خواتین کو ہوس کا نشانہ بنانے والے جنات

قسط نمبر 56 علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم نے کچھ عرصہ پہلے ماہنامہ عبقری کے ہر دلعزیز کالم ” جنات کا پیدائشی دوست’ میں ایک اہم نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : کہ خواتین کو خود بھی مکمل لباس پہنا چاہئے اور اپنی کم سن بیٹیوں کو بھی مکمل لباس پہننے پر زور دینا چاہئے کیونکہ ہر عورت بچپن میں بھی عورت ہوتی ہے، جوانی اور بڑھاپے میں بھی عورت ہی رہتی ہے۔ پس جو خواتین اپنے لباس کا خیال نہیں رکھتیں، ان کے کھلے بازو کھلا گلا اور جسم کا ہر وہ حصہ جو ڈھکا ہوا نہ ہو اس پر جنات عاشق ہو جاتے ہیں ان اعضاء پر جنات اپنے جراثیم بھرے لعاب ملتے ہیں، جس سے سمجھ میں نہ آنے والی طرح طرح کی انوکھی بیماریاں جنم لیتی ہیں، رشتوں کی بندش اور بے اولادی کے مسائل وجود میں آتے ہیں. یہ کالم پڑھ کر کئی لوگوں نے اعتراض کیا کہ بھلا جنات اتنے فارغ ہیں، جو انسانوں کو چمٹتے رہیں؟ بھلا جسمانی بیماریوں اور گھر لڑائی جھگڑوں کے پیچھے جنات کا عمل دخل کیسے ممکن ہے؟ بھلا خواتین کے لباس کے ساتھ جنات کا کیا لینا دینا؟ لیجئے قارئین ! ہم آپ کو 27 سال پہلے لکھی ہوئی کتاب میں سے اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ مولانا حافظ غلام حبیب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز مولانا حاجی احمد علی صاحب پنجگوری لکھتے ہیں : علامہ محمد مغربی کی شاہ جنات کے وزیر اسماعیل چن سے ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ جنات کی مختلف اقسام ہیں، جن میں سے اکثر جنات انسانوں کے مردوں اور عورتوں کو ستا یا کرتے ہیں۔ حتی کہ ان میں سے بعض کی حالت تو یہ ہے کہ وہ انسانی عورتوں پر فریفتہ ہیں ان سے جماع کرتے ہیں اور انہیں اپنی بیوی بنانا پسند کرتے ہیں۔ بحوالہ کتاب: خزینۃ الاسرار، صفحہ 386 مصنف : مولانا حاجی احمد علی پنجگوریخلیفہ مجاز : حضرت مولانا حافظ غلام حبیب صاحب ایشین یہ چکوال ناشر: کتب خانہ مجید یہ بوہر گیٹ ملتان Khawateen Ko Hawas Ka Nishana Bananay Waly Jinn Qisat 56 اکابر کا اعتماد YouTube پر دیکھیں

جنات سے ملاقات تعلیمات اکابر کی روشنی میں

قسط نمبر 54 جنات کے پیدائشی دوست’ حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم“ کے واقعات پڑھ کر جو لوگ سوچ میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ان کے شرح مدد کیلئے قطب الاقطاب حضرت خلیفہ غلام محمد صاحب دین پوری کی سوانح حیات سے چند باتیں پیش خدمت ہیں۔ حضرت الشیخ میاں مسعود احمد صاحب مدظلہ فرماتے ہیں کہ : جنات بھی حضرت خلیفہ صاحب کے پاس حاضر ہوتے تھے۔ ایک رات حضرت بستر پر موجود نہیں تھے جب دیکھا تو مسجد میں جنات کو حلقہ ذکر کرا رہے تھے۔ ایک دفعہ حضرت خلیفہ غلام محمد صاحب بیمار ہوئے تو جنات آپ رحمتہ اللہ علی کی عیادت کیلئے حاضر ہوئے اور آکر چار پائی ہلانے لگے۔ حضرت ریلی علیہ نے ان سے فرمایا : کیوں تنگ کرتے ہو؟ میڈ ا ہتھ لیگیوں تاں استنجاء کابل وچ ونج کریسو۔ حضرت یشمیہ کی پہلی زوجہ محتر مہ جب حیات تھیں تو گھر سے جنات ضرورت کا سامان (چاقو چھر یاور برتن وغیرہ) اٹھا کر لے گئے۔ جب واپس رکھنے آئے تو اماں جان نے فرمایا: بھیڑیو! کیوں پریشان کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہماری شادی تھی اس لیےآپ کا سامان لے گئے تھے۔ ایک دفعہ بارش ہو رہی تھی تو حضرت صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے خادم مولا نا کریم بخش کھانا دینے کیلئے حاضر ہوئے مگر ان کے کپڑے بالکل خشک تھے۔ حضرت نے ان کے واپس جانے کے بعد جب کھڑکی سے دیکھا تو وہ مولانا کریم بخش رحمتہ اللہ علیہ سطح زمین سے بلند جارہے تھے اور ان پر بارش بھی نہیں پڑ رہی تھی ( قارئین یہ تو حضرت کے غلاموں کا حال تھا، خود حضرت رحمتہ اللہ علیہ کا کیا مقام ہوگا ؟ ) بحوالہ کتاب: ید بیضاء صفحہ 285 مؤلف : میاں خلیل احمد صاحب دین پوری مدظلہ ناشر: امیر جماعت درگاه عالیه دین پور شریف، ضلع رحیم یارخان Jinnat Se Mulaqaat Talemat Akabir Ki Roshni Mein Qisat No 54 فیس بک پر پڑھیں

جنات کے بچے کا قتل اور عدالت کا فیصلہ

ماہنامہ عبقری رسالہ میں ہر ماہ علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم کا ہر دلعزیز کالم{ جنات کا پیدائشی دوست} شائع ہوتاہے۔جس میں علامہ صاحب نے کائنات کے حیرت انگیز رازوںسے پردہ اٹھایا ہے۔ علامہ صاحب اس دور میں وہ عظیم روحانی شخصیت ہیں جن پر اللہ جل شانہ نے روحانیت کے کمالات اور مشاہدات کا انوکھا جہان کھولا ہے ۔ جنات میں علامہ صاحب کا وقار عظمت اور شان و شوکت بہت زیادہ ہے۔اللہ والے ہر جگہ سے مخلوق کے لئے خیر ڈھونڈ کر نکال لاتے ہیں، اسی طرح علامہ صاحب نے بھی ہمیں جنات کی دنیا سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ دنیا آخرت میں کامیاب ہونے کے لئے مقبول و محبوب اعمال ، وظائف اور ان سے ملنے والی غیبی مدد سے روشناس کروایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں لوگ علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم سے بے انتہا محبت اور عقیدت رکھتے ہیں اور عبقر ی کے ذریعےان سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔یا درہے جنات کی دنیا سے شناسائی، ان سے ملاقات اور واقعات ہمارے اکابر کی زندگی میںبھی موجود تھے،اس کے حوالے کے طور پر ہفت روزہ ختم نبوت رسالہ سےایک واقعہ پیش کیا جارہا ہے ۔ مولانا غلام محمد ریحان سے متعلق عجیب واقعہ {شاہی مسجد کہروڑ پکا کے خطیب حافظ حفظ الرحمن کہتے ہیں کہ مولاناغلام محمد ریحان جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کہروڑ پکا کے ایک عرصہ تک امیر رہے۔ایسے ہی بخاری چوک کی جامع مسجد میں عرصہ دراز تک امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ بخاری چوک والی مسجدسے پہلے ایک اور مسجد میں بھی امام اور خطیب رہے ۔ ایک دن مسجد میں آئے تو ایک سانپ کے بچے کو دیکھاتو سانپ سمجھ کر مار دیا، وہ سانپ نہیں بلکہ جن تھا۔ سانپ کے متعلق بھی مسئلہ یہ ہے کہ اگر سانپ ہو تو اسے تین دفعہ آواز دوکہ اگر تو کوئی اور چیز ہے تو نکل جا اور اگر نہ جائے تو اسے ماردو۔ بہر حال تھوڑی دیر کے بعد مولانا غائب ہو گئے، یعنی انہیں جنات اٹھا کر لے گئے اور تقریباً تین چار روز غائب رہے۔ان کا کیس جنات کے قاضی کے سامنے پیش ہوا کہ مولوی صاحب نے ہمارا بچہ مار دیاہے۔ مولانا سے پوچھا گیا تو مولانا نے کہا کہ میں نے سانپ کو مارا تھا نہ کہ کسی آدمی اور جن کو ، تو انہیں کہا گیاکہ وہ جن تھا، جو سانپ کی شکل میں تھا۔ تو بہر حال جنات کے سربراہ نے کہا کہ آہ کے بچے کو کس نے کہا تھاکہ وہ سانپ کی شکل اختیار کر کے مسجد میں جائے؟ پھر قاضی نے ایک کبیر السن بڑی عمر کے جن کو طلب کیاوہ جن بڑی عمر کا تھا۔ اتنی بڑی عمرکہ اس کی آنکھیں پلکوں کے نیچے چھپ گئیں تھیں پلکیں اٹھا کر دیکھتا تو اس نے تصدیق کی کہ واقعتاً یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔قاضی نے اپنے گارڈ (حفاظتی دستہ)کی حفاظت میں انہیں بھیجا ، وہ آ کر ساٹھ ہزاری نہر جو کہروڑ پکا سے پہلے واقع ہے۔اس وقت جنگل ہوتا تھا، چھوڑ گئے تین چار دن جب موصوف غائب رہے تو والدین اور گھر والے پریشان اور ان کے استاذ قاری امیر الدین اپنی جگہ پر غصہ کہ میرا شاگرد بغیر اجازت کے غائب رہا، جب واپس آئے تو اس کے بعد حضرت قاری صاحب بہت محبت فرماتےتھے۔ ،مسجد قاضیاں کے خطیب مولانا محمد یعقوب جو اچھے عامل تھے انہوں نے عملیات کے ذریعہ جنات کو بھگایا۔ مولانا محمد ریحان نے۱۷ جنوری ۲۰۱۷کو انتقال فرمایا۔ (مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی) (بحوالہ :ہفت روزہ ختم نبوت، جلد ۳۹، شمارہ نمبر ۴۷، ، ۱٦ دسمبر تا ۲۲ دسمبر ۲۰۲۰ء، صفحہ نمبر ۲۱)

ڈیڑھ سو سال پرانے علامہ لاہوتی پراسراری

ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے سلسلہ وار کالم ” جنات کا پیدائشی دوست“ کے متعلق کچھ عقل پرست لوگوں کی طرف سے فتویٰ لگا دیا جاتا ہے کہ یہ محض ”جھوٹے قصے کہانیاں ہیں حالانکہ اگر انہیں اپنے اکا بر واسلاف کے متعلق تھوڑی سی بھی خبر ہوتی تو وہ اس بات کی تہہ تک پہنچ جاتے کہ علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم جیسی مقبول خدا ہستیاں ہر دور میں موجود رہی ہیں۔ دُور مت جائیں ، صرف ڈیڑھ صدی پہلے کے عظیم محدث ، مرجع خلائق حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی ایشلیہ کی زندگی پر نظر ڈالیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے زمانے کے ”علامہ لاہوتی پراسراری“ تھے۔ تابعین جنات سے ملاقات : شاہ عبد العزیز محدث دہلوی پایمالیہ کے سوانح نگار مولوی ظہیر الدین سید احمد صاحب رائیل علیہ لکھتے ہیں کہ : ایک دن جمعے کی نماز کے بعد حضرت شاہ صاحب ریلی علیہ کی خدمت میں دو آدمی آئے اور ایک مشکل مسئلہ پوچھا۔ آپ رحوا علیہ نے جواب دیا تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے بالکل درست فرمایا۔ کیونکہ ہم نے یہی مسئلہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی پوچھا تھا تو انہوں نے یہی جواب ارشاد فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب رحا لی علیہ نے ان جنات سے پوچھا: جس وقت تم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی زیارت کی تھی ، تب تمہاری عمر کتنی تھی؟ بولے ” پانچ سو برس یعنی ہماری عمر کم و بیش 18 صدیاں بنتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ غائب ہو گئے۔ (بحوالہ کتاب: کمالات عزیزی، صفحہ 34 ناشر: مکتبہ رحمانیہ ۱۸ اردو بازار لاہور ) قارئین! اگر عبقری میں جنات کا پیدائشی دوست محض قصے کہانیاں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ نعوذ باللہ اتنے بڑے محدث شاہ عبدالعزیز دہلوی ریلی علیہ کی زندگی بھی صرف جھوٹ پر قائم تھی۔ اسلاف بیزار اور عقل پرست لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ سائنس کی طرح دین کی ہر بات پر بھی کبھی کبھار بغیر دیکھے یقین کر لینا چاہئے.

عرب میں وہ کون سا آدمی تھا‘ جو جنات کے ذریعے لوگوں کو غلام بنا لیتا تھا ؟

دار العلوم انڈیا کے استاذ الحدیث حضرت مولانا قمر عثمانی دامت برکاتہم لکھتے ہیں : عرب کے شہر تریم میں ایک پردیسی عامل آیا جو جنات سے کام لیا کرتا تھا۔ جو لوگ اس کی باتوں کو اہمیت نہ دیتے وہ انہیں ’’اپنے جنات کے ذریعے تکلیف پہنچایا کرتا۔ اس لیے دُنیا دار لوگ اس کے ہاں آنے جانے لگے ۔‘‘ مدینہ منورہ میں حضرت سید علوی رحمۃ اللہ علیہ نامی ایک بزرگ تھے جن کی شہرت کا چرچا کالے جادو گر تک پہنچا ۔تو اس نے انہیں اپنے ہاں طلب کرنے کے سو جتن کیے مگر نا کام رہا۔ ایک دن اس نے کئی لوگوں کی موجودگی میں حضرت شیخ ؒ رحمۃ اللہ علیہ کو برا بھلا کہا، تو اسی مجلس میں موجود ایک شخص عیسیٰ بن حرم نے اُٹھ کر اس جادوگر کے منہ پر تھپڑ دے مارا اور کہا:’’ ہم جن کے سامنے بولنے کی جرات نہیں کر سکتے ، تجھ جیسا خبیث آدمی ان کو گالی دیتا ہے؟ ‘‘ چنانچہ بعد میں عیسیٰ بن حرم کو خوف محسوس ہوا کہ میں نے جو کالے جادو گر کو تھپڑ مارا ہے، کہیں اس کا بدلہ وہ جنات کے ذریعے نہ لے۔ لہذا وہ حضرت شیخ سید علوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں مدینہ منورہ جا پہنچا، جو اس وقت مسجد نبوی ﷺشریف میں نوافل ادا کر رہے تھے۔ اس نے ساری بات ان کے گوش گزار کی تو انہوں نے فرمایا: ’’ان شاء اللہ وہ جادو گر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ تم آزادی سے زندگی بسر کرو۔‘‘ لیکن عیسیٰ بن حرم کا دل مطمئن نہ ہوا تو اس کے دل کا خوف بھانپتے ہوئے شیخ علوی رحمۃ اللہ علیہ اُٹھے اور ایک دروازے کی طرف گئے ۔ اسے ہلایا تو وہاں سے پرندے جیسی ایک آواز آئی۔ پھر دوسرے دروازے کی طرف گئے ، وہاں سے بھی یہی آواز آئی۔ واپس آکر فرمانے لگے وہ جادو گر اپنے 2 جنات کے ذریعے لوگوں کو تکلیف پہنچاتا تھا، میں نے انہیں قتل کر دیا ہے۔ لہذا اب مطمئن ہو جاؤ۔ یہ سن کر عیسیٰ بن حرم کا دل خوش ہو گیا اور اس نے باقی لوگوں کو بھی جا کر یہ واقعہ سنایا۔ کالے جادوگر کو جب اپنے جنات کی ہلاکت کا پتہ چلا تو وہ شہر چھوڑ کر ہی بھاگ گیا ۔ ( بحوالہ کتاب : مبارک تذکرے، صفحہ 170 ناشر محبوب بک ڈپو، یوپی انڈیا ) حلال ‘ حرام، جائز ناجائزاور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے!

کیا حقیقتاً جنات لیموں سے گھبراتے ہیں؟

شیخ قاضی علی بن حسن خلعی رحمۃ اللہ علیہ کی سوانح حیات میں واقعات موجود ہیں کہ ان کے پاس جنات آتے جاتے رہتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ کافی عرصے تک جنات نہ آئے تو حضرت قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی۔ جنات نے بتایا کہ آپ کے گھر میں لیموں رکھے ہوئے تھے اور ہم ایسے گھر میں نہیں آتے ، جہاں لیموں ہوتا ہے ۔“ (بحوالہ کتاب: واقعات کا خزانہ صفحہ نمبر 31 تا 310 ناشر: مکتبہ ارسلان کراچی)

حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی ستانے والے جن سے ملاقات

مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ دیا یہ فرماتے ہیں کہ سہارن پور کے ایک مکان میں جنات کا اتنا سخت اثر تھا کہ وہاں رہنے والے لوگوں نے وہ مکان ہی چھوڑ دیا ۔ ایک دن حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سہارن پور تشریف لائے تو میزبان نے ان کو اسی مکان میں ٹھہرا دیا کہ شاید حضرت کی برکت سے جنات دفع ہو جا ئیں۔ رات کو حضرت جب تہجد کیلئے اٹھے اور معمولات سے فارغ ہوئے تو ایک شخص ان کے سامنے آکر مؤدب ہو کر بیٹھ گیا۔ حضرت حاجی صاحب کو حیرت ہوئی کہ اندر سے تو کنڈی لگی ہوئی ہے یہ کہاں سے آگیا ؟ پوچھا تم کون ہو؟ کہنے لگا: حضرت! میں وہی چن ہوں، جس کی وجہ سے لوگ یہ مکان چھوڑ گئے ہیں۔ بہت عرصے سے آپ کی ملاقات کا شوق رکھتا تھا، اللہ تعالیٰ نے آج میری تمنا پوری کر دی۔ حضرت حاجی صاحب نے فرمایا: ہمارے ساتھ محبت کا دعوی بھی کرتے ہو اور مخلوق خدا کو تنگ بھی کرتے ہو؟ تو بہ کرو۔ لہذا حضرت حاجی صاحب نے اسے تو بہ کروائی۔ پھر فرمایا : سامنے کمرے میں حافظ ضامن صاحب بھی تشریف رکھتے ہیں ان سے بھی مل لو ۔جن کہنے لگا: نہیں حضرت ! وہ بڑے صاحب جلال ہیں، مجھے ان سے ڈر لگتا ہے۔ بحوالہ کتاب: عملیات و تعویذات کے شرعی احکام صفحه ۵۴ مصنف: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی دی ٹیلی ناشر: ادارہ تالیفات اشرفیہ بوہڑ گیٹ، ملتان قارئین! یہ کیا بات ہوئی کہ اگر مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ دینا یہ اپنے مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی جنات سے ملاقات ثابت کریں تو ہم انہیں حکیم الامت“ کہہ دیں لیکن جب اسی طرح کا سچا واقعہ ”ماہنامہ عبقری یا علامہ لا ہوتی صاحب دامت برکاتہم بیان کریں تو ہم اسے من گھڑت قصے کہانیاں کہہ کر رڈ کر دیں۔ دعا ہے کہ ایسی دوہرے معیار والی سوچ سے اللہ تعالی ہم سب کو نجات عطا فرمائے ۔ آمین

حقیقت میں جن ہوتا نہیں، بس عاملوں کو نظر آتا ہے

کچھ لوگ اپنی لاعلمی اور کم فہمی کی بدولت کہتے ہیں کہ روحانی علاج کرنے والوں کا دماغ آؤٹ ہو چکا ہوتا ہے اس لیے حقیقت میں "جن” ہوتا نہیں، مگر انہیں نظر آرہا ہوتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس اعتراض کا نشانہ کہاں جا کر لگتا ہے اور اس بے بنیاد عقیدے کی آڑ میں بنیادی طور پر کس عظیم ہستی کی گستاخی کا ارتکاب ہو رہا ہے۔ الشیخ الامام علامہ محمد بن عبداللہ شبلی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہحضرت محمد ﷺ سے جن اتارنے کے واقعات بھی روایات میں موجود ہیں۔ چنانچہ ابو داؤد، مسند احمد اور معجم طبرانی وغیرہ میں یہ حدیث مروی ہے: ام ابان اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ انکے دادا حضرت محمد ﷺ کے پاس اپنے ایک مجنون بیٹے یا بھیجے کو لے گئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے اس بیٹے کو جو مجنون ہے، دعاء کیلئے لایا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ۔ میں آپ ﷺ پاس لے گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہ اسے مجھ سے قریب کر دو اور اسکی پشت میری طرف کر دو۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے کپڑے پکڑ کر اس کی پشت پر مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ مجھے آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی۔ آپ ﷺ مارتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ ” اے دشمن خدا نکل”، چنانچہ وہ تھوڑی دیر میں تندرستوں کی طرح دیکھنے لگا۔ (بحوالہ کتاب: آکام المرجان فی احکام الجان ص ۱۱۳ باب ۵۳ ناشر : دار الکتب العلمیہ، بیروت) آنحضرت ﷺ فرمایا کہ ” بنو عذرہ ” قبلے کا ایک شخص جس کا نام خرافہ تھا، اسے جنات پکڑ کر لے گئے تھے۔ وہ ایک عرصے تک جنات کے درمیان مقیم رہا، پھر وہی اسے انسانوں کے پاس چھوڑ گئے ۔ اب وہ واپس آنے کے بعد عجیب عجیب قصے سنایا کرتا تھا، اس لئے لوگ ( ہر عجیب بات کو خرافہ کا قصہ کہنے لگے. (حوالہ کتاب: شمائل ترمذی ص ۲۱ باب ما جاء فی کلام رسول الله من فی السحر ) قارئین ! درج بالا احادیث کو غور سے پڑھیں اور دعامانگیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا عقیدہ قرآن وحدیث کے مطابق قائم رکھے، کیونکہ جنات کا وجود قرآن مجید سے ثابت ہے اور ان کا انکار کرنا قرآن کی درجنوں آیات کا منکر ہونے تک پہنچادیتا ہے۔

مدینے کی خاتون کو چمٹ جانے والا جن

حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما المعروف بہ امام زین العابدینؒ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے متعلق مدینہ منورہ میں سب سے پہلے اس طرح خبر ہوئی، کہ وہاں کی ایک خاتون کے پاس جن آیا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک دن وہ جن آیا تو دیوار پر کھڑا ہو گیا۔ اس عورت نے کہا : تم نیچے کیوں نہیں آتے؟ اس نے کہا: نہیں! اب وہ رسول ﷺ مبعوث ہو گئے ہیں، جنہوں نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ (اخرجہ الواقدی کذا فی البدایہ جلد ۲ صفحہ ۳۲۸) بحوالہ کتاب: حیات الصحابہؓ حصہ سوم صفحہ 918 مصنف: حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ زم زم پبلشرز اردو بازار کراچی قارئین! ماہنامہ عبقری میں ”جنات کا پیدائشی دوست“ کالم لکھنے والے علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے جنات کے چمٹ جانے، ان کی نظرِ بد لگنے، ان کی چوریوں اور ان کے ظلم سے بچاؤ کیلئے ایسے سینکڑوں وظائف اور حفاظتی عملیات مخلوقِ خدا میں عام کیے، جو شرک و بدعت کی بجائے قرآن و سنت اور ہمارے اکابرین رحمہم اللہ اجمعین کی زندگی سے ثابت ہیں۔ اب جو لوگ کہتے ہیں کہ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم ایسی باتیں کرتے ہیں، جن کا وجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں نہیں تھا، ان سب حضرات کو دعوتِ فکر ہے کہ درجِ بالا واقعہ اہل بیت اطہار کے شہسوار اور جلیل القدر تابعی امام زین العابدینؒ کا بیان کردہ اور مولانا محمد یوسف صاحب کاندھلویؒ کا تحریر کردہ ہے۔ کیا آج عبقری پر اعتراض کرنے والا کوئی شخص اس واقعے کو جھوٹے قصے کہانیاں کہنے کی جسارت کر سکتا ہے؟؟؟

جامعہ مدنیہ جدید میں صحابی جنؓ کی آمد

السلام علیکم: مولانا صاحب! میں جامعہ مدنیہ جدید (محمد آباد شارع رائے ونڈ روڈ لاہور) میں درجہ ثانیہ سے لے کر درجہ خامسہ تک پڑھا ہوں۔ میری فراغت جامعہ مظاہر العلوم (آرائے بازار لاہور) سے ہے۔ میں جنات کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے ایک واقعہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے جامعہ مدنیہ جدید میں حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہ ہر اتوار کو مغرب کے بعد درسِ حدیث ارشاد فرماتے ہیں۔ ایک دن انہوں نے اپنے والد حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے والد مرحوم کو ایک صحابی جنؓ یہاں (جامعہ مدنیہ جدید میں) ملنے آیا کرتے تھے اور یہ ملاقات کئی مرتبہ ہوئی۔ پھر جب حضرت والد کی وفات ہوگئی تو صحابی جنؓ صرف ایک مرتبہ آئے اس کے بعد پھر کبھی نہیں آئے۔ اگر کوئی شخص اس بات کی تصدیق کرنا چاہے تو جامعہ مدنیہ جدید (محمد آباد شارع رائے ونڈ روڈ لاہور) کے مہتمم مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہ زندہ ہیں، ان سے آج بھی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ جو لوگ جنات سے ملاقات پر اعتراض کرتے ہیں وہ اس واقعے کو کیا کہیں گے؟ من گھڑت یا جھوٹ؟ حالانکہ واقعہ بیان کرنے والے جلیل القدر عالم دین مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہ کا علمی مقام سب کے سامنے ہے۔ (فقط: مولانا نیاز محمد فاضل جامعہ مظاہر العلوم آرائے بازار لاہور)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026