حقیقت میں جن ہوتا نہیں، بس عاملوں کو نظر آتا ہے

کچھ لوگ اپنی لاعلمی اور کم فہمی کی بدولت کہتے ہیں کہ روحانی علاج کرنے والوں کا دماغ آؤٹ ہو چکا ہوتا ہے اس لیے حقیقت میں "جن” ہوتا نہیں، مگر انہیں نظر آرہا ہوتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس اعتراض کا نشانہ کہاں جا کر لگتا ہے اور اس بے بنیاد عقیدے کی آڑ میں بنیادی طور پر کس عظیم ہستی کی گستاخی کا ارتکاب ہو رہا ہے۔ الشیخ الامام علامہ محمد بن عبداللہ شبلی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہحضرت محمد ﷺ سے جن اتارنے کے واقعات بھی روایات میں موجود ہیں۔ چنانچہ ابو داؤد، مسند احمد اور معجم طبرانی وغیرہ میں یہ حدیث مروی ہے: ام ابان اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ انکے دادا حضرت محمد ﷺ کے پاس اپنے ایک مجنون بیٹے یا بھیجے کو لے گئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے اس بیٹے کو جو مجنون ہے، دعاء کیلئے لایا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ۔ میں آپ ﷺ پاس لے گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہ اسے مجھ سے قریب کر دو اور اسکی پشت میری طرف کر دو۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے کپڑے پکڑ کر اس کی پشت پر مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ مجھے آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی۔ آپ ﷺ مارتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ ” اے دشمن خدا نکل”، چنانچہ وہ تھوڑی دیر میں تندرستوں کی طرح دیکھنے لگا۔ (بحوالہ کتاب: آکام المرجان فی احکام الجان ص ۱۱۳ باب ۵۳ ناشر : دار الکتب العلمیہ، بیروت) آنحضرت ﷺ فرمایا کہ ” بنو عذرہ ” قبلے کا ایک شخص جس کا نام خرافہ تھا، اسے جنات پکڑ کر لے گئے تھے۔ وہ ایک عرصے تک جنات کے درمیان مقیم رہا، پھر وہی اسے انسانوں کے پاس چھوڑ گئے ۔ اب وہ واپس آنے کے بعد عجیب عجیب قصے سنایا کرتا تھا، اس لئے لوگ ( ہر عجیب بات کو خرافہ کا قصہ کہنے لگے. (حوالہ کتاب: شمائل ترمذی ص ۲۱ باب ما جاء فی کلام رسول الله من فی السحر ) قارئین ! درج بالا احادیث کو غور سے پڑھیں اور دعامانگیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا عقیدہ قرآن وحدیث کے مطابق قائم رکھے، کیونکہ جنات کا وجود قرآن مجید سے ثابت ہے اور ان کا انکار کرنا قرآن کی درجنوں آیات کا منکر ہونے تک پہنچادیتا ہے۔

مدینے کی خاتون کو چمٹ جانے والا جن

حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما المعروف بہ امام زین العابدینؒ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے متعلق مدینہ منورہ میں سب سے پہلے اس طرح خبر ہوئی، کہ وہاں کی ایک خاتون کے پاس جن آیا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک دن وہ جن آیا تو دیوار پر کھڑا ہو گیا۔ اس عورت نے کہا : تم نیچے کیوں نہیں آتے؟ اس نے کہا: نہیں! اب وہ رسول ﷺ مبعوث ہو گئے ہیں، جنہوں نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ (اخرجہ الواقدی کذا فی البدایہ جلد ۲ صفحہ ۳۲۸) بحوالہ کتاب: حیات الصحابہؓ حصہ سوم صفحہ 918 مصنف: حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ زم زم پبلشرز اردو بازار کراچی قارئین! ماہنامہ عبقری میں ”جنات کا پیدائشی دوست“ کالم لکھنے والے علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے جنات کے چمٹ جانے، ان کی نظرِ بد لگنے، ان کی چوریوں اور ان کے ظلم سے بچاؤ کیلئے ایسے سینکڑوں وظائف اور حفاظتی عملیات مخلوقِ خدا میں عام کیے، جو شرک و بدعت کی بجائے قرآن و سنت اور ہمارے اکابرین رحمہم اللہ اجمعین کی زندگی سے ثابت ہیں۔ اب جو لوگ کہتے ہیں کہ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم ایسی باتیں کرتے ہیں، جن کا وجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں نہیں تھا، ان سب حضرات کو دعوتِ فکر ہے کہ درجِ بالا واقعہ اہل بیت اطہار کے شہسوار اور جلیل القدر تابعی امام زین العابدینؒ کا بیان کردہ اور مولانا محمد یوسف صاحب کاندھلویؒ کا تحریر کردہ ہے۔ کیا آج عبقری پر اعتراض کرنے والا کوئی شخص اس واقعے کو جھوٹے قصے کہانیاں کہنے کی جسارت کر سکتا ہے؟؟؟

جامعہ مدنیہ جدید میں صحابی جنؓ کی آمد

السلام علیکم: مولانا صاحب! میں جامعہ مدنیہ جدید (محمد آباد شارع رائے ونڈ روڈ لاہور) میں درجہ ثانیہ سے لے کر درجہ خامسہ تک پڑھا ہوں۔ میری فراغت جامعہ مظاہر العلوم (آرائے بازار لاہور) سے ہے۔ میں جنات کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے ایک واقعہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے جامعہ مدنیہ جدید میں حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہ ہر اتوار کو مغرب کے بعد درسِ حدیث ارشاد فرماتے ہیں۔ ایک دن انہوں نے اپنے والد حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے والد مرحوم کو ایک صحابی جنؓ یہاں (جامعہ مدنیہ جدید میں) ملنے آیا کرتے تھے اور یہ ملاقات کئی مرتبہ ہوئی۔ پھر جب حضرت والد کی وفات ہوگئی تو صحابی جنؓ صرف ایک مرتبہ آئے اس کے بعد پھر کبھی نہیں آئے۔ اگر کوئی شخص اس بات کی تصدیق کرنا چاہے تو جامعہ مدنیہ جدید (محمد آباد شارع رائے ونڈ روڈ لاہور) کے مہتمم مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہ زندہ ہیں، ان سے آج بھی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ جو لوگ جنات سے ملاقات پر اعتراض کرتے ہیں وہ اس واقعے کو کیا کہیں گے؟ من گھڑت یا جھوٹ؟ حالانکہ واقعہ بیان کرنے والے جلیل القدر عالم دین مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہ کا علمی مقام سب کے سامنے ہے۔ (فقط: مولانا نیاز محمد فاضل جامعہ مظاہر العلوم آرائے بازار لاہور)

ہواؤں میں اڑنے اور سمندر میں رہنے والے اولیاء

ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والا سلسلہ وار کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ پڑھ کر کچھ حضرات اعتراض کرتے ہیں کہ یہ صرف دیومالائی قصے ہیں، جن کا حقیقت سے دور پرے کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ حالانکہ یہ بات صرف وہ شخص کہہ سکتا ہے جسے اپنے اکابر و اسلاف سے شناسائی نہ ہو۔ ورنہ اکابرینِ اُمت میں تو علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم جیسی کئی ہستیاں گزری ہیں، جن کے حالات اُس وقت کے لوگوں کیلئے ایک معمہ بنے رہے، مگر ”یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ“ کا عقیدہ رکھنے والے لوگ ہر دور میں یہی کہتے رہے کہ اگرچہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے اللہ کے اس ولی کے ساتھ یقیناً اللہ کا کوئی خاص نظام جڑا ہوا ہے۔ آئیں اسی قسم کا ایک واقعہ پڑھتے ہیں۔ حضرت شیخ محمد شمس الدین حنفی شاذلی رحمۃ اللہ علیہ مصر کے جلیل القدر اولیاء میں سے تھے۔ راہِ طریقت میں ان کا مقام یہ تھا کہ فضاؤں میں اڑنے والے حضرات آپ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ادب سیکھنے کیلئے حاضر ہوتے، اور پھر واپس ہوا میں اڑنے لگ جاتے۔ لوگ یہ منظر ان کے غائب ہونے تک دیکھتے رہتے۔ سمندروں میں رہنے والے اولیاء سے بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ ملاقات کیلئے تشریف لے جاتے اور کپڑوں سمیت سمندر میں اتر جاتے۔ کافی دیر پانی میں رہنے کے بعد جب باہر نکلتے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ کے کپڑے گیلے نہ ہوتے۔ دریائے نیل میں رہنے والے اولیائے کرام آپ رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کو آتے اور لوگ خود انہیں دیکھا کرتے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی ام المحاسن رحمۃ اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ دریائی مخلوق ریشمی چادروں اور پاکیزہ کپڑوں میں آئی اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی۔ پھر اپنے کپڑوں سمیت دریا میں اتر گئی۔ میں نے عرض کی: ابا جان! کیا ان کے کپڑے گیلے نہیں ہوتے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مسکرا کر فرمایا: یہ پانی میں رہنے والے اولیاء ہیں، ان کی رہائش ہی پانی میں ہے اس لیے ان کے کپڑے خشک رہتے ہیں۔ حضرت خضر علیہ السلام بھی کئی مرتبہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی محفل میں آکر آپ رحمۃ اللہ علیہ کے دائیں پہلو کی طرف بیٹھ جاتے، جب آپ رحمۃ اللہ علیہ اٹھتے تو وہ بھی تشریف لے جاتے۔ (بحوالہ کتاب: جامع کرامات اولیاء ص 392 مصنف: علامہ محمد یوسف نبہانی رحمۃ اللہ علیہ ناشر: ضیاء القرآن پبلیکیشنز، اردو بازار لاہور)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی کالے جن سے کشتی

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انسانوں سے بھی جنگ کی ہے اور جنات سے بھی۔ سوال کیا گیا کہ آپ نے جنات سے کس طرح لڑائی کی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک منزل پر اترے تو میں نے پانی لانے کیلئے اپنا ڈول اور مشکیزہ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانی پر تمہارے پاس ایک شخص آئے گا جو تمہیں پانی لینے سے منع کرے گا۔ جب میں کنویں پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کالے رنگ کا آدمی ہے اس نے کہا کہ واللہ! آج تم اس میں سے ایک ڈول بھی نہیں بھر سکتے۔ اس نے مجھے پکڑا مگر میں نے اسے پچھاڑ دیا اور ایک پتھر لے کر اس کے چہرہ اور ناک کو توڑ دیا۔ پھر اپنا مشکیزہ بھر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پورا قصہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ وہ کون تھا؟ (جسے تم نے پچھاڑا) میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شیطان تھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ شیطان ہے تو میں اسے قتل کر دیتا۔ میں نے چاہا کہ اس کی ناک اپنے دانتوں سے کاٹ دوں لیکن اس کی بدبو کی وجہ سے میں ایسا نہ کر سکا۔ (آکام المرجان صفحہ نمبر 118 بحوالہ کتاب: شیطان سے حفاظت‘ صفحہ نمبر 191 مصنف: مولانا محمد عاشق الہی بلند شہری‘ ناشر: زمزم پبلشرز اردو بازار کراچی) علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم کے کالم ”جنات کے پیدائشی دوست“ کو عقل کے پیمانے میں جانچنے والے لوگ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر کیا ارشاد فرمائیں گے؟ کیا یہ حدیث بھی نعوذ باللہ ”عمران سیریز“ کی قسط ہے؟ کیا اس واقعے کو بھی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وہم کہا جا سکتا ہے؟

موتی مسجد میں اولیاء کی برکات اور بونے جنات

مولانا صاحب! عبقری میں شاہی قلعہ لاہور کی موتی مسجد میں بونے جنات کا تذکرہ ملتا ہے۔ ہم بچپن میں وہاں بیٹھ کر پیپروں کی تیاری کیا کرتے تھے‘ بونے جنات ہمیں تو کبھی نظر نہیں آئے؟ اور یہ کیا بات ہوئی کہ صرف اسی مسجد میں دعا کی قبولیت یقینی ہوتی ہے (سائل: حکیم محمد طیب‘ شاہدرہ) جواب: محترم حکیم صاحب! نظر نہ آنے کی کیا بات ہے؟ وہ تو دوا کی کے اندر شفاء بھی نظر نہیں آتی‘ کوئلے کے اندر آگ موجود ہوتی ہے‘ مگر نظر نہیں آتی۔ یوفون کے 90 فٹ اونچے ٹاور سے ہر وقت نکلتے ہوئے سگنل بھی کبھی نظر نہیں آتے۔ انسان کو چوٹ لگنے سے درد بھی نظر نہیں آتی‘ اب کیا ان ساری چیزوں کا وجود ہی نہیں ہے؟ ایک بات یاد رکھیں کہ ہم اللہ کے فضل و کرم سے اولیائے کرامؒ کے تبرکات کے قائل ہیں۔ موتی مسجد کی حقیقت بھی صرف اتنی ہی ہے کہ یہ جگہ تاریخ میں بڑے بڑے اولیائے کرام کی عبادت گاہ رہی ہے جہاں آج بھی ان اولیاء کی برکات اور ہر وقت عبادت کرنے والے جنات موجود ہیں۔ اکابر کی زندگی سے ایک مستند حوالہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں‘ جس سے یہ سارا اشکال دور ہو جائے گا۔ حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا مکاشفہ اپنے بزرگوں سے بار ہا سننے میں آیا۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں دارالعلوم کی وسطی درس گاہ ”نودرہ“ سے عرش تک نور کی ایک لمبی شعاع دیکھتا ہوں، جس میں کہیں بھی خلاء نہیں ہے۔ ہمارے بزرگوں کا بلکہ خود میرا اپنا تجربہ ہے کہ مشکل سے مشکل مسئلہ جو بہت مطالعے سے بھی حل نہیں ہوتا‘ اس درس گاہ میں بیٹھ کر سوچنے سے حل ہو جاتا ہے۔ نودرہ کے سامنے والے صحن میں ایک گز کے فاصلے پر اگر کسی کے جنازے کی نماز پڑھی جائے تو وہ مغفور ہوتا ہے، اس لیے احقر نے اس جگہ تشخیص کے بعد اس پر سیمنٹ کا ایک چوکھٹا (نشان) بنوایا ہے‘ اس پر جنازہ رکھ کر خواہ وہ عام شہری کا ہو یا متعلقین مدرسہ کا‘ ان سب کے جنازے کی نماز پڑھی جاتی ہے‘ جس سے لوگ کثرت سے فیض یاب ہو رہے ہیں (بحوالہ کتاب: دارالعلوم کی پچاس مثالی شخصیات، صفحہ نمبر 36 مصنف: حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ، ناشر: ادارہ تالیفات اشرفیہ چوک فوارہ ملتان) اب آپ یہ دیکھیں کہ پورے دارالعلوم دیوبند میں صرف ایک جگہ پر دعائے جنازہ کی فوری قبولیت اور برکت کے خصوصی آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ آج تک کسی نے اس واقعے پر تو اعتراض نہیں کیا۔ موتی مسجد کا کیا قصور ہے جو اس کی برکات کا یقین نہیں آ رہا؟

ہماری زندگی میں جنات کا عمل دخل

بعض لوگ اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسانوں پر جنات کے اتنے اثرات نہیں ہوتے جتنے وہ سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر عامل حضرات لوگوں کو بلاوجہ ہی وہم ڈال دیتے ہیں۔ عامل حضرات میں بھی علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم زندگی کے ہر شعبے میں جنات کے اثرات ثابت کرتے ہیں۔ یہ اعتراض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب احادیثِ مبارکہ پر نظر نہ ہو، جبکہ احادیثِ مبارکہ کے مطابق زندگی کے درج ذیل مقامات پر جناتی اور شیطانی اثرات کا خطرہ ہوتا ہے۔ (1) ہر شخص کے دل پر ہر وقت ایک شیطان (جن) موجود رہتا ہے (صحیح مسلم) (2) ایمانیات میں وسوسہ ڈالنے والا شیطان بھی ایک جن ہی ہے (صحیح مسلم) اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح مسلمان ایمان سے پھر جائیں اور مشرکین اپنے شرک پر قائم رہیں (3) ہم جب بیت الخلا میں جاتے ہیں تو وہاں بھی جنات موجود ہوتے ہیں (ابوداؤد، ابن ماجہ) (4) سوراخوں میں جنات رہتے ہیں، اس لیے ان میں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے (مشکوٰۃ) مولانا عاشق الٰہی بلند شہری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص پر اسی وجہ سے جن سوار ہو گیا کہ اس نے بیت الخلا کی دعا نہیں پڑھی تھی (5) انسان کی ناک میں رات بھر ایک جن رہتا ہے اسی وجہ سے اٹھنے کے بعد ناک کو جھاڑنے کا حکم فرمایا گیا ہے (بخاری ومسلم) (6) جب ہم وضو کرنے لگتے ہیں تو ایک شیطان ہمارے ساتھ ہوتا ہے اس کا نام ”ولہان“ ہے (ترمذی و ابن ماجہ) (7) انسان جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کی نماز میں شک ڈالنے کیلئے بھی ایک جن موجود ہوتا ہے (مجمع الفوائد) (8) استحاضہ کا خون جاری ہو جانے کے بارے بھی جن شرارت کرتا ہے (طبرانی) (9) اذان کی آواز سن کر شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے لیکن اذان ختم ہو جانے کے بعد نمازی کے پاس آ کر اس کے دل میں وسوسے ڈالنا شروع کر دیتا ہے (بخاری ومسلم) (10) جن نمازی کی قرأت میں بھی خلل ڈالتا ہے، اس کا نام ”خنزب“ ہے (مسلم) (11) جن نمازی کی پیشانی پکڑ کر امام سے پہلے رکوع و سجدہ کرواتا ہے (الترغیب والترہیب) (12) نماز میں ادھر ادھر دیکھنا بھی جن ہی کی وجہ سے ہوتا ہے (بخاری ومسلم) (13) عامتہ المسلمین، مسجد اور جماعت سے کٹ کر رہنا بھی جنات کی وجہ سے ہوتا ہے (مسند احمد) (14) نماز کے بعد تسبیحات کا بھلا دیا جانا بھی جنات کی وجہ سے ہوتا ہے (ترمذی، ابوداؤد، نسائی) (15) جب کوئی شخص سوتا ہے تو جن اس کی گردن پر تین گرہیں لگا دیتا ہے (بخاری ومسلم)

پیرانِ پیر کی قدم قدم پر صحابی جن سے ملاقات

علامہ لاہوتی صاحب کی جس طرح قدم قدم پر جنات اور بالخصوص صحابی جنات سے ملاقات ہوتی ہے اگر یہ بات ٹھیک ہوتی پیرانِ پیر کی ضرور ملاقات ہوتی؟ محترم بھائی! ”لکل فن رجال“ اس کا مطلب یہ ہے کہ ضروری نہیں ہر فن میں ہر بندہ ہی مہارت رکھتا ہو اور جس بات کو جانتا ہی نہ ہو اس کا بالکل ہی انکار کرنا شروع کر دے تاریخ اور سیر ایک لامتناہی فن ہے جس میں کاملیت کا دعویٰ کون کر سکتا ہے! اگر آپ پیرانِ پیر کی مستند سوانح کا مطالعہ کریں تو آپ کے سامنے ان کی صحابی جنات سے ملاقات کے بہت سے واقعات آ جائیں گے میں میں ایک مستند حوالہ نقل کر دیتا ہوں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے جب حج کا ارادہ کیا تو آپ کے ساتھ ان کے مریدین بھی چل رہے تھے یہ جب بھی کسی منزل پر اترتے ان کے پاس سفید کپڑے پہنے ایک جوان آتا موجود ہوتا مگر نہ تو وہ ان کے پاس کھاتا نہ پیتا تھا اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے اپنے مریدوں کو تاکید کر رکھی تھی کہ وہ اس شخص سے بات چیت نہ کریں چنانچہ جب یہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو ایک گھر میں جا کر قیام کیا لیکن جب یہ لوگ گھر سے نکلتے تھے تو وہ شخص داخل ہوتا تھا اور یہ داخل ہوتے تو وہ نکل جاتا تھا، ایک مرتبہ سب لوگ نکل گئے مگر بیت الخلا میں ایک شخص باقی رہ گیا تھا اسی دوران میں وہ جن داخل ہوا جب کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا تھا، اس نے تھیلی کھولی اور کوئی چیز نکال کر کھانی شروع کر دی تو وہ جوان بیت الخلا سے نکلا اور اس کی نگاہ اس پر جا پڑی تو وہ جن وہاں سے چلا گیا پھر کبھی بھی ان کے پاس نہ آیا تو اس شخص نے حضرت شیخ جیلانی رحمہ اللہ کو اس کی اطلاع کی تو آپ نے فرمایا یہ شخص ان جنات میں سے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن پاک سنا تھا اور جنات میں شرفِ صحابیت حاصل کیا تھا۔ (ارجوزۃ الجان لابن عماد، بحوالہ تاریخ جن و شیاطین، ترجمہ، تشریح و تخریج مولانا امداد اللہ انور سابق معین التحقیق مفتی جمیل احمد تھانوی جامعہ اشرفیہ، صفحہ 307، ناشر: دارالمعارف پیروالا ملتان) صحابی جنات سے ملاقات میں علامہ لاہوتی صاحب منفرد نہیں بلکہ پچاسیوں اولیائے کرام کی زندگی میں یہ ملاقات موجود ہے۔

جنات کو پڑھانے والے بزرگانِ دین

زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں میں اپنے کانوں سے سنا ایک واقعہ آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ شیخ الحدیث مولانا جمشید صاحب رحمہ اللہ (رائے ونڈ والے) کے خادمِ خاص مجھ سے کہنے لگے کہ ایک مرتبہ میں رات کے تین بجے حضرت کی خدمت کیلئے ان کے حجرے میں گیا تو دیکھا کہ آپ بالکل نئے زرق و برق لباس میں ملبوس تھے، میں بڑا حیران ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ (کیونکہ آپ کی عام زندگی میں اس طرح کا لباس نہیں تھا) اسی دوران میں نے دوسرے ساتھی سے پوچھا خیریت تو ہے؟ وہ کہنے لگے کہ ابھی حضرت جنات کی شادی میں گئے تھے وہاں سے آ رہے ہیں۔ (1) شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف متالا مدظلہ، شیخ الکبیر عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے جنات میں تدریس اور تعلیم کا بھی کام لیا اور ان کیلئے مستقل انہوں نے کئی اجزا پر مشتمل کتاب لکھی ”کشف القناع والران عن وجہ اسئلۃ الجان“ (2) شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف متالا مدظلہ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ کو جنات سے بہت سی روایات حاصل ہوئی ہیں ان تمام روایات کو آپ نے ایک کتاب میں جمع کر دیا ہے جس کا نام انہوں نے ”مسندالجن“ رکھا ہے۔ (3) شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ کے مدرسے، تصنیف گاہ اور کتب خانہ میں بھی بہت سے جنات رہا کرتے تھے جو کہ بعض اوقات شرارت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ انہوں نے کتب خانہ کا دروازہ اندر سے بند کر لیا بہت کوشش کے باوجود نہ کھلا، بالآخر جب شیخ الحدیث خود تشریف لے کر گئے تو فوراً بغیر دھکا دیے دروازہ کھل گیا۔ (بحوالہ کرامات و کمالاتِ اولیاء، مجموعہ ارشادات حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف متالا مدظلہ، جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 47، ناشر: ازہر اکیڈمی لمیٹڈ، لندن) (4) شیخ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن علی ہرملی یمنی رحمہ اللہ کی علمی پختگی نہایت ہی باکمال تھی، آپ جناتوں کے استاد مشہور تھے اور دور دور سے جنات آپ کے پاس حدیث و فقہ کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ (جامع کرامات اولیاء، مصنف: علامہ محمد یوسف نبہانی رحمہ اللہ صفحہ نمبر 346 ناشر: ضیاء القرآن کراچی) علامہ لاہوتی صاحب کی جنات سے ملاقات کا انکار کرنے سے نشانہ کہاں پڑتا ہے۔۔۔!

بیداری میں حضور صلى الله عليه وآله وسلم سےحدیث سننے والے محدث

علامہ لاہوتی صاحب کے کالم میں بار ہا یہ تذکرہ ملتا ہے کہ انہیں حالتِ بیداری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ہے۔ عام لوگوں کی عقل میں یہ بات بھی نہیں سماتی اور وہ فوراً فتویٰ لگا دیتے ہیں کہ ایسا کس طرح ممکن ہے؟ حالانکہ یہ کون سی نئی بات ہے؟ ہمارے اکابر مشائخ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکثر ملاقات کیا کرتے تھے۔ مثلاً: علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک فریادی نے درخواست کی کہ وہ بادشاہ قیتبائی کے پاس جا کر اس کی سفارش کر دیں۔ انہوں نے اس کو جواب دیا: میرے بھائی میں 75 مرتبہ حضرت سلطان الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت با برکت سے مشرف ہو چکا ہوں۔ سوتے اور جاگتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض احادیث کی صحت کے بارے میں دریافت کر چکا ہوں۔ مجھے یہ خدشہ ہے کہ اگر میں سفارشی بن کر آپ کے ساتھ بادشاہ کے پاس گیا تو پھر مجھے یہ زیارت نصیب نہ ہوگی۔ اس لیے میری طرف سے معذرت قبول فرمائیں‘ کیونکہ میں شرفِ زیارت کو شرفِ بادشاہی پر ترجیح دیتا ہوں۔ (تفصیل کیلئے دیکھیں کتاب: فیض الباری شرح صحیح بخاری، سعادت الدارین صفحہ 437، جامع کرامات اولیاء صفحہ نمبر 981، خصائص الکبریٰ فی معجزات خیر الوریٰ، تاریخ الخلفاء، میزان الکبریٰ صفحہ 44۔ بحوالہ کتاب: عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں زیارتِ النبی صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ نمبر 94، مصنف: مولانا محمد روح اللہ نقشبندی ناشر: مکتبہ عمر کراچی)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026