نظر سے پرندے شکار ہو گئے !

حضرت مولانا صوفی احمد الدین حنیف” لکھتے ہیں کہ جب حضرت مولانا عبد اللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ ہری پور ہزارہ کے نواح میں مقیم تھے ، تو ایک دن ان کے ساتھیوں نے شکار کا گوشت کھانے کی خواہش ظاہر کی ۔ حضرت عبداللہ غزنوی رحمتہ اللہ علیہ نے نظریں اٹھائیں ، تو آسمان پر پرندوں کی ڈار آ گئی پھڑ پھڑ پرندے نیچے گرنے لگے ، جب مطلوبہ تعداد مکمل ہوئی تو نگاہیں نیچی کرکے فرمایا اٹھو اور ذبح کرلو۔ (بحوالہ : ہفت روزہ الاسلام لاہورس 13 جون (1979)

یہ آیت گھر کے دروازے پر لکھی‘ گھرخوشیوں کا باغ بن گیا!

علامہ سید صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے گھر کے دروازے پر یہ آیت لکھوائی ہوئی تھی ’’ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ ‘‘ کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: سورۃ کہف میں ارشاد ہے کہ آدمی کو اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت یہ آیت پڑھ لینی چاہئے۔ پس میرا گھر میرا باغ ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا :’’جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے اہل و عیال (بیوی ‘ بچوں میں ) اور مال (کاروبار، زمینداری ، تجارت) میں ہمیشہ خوشی دیکھے، تو اسے چاہئے کہ انہیں دیکھتے ہوئے یہ آیت ’’ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ ‘‘پڑھ لیا کرے۔ کیونکہ اس کی برکت سے ان پر موت کے سوا کوئی آفت نہیں آئے گی۔ (ذکرہ الشرجی بلاتخریج) سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں کہ میں نے اس عمل کا تجربہ کیا تو اسے صحیح پایا۔ (بحوالہ کتاب: الداء والدواء صفحه 54 ناشر: اسلامی کتب خانہ فضل مارکیٹ، اردو بازار، لاہور )

مسجد اموی میں طلسمات!

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب لکھے ہیں کہ مسجد امومی (دمشق) کی چھت میں مختلف قسم کی کچھ ایسی عجیب و غریب چیزیں لٹکائی گئی تھی ، جن کے ذریعہ مختلف قسم کے حشرات الارض اور جانوروں کے مسجد میں داخل ہونے کا امکان ختم کر دیا گیا تھا ، ان چیزوں کو طلسمات کہا جاتا تھا۔ ایک طلسم کا اثر یہ تھا کہ مسجد میں ” سنونو” نامی پرندہ اپنا گھونسلہ نہیں بنا سکتا تھا اور کوئی کو ا داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ ایک طلسم چوہوں کو داخل ہونے سے روکتا تھا، ایک طلسم سانپ اور بچھو کو۔ ایک طلسم مکڑیوں کے لئے تھا اور ایک کبوتروں کے لئے ۔ چنانچہ ان میں سے کوئی بھی جانور مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس مسجد کا ایک عجوبہ یہاں کی متحیر العقول گھڑی تھی، جو تقریباً دو کمروں کے برابر تھی۔ اس میں دن کا وقت بتانے کے لئے الگ نظام تھا اور رات کا وقت بتانے کے لئے دوسرا نظام تھا۔ یہ عجیب و غریب گھڑی چھٹی صدی ہجری کے مشہور انجینر ( مهندس ) محمد بن عبدالکریم نے ایجاد کی تھی جو دمشق ہی کے باشندے تھے۔ 599ء میں ان کی وفات ہوئی۔ بحوالہ کتاب : ( انبیاء علیہ اسلام کی سرزمین میں صفحہ نمبر : 115, ناشر : ادارہ المعارف کراچی ) حلال حرام، جائز نا جائز اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے!

لکنت سے نجات اور ہر عمر میں تیز ترین حافظ ناممکن نہیں!

شيخ الحديث حضرت علامہ انور شاہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ جس شخص کی زبان میں لکنت ہو اسے چاہئے کہ شبِ جمعہ میں چار رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ یاسین، دوسری رکعت میں سورۂ دخان، تیسری رکعتت میں سورۂ الم السجدہ اور چوتھی رکعت میں سورۂ ملک پڑھ کر سلام پھیر دے اور اپنی لکنت کے دور ہونے کی دعا کرے۔ انشااللہ زبان سے لکنت ختم ہو جائے گی۔ (بحوالہ کتاب: گنجینه اسرارہ 144 ناشر : ادارہ اسلامیات، 190 انار کلی لاہور )

رزق کیلئے مختلف اوقات میں یہ اسم الہی پڑھیں!

مولانا اقبال احمد رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ مخصوص اوقات میں یہ الفاظ پڑھنے سے رزق میں بہت برکت ملے گی۔ فجر کے بعد : يَا عَزِیزُ یا اللہ ظہر کے بعد : یا گرِیمُ يَا اللَّهُ عصر کے بعد : يَا جَبَّارُ يَا الله مغرب کے بعد : يَا سَتَارُ يَا الله عشاء کے بعد : یا غَفَّارُ یا الله (بحوالہ کتاب: شمع شبستان رضا حصہ اول ص 14 ناشر : قادری رضوی کتب خانہ لاہور ) جائز نا جائز ، حلال حرام اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے

مقصد پانے کیلئے سورہ یسین کا عمل

شيخ الحديث حافظ محمد داؤ در حمانی رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا ہے: امام شرجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سورہ یسین جس مطلب کیلئے بھی 41 بار پڑھو، وہی مقصد حاصل ہو جائے گا۔ جس شخص نے صبح سورہ یسین پڑھی، اس کی حاجت پوری ہوگی، ان شاء اللہ ۔ بعض مشائخ نے فجر کی سنت و فرض کے درمیان پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ (بحوالہ کتاب: لذاء الارواح صفحه 63 ناشر : مكتبه الريحان، عقب شہید ملت روڈ کراچی نمبر 5) جائز نا جائز ، حلال حرام اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے

جادوئی پتلے نے بول کر سب راز ا گل دیے !

مولانا محمد انور مدظلہ لکھتے ہیں کہ : شاہ عبد القادر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مرشد حضرت شاه عبد الرحيم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے ایک شاگرد مولانا فراغت علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے خاص تعلق تھا۔ وہ انہیں ” میرے چاند کہہ کر پکارتے تھے۔ ایک رات ہوا میں ایک روشن دان جارہا تھا۔ حضرت نے فرمایا : میرے چاند! اگر تم چاہو تو میں اس روشن دان کو نیچے اتار دوں؟ مولانا فراغت علی صاحب نے دلچسپی ظاہر کی تو حضرت نے روشن دان کو حکم دیا ، وہ نیچے اتر آیا۔ اس میں ایک پتلا تھا، جس میں سوئیاں چبھی ہوئی تھیں۔ حضرت نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ پتلے میں سے آواز آئی کہ میں جادو ھوں " حضرت نے فرمایا : ” میری بات مانو گے یا اپنے جادوگر کی ؟“ کہنے لگا : حضرت میں تو آپ کی بات مانوں گا ۔ فرمایا: ” میری رائے ہے کہ جہاں سے آئے ہو، وہیں واپس لوٹ جاؤ۔ چنانچہ وہ لوٹ گیا اور بعد میں سنا گیا کہ وہ جادوگر مر گیا ہے۔ حضرت شاہ عبد الرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے : اس بد بخت نے اس طرح نہ جانے کتنے لوگوں کو ہلاک کیا ہوگا ؟“ (بحوالہ کتاب: اکابر کے ایمان افروز واقعات صفحہ 138 ناشر : شعبه تحقیق و تصنیف، اداره اشاعت اسلام، کراچی)

آنکھوں کی پرانی تکلیف ختم !

حضرت مولانا محمد صاحب لکھتے ہیں کہ : جناب محمد خان نے حضرت خواجہ خان محمد رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں اپنی والدہ کی آنکھوں میں تکلیف کی شکایت کی تو آپؒ نے فرمایا: ’’ میرے والد حضرت خواجہ محمد عمر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ایک عرصے تک آنکھوں میں تکلیف رہی، جس کا ذکر انہوں نے اپنے شیخ خواجہ محمد سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ سے کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: یہ مسنون دُعا 7 مرتبه مع اول آخر درود شریف 3 مرتبہ پڑھ کر انگلیوں کے پوروں پر دم کر کے آنکھوں پر پھیر لیا کرو۔ بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ خان جی ! تم بھی یہی وظیفہ پڑھ کر اپنی والدہ صاحبہ کی آنکھوں پر پھیرلیا کرو، اللہ تعالیٰ صحت و سلامتی عطا فرمائیں گے۔ لہذا خان صاحب کا کہنا ہے کہ چند دن یہ عمل کرنے سے میری والدہ کی تکلیف ٹھیک ہو گئی۔ ( بحوالہ کتاب: تحفۂ نقشبندیہ صفحہ 331 ،ناشر: خانقاہ سعد یہ نقشبندیہ)

ایسی آواز جوٹینشن ‘ بیماریاں اور عذاب ختم کردے!

1- حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جس بستی میں صبح کے وقت اذان دی جاتی ہے ، ان بستی والوں کیلئے شام تک اللہ کے عذاب سے حفاظت ہو جاتی ہے اور جس بستی میں شام کی اذان دی جاتی ہے ، ان بستی والوں کیلئے صبح تک اللہ کے عذاب سے حفاظت ہو جاتی ہے۔ ( کنز العمال، جلد7، صفحہ 682) 2- حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک آسمان والے زمین میں رہنے والوں کی کوئی آواز نہیں سنتے ، سوائے اذان کے۔ ( کنز العمال، جلد،7 صفحہ 682) 3- حضرت مولانامحمد طیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں’’ اگر غیر مسلم لوگوں کے ہاں علم دین نہ بھی پہنچے تو اذانوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا نام ان کے گھروں تک ضرور پہنچتا ہے۔ ایک زمانے میں دارالعلوم کے مؤذن محمد تر کی مرحوم تھے۔ جب وہ اذان دیتے‘ تو ان کی آواز سن کر بہت سے ہندو بیٹھ جایا کرتے تھے کہ اب اللہ تعالیٰ کا نام لیا جا رہا ہے۔‘‘ (مجالس حکیم الاسلامؒ جلد 1 صفحہ 49 ،بحوالہ: ماہنامہ الخیر دسمبر 2018صفحه 40 ناشر : جامعہ خیر المدارس ملتان )

جب غمگین ہوں تو یہ آواز سنیں!

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن مجھ سے پوچھا: اے ابن ابی طالب ! کیا بات ہے کہ میں تمہیں غمگین دیکھ رہا ہوں۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ واقعی میں غمگین ہوں۔ فرمایا: جاؤ اور اپنے گھر والوں میں سے کسی کو کہو کہ وہ تمہارے کان میں اذان پڑھے ۔ (سنن کبری، تالیف : امام عبد الوهاب شعرانیؒ – کتاب الزہد ، تالیف: شیخ ابو الحسن مالکیؒ امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ یہ حدیث ہم تک متصل سند کے ساتھ پہنچی ہے اور میں نے کئی مرتبہ اس عمل کا ذاتی تجربہ کیا تو اسے مجرب پایا ۔ (بحوالہ کتاب: الداء والدواء صفحہ ۱۹۷ تالیف: علامہ نواب سید محمد صدیق حسن خانؒ، ناشر: اسلامی کتب خانه اردو بازار لاہور )

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026