اگر وظیفے پڑھنے سے کچھ ملتا تو حضور ﷺ میدان جہاد میں نہ جاتے

قارئین! آج کچھ کم عقل اور اپنے اکابر و اسلاف کے طرز زندگی سے لا علم لوگ عبقری میگزین پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایسا خواب ناک جہان ہے، جس میں ہر مسئلے کا حل اور ہر مشکل سے نجات ملتی ہے، اگر وظائف ہی سے کچھ ملنا ہوتا تو حضور صلی اللہ میدان جنگ میں تشریف نہ لے جاتے۔ حالانکہ محترم قارئین! ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ حضور سرور کونین ﷺ تو میدان جنگ میں بھی وظیفہ پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔ اگر وظیفے پڑھنے سے کچھ نہ ملنا ہوتا تو حضور ﷺ میدان جہاد میں حم لا يُنْصَرُوْنَ کا وظیفہ نہ پڑھتے ۔ بحوالہ کتاب: مسند احمد بحوالہ کتاب: برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش صفحه 202 ناشر: مکتبہ قدوسیہ اردو بازارلاہور ۔ بحوالہ کتاب مجربات اکابر ص 126 ، ناشر: اداره تالیفات اشرفیہ چوک فواره ملتان پاکستان خبر دار ! لوگوں کو وظائف بتانے میں کبھی غفلت نہ کرنا: مولانا عبد القیوم حقانی صاحب ( جامعہ ابوہریرہ نوشہرہ) لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی رحمتہ اللہ علیہ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اگر صیح العقیدہ لوگ دم وغیرہ کے سلسلے میں لوگوں کی کفایت نہیں کریں گے تو مجبور لوگ اپنے مقصد کے حصول کیلئے بد عقیدہ ، گمراہ ، شریر اور خواہشات پرست لوگوں کے پاس جا کر اپنا ایمان ، عزت اور مال ضائع کر بیٹھیں گے۔ اس لیے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تم اس سلسلے میں کبھی غفلت نہ برتنا۔ پھر فرمایا: "یا باسط یا حفیظ” کو خود بھی پڑھنا اور لوگوں کو بھی پڑھنے کی تلقین کرنا۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : یا باسط پڑھنے سے مال ، اعمال علم ، عزت ، اولاد، دنیا اور آخرت میں کشائش (وسعت) ملے گی اور یاحفیظ پڑھنے سے جان ، مال ، اولاد، عزت ، قبر اور آخرت کی حفاظت ہوگی۔ (بحوالہ کتاب: مرد قلندر صفحه 146 ناشر : القاسم اکیڈمی ، جامعہ ابوہریرہ خالق آباد، نوشہرہ )
ایسی آیت جو جنات کو جلا کر مالدار بنا دے!

مولانا مفتی محمد عاصم عبداللہ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بار کچھ لوگ کشتی پر سوار ہو کر بحری سفر کے لئے روانہ ہوئے۔ ان کی نظر پانی کی سطح پر ایک شخص پر پڑی اور وہ یہ کہتا تھا کہ ایک کلمہ ہے جس کو میں ہزار درہم کے عوض بیچتا ہوں : ان میں سے ایک شخص نے کہا اچھا! لو یہ ہزار درہم ہیں اس پر وہ بولا دریا میں پھینک دو ، چنانچہ اس نے ہزار درہم دریا میں پھینک دیے ۔ اس وقت اس نے کہا اچھا پڑھو وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (3) سوره طاق جب اس نے پڑھا تو وہ بولا اسے خوب یاد کر لو اس کا یاد کرنا تھا کہ ادھر جہاز ٹوٹ گیا اور وہ شخص جس نے یہ آیت یاد کی تھی ایک تختہ پر رہ گیا اور وہ برابر اس آیت کی تلاوت کیے جاتا تھا۔ اسی ثناء میں ایک موج نے اس کو کسی جزیرے میں جا پھینکا ، جہاں اس کو ایک نہایت خوبصورت عورت ملی۔ اس سے اس کے حالات دریافت کیے تو اس نے بیان دیا کہ میں فلاں شہر کی رہنے والی ہوں ۔ روزانہ سمندر سے ایک جن نکلتا ہے اور وہ مجھے پھسلایا کرتا ہے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوتا ہے کہ میں اس سے بچ جاتی ہوں ۔ اس شخص نے کہا اچھا! تو مجھے ایسی جگہ بتلا دے جہاں سے میں اسے دیکھ لوں اور وہ مجھے نہ دیکھ سکے، اس نے ایسا ہی کیا۔ جب وہ سمندر سے نکلا تو اس شخص نے یہ آیت پڑھنا شروع کر دی اور وہ جن اس آیت کے پڑھنے سے جل کر مر گیا۔ اس کے بعد اس شخص نے اس عورت کو باحفاظت اس کے ہیرے، جواہرات سمیت اس کے گھر پہنچا دیا بعد میں اس عورت کے والد نے اس کا نکاح اسی شخص سے کر دیا۔ ( بحوالہ کتاب: سنہری حکایات صفحہ نمبر: 121 ، ناشر: مکتبہ حمادیہ، شاہ فیصل کالونی کراچی )
سمندر میں ہونے والی محفل نعت سن کر مچھلیاں بھی تڑپ گئیں

ایڈیٹر ماہنامہ انوار القرآن کراچی لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک دفعہ بنگلہ دیش کا سفر کیا۔ اس سفر میں حضرت مولانا مفتی محمود ، مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا اجمل خان بھی ساتھ تھے۔ حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : جس کو آقا سرور کونین صلا لا السلام کی شان میں جو جو اشعار آتے ہیں ، وہ سنائے ، سب نے مختلف اشعار سنائے ۔ جب حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ کی باری آئی تو انہوں نے مولانا عبد الرحمان جامی رحمتہ اللہ علیہ کا وہ قصیدہ سنایا ، جسے انہوں نے کشتی میں سفر کرتے ہوئے پڑھا تھا اور پڑھنے کے دوران ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی اُچھل اچھل کر کشتی میں آئے تڑپنا شروع ہو گئیں حضرت مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ قصیدہ سب کے سامنے سنانا شروع کیا تو دریا کی مچھلیاں پانی کی سطح پر آکر کشتی کے ارد گرد جھومنا شروع ہو گئیں۔ پھر بے خود ہو کر کشتی کے اندرا چھل کر آئیں اور وہاں آ کر تڑپنا شروع ہوگئیں ۔ کشتی میں موموجود بڑے بڑے علماء پر سناٹا طاری ہو گیا ، آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ حبیب کبر یا علی ما از پیہم کی شان میں قصیدہ پڑھتے رہے۔،، حلال حرام، جائز ناجائز اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے!
طالب علم جن نے فیل ہونے پر اُستاد کا گلا دبا دیا

دار العلوم میں فن منطق کی کتاب’’ سلم العلوم ‘‘ مولانا محمد حسین بہاری رحمۃ اللہ علیہ پڑھایا کرتے تھے۔ ان کے درس میں ایک جن طالب علم بھی انسانی شکل میں شریک ہوا کرتا تھا۔ امتحان ہوا تو اتفاق سے وہ جن طالب علم فیل ہو گیا۔ جس کی وجہ سے حسب ضابطہ دارالعلوم کی طرف سے اس کا راشن بند کر دیا گیا اور وہ شدید پریشانی کا شکار ہوا۔ ابھی ایک ،دو دن ہی گزرے تھے کہ ایک رات نیند کی حالت میں مولانا محمد حسین صاحب بہاری ؒکا اسی جن طالب علم نے گلا دبانا شروع کر دیا، جس سے انہیں بہت تکلیف ہوئی۔ آپ نے فرمایا: تم کون ہو اور مجھے کیوں تکلیف دے رہے ہو؟ کہنے لگا: میں وہی طالب علم ہوں جو انسانی شکل میں آپ کے پاس’’ سلم العلوم ‘‘پڑھتا تھا اور اب امتحان میں فیل ہونے کی وجہ سے میرا راشن بند کر دیا گیا ہے۔ آپ فوراً مجھے پاس کروائیں ، تاکہ میرا راشن جاری ہو سکے۔ بہر حال استاد محترم نے اگلے روز ناظم تعلیمات سے بات کر کے اس طالب علم کا پرچہ دوبارہ چیک کیا اور کچھ نمبروں کا اضافہ کر کے اس کے نمبر بڑھا دیے۔ چنانچہ ان کی سفارش پر اس جن کا راشن دوبارہ جاری کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد ایک دن استاد محترم نے مدرسے میں سب کے سامنے اس بات کا اظہار فرمایا اور کہا کہ وہ طالب علم اب بھی آپ کے درمیان موجود ہے، مگر میں اس کی نشاندہی نہیں کروں گا۔ لہذا وقت گزرتا گیا اور کسی کو بھی اس طالب علم کا پتہ نہیں چل سکا ۔ ( بحوالہ کتاب : حبیب السوائح ،صفحہ 117 ناشر: مکتبہ دار الكتاب ، یوسف مارکیٹ، اردو بازار لاہور )
زمانہ بدل گیا ہے، اب اللہ جل شانہٗ کی پناہ مانگنی چاہیے!

حضرت رافع بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (قبول اسلام سے پہلے) ایک رات میں ریگستان میں سفر کر رہا تھا۔ جب نیند کا غلبہ ہوا تو میں نے سونے سے پہلے اپنی اونٹنی کے متعلق’’ دور جاہلیت کے مطابق یہ الفاظ کہے کہ میں اس وادی کے بڑے جن کی پناہ لیتا ہوں ۔‘‘ اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہتھیار ہے، جسے وہ میری اونٹنی کے گلے پر پھیرنا چاہتا ہے، میری آنکھ کھل گئی ۔ دیکھا تو اونٹنی صحیح سلامت کھڑی تھی ، دوبارہ سو گیا تو پھر وہی خواب دیکھا کہ وہ شخص میری اونٹنی کو ذبح کرنا چاہتا ہے ۔ اتنے میں ایک بوڑھے آدمی نے آکر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا:’’ اس اونٹنی کے بدلے ان خچروں میں سے ایک لے لو اور اونٹنی کو چھوڑ دو ۔‘‘ وہ شخص اس بات پر راضی ہوا اور چلا گیا۔ اس بوڑھے آدمی نے مجھے کہا: ’’اے بے وقوف ! جب تم کسی جنگل میں ٹھہرو اور وہاں کے جنات سے خطرہ ہو تو یہ کلمات کہا کرو: ’’اعوذ بالله رب محمد من هذا الوادي ۔یعنی میں اس وادی کے شر سے رب محمدﷺکی پناہ میں آتا ہوں ۔‘‘ وہ زمانہ چلا گیا، جب انسان جنات کی پناہ مانگا کرتے تھے ’’کیونکہ وہ زمانہ چلا گیا ہے، جب انسان جنات کی پناہ مانگا کرتا تھا۔ میں نے پوچھا : حضرت محمدﷺ کون ہیں ؟ اس نے کہا : یثرب میں ایک نبی مبعوث ہوئے ہیں ، جو عربی ہیں ۔‘‘ لہذا میں نے مدینہ منورہ کا راستہ لیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی بات کرتا ، حضور ﷺنے میرا سارا واقعہ خود ہی کہہ سنایا اور میں نے اسلام قبول کر لیا۔ (حوالہ نمبر1 : تفسیر مظہری ، حوالہ نمبر 2 :ہواتف اُلجن ، حوالہ نمبر3 : سنہرے قصے صفحہ نمبر 192 ناشر: مکتبہ حمادیہ کراچی)
تبرکات رکھنے سے کیا ہوتا ہے؟ ان کی کوئی حقیقت بھی ہے؟

بزرگان دین کے تبرکات سے فیض حاصل کرنے پر مولانا سید محمد حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ ( سابق مدرس : دار العلوم ) نے با قاعدہ ایک کتاب لکھی ، جس پر شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع صاحب جیسی عظیم ہستیوں نے تقاریظ ثبت کیں اور اس کتاب کا نام خود حکیم الامت نے ” وهب النسيم على نفحات الصلوة والتسلیم ” رکھا۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر 33 پر حضور صلی ال ایام کے تبرکات سے فیض پانے کا واقعہ لکھا ہوا ہے کہ بلخ کا رہنے والا ایک تاجر بڑا دولت مند تھا اور دنیاوی مال و دولت کے علاوہ اس کے پاس حضور سرور کونین صلی ایام کا بال مبارک بھی تھا۔ تا جرفوت ہو گیا، صرف دو ہی اس کے بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے نے کہا کہ اس کے دو ٹکڑے کر دیتے ہیں آدھا تم لے لو اور آدھا میں چھوٹے نے کہا: میں تو سرکار علیہ السلام کے موئے مبارک کے ٹکرے ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔ بڑے نے کہا: اگر تمہیں موئے مبارک سے اتنی محبت ہے تو اپنے پاس رکھ لو اور ساری دولت دنیا مجھے دے دو۔ چھوٹے نے یہ بات خوشی خوشی منظور کر لی اور اپنا سارا حصہ اس کو دے دیا ۔ اب وہ روزانہ بال مبارک کی زیارت بھی کرتا اور کثرت سے درود و سلام بھی پڑھتا۔ قدرت خداوندی سے بڑے بھائی کا مال گھٹنا شروع ہو گیا اور چھوٹے بھائی کے مال و عظمت میں دن بدن اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ ایک وقت آیا کہ چھوٹے بھائی کا رزق اتنا بڑھا کہ اس کا لنگر جاری ہو گیا اور بڑے بھائی پر اتناز وال آیا کہ وہ چھوٹے بھائی کے لنگر خانے سے دو وقت کی روٹی لینے آتا۔ اسی طرح تبرکات سے فیض حاصل ہونے کے متعلق امام بیہقی نے لکھا ہے کہ بادشاہ ھرل کو سر در درہتا تھا۔ کئی علاج کیے مگر شفاء نہ ہوئی ، خوش قسمتی سے اس کو حضور علیہ السلام کا ایک بال مبارک مل گیا۔ اس نے ٹوپی میں سی کر ٹوپی پہنی تو در فور ختم ہو گیا۔
ایک ہی سانس میں حروف تہجی پڑھنے کا کمال

مولانا سید محمود صندلی مدظلہ لکھتے ہیں : بڑے بڑے امراض سے بچنے کیلئے روزانہ فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان تمام حروف تہجی (الف سے لے کری تک ) 41 مرتبہ پڑھیں اور ہر دفعہ الف سے ی تک ایک ہی سانس میں پڑھیں۔41 مرتبہ پڑھنے کے بعد اپنے اوپر دم کرلیں۔ (بحوالہ کتاب : تحفه صندلیہ صفحہ 44 ناشر: مکتبہ ابن مبارک حق اسٹریٹ ، اردو بازار، لاہور )
ایک چھٹانک دال چاول سے پندرہ آدمیوں کی مہمان نوازی !

مولانا احمد صاحب لکھتے ہیں کہ گرمیوں کے موسم میں پہاڑوں کی طرف کچھ ساتھیوں کے ہمراہ دینی سفر کیلئے جانا ہوا۔ رمضان کا مہینہ تھا، اس لیے مشورے میں طے پایا کہ آٹا چاول وغیرہ نہ خریدیں جہاں جا رہے ہیں وہیں سے خرید لیں گے۔ دو پہر کے وقت ہم اپنی مطلوبہ جگہ ایک پہاڑی پر پہنچے جہاں صرف پانچ مکان اور ایک مسجد تھی ۔ کھانا پکانے کا نظام میرے ذمے تھا، میں نے راشن چیک کیا تو صرف ایک آدمی کیلئے چاول اور تھوڑی سی دال تھی ۔ دُکان کی تلاش کیلئے نکلے تو معلوم ہوا کہ یہاں تو کوئی دکان نہیں راشن اسی پہاڑی سے ملے گا جسے ہم صبح کے وقت پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ہمارا رہبر بھی واپس جا چکا تھا اس لیے ہمارا کہیں آنا جانا ممکن نہیں تھا۔ عصر کے وقت چار لوگ مزید آگئے جنہوں نے رات ہمارے ساتھ ٹھہرنے کا پروگرام بنالیا۔ اب جماعت میں کل پندرہ آدمی تھے جن کی افطاری اور سحری کا انتظام کرنا تھا۔ میں نے پریشان ہو کر اپنے محترم قائد سے مشورہ کیا تو انہوں نے فرمایا: کھانا میں خود پکاؤں گا تم ایک ساتھی کو لے کر قریبی جنگل میں چلے جاؤ۔ وہاں ہمیں کچھ جنگلی شہتوت اور زیتون زمین پر گرے ہوئے ملے ، جو ہم اٹھا کر لے آئے اور افطاری انہی سے کی ۔ اب محترم قائد نے مجھے فرمایا کہ میں جو کچھ بھی کروں ، آپ خاموشی سے دیکھتے جانا۔ یہ کہہ کر انہوں نے پانی سے بھر کر دو بڑے دیگچے چولہوں پر چڑھا دیے۔ ایک میں بس ایک چھٹانک دال چنا اور دوسرے میں قریباً دو چھٹانک چاول ڈال کر کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔ جب کھانا تیار ہو گیا تو مغرب کی نماز کے بعد دستر خوان لگایا گیا۔ پندرہ ساتھیوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا سحری کے وقت بھی امیر صاحب کچھ پڑھ رہے تھے چنانچہ سحری بھی پندرہ ساتھیوں نے پیٹ بھر کر کھائی ۔ فجر کی نماز کے بعد جب میں نے دیگچے کھولے تو ان میں دال اور چاول ابھی تک بچے ہوئے تھے میری حیرانی کو دیکھتے ہوئے محترم قائد فرمانے لگے : آج تک کتابوں میں تو آپ نے پڑھا تھا کہ جہاں کھانا کم ہونے کا ڈر ہو سورہ یاسین شریف پڑھو۔ آج آپ سب نے اس عمل کا عملی نمونہ بھی دیکھ لیا۔“ ( بحوالہ کتاب: پر تاثیر واقعات صفحہ 40 ناشر: مکتبہ یاد گار شیخ اردو بازار لاہور )
صرف 3 مرتبہ پڑھنے سے رزق کے دروازے کھل جاتے ہیں

1 – حضرت پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کہ جو شخص اس آیت کو لکھ کر اپنے پاس رکھے اور ہر نماز کے بعد 3 مرتبہ پڑھتا رہے، اللہ تعالیٰ اس پر روزی کے دروازے کھول دیتا ہے : اللهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (بحوالہ کتاب: تحفہ قلندری صفحه 115 ناشر : جہا نگیر بک ڈپولاہور، ملتان، کراچی) 2- امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ روزانہ فجر کی نماز کے بعد یہ وظیفہ 40 مرتبہ پڑھا کرتے تھے: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْتُ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ (بحوالہ کتاب: سوانح مولانا د او د غر نبوی صفحہ 210 ناشر : قاران اکیڈمی، قذافی اسٹریٹ، اردو بازار لاہور )
ایسا پانی جسے پلانے سے قریب المرگ بچہ زندہ ہو گیا

امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جن اکابر سے میں نے قرآن وحدیث پڑھی ہے وہ سورۃ فاتحہ کو ہر مرض کیلئے شافی علاج قرار دیا کرتے تھے۔ ہمارے محلے میں ایک ماسٹر صاحب پڑھاتے تھے ان کا بیٹا سوکھ کر کمزوری سے بالکل لاغر ہو گیا ۔ ڈاکٹروں نے کہا اب اس پر مزید پیسے مت خرچ کریں یہ چند گھنٹوں کا مہمان ہے، آرام سے اس کی جان نکلنے دیجئے ۔ ماسٹر صاحب نے اپنی اہلیہ کو بچہ دے کر والد محترم حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھیج دیا۔ وہ روتی ہوئی ہماری والدہ مرحومہ کے پاس پہنچی تو اسے دیکھ کر والدہ مرحومہ نے فرمایا: میں روزانہ فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان 41 مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھ کے پانی پر دم کرتی ہوں ، تم مسلسل 40 دن تک یہ دم والا پانی اپنے لا علاج بیٹے کو پلا دو ۔ اگر اللہ نے اس کی زندگی رکھی ہوئی ہے تو ڈاکٹروں کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ خدا کی شان دیکھئے کہ کچھ ہی دنوں میں فرق پڑتے پڑتے 40 دن میں بچہ مکمل طور پر صحت مند ہو گیا وہ ابھی تک زندہ ہے ایک جگہ دکان چلاتا ہے۔ چالیس کے دنوں بعد وہ عورت زنانہ کپڑے، پھل اور نوٹوں کا بار لیے میری والدہ مرحومہ کے پاس آگئی ۔ والد محترم حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے ہدیہ لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”ہم نے تمہیں کوئی دو انہیں دی کلام اللہ تو انہوں ( ہماری والدہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ) نے پڑھنا ہی ہوتا ہے ان کے دم میں تاثیر اللہ تعالیٰ نے ہی ڈالی اور تمہارے بچے کو شفاء اسی کلام مبارک سے ملی ۔ پس تم اللہ کا شکر ادا کرو۔“ وہ بے چاری سادہ عورت تھی کہنے لگی : آج تک تو ہم جہاں بھی گئے، لوگوں نے ہم سے دم کرنے اور تعویذ دینے کے پیسے لیے۔ بہر حال سورۃ فاتحہ “ کے اس جیسے سینکڑوں واقعات ہیں ، جن میں لوگوں کو شفاء ملنے کا بیان ہے۔ آپ کو بھی بھی کوئی مرض پیش آجائے تو سورۃ فاتحہ کایہ عمل ضرور آزمائیں، میری طرف سے سب کو اجازت ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ فجر کی سنتیں اداکر کے 41 مرتبہ سورۃ فاتحہ مع اول آخر 3 بار درود شریف پڑھیں۔ ( بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات صفحہ 42 مصنف : مولانا ابو احمد طه مدنی ناشر : مکتبہ یاد گار شیخ اردو بازار لاہور )