مفتی اعظم کی ہر سال مزار پر حاضری

دار العلوم کے مفتی اعظم ہر سال حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر عرس کے موقع پر حاضری دیا کرتے تھے اور خود سلسلہ نقشبندیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ علمائے کرام کا اولیاء سے تعلق نقشبندیہ خاندان سے تعلق رکھنے والے، دارالعلوم کے پہلے مہتم حضرت محدث دہلوی سے بیعت تھے اور ان کا سلسلہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد قاسم رحمۃ اللہ علیہ ان سب کا چشتی سلسلہ سے تعلق تھا اور یہ سلسلہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ علیہ اور حضرت صابر کلیری رحمہ اللہ علیہ سے ہوتا ہوا حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ ( بحوالہ : خطبات حکیم الاسلام، ج 7 ص 5 – ناشر مکتبہ امدادیہ ملتان )
ایسی جگہ جہاں جو مانگیں ملے گا اور ہر مراد پوری ہوگی!

مولانا نعیم الدین دامت برکاتہم لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کاظم سلام الله ورضوانہ علیہ کی وفات کے بعد بھی اللہ جل شانہ نے ان کے مزار کو یہ مقام بخشا کہ بزرگوں کے تجربہ کے مطابق وہاں جو دعا کی جائے، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتے ہیں ۔ شیخ ابو علی خلال رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے جب بھی کوئی پریشانی پیش آئی تو میں حضرت موسی بن جعفر سلام الله ورضوانہ علیہ کے مزار پر گیا، اور ان کے توسل سے دُعا کی اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ میرے مقصد کو آسان فرمادیا۔ بغداد کے مغربی حصے رصافہ میں آپ کا مزار مبارک واقع ہے۔ اس مزار کی وجہ سے پورے علاقہ کا نام کاظمیہ ہے ۔ ( تاریخ بغد الخطیب ص : 120 ، ج:1) حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 200 ھ میں ہوئی اور یہ بات اہل بغداد میں مشہور تھی کہ ” اللہ تعالیٰ ان کے مزار پر کی ہوئی دُعا قبول فرماتے ہیں۔ خاص طور پر قحط کے زمانے میں بارش کی دعا۔ (الطبقات الكبرى للشعراني ” ص : 61 ، ج:1) شیخ ابو عبد اللہ بن الحاملی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ کی قبر کے بارے میں ستر (70) سال سے جانتا ہوں کہ جو کوئی غمزدہ وہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتے ہیں۔ تاريخ بغد الخطیب ص : 123 جلد 1 ) . (کتاب : بیا مجلس نفیس ص 708 ، ناشر : صفہ ٹرسٹ لاہور ) شیخ یافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ اجابت دعا کے سلسلہ میں مشہور تھے اور اب بھی یہ بات مشہور ہے کہ ان کی قبر پر دعا قبول ہوتی ہے اور اہل بغداد ان کی قبر کو تریاق مجرب کہتے ہیں۔ (روض الریاحین ، ناشر : ایچ ایم سعید کمپنی کراچی )
کٹے ناخن دفنانے سے سنگین بیماریاں ختم

1. مسرج اشعریہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ ہمارے والد مسرج رضی اللہ عنہ جو اصحاب نبی پاک ﷺ میں سے تھے۔ انہوں نے ناخن کاٹا اور اس کے تراشہ کو جمع کر کے دفن کر دیا اور پھر کہا کہ میں نے اسی طرح ( آپ ﷺ کو ہم کو ناخن کے تراشے کو دفن) کرتے ہوئے دیکھا۔ (حوالہ نمبر 1 : شعب الایمان ج 5 ص (232) (حوالہ نمبر 2: شمائل کبری ، اول، حصہ دوم ص 333) 2. حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چاہیے۔ (بحوالہ فتح الباری : ج 10 ص 346) 3. شامی رحمۃ اللہ علیہ نے ردر المختار میں ناخن کاٹنے کی ایک خاص ترتیب پر آشوب چشم کا علاج لکھا ہے کہ یہ عمل مجرب ہے اس کی وجہ سے یہ بیماری دور ہو جائے گی۔ ( بحوالہ: فتح اتحاف : ج 2 ص 412) 4. شیخ محمد صالح حفظہ اللہ کی نگرانی میں ایک فتوئی شائع کیا گیا جس میں لکھا ہے کہ اگر ناخنوں کو دفن کر دیتے ہیں تو یہ اچھا عمل ہے 5. ) امام بیہقی رحمۃ اللہ شعب الایمان میں فرماتے ہیں کہ بالوں اور ناخنوں کو دفن کرنے کے بارے میں احادیث مختلف اسناد کے ساتھ موجود ہیں ۔ (بحوالہ : نصب الراية فی تخریج احادیث الهداية ج 1 ص 189)
کٹے ناخن دفنانے سے سنگین بیماریاں ختم

(6) امام خلال رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بالوں اور ناخنوں کو دفن کیا جائے۔ ( بحوالہ : الترجل صفحه : 19) (7) شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمۃ اللہ علیہ بالوں اور ناخنوں کو تراشنے کے بعد انہیں دفن کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا : ” اہل علم نے بال اور ناخن دفن کرنے کو اچھا اور بہتر عمل قرار دیا ہے، اس بارے میں صحابہ کرام سے بھی کچھ آثار ملتے ہیں ۔ (بحوالہ : مجموع فتاوی شیخ ابن عثیمین – 11 / جواب نمبر : 60) ( ناخنوں کو نجس ( نا پاک) جگہ ڈال دینا کراہت و گناہ کا ذریعہ ہے اور اس کو دفن کر دینا بہتر ہے۔ (حوالہ نمبر 1 : فتاویٰ ہندیہ ج 5 ص 358) (حوالہ نمبر 2 : فتاوی دار العلوم فتوی نمبر 35296) (9) انسانی ناخن اور بال دفن کر دینے چاہیں یا ایسی جگہ مٹی میں ڈال دیئے جائیں جہاں گندگی اور ناپاکی نہ ہو۔ (حوالہ: جامعہ بوری ٹاؤن فقوی )143605200009 نمبر (10) چار چیزوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ دفن کر دی جائیں۔ بال ، ناشن، حیض کا کپڑا، خون۔ اس لئے ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چاہئے۔ بیت الخلاء یا نسل خانہ میں انہیں ڈالنا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔ (ما خود: از اسلامی اخلاق و آداب، مصنفه صدر الشریعہ علامہ امجد علی قادری ص : 233-تا-238) (11) کئے ہوئے ناخن اور بال دفن کرنے چاہیں، دفن نہ کریں تو کسی محفوظ جگہ پر ڈال دیں یہ بھی جائز ہے مگر نجس گندی جگہ پر نہ ڈالے اس سے بیمار ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ (بحوالہ : بہشتی زیور: حصہ 11 ص 97) (12) مولانا اختر حسین رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ناخن کاٹنے کے بعد تراشے ہوئے کو دفن کرنا سنت ہے۔ (بحوالہ : سنت حبیب ص 189)
3 دن میں مقصد پورا ..!

مولانا محمد ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ: وَلِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اول و آخر 11 مرتبہ درود شریف پڑھ کے اس آیت کو 1217 دفعہ پڑھیں اور عمل مکمل ہونے پر سوا سیر ( تقریبا 1166 گرام) شیرینی نابالغ بچوں کو تقسیم کر دیں۔ ان شاء اللہ 3 دن میں مقصد حاصل ہو جائے گا۔ (بحوالہ کتاب: طب روحانی صفحه 93 ناشر : رابعہ بک ڈپو، اردو با ارلاہور )
صحابی کی انوکھی مہمان نوازی !

حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل النبہانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ صحرا میں اعلان فرمایا کہ تم میں سے ایک ہرن اور ایک پرندہ میرے پاس آجائے کیونکہ میرے پاس ایک مہمان آئے ہیں۔ یہ سن کر ایک ہرن اور ایک پرندہ فوراً حاضر خدمت ہو گیا۔ (بحوالہ کتاب: جامع کرامات اولیاء، ناشر: مکتبہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور ) جائز نا جائز ، حلال حرام اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے
گھر سے دور شخص کو واپس لانے کا مجرب عمل

مولانا اعجاز احمد لکھتے ہیں کہ مفرور شخص کو جلد واپس لانے کیلئے نہایت مجرب عمل یہ ہے کہ ایک کاغذ پر یہ کلمات لکھیں : ” بحق شیخ فرید الدین گنج شکر رحمة اللہ علیہ " لکھنے کے بعد پتھر کے نیچے دبا دیں۔ مفرور شخص کے واپس آنے پر اس پتھر کے وزن کے برابر شیرینی لے کر حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر رحمہ للہ عیہ کو ایصال ثواب کی نیت سے بچوں میں تقسیم کر دیں۔ (بحوالہ کتاب: آسان عملیات و تعویذات صفحہ 177 ناشر : کتب خانہ انور شاہ کورنگی ٹاؤن کراچی)
استخارہ کیلئے 1 اسم الہی پڑھیے

مولانا محمد از ہر صاحب لکھتے ہیں : استخارہ کرنے اور خواب میں اپنا معاملہ دیکھنے کیلئے 1100 مرتبہ الرَّحِيمُ ” پڑھیں۔ پھر 500 روپے کی شیرینی بچوں میں تقسیم کرتے ہوئے یہ نیت کریں کہ اس کا ثواب اولیاء اللہ رحمہ اللہ کو پہنچے۔ کسی پرچے پر الرَّحِیم “ لکھ کر اپنے سر کے نیچے رکھ کے سوجائیں، خواب میں معاملہ معلوم ہو جائے گا۔ (بحوالہ کتاب: مجربات اکابر صفحہ 201 ناشر : ادارہ تالیفات اشرفیہ چوک فواره ملتان )
راستے کا پتھر بھی فوت شدگان کیلئے نفع مند ہے !

علامه محمد بن اسماعیل میر نے "بلوغ المرام کی شرح "سبل السلام میں لکھا ہے کہ تلاوت قرآن اور تمام بدنی عبادتوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اور دلائل کی روشنی میں یہ بات زیادہ قوی ہے۔ اسی طرح علامہ شوکانی مالی نے بھی اپنی کتاب "نیل الاوطار“ میں اس بات کو حق کہا ہے۔ امام احمد بن حنبل کا فرمان ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب میت کو ملتا ہے۔ علمائے احناف رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ انسان کیلئے میت کو اعمال کا ثواب بخشنا جائز ہے۔ علامه نواب سید محمد صدیق حسن خان لکھتے ہیں کہ آدمی جو کچھ بھی صدقہ و خیرات کرے، اس میں اپنے والدین کی نیت بھی کرلے، تو اس سے اس کا ثواب کم نہیں ہوگا ، بلکہ دونوں کو برا بر ثواب ملتا ہے۔ بعض اکابر و اسلاف کے متعلق واقعات ملتے ہیں کہ راستے میں چلتے ہوئے اگر کوئی پتھر راستے کے درمیان پڑے ہوئے دیکھتے تو اس حدیث کے پیش نظر راستے سے تکلیف دہ چیز کا بٹانا بھی صدقہ ہے ) ایک پتھر دائیں طرف پھینک دیتے اور اس میں والد کی نیت کرتے۔ پھر دوسرا پتھر بائیں طرف پھینک دیتے اور اس میں والدہ کی نیت کرتے اور بعض اسلاف کے متعلق یہ واقعات بھی ملتے ہیں کہ وہ سخت ناگواری کے موقع پر غصہ پی جاتے اور اس میں بھی والدین کیلئے صدقہ کی نیت کر لیتے۔ (بحوالہ کتاب: اسعاد العبادس 63 مرتب: مولانا عبد الواحد، ناشر : امین پور بازار فیصل آباد ) ضرت شیخ الہند ایک دن طلباء کو قطبی پڑھا رہے تھے، جوفن منطق کی کتاب ہے۔ بہت کم اسا تذہ قطبی کا سبق پڑھانا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ طلباء بھی اس کتاب کو فلسفہ منطق سمجھ کر بے رغبتی سے پڑھتے ہیں۔ حضرت شیخ الہند اس وقت دار العلوم کے شیخ الحدیث تھے۔ اسی دوران ایک شخص نے آکر کہا: میرے والد فوت ہو گئے ہیں ، آپ اور آپ کے طلباء سے ایصال ثواب کی درخواست ہے ۔ آپ نے طلباء سے فرمایا : ہم نے قطبی کا جو سبق پڑھا ہے، اس کا ثواب ان کے والد کو بخش دو۔ یہ سن کر سب حیران ہو گئے ۔ اس شخص نے کہا: حضرت آپ تلاوت قرآن کا ایصال ثواب کرتے ، یہ تو منطق کی کتاب ہے فرمایا : اگر کوئی اخلاص کے ساتھ قطبی کو پڑھے تو اللہ پاک جو ثواب قرآن کی تلاوت اور صحیح بخاری جیسی کتب احادیث پر عطا کرتے ہیں، وہی ثواب منطق کی کتاب پڑھنے پڑھانے پر بھی عطا کرتے ہیں۔ (حوالہ: ماہنامہ الخیری 2019 صفحہ 38 ناشر : جامعہ خیر المدارس ، اورنگ زیب روڈ ملتان ) جائز نا جائز ، حلال حرام اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے.
پرندوں اور جانوروں کی خاص بولیاں ظاہر ہوگئیں

حضرت علامہ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی رحمتہ للہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہل اللہ حضرات پر مختلف اوقات میں پرندوں اور جانوروں کی یہ بولیاں منکشف ہوئیں۔ (1) تيتر الرحمن على العرش استویٰ ” پڑھتا رہتا ہے۔ (2) باز” في البعد من الناس انس“ پڑھتا رہتا ہے۔ (3) گدھ اس انداز میں ہمیں درس عبرت دیتا ہے یا ابن آدم عش ما عشت فان اخرك الموت (4) فاخته “ کہتی ہے يليت الخلق لم يخلق “ (5) مور ان الفاظ میں نصیحت کرتا ہے” كما تدين تدان (6) مینڈک یہ پچ پڑھتا ہے سبحان ربی القدوس (7) طوطا‘ دنیا سے آخرت کی طرف اس انداز میں رہنمائی کرتا ہے” ویل لمن الدنيا همه " (8) سنگ خورہ زبان کے بے جا استعمال کرنے والے لوگوں کو ان الفاظ میں درس دیتا ہے ۔ من سکت سلم ( بحوالہ کتاب: تفسیر روح المعانی صفحہ 512 ناشر : مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ) جائز نا جائز ، حلال حرام اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے.