4 اولیائے کرام کا متفقہ فیصلہ

کچھ عرصہ پہلے ماہنامہ عبقری میں شیخ ابو الحسن شاذلیؒ کا ایک زبردست عمل شائع ہوا کہ اگر سانپ یا بچھو نے کاٹ لیا ہو تو بسم اللہ حروفِ مقطعات کی صورت میں اور اس کے بعد ”سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ“ لکھ کر دھو کر پلائیں، زہر اتر جائے گا اور مریض صحت یاب ہو جائے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں عبقری میں دیئے جانے والے وظائف کی کوئی سند نہیں ہوتی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ درج بالا عمل کے متعلق مزید تین جلیل القدر علماء و اولیائے کرام کے کیا تاثرات ہیں؟ امام ابو القاسم قشیریؒ (مکتبہ شافعیہ) لکھتے ہیں کہ: جس شخص کو سانپ اور بچھو سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو، وہ صبح و شام یہ آیت ”سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ“ پڑھ لے تو محفوظ رہے گا۔ (بحوالہ التفسیر القشیری المعروف بہ لطائف الاشارات فی تفسیر القرآن ناشر: دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان) علامہ کمال الدین دمیریؒ فرماتے ہیں کہ: سانپ اور بچھو نے حضرت نوحؑ سے وعدہ کیا تھا کہ جو شخص آپؐ کا نام لے گا، ہم اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ لہٰذا ”سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ“ سانپ اور بچھو سے حفاظت کے لئے اکسیر المجرب ہے۔ (بحوالہ: حیات الحیوان، احکامِ تعویذات صفحہ 39، مصنف: مفتی محمد ہاشم خان مدنی (مکتبہ بریلویہ) ناشر: مکتبہ بہارِ شریعت داتا دربار لاہور۔) حضرت علامہ ابو محمد عبداللہ یافعی یمنیؒ (مکتبہ حنفیہ) لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بچھو کے لئے ”سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ“ پڑھ لے تو اس کی ایذاء سے بچا رہے گا۔ (بحوالہ کتاب: اسرارِ رحمانی صفحہ 219، مترجم: مولانا رحیم بخش صاحب دہلوی ناشر: مشتاق بک کارنر اردو بازار لاہور۔)

بچے کے پیشاب سے بچھو کے کاٹے کا علاج!

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں: ” جب ہم نے اپنی رہائش دار العلوم کراچی میں منتقل کی تو اس وقت دونوں بلاکوں کے درمیان تقریبا سو گز کا فاصلہ تھا جو تمام تر ریت کے ٹیلوں اور جھاڑیوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہ ریت کے ٹیلے اور جھاڑیاں سانپ بچھو کے علاوہ گرگٹ، گوہ سانڈے سیہہ اور نجانے کتنی قسموں کے حشرات الارض کا مسکن تھے جو دن کے وقت تو ہم سے ڈرتے تھے مگر رات ہوتے ہی ہم ان سے ڈرا کرتے ۔ کیونکہ یہ ہی ان کی سیر و تفریح کا وقت ہوتا تھا اور خاص طور پر بچھو عشاء کی نماز کے وقت آزادی سے گھومتے اور شاید دن بھر کا بدلہ لینے کا بہترین موقع جان کر کسی نہ کسی کے پاؤں پر ڈس لیا کرتے تھے عشاء کی نماز کے بعد بکثرت کسی نہ کسی طالب علم کے چیخنے کی آواز آتی اور معلوم ہوتا کہ اسے کسی بچھونے کاٹ لیا ہے آس پاس نہ کوئی ڈاکٹر تھا نہ کوئی ہسپتال لہذا علاج کے مختلف دیسی طریقے آزمائے جاتے تھے کسی نے بتایا کہ اگر کوئی بچھو مار کر اسے تیل میں ڈال دیا جائے تو اس تیل سے بچھو کے ڈسنے کا دیا جائے تو اس تیل سے بچھو کے ڈسنے کا علاج ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہ علاج کئی طلبہ پر آزمایا گیا اور کچھ مفید بھی ثابت ہوا۔ آخر میں جو علاج سب سے زیادہ مقبول ہوا وہ یہ تھا کہ جس جگہ بچھونے کا ٹا تھا اس جگہ کسی بچے سے دھار کے ساتھ ساتھ پیشاب کروایا جائے۔ چنانچہ جب کسی کو بچھو کا تھا تو کسی بچے کو پکڑ کر اسے پیشاب کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔“ ( بحوالہ: ماہنامہ البلاغ مارچ 2019 مضمون : یادیں قسط 16 صفحہ 19 ناشر : جامعہ دارالعلوم کراچی)

ناک پکڑ کر پانی پینے سے کیا ہوگا؟

سوتے اٹھ کر فوراً پانی نہ پیو اور نہ یک وقت ہوا میں نکلو اگر بہت پیاس لگے تو عمدہ ترتیب یہ ہے کہ ناک پکڑ کر پانی پیو۔ اور ایک ایک گھونٹ کر کے پیو، پانی پی کر ذرا دیر تک ناف پکڑے رکھو۔ سانس ناک سے مت لو۔اسی طرح گرمی میں چل کر فوراً پانی مت پیو، خاص کر جس کو کو لگی ہو وہ اگر فوراً بہت سا پانی پی لے تو اسی وقت مرجاتا ہے۔اسی طرح نہار منہ نہیں پینا چاہیے اور پاخانہ سے نکل کر فوراً پانی نہ پینا چاہیے۔ ( بحوالہ بہشتی زیور نواں حصہ صفحہ نمبر 9 ، مطبوعہ: تاج کمپنی لاہور )

ہزاروں میل دور بیٹھی جننی ایک پل میں حاضر!

مولانا حاکم علی صاحب لکھتے ہیں : عبدالرشید زرگر نے بتایا کہ امام الاولیاء شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ اپنے چھوٹے بھائی مولوی محمد الیاس کے ہمراہ ایک انگوٹھی بنوانے کیلئے میری دکان پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں عبد الغنی آرا مشین والے کے پاس ٹھہرا ہوا ہوں ، انگوٹھی وہاں پہنچادینا۔ میں حضرت کے چہرے مہرے اور شخصیت سے بے حد متاثر ہوا۔ میرے ایک دوست لال دین صاحب پر کچھ جناتی اثرات تھے۔ چنانچہ شام کو انگوٹھی پہنچانے کے وقت میں نے انہیں اپنے ساتھ لیا اور حضرت کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ وہاں جا کر دوست کے متعلق ذکر کیا تو حضرت نے تفصیل پوچھے بغیر مختصر سا مراقبہ فرمایا اور اس (جناتی ) چیز کو حاضر کر لیا۔ پھر فرمایا : لوبھئی ! تمہاری ساتھی (جننی ) حاضر ہو گئی ہے اور کہہ رہی ہے کہ میں ہزاروں میل دور بیٹھی تلاوت میں مصروف تھی ، حضرت نے مجھے وہاں سے حکماً اٹھایا اور ایک لمحے کی مہلت بھی نہیں دی۔ میں کھچی ہوئی یہاں چلی آئی اور حضرت کے پیچھے کھڑی ہوگئی ، کیونکہ سامنے کھڑے ہونے کی جرات نہیں ہے۔ حلال حرام جائز نا جائز اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے ہیں ( بحوالہ کتاب: حضرت لاہوری کے حیرت انگیز واقعات ، صفحہ 446 ناشر : مکتبہ نعمان بن ثابت اردو بازار لاہور )

کیا بیری کے پتے جادو ‘ جنات‘ آسیب اور بیماریاں بھگاسکتے ہیں؟

محترم قارئین! عبقری تسبیح خانہ میں حضرت شیخ الوظائف دامت بر کاتہم العالیہ پچھلے 15 برس سے جادو کو ختم کرنے ، جنات سے چھٹکارا حاصل کرنے اور نظر بد اور بیماریوں کو جسم سے دھونے کیلئے اکابرؒ و اسلاف کا آزمودہ بیری کے پتوں کا ایک عمل ارشاد فرمارہے ہیں کہ ’’ بیری کے 7 پتے لے کر ہر ایک پر ایک ایک مرتبہ پہلا کلمہ اور ایک ایک مرتبہ آیت کریمہ پڑھ کر انہیں اُبال کر کسی ایسی جگہ غسل کر لیں ۔‘‘ کچھ لوگ جو طب نبوی ﷺ کے اسرار ورموز اور اصول و قوانین سے نا آشنا ہیں، فوراً کہتے ہیں کہ یہ کس حدیث سے ثابت ہے؟ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ روحانی طریقہ علاج میں بیری کے پتوں پر کلمات کا پڑھنا صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ جادو اور میاں بیوی کی جدائی ختم جیسا کہ کویت کے ایک معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعید بن علی القحطانی حفظہ اللہ بیری کے پتوں سے غسل کرنے کو ’’مسنون دم‘‘ کہتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : ’’جادو ہو جانے کی صورت میں مسنون دم کیا جائے، جس کا سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ : بیری کے 7 پتے لے کر انہیں 2 پتھروں کے درمیان رکھ کر پیس لیں یا کسی اور چیز سے کوٹ لیں۔ پھر اس ملیدے کو پانی کی اتنی مقدار میں حل کر لیں جو غسل کیلئے کافی ہو اور اس پر قرآن مجید کی درج ذیل آیات اور سورتیں پڑھی جائیں۔ (1) آیۃ الکرسی ۔ (2) سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 255 ۔(3) سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 117 تا 122 ۔(4) سورة یونس کی آیت نمبر 79 تا 82 ۔(5) سورۃ طہ کی آیت نمبر 65 تا 70 ۔(7) آخری چاروں قل ۔’’ پھراس دم والے پانی میں سے چند گھونٹ پی لیا جائے اور باقی سے غسل کر لیا جائے۔ یہ عمل کرنے سے ان شاء اللہ بیماری ختم ہو جائے گی۔ مرض کے خاتمے تک یہ عمل بار بار کیا جا سکتا ہے (یعنی ہر ہفتے یا ہر دن اسی طرح نہایا جا سکتا ہے ) ۔‘‘ اس عمل کو کئی بار آزمایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے فائدہ پہنچایا۔ حتیٰ کہ یہ عمل ان میاں بیوی کیلئے تو ایک تیر بہدف نسخہ ہے جن کے درمیان ایک دوسرے کیلئے جدائی (نفرت ) ڈال دی گئی ہو۔ ( بحوالہ کتاب: دعا اور دم کے ذریعے مسنون علاج، صفحہ 99 ناشر : مکتبہ دار السلام، لوئر مال سیکرٹریٹ لاہور )

275 کلو میٹر، چندگھنٹوں میں پیدل سفر مگر کیسے؟

قارئین ! عبقری میں دیئے گئے کالم جنات کا پیدائشی دوست میں بعض اوقات تھوڑے وقت میں زیادہ فاصلہ طے کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ یہ دراصل ایک کرامت ہے جو ہمارے اکابر و اسلاف اولیائے کرام کو اللہ جل شانہ کی طرف سے حاصل رہی ہے ۔ آئیے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ طے الوقت کی کرامت کیسے ملتی ہے؟ حضرت مولانا شمس الرحمان عباسی صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے استاد حضرت مولانا عزیز گل رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کی بڑی خدمت کی ۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے پاؤں دبا کر، سر پہ مالش کر کے، انہیں سلانے کے بعد خود آرام کرتا تھا۔ ایک رات حضرت شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: دہلی میں میرے کچھ کاغذات دفتر میں موجود ہیں اور مجھے ان کی اشد ضرورت ہے مگر دہلی بہت دور ہے، اب کہاں سے لاؤں ؟“ دیکھو جب انسان ادب کی دنیا میں آتا ہے اور اپنے استاد کا احترام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال ہو جاتی ہے۔ لہذا انہوں نے جب اپنے شیخ کے پاؤں کی مالش کر کے انہیں سلا دیا تو خود روانہ ہو گئے۔ پیسے تو جیب میں تھے نہیں، پیدل ہی چل پڑے۔ "سہارن پور کے قصبے اور دہلی کے درمیان 80 میل کا فاصلہ تھا اور آنا جانا 160 میل بن جاتا ہے ( تقریباً 257 کلومیٹر بن جاتا ہے۔ )” مگر اللہ تعالیٰ جب کام لینے پر آتا ہے تو کرامات الاولیا حق کا معاملہ ہو جاتا ہے۔ مولانا عزیز گل صاحب دہلی والے دفتر پہنچے، کاغذات لیے اور اسی وقت واپس تشریف لے آئے۔ جب حضرت شیخ الہند تہجد کیلئے بیدار ہورہے تھے ۔ انہوں نے حضرت شیخ الہند کو وضو کروایا اور کاغذات ان کے سامنے پیش کیے، تو دیکھتے ہیں حضرت شیخ الہند نے پوچھا: بھئی یہ کیسے لے آئے؟ عرض کرنے لگے: شیخ! آپ نے ایک خواہش ظاہر کی تھی تو میں اس خواہش کے احترام میں اللہ کا نام لے کر روانہ ہو گیا اور یوں یہ کاغذات لے آیا۔ (بحوالہ: ماہنامہ بینات کراچی، جنوری 2019 صفحہ 24 ایڈیٹر : مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، ناشر : جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی ) ایسے کئی واقعات ہمارے اکابر کی زندگی سے ملتے ہیں، جو حلال حرام، جائز نا جائز اور شریعت ہم سے زیادہ سمجھتے تھے۔

کینسر کالا علاج مریض ایک خواب سے شفاء پا گیا!

قارئین ! بعض اوقات عبقری میگزین میں ایسے وظائف کا ذکر ہوتا ہے، جو لوگوں کو خواب کی حالت میں مختلف بزرگ ہستیوں کی طرف سے لا علاج امراض یا پیچیدہ مسائل کے حل کیلئے عطا ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے واقعات پڑھ کر اپنے یقین کی طاقت کھو بیٹھتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں کہ عبقری میں یہ قصے کہانیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ، حالانکہ یہی لوگ ذرا ہوش مندی کے ساتھ اپنے اکابر و اسلاف کا تذکرہ پڑھیں تو ایسے بے شمار ماوراء العقل واقعات ان کا استقبال کرتے ہیں۔ جیسا کہ کتاب بزم خردمندان میں ڈیڑھ سو مساجد کے مہتم جناب میاں نعیم الرحمان صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ میاں نعیم الرحمن کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور کافی دنوں سے بے ہوش پڑے تھے جامعہ سلفیہ کا ایک وفد جس میں چوہدری یسین ظفر بھی شامل تھے، میاں صاحب کی عیادت کے لیے گیا۔ میاں صاحب کی حالت دیکھ کر چو ہدری یسین ظفر صاحب نے کہا کہ چل چلاؤ کا وقت محسوس ہو رہا ہے ۔ خدا کی قدرت کہ ڈاکٹر حضرات مایوسی کے عالم میں ان سے مشین ہٹانے لگے تو میاں صاحب نے آنکھیں کھول لیں۔ پھر اس کے بعد یہی احباب میاں صاحب کی عیادت کے لیے کے ان کے گھر گئے ۔ میاں صاحب اس قدر نحیف و نزار ہو چکے تھے کہ بغیر سہارے کے حرکت تک نہ کر سکتے تھے۔ لیکن ان احباب کی آمد پر میاں صاحب بغیر کسی سہارے کے اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے: جس وقت میں نے آنکھیں کھولی تھیں، اس وقت میں خواب دیکھ رہا تھا کہ میں جنت میں ہوں اور حضرت آقا علیہ الصلوۃ والسلام، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور میرے ابا جان میاں فضل حق کے ساتھ موجود ہیں ۔ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے ایک وظیفہ کی تلقین فرمائی، جس میں سبحان اللہ و بحمدہ کے الفاظ تھے۔ علمائے کرام نے مختلف کلمات پڑھے جن میں سبحان اللہ و بحمدہ آتا تھا۔ مگر میاں صاحب ہر ایک کا جواب نفی میں دیتے رہے ۔ آخر کار کسی نے سُبحان اللہ و بحمدِہ عَدَدَ خَلْقِه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماتہ کہا تو میاں صاحب نے روتے ہوئے بتایا کہ ہاں یہی وہ الفاظ تھے۔ مجھے میرے والد گرامی میاں فضل حق صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے کہا : نعیم چلو گھر جاؤ، بچیاں اکیلی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی میری آنکھیں کھل گئیں ۔ اصل میں میاں نعیم الرحمن صاحب کی کچھ بچیوں کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی ( اس وظیفے کی برکت سے ) جو نہی بچیوں کی شادی کا فریضہ ادا ہوا، اس کے تھوڑے عرصے بعد میاں صاحب رحلت فرما گئے۔ (بحوالہ کتاب: بزم خردمندال صفحہ نمبر: 5 ناشر : ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اسلامیہ کالونی ساندہ لاہور ) ایسے کئی واقعات ہمارے اکابر کی زندگی سے ملتے ہیں، جو حلال حرام، جائز نا جائز اور شریعت ہم سے زیادہ سمجھتے تھے۔

انوکھی مسجد ! جہاں پہلی 3 صفیں ہمیشہ خالی رکھتے ہیں !

مولانا عماد الدین محمود صاحب ( خطیب جامع مسجد زکریا، چودہوان ) لکھتے ہیں کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ان کے تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ درس حدیث کے دوران طلباء کو آزادی ہوتی کہ وہ اپنے شبہات و اعتراضات اپنی اپنی پرچیوں پر لکھ کر پیش کر دیا کریں۔ آپ ہر پرچی کو کشادہ دلی سے پڑھتے اور جواب عنایت فرما کر طلباء کو مطمئن کر دیتے ۔ ایک مرتبہ جب حضرت مدنی "دار العلوم کے دارالحدیث میں صحیح بخاری شریف پڑھانے کیلئے تشریف فرما ہوئے تو سامنے کی تین صفوں کے طلباء کو پچھلی صفوں میں بیٹھنے کا حکم دے دیا۔ جب وہ پچھلی صفوں میں چلے گئے تو حضرت مدنی نے حدیث پڑھانا شروع کر دی۔ طلباء نے سوالیہ پر چیاں بھیجنا شروع کر دیں اور اعتراض کیا کہ ہمیں پچھلی صفوں میں کیوں بٹھایا گیا۔ بار بار یہی سوال آتا اور حضرت مدنی اونچی آواز میں پڑھ کر خاموش ہو جاتے ۔ جب طلباء کا اصرار بڑھ گیا تو حضرت مدنی نے ارشاد فرمایا: آج قاہرہ مصر سے تین جنات طالب علم بن کر یہاں دارالعلوم پہنچے ہیں اور مجھ سے حدیث پڑھنے کی نسبت قائم کر کے اجازت طلب کر رہے ہیں۔ اس لیے میں نے ان کا اکرام کرتے ہوئے پہلی تین صفیں خالد خالی کروادی ہیں۔ اس لیے علامہ لا ہوتی صاحب عبقری میگزین میں جنات کا تذکرہ فرماتے ہیں، جو حق ہے ! (بحوالہ کتاب: حقانی کے دیس میں صفحہ 80 ناشر : القاسم اکیڈمی جامعہ ابوہریرہ خالق آباد نوشہرہ)

جنات سے ملاقات ، صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ !

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حجاج سلمی رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کی صورت یہ ہوئی کہ وہ اپنی قوم کے کچھ سواروں کے ساتھ مکہ کے ارادے سے نکلے۔ رات کو یہ لوگ ایک وحشت ناک وادی میں پہنچے تو گھبرا گئے ۔ ان کے ساتھیوں نے کہا: اٹھو اور اپنے لیے اور ہمارے لیے اس وادی کے سردار جن سے امن مانگو ۔ حضرت حجاج رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر یہ الفاظ پڑھے : میں اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو ہر اُس جن سے پناہ دیتا ہوں ، جو اس پہاڑی رستے میں موجود ہے۔ تاکہ میں اور میرے ساتھی صحیح سالم اپنے گھر واپس پہنچ جائیں۔ یہ کہتے ہی انہوں نے کسی نظر نہ آنے والے ( جن ) کو سورۃ رحمن کی آیات پڑھتے ہوئے سنا۔ پس جب یہ لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو انہوں نے قریش کی ایک مجلس میں یہ بات سنائی تو قریش بولے : اے حجاج آپ نے ٹھیک کہا: یہ کلام بھی اسی کلام میں سے ہے جس کے متعلق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں کہ ان پر یہ کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ حضرت حجاج رک گئے مگر میری بصیرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ پھر میں اونٹنی پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: تم نے حق بات سنی ہے، اللہ کی قسم ! یہ اسی کلام میں سے ہے جو میرے رب نے مجھ پر نازل کیا ہے۔ لہذا میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! آپ مجھے اسلام سکھا دیجئے ۔ بحوالہ: ابن ابی الدنيا في هواتف الجان بحوالہ کتاب: صحابہ کے 313 واقعات صفحہ 145، مدیر ماہنامه محاسن اسلام، ناشر : اداره تالیفات اشرفیہ، فوارہ چوک ملتان

گھروں سے نکلنے والے سانپ کیا جنات ہوتے ہیں؟

محترم قارئین ! بعض اوقات عبقری میگزین میں ایسے واقعات شائع ہوتے ہیں، جن میں سانپوں کی صورت میں جنات کا ظاہر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس جدید سائنسی دور میں بھلا ان تو ہمات کا کیا تعلق ؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابرؒ کے ہاں ان ماوراء العقل واقعات کی کیا حیثیت تھی؟ حضرت مولانا محمد عبد المعبود صاحب لکھتے ہیں : طالب علمی کے زمانے میں ہمشیرہ خورشید کے گھر ڈھوک شاہو میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ میں انہیں ملنے گیا، نماز مغرب کے بعد ہمشیرہ نے بتایا کہ ہماری گلی کی جانب سے روزانہ اس وقت ایک سانپ نکل کر ہمارے مکان میں چلا جاتا ہے۔ جب سانپ نکلتا ہے تو کتا اس پر بھونکتا ہے۔ میں نے پوچھا کوئی ڈنڈا ہے؟ تو ہمشیرہ جلدی سے ایک ڈنڈا پکڑ لائیں۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ کتے نے بھونکنا شروع کر دیا۔ ہمشیرہ کہنے لگیں : شاید سانپ نکل آیا ہے۔ دیکھا تو سانپ ان کے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔ میں ڈنڈے کی طرف بڑھا تو وہ خود بخود ٹوٹا ہوا تھا۔ ہمشیرہ لالٹین لے کر آئیں تو وہ بھی اپنے آپ بجھ گئی۔ مجھے سانپ تو نظر نہ آیا ، ویسے ہی ڈنڈے کا وار کر دیا۔ جب ڈنڈا زمین پر لگا تو سانپ کھڑا ہو گیا اور واضح نظر آنے لگا۔ میں گھبرا کر پیچھے ہٹا تو سانپ کمرے میں چلا گیا۔ فی الفور مجھے خیال آیا کہ در حقیقت یہ سانپ کی صورت میں ایک جن ہے، لہذا میں نے سورۂ یٰسین اور چند دیگر سورتیں پڑھ کر پانی پر دم کیا اور تمام کمروں میں چھڑک دیا۔ الحمد للہ اس دن کے بعد کبھی وہ سانپ نظر نہ آیا۔ ( بحوالہ کتاب: نقوش زندگی ، صفحہ 100 ناشر : القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہؓ ، خالق آباد نو شہرہ)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026