ورنہ ایک مرتبہ فجر کے بعد بھی کافی ہوگی ان شاء اللہ! یہ دعا حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ کا معمول تھی۔ تین آیتیں پڑھیں اور تاثیرِ بے کمال پائیں وسوسوں کے دفعیے کیلئے ایک عجیب التأثیر عمل حضرت جی نے تحریر فرمایا: دفعیہ وساوس وغیرہ کیلئے ہر نماز میں سلام سے پہلے (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا) کی آیت اور (رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ) کی آیت ایک ایک بار پڑھ لیں، ان شاء اللہ بہت کافی ہوگی عجیب التأثیر ہے اور (رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا) والد صاحب رحمہ اللہ پڑھا کرتے تھے۔ (یہ مکتوب گرامی 9 جون 1977 کا ہے) یہ استخارہ کریں اور ہر مسئلہ کا حل پائیں حضرت جی اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ میرا آزمودہ اور غالباً ہر ایک کیلئے بے خطا استخارہ تو وہ ہے جو روایاتِ صحیحہ میں اور ترمذی شریف اور بہشتی زیور میں ہے، جو ”اللہم انی استخیرک“ سے شروع ہوتا ہے دن رات میں کسی بھی وقت دو رکعت نفل پڑھ کر سات مرتبہ پڑھتے رہیں اور معاملہ خدا کے سپرد رکھیں تو خود بخود جو کام بہتر ہوگا اس کے ازغیب اسباب پیدا ہو جائیں گے! یا از غیب رکاوٹ پیش آ جائے گی! آپ کتنا بھی چاہیں گے وہ کام نہ ہو سکے گا! اس کے بعد نہ سونا نہ خواب بلکہ تفویض الیٰ اللہ ہی کی جاتی ہے!!! اور اگر کسی کام میں عجلت ہو اور سات دن یا ہفتوں اس دعا کے پڑھنے کا موقع نہ ہو گھنٹوں میں کام طے کرنا ہو تو بھی ایک دفعہ دو رکعت پڑھ کر سات بار (یہ دعا) پڑھ کر وہ کام شروع کریں! اگر بہتر نہ ہوگا تو ہو ہی نہ سکے گا! ورنہ آسان ہوتا چلا جائے گا۔ باقی خواب والے استخارہ ایسے بے خطا نہیں ہوتے۔ وضاحت: یہ استخارہ تو حدیث میں موجود ہے لیکن اس میں جو سات مرتبہ پڑھنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے وہ طریقہ موجود نہیں ہے۔ (ماہنامہ انوارِ مدینہ لاہور، ص 37 شمارہ مئی 2021ء، بیادِ حالِ ربانی حضرت مولانا سید حامد میاں صاحبؒ)
شیخ الوظائف کے بارے میں ختمِ نبوت کے عالم نے کیا کہا ضرور پڑھیں

حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ ہر مکتبِ فکر کے علمائے کرام کا دل سے احترام کرتے ہیں اور جب بھی کوئی عالم دین تشریف لاتے ہیں تو حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر ان کی خدمت میں ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے مرکزی رہنما وخطیب جناب مولانا محمد اسماعیل صاحب شجاع آبادی مدظلہ ”تسبیح خانہ لاہور“ میں تشریف لائے (جو کہ عرصہ 30 سال سے شیخ الوظائف کو قریب سے جانتے ہیں) چند گھنٹے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کے ساتھ وقت گزارا۔ بعد ازاں معروف میگزین ”ہفت روزہ ختمِ نبوت“ میں ان کے تاثرات درج ذیل الفاظ میں شائع ہوئے۔ معروف طبیب وحکیم جناب حکیم طارق محمود چغتائی سے ان کے مطب میں ملاقات ہوئی اور کافی دیر مختلف امور پر ان سے گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ موصوف ماہرِ عملیات طبِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کئی ایک کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ ”ماہنامہ عبقری“ کے نام سے لاہور سے ایک ماہوار پرچہ بھی نکالتے ہیں، جس کی اشاعت بقول ان کے ہزاروں سے متجاوز ہے۔ شیخ الوظائف اکثر فرماتے ہیں عقیدہ ختمِ نبوت کا تحفظ ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے۔ (بحوالہ: ہفت روزہ ختمِ نبوت ص 24، 5 تا 12 صفر، مطابق 23 تا 30 ستمبر 2020 شمارہ 36 سرپرست: حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ ناشر: عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان)
جسم پر مرچ پھیرنے کا ٹوٹکہ عبقری کا خود ساختہ حقیقت جانیے

ایک بزرگ فرمانے لگے کہ مشاہدہ کسی دلیل کا محتاج نہیں ہوتا بس یہ دیکھا جائے کہ یہ مشاہدہ قرآن وسنت کے خلاف نہ ہو اور عبقری میں بھی اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے ہر وہ چیز جو لوگوں کیلئے نفع مند اور سکھ کا ذریعہ ہو اسے عام کیا جائے اور وہ چیز قرآن وسنت کے مخالف نہ ہو اور تعلیماتِ اکابر میں موجود ہو۔ ایسا ہی ایک ٹوٹکہ آپ دوستوں کی خدمت میں پیش ہے جو کہ شریعت کے مخالف بھی نہیں اور مشاہدہ سے اس کی افادیت بھی ثابت ہے اور اسی مشاہدے پر تمام علاج ومعالجہ کا دارومدار ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم Fatwa ID: 527-527/M=6/1437 بچے کے اندر ضدی پن ہوتا ہے اور بچوں کو نظر بھی جلد لگ جاتی ہے یہ مشاہدے کی بات ہے۔ آپ پریشان نہ ہوں، بچہ عمر کی منزل جوں جوں طے کرتا جائے گا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، اس مرحلے میں آپ اس کا خیال رکھیں کہ شام کے وقت بچے کو گھر سے باہر نہ نکالیں اور یہ دعا پڑھ کر صبح و شام دم کر دیا کریں: ” أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ “ اور سورۂ قلم کی آخری دو آیات سات سرخ مرچ پر پڑھ کر بچے کے جسم پر پھیر کر مرچ کو جلا دیں، ان شاء اللہ نظر دور ہو جائے گی۔ (فتویٰ جواب نمبر: 64177، واللہ تعالیٰ اعلم، دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند) دیکھا قارئین اگر یہی بات عبقری میں شائع ہو تو خود ساختہ ہوتی ہے۔۔۔! بات دراصل یہ ہے کہ ہم اکابرین کی تعلیمات سے بہت دور جا چکے ہیں۔
تسبیح خانہ نے بچوں سے دعا کرانے کا پیکیج کیوں دیا پردہ اٹھا دینے والی تحریر

جس شخص کی دعا قبول ہونے کے امکان ہوں تو اس سے دعا کروانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ظاہر ہے بچے کیوں کہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کی دعائیں زیادہ قبولیت کا درجہ رکھتی ہیں، بڑوں کا چھوٹوں سے دعا کرانا کئی جگہ ثابت ہے چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: (میرے بھائی! ہمیں اپنی نیک دعاؤں میں مت بھولنا) جسے ابوداؤد (1498) اور ترمذی (3557) نے روایت کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وصیت کی تھی کہ وہ اویس قرنی رحمۃ اللہ سے دعا کروائیں۔ جب کہ ظاہر ہے اویس قرنی رحمۃ اللہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ہر لحاظ سے چھوٹے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ نہایت ہی شفقت کا معاملہ فرماتے، ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے، گود میں بٹھا لیتے، ان کا بوسہ لیتے، کندھے پر اٹھا لیتے اور اگر کوئی بچہ جسمِ مبارک پر پیشاب کر دیتا تو آپ ناگواری کا اظہار نہ فرماتے، مجلس میں بیٹھے ہوئے بچوں کو دگنی میٹھی چیز عطا فرماتے اور بچوں پر رحم و شفقت نہ کرنے والوں کو پسند نہ فرماتے ان کی اچھی تربیت کرنے کا حکم فرماتے۔ بچوں کی اچھی تربیت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انھیں شروع سے ہی دعا مانگنے کا عادی بنایا جائے تاکہ جب وہ بڑے ہو جائیں تو ہر حالت، پریشانی اور دکھ میں ان کی پہلی نگاہ اللہ رب العزت ہی پر جائے اسی وجہ سے تسبیح خانہ میں بچوں سے دعاؤں کی تلقین کی جاتی ہے جو کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ ہے۔ امیر المومنین کا بچوں سے دعا کرانا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی گلی میں ایک بچے کو دیکھا تو نیچے جھک کر بچے سے کہا بیٹے اللہ سے دعا کرو کہ وہ ہم سب پر رحم فرمائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا امیر المومنین آپ ایک بچے کو دعا کا کہہ رہے ہیں جبکہ آپ خود عشرہ مبشرہ میں سے ہیں؟ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں اس لیے اسے دعا کی درخواست کر رہا ہوں کیونکہ یہ ابھی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچا اور ابھی اس نے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ (ماہنامہ علم و آگہی ص 6، رجب شعبان ۱۴۴۲ھ مارچ 2021ء) بچو! دعا کرو عمرؓ بخشا جائے ۔۔۔! اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان رحمہ اللہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ، کتاب فضائلِ دعا صفحہ 112 پر اپنے لیے دوسروں سے دعا کروانے کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منورہ کے بچوں سے اپنے لئے دُعا کراتے کہ دُعا کرو عمر (رضی اللہ عنہ) بخشا جائے۔ (فضائلِ دعا ص 112) خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ کی بیماری دور ہونے کا ذریعہ ایک مرتبہ حضرت خواجہ باقی باللہ دہلوی رحمۃ اللہ کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ اب مجھ میں صبر و تحمل اور توکل کا اس قدر مادہ پیدا ہو گیا ہے کہ میں اب بڑی سے بڑی مصیبت پر بھی صبر کر سکتا ہوں۔ ان کا یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوا عتاباً اور تنبیہاً آپ کا فوراً پیشاب بند ہو گیا اور آپ مچھلی کی طرح تڑپنے لگے قلب پر القاء ہوا کہ مکتب کے بچوں سے جا کر دعا کراؤ۔ آپ نے بچوں سے دعا کروائی اور بچوں کی دعا کی بدولت آپ کو اس تڑپا دینے والی بیماری سے شفاء ملی۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ بچوں کو پیار کرنا بھی اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا ہے۔ خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ کی والدہ روزانہ اپنے بچے کو اللہ سے مانگنا سکھاتیں اور ان سے کہتیں کہ بیٹا کھانا روزانہ اللہ سے مانگا کرو اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ آپ ولیِ کامل بنے۔ تسبیح خانہ کے پیشِ نظر بچوں کی تربیت بھی ہے اور ان کی مقبول دعاؤں کا حصول بھی۔ ہے ناں ڈبل پیکیج۔۔۔۔!
آئیں تسبیح خانہ کے منبر سے بیان کیے جانے والے نوافل کی تحقیق کرتے ہیں

سالہا سال سے تسبیح خانہ میں انفرادی صلوٰۃ التسبيح پڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور تسبیح خانہ کی شاخ خانقاہِ روحانی منزل مری کے معمولات میں صلوٰۃ التسبيح اہتمام سے شامل ہے اور ہر آنے والا شخص اس مسنون عمل کو ضرور ادا کرتا ہے (یہ تو وہ جگہ تھی جہاں لوگ سیر و سیاحت کیلئے آتے ہیں لیکن یہاں آنے کے بعد بھی لوگ تسبیح خانہ کی حکمت و بصیرت کے ذریعے مسنون اعمال سے جڑ جاتے ہیں)۔ یہ نوافل حدیث سے ثابت ہیں اور ہمارے بڑے بڑے اہلِ علم نے انھیں ذکر کیا ہے چند حوالہ جات پیشِ خدمت ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ تسبیح خانہ کس حکمت اور بصیرت سے قرآن و سنت کے پرچار کو عام کر رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے میرے چچا! کیا میں تمہیں ایک عطیہ کروں۔۔۔۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلوٰۃ التسبيح کی تعلیم فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ روزانہ ایک مرتبہ اس نماز کو پڑھ لیا کرو یہ نہ ہو سکے تو ہر جمعہ کو ایک مرتبہ۔۔۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو ہر مہینہ میں ایک مرتبہ۔۔۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو پھر سال میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو۔۔۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو عمر بھر میں ایک مرتبہ پڑھ لو۔ حدیث شریف میں صلوٰۃ التسبيح پڑھنے پر تمام اگلے پچھلے۔۔۔ نئے پرانے۔۔۔ بھول چوک سے اور دانستہ ہونے والے۔۔۔ صغیرہ بھی۔۔۔ کبیرہ بھی۔۔۔ ڈھکے چھپے بھی اور اعلانیہ تمام گناہوں کی مغفرت کا وعدہ ہے۔ (ابوداؤد) 1 نفل نمازوں میں صلوٰۃ التسبيح بہت عظیم الشان نماز ہے جس کی بڑی فضیلت اور ثواب ہے۔ حضرت عبدالعزیز بن ابی داؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص جنت میں جانا چاہے وہ صلوٰۃ التسبيح کا اہتمام کرے۔ اور حضرت ابو عثمان حیری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ مصیبتوں اور غموں سے نجات کیلئے میں نے کوئی عمل صلوٰۃ التسبيح سے بڑھ کر نہیں دیکھا۔ یعنی اس کے پڑھنے سے رنج و غم اور مصیبتیں دور ہو جاتی ہیں۔ (معارف السنن) (بحوالہ ماہنامہ القاسم ص 32 ڈیرہ غازی خان، رمضان، شوال ۱۴۴۲ھ۔ اپریل، مئی 2021ء۔ ماہنامہ البلاغ ص 54 رمضان المبارک ۱۴۴۲ھ مئی 2021ء)۔ 2 صلوٰۃ التسبيح کا حدیث میں بڑا ثواب منقول ہے، اس کے پڑھنے سے بے انتہا ثواب ملتا ہے۔۔ (جواب نمبر: 59764 واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم انڈیا) 3 حضرت مفتی احمد یار نعیمی صاحب بدایونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صلوٰۃ التسبيح پڑھنے سے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ص 309، مصنف: حضرت مفتی احمد یار نعیمی صاحب بدایونی، ناشر: دعوتِ اسلامی) 4 صلوٰۃ التسبيح چار رکعت نماز ہوتی ہے۔ یہ نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بطورِ تحفہ و عطیہ کے سکھائی تھی، اس کی فضیلت یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اس کے پڑھنے سے سارے گناہ (چھوٹے بڑے) معاف ہو جاتے ہیں۔ اس نماز کے کے پڑھنے کے دو طریقے ہیں۔ (فتویٰ نمبر: 143709200040، دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) 5 شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ صلوٰۃ التسبيح نفلی نماز ہے۔ (بحوالہ فتاویٰ عثمانی ۳۰/ ۱۷۸) 6 ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی صاحب فرماتے ہیں کہ مشہور و معروف محدث امام بیہقیؒ (۳۸۴ھ۔۴۵۸ھ) نے حدیث کی مشہور کتاب (شعب الایمان ۱/ ۲۷۱) میں تحریر کیا ہے کہ امام حدیث شیخ عبداللہ بن مبارکؒ (۱۱۸ھ۔۱۸۱ھ) صلوٰۃ التسبيح پڑھا کرتے تھے اور دیگر سلف صالحین بھی اہتمام کرتے تھے۔ اس موضوع پر زمانہ قدیم سے محدثین، مفسرین، فقہاء و علماء نے متعدد کتابیں تحریر فرما کر صلوٰۃ التسبيح کے صحیح ہونے کے متعدد دلائل ذکر فرمائے ہیں، جن میں سے امام حافظ ابوبکر خطیب بغدادیؒ (۳۹۲ھ۔۴۶۳ھ) کی کتاب (ذکر صلوٰۃ التسبيح) کافی اہم ہے۔ (ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی www.najeebqasmi.com) علماءِ اہل حدیث کا فتویٰ 7 ایک جماعت اس حدیث کو صحیح یا حسن ضرور قرار دیتی ہے، انہیں میں سے جن لوگوں نے اس حدیث کو صحیح یا حسن قرار دیا ہے درج ذیل ہیں: (۱) ابوبکر الآجری (۲) ابو محمد عبدالرحیم المصری (۳) حافظ ابوالحسن المقدسی (۴) ابو داؤد صاحب السنن (۵) امام مسلم رحمہ اللہ صاحب الجامع الصحیح (۶) حافظ صلاح الدین العلائی (۷) خطیب بغدادی (۸) حافظ ابن صلاح (۹) امام سبکی (۱۰) سراج الدین البلقینی (۱۱) ابن مندۃ (۱۲) امام حاکم (۱۳) امام منذری (۱۴) ابو موسیٰ المدینی (۱۵) امام زرکشی (۱۶) امام نووی نے تہذیب الاسماء واللغات کے اندر (۱۷) ابو سعید السمعانی (۱۸) حافظ ابن حجر نے الخصال المكفرۃ اور امالی الاذکار میں (۱۹) ابو منصور الدیلمی (۲۰) امام بیہقی (۲۱) امام دار قطنی رحمہم اللہ اور دیگر لوگوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (بحوالہ: مرعاۃ المفاتیح ص: ۲۵۳) امام مسلم رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ ”لا يروى فيها اسناد احسن من هذا به“ (عون المعبود: ص: ۱۲۴ ج: ۲ جز ۴) یعنی صلوٰۃ التسبيح سے متعلق سب سے بہترین سند یہی ہے، ابن شاہین ترغیب کے اندر کہتے ہیں: ”سمعت ابا بكر بن ابی داؤد يقول سمعت ابى يقول أصح حديث في صلوة التسبيح هذا“ (عون المعبود: ص: ۱۲۴ ج ۲ جز ۴) یعنی ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا کہ صلوٰۃ التسبيح سے متعلق سب سے صحیح حدیث یہی ہے، اس طرح امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے: ”کان عبداللہ ابن المبارک يصليها و تداولها الصالحون بعضهم عن بعض و فيه تقوية للحديث“ (عون المعبود: ج ۲ ص: ۱۲۴ ج ۲ جز ۴) یعنی عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ بھی صلوٰۃ التسبيح کا اہتمام کرتے تھے اور سلف صالحین سے بھی صلوٰۃ التسبيح کا طریقہ منقول ہے جس کی وجہ سے حدیث کو تقویت حاصل ہو جاتی ہے اسی طرح سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث دوسرے طریقے سے بھی آئی ہوئی ہے جس میں موسیٰ بن عبدالعزیز کی متابعت ابراہیم بن حکم نے کی ہے اور عکرمہ کی متابعت عطاء اور مجاہد نے کی ہے۔ (بحوالہ عون المعبود: ج ۲ ص: ۱۳۵ جز ۴) اور
شیخ الوظائف پر ضعیف روایات بیان کرنے کا الزام لگانے والے ضرور پڑھیں ۔۔۔!

اللہ کے فضل و کرم سے تسبیح خانہ کا منبر قرآن و سنت اور تعلیماتِ اکابر کے پرچار میں ہمہ تن مشغول ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی اپنے بڑوں کی زندگی کو پڑھنے اور سمجھنے والے بن جائیں یہ نہیں کہ دو چار کتابیں پڑھ کر سطحی علم رکھ کر دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے پھریں۔ اللہ کریم ہمیں اعتدال کی راہ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنائے۔ مالٹا سے تقریباً 50 میل دور بحیرہ روم کا سب سے بڑا جزیرہ سسلی واقع تھا۔ حضرت والامفتی محمد تقی عثمانی صاحب وہاں سیر کیلئے تشریف لے گئے۔۔ وہاں سے واپسی پر ہوٹل واپس پہنچنے سے پہلے اکابر اور دیگر بزرگانِ دین ترکی کے فوجی قبرستان پہنچے جو کہ عثمانی سلطنت کے سلطان عبدالعزیز خان نے یہاں اپنی آمد کے بعد مسلمانوں کی تدفین کیلئے ۱۸۷۴ میں مالٹا میں بنوایا تھا اور اس وقت بھی یہ قبرستان ترکی کی حکومت کی نگرانی میں ہے۔ خلافت عثمانیہ کے چند سپاہی اس قبرستان میں مدفون ہیں، اس کے علاوہ اس قبرستان میں شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کے ساتھی حکیم نصرت حسین رحمہ اللہ بھی آرام فرما ہیں۔ شیخ الہند رحمہ اللہ اور ان کے رفقاء زمانہ اسیری میں اس قبرستان تشریف لایا کرتے تھے جس کا ذکر مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے اپنے سفر نامے میں کیا ہے۔ ایسے سفروں، جیسا کہ ازبکستان کے سفر کے دوران ہمارے حضرت والامولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظہم، اکابر اور دیگر بزرگانِ رحمہم اللہ دین کی قبروں پر حاضر ہوا کرتے ہیں۔ قبروں کی زیارت کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ ایک مسنون اور باعثِ اجر و ثواب عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں قبروں پر جانے سے منع کیا کرتا تھا، لیکن اب تم قبروں پر جایا کرو (مسلم شریف) اور قبروں کی زیارت کیا کرو کہ اس سے موت یاد رہتی ہے۔۔ (مسلم) قبروں کی زیارت کرنے کے بہت سے فوائد ہیں جیسا کہ (1) سنتِ نبوی پر عمل کرنا (2) اپنی موت کو یاد کرنا (3) صاحبِ قبر کو دعا اور تلاوت (ایصالِ ثواب کر کے) فائدہ پہنچانا۔ جیسے ہی ہم قبرستان میں داخل ہوئے حضرت والا نے باآوازِ بلند سلامِ مسنون کہا ”السلام علیکم یا دار قوم مومنین، انتم لنا سلف و ان شاء اللہ بکم لاحقون“ اس کے بعد آپ نے ہمیں بتایا کہ ایک ضعیف روایت ہے جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی بھی 11 مرتبہ سورۂ اخلاص کی تلاوت قبرستان میں کرے اور اس کا ایصالِ ثواب قبرستان والوں کو کرے تو خود اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ اہل قبور کی تعداد ہے۔ (الدر المختار بحوالہ الدارقطنی، سیوطی فی شرح الصدور اور قرطبی فی التذکرہ من حافظ السلفی وغیرہ) سوال کرنے پر حضرت والا نے فرمایا اہل قبور کو ایصالِ ثواب کسی بھی مقام سے کیا جا سکتا ہے تاہم صاحبِ قبر کو سلام صرف قبر پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ آپ کی عادت جو کہ میں نے بہت سے مقامات پر نوٹ کی ہے یہ ہے کہ آپ قبر پر تلاوت کیا کرتے ہیں اور واپسی پر بلند آواز سے السلام علیکم کہا کرتے ہیں۔ (ماہنامہ البلاغ، ص 52 صفر المظفر ۱۴۴۲ھ اکتوبر 2020ء بانی مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ) کیا ہمارے بڑے نہیں جانتے تھے کہ مزارات کی حاضری شرک کا دروازہ کھول دے گی۔۔۔ یا ضعیف روایت بیان نہیں کرنی چاہیں۔۔۔! فاعتبروا یا اولی الابصار
قصیدہ شیخ جامیؒ کے زندگی میں حیرت انگیز کمالات

شیخ الوظائف نے 14 اکتوبر 2021ء بروز جمعرات تسبیح خانہ درس میں قصیدہ شیخ جامیؒ کا تذکرہ، کمالات اور فوائد بتائے تھے، وہ قصیدہ اور اس کا حوالہ قارئین کیلئے پیشِ خدمت ہے۔ مزید کمالات جاننے کیلئے 14 اکتوبر کا درس سننا ہرگز نہ بھولیں! مزید درس میں قصیدہ شیخ جامیؒ کے حوالے سے شیخ الوظائف نے جو واقعہ بتایا اس کا شارٹ کلپ بھی عبقری سوشل میڈیا پر ضرور دیکھیں۔ بعنوان ”قصیدہ شیخ جامیؒ (نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم) کے زندگی میں حیرت انگیز کمالات“ واقعہ: حضرت مولانا جامیؒ یہ نعت لکھنے کے بعد جب ایک مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے، ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہو کر اس نظم کو پڑھیں گے، چنانچہ جب حج کے بعد مدینہ منورہ حاضری کا ارادہ کیا تو امیرِ مکہ نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا کہ اس کو (یعنی جامیؒ کو) مدینہ نہ آنے دیں، امیرِ مکہ نے ممانعت کر دی، مگر ان پر جذب و شوق اس قدر غالب تھا کہ یہ چھپ کر مدینہ منورہ کی طرف چل دیے، امیرِ مکہ نے دوبارہ خواب دیکھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ آ رہا ہے اس کو یہاں نہ آنے دو، امیرِ مکہ نے آدمی دوڑائے اور ان کو راستہ سے پکڑوا کر بلایا، ان پر سختی کی اور جیل خانہ میں ڈال دیا، اس پر امیرِ مکہ کو تیسری مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ کوئی مجرم نہیں ہے، بلکہ اس نے کچھ اشعار کہے ہیں، جن کو یہاں آ کر میرے روضہ پر کھڑے ہو کر پڑھنے کا ارادہ کر رہا ہے، اگر ایسا ہوا تو روضہ سے مصافحہ کے لیے ہاتھ نکلے گا جس سے فتنہ ہوگا، اس پر ان کو جیل سے نکالا گیا اور بہت اعزاز و اکرام کیا گیا۔ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کھڑے ہو کر نعت پڑھی تو دستِ مبارک باہر نکلا اور انہوں نے اس کو چوما۔ (فضائل درود شریف ص 117، مصنف: شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ)