علامہ لاہوتی کا تھوڑے وقت میں زیادہ فاصلہ طے کرنا

سوال: علامہ لاہوتی صاحب کے کالم میں لاہوتی پرواز کا تذکرہ ملتا ہے کہ ہزاروں میل کا فاصلہ سیکنڈوں اور منٹوں میں طے کر لیتے ہیں۔ جواب: دیکھیں ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں اولیائے کرام کو کبھی بھی اپنی عقل سے تولنے کی کوشش نہ کریں، ہم اپنی عام زندگی میں دیکھیں کہ کتنی ساری باتوں پر عقل سے فیصلہ نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی تحقیق پر اعتماد کر لیتے ہیں، مثلاً اگر ہم بیمار ہو جائیں تو اپنا علاج اپنی عقل کے مطابق نہیں کرتے، موبائل اور دوسری اشیاء اگر خراب ہو جائیں تو اپنی عقل پر اعتماد نہیں کرتے، گھر کی بجلی خراب ہو جائے تو عقل پر اعتماد نہیں کرتے تو اس روحانیت کے معاملے میں ہر چیز کو عقل کے پیمانے پر کیوں تولتے ہیں! اس قسم کے واقعات اولیائے کرام کی کرامات کہلاتے ہیں، اور یہ واقعات بزرگوں سے اس قدر تعداد میں منقول ہیں جو کہ شمار سے باہر ہیں چند ایک واقعات پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنے خادم محمد بن علی سے فرمایا کہ اس وقت مکہ مکرمہ میں نمازِ عصر پڑھیں گے، بشرطیکہ میری زندگی میں یہ واقعہ کسی سے بیان نہ کرنا۔ خادم نے وعدہ کر لیا۔ فرمایا: آنکھیں بند کرو۔ پھر خادم کا ہاتھ پکڑ کر کوئی 27 قدم دوڑے۔ پھر فرمایا: آنکھیں کھول دو۔ خادم نے آنکھیں کھول دیں تو ہم مکہ مکرمہ میں بابِ جنت المعلیٰ کے پاس تھے۔ یہاں ہم نے ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا، حضرت فضیل بن عیاض اور سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کی زیارت کی۔ پھر بیت اللہ شریف کا طواف کر کے آبِ زمزم پیا، نمازِ عصر کے بعد پھر طواف کیا اور آبِ زمزم پیا۔ پھر شیخ رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا: چاہو تو میرے ساتھ چلو اور چاہو تو حاجیوں کے آنے تک یہاں ٹھہر جاؤ۔ میں نے کہا کہ آپ کے ساتھ چلوں گا۔ فرمایا: دونوں آنکھیں بند کرو، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر کوئی سات قدم چلے ہوں گے کہ فرمایا آنکھیں کھول دو۔ دیکھتا کیا ہوں کہ جہاں سے ہم روانہ ہوئے تھے پھر وہیں ہیں۔ (البلاغ المبین، حصہ سوم صفحہ 819۔ بحوالہ عاشقینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں زیارتِ النبی صلی اللہ علیہ وسلم) اصل میں ہمیشہ اس زندگی سے اعتراض وہی شخص کرے گا جو بزرگوں کی زندگی سے نا آشنا ہوتا ہے۔
کم وقت میں زیادہ عبادت حقیقت کے آئینہ میں

سوال: عبقری میں علامہ لاہوتی پُراسراری کہتے ہیں کہ وہ خود اور بعض دوسرے بزرگ تھوڑے وقت میں زیادہ ذکر کر لیتے ہیں‘ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے؟ (سائل: محمد احسان‘ حیدرآباد) جواب: میرے دوست! اس میں حیرانگی والی کون سی بات ہے؟ ہمارے اکابر میں اس قسم کے واقعات اتنے زیادہ منقول ہیں کہ ان کو شمار میں لانا مشکل ہے۔ مثلاً حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے: حافظ زبیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ راتوں رات نوافل اور تراویح میں 36 پارے پڑھ لیتے تھے۔ میرے لیے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے‘ کیونکہ میرے چچا کاندھلہ میں تراویح سنانے جاتے تو دو رکعت میں ایک قرآن ختم کر دیتے۔ حضرت امام شافعی اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہما اللہ کے متعلق ہم نے سنا ہے کہ رات اور دن میں دو قرآن ختم کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے اپنے دوستوں سے رمضان المبارک میں 61 قرآن ختم کرنے کیلئے لکھا۔ مولوی انعام صاحب نے واقعی 61 قرآن سنا دیے۔ میری دادی جان رحمۃ اللہ علیہا کا معمول تھا کہ روزانہ اپنے معمولات (ذکر اذکار) کے ساتھ چالیس پارے ختم کر لیا کرتی تھیں‘ حالانکہ یہ اس وقت کی بات ہے‘ جب گھر میں کوئی خادمہ بھی نہیں ہوتی تھی- (بحوالہ کتاب: ملفوظاتِ شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ صفحہ 280 مصنف: مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن‘ ناشر: مکتبہ لدھیانوی بنوری ٹاؤن‘ کراچی) اسی طرح شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے عصر اور مغرب کے درمیان دس ہزار لوگوں کے مجمع کے سامنے مکمل قرآن مجید پڑھ کے سنایا۔ سید جلیل ابن الکاتب الصوفی رحمۃ اللہ علیہ دن اور رات میں آٹھ قرآن پڑھ لیتے تھے۔ شیخ منصور العباد تابعی رحمۃ اللہ علیہ ایک ختم قرآن ظہر اور عصر کے درمیان کرتے اور ایک ختم قرآن مغرب اور عشاء کے درمیان کرتے۔ جبکہ رمضان المبارک میں مغرب اور عشاء کے درمیان دو ختم قرآن کرتے۔ شیخ شمس الدین ترکستانی رحمۃ اللہ علیہ روزانہ پانچ ختم قرآن کرتے تھے۔ اسی طرح نوافل کی ایک ایک رکعت میں ختم قرآن کرنے والوں کی تعداد شمار سے باہر ہے (شذرات الذہب) (بحوالہ کتاب: اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ص 130 تا 140 مصنف: مولانا محمد یوسف ہاشمی‘ ناشر: ادارہ اسلامیات انارکلی لاہور)
پانی پر چلنا اور فرشتوں کو دیکھنا

علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم المعروف بہ ”جنات کا پیدائشی دوست“ پر کچھ عقل پرست لوگوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ان کے کشف و کرامت والے سب واقعات عمران سیریز کی طرح فرضی داستان پر مبنی ہیں۔ قارئین! اگر کسی کو اتنا شرح صدر حاصل نہیں تو اس میں اولیاء اللہ کا کیا قصور؟ اہلِ علم حضرات کیلئے تو ایسے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ ذیل میں مفتی اعظم سعودیہ حضرت شیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ آپ کے سامنے ہے کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا: کیا اولیاء اللہ ہستیوں کیلئے پانی پر چلنے جیسی کرامت اور لوحِ محفوظ کی عبارت پڑھنے یا فرشتوں کو آنکھوں سے دیکھ لینے جیسا کشف ممکن ہے؟ فرمایا: ہاں بالکل! جب اولیاء کرام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر استقامت اختیار کریں تو ان کی حاجت پوری کرنے کیلئے یا دوسروں پر حجت قائم کرنے کیلئے ایسی کرامات کا ظہور ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ احادیث میں حضرت عباد بن بشر اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما کے بھی خرقِ عادت واقعات ملتے ہیں۔ (بحوالہ کتاب: فتاویٰ نور علی الدرب جزء 2 صفحہ 191 ناشر: ادارہ مجلۃ البحوث الاسلامیہ الریاض)
رُوحوں سے ملاقات ایک اَبدی حقیقت یا مَن گھڑت افسانہ

میرا سوال یہ ہے کہ جنات کا پیدائشی دوست میں جو رُوحوں کے ساتھ ملاقات کی مَن گھڑت کہانیاں لکھی جاتی ہیں ان کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے؟ (سائل: محمد عاطف اسلام آباد) جواب: میرے بھائی! اس سلسلے میں اکابر علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ فوت شدگان کے ساتھ روحانی طور پر ملاقاتیں کی جاسکتی ہیں۔ اکابر و اسلاف میں تو ایسے بزرگ بھی گزرے ہیں جنہوں نے دورانِ مطالعہ اگر کسی حدیث کی سند میں کوئی اشکال پایا تو ڈائریکٹ امام بخاریؒ کی روح سے ملاقات کر کے ان سے مسئلہ پوچھ لیا۔ مثلاً امام المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ شیخ ابوطاہرؒ نے مجھے اپنے والد سے ملوایا تو وہ بتانے لگے کہ: میں نے شیخ احمد قشاشیؒ کی رُوح سے سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ ویسے ہی پڑھی جس طرح انہوں نے خواب میں خود حضور ﷺ کی رُوح مبارک سے یہ دونوں سورتیں پڑھی تھیں۔ بحوالہ کتاب: درالثمین فی مبشرات النبی الامین ﷺ صفحہ 55 ناشر: کتب خانہ رضویہ ڈچکوٹ روڈ لائل پور
جنات کے پیدائشی دوست کی کہانی 14 اولیاء اللہ کی زبانی

مولانا صاحب! ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں: علامہ لاہوتی پراسراری صاحب کے کالم میں جنات سے ملاقات کی انوکھی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں، جو عقل کو اپیل نہیں کرتیں۔ کیا عبقری سے پہلے بھی کسی کتاب میں اس طرح کے قصے سنا کر لوگوں کو وظیفے پڑھنے پر لگایا گیا ہے؟ (سائل: علی حیدر، جھنگ) جواب: جنات سے ملاقات کرنے والی عظیم ہستیوں میں صرف علامہ لاہوتی صاحب ہی کا نام نہیں ملتا، بلکہ تاریخ، حدیث اور سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے اولیائے کرام گزرے ہیں، جن کی ملاقاتیں جنات کے ساتھ ہوا کرتی تھیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ اہلِ اللہ کی ترتیبِ زندگی ہماری طرح نہیں ہوتی، نہ ہی یہ ہر شخص کی عقل میں سما سکتی ہے۔ کیونکہ جس طرح ایک انجینئر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی میڈیکل کا ماہر نہیں ہوتا، اور جس طرح ایک حافظِ قرآن ضروری نہیں کہ عالمِ دین بھی ہو۔ اسی طرح اولیاء اللہ بظاہر تو انسان ہی ہیں، مگر ان کے ساتھ روحانی دنیا کا انوکھا نظام چل رہا ہوتا ہے جو عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے۔ اگر آپ تھوڑا سا وقت نکال کر مطالعہ کرنے کی عادت ڈال لیں اور درج ذیل کتب پڑھیں تو ان میں ”جنات کا پیدائشی دوست“ جیسے ہزاروں واقعات آپ کا استقبال کریں گے ان شاء اللہ! شیخ عبدالحق دہلویؒ کی اخبار الاخیار۔ شیخ عبدالرحمن جامیؒ کی نفحات الانس۔ شیخ فرید الدین گنج شکرؒ کی اسرار الاولیاء۔ شیخ فرید الدین عطارؒ کی تذکرۃ الاولیاء۔ شیخ ابو نعیم اصفہانیؒ کی حلیۃ الاولیاء۔ شیخ علی بن عثمان ہجویریؒ کی کشف المحجوب۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی فیوض الحرمین اور انفاس العارفین۔ علامہ محمد یوسف النبہانیؒ کی جامع کرامات الاولیاء۔ شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کی عوارف المعارف۔ علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ کی الطبقات الکبریٰ اور الطبقات الصغریٰ۔ حضرت سلطان باہوؒ کی عقلِ بیدار، نور الہدیٰ اور مفتاح العارفین۔ شیخ ابو طالب مکیؒ کی قوت القلوب۔ علامہ جلال الدین سیوطیؒ کی لقط المرجان فی احکام الجان، شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف متالا کی کرامات و کمالات اولیاء وغیرہ۔
ڈیڑھ سو سال پرانے علامہ لاہوتی پراسراری

ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے سلسلہ وار کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ کے متعلق کچھ عقل پرست لوگوں کی طرف سے فتویٰ لگا دیا جاتا ہے کہ یہ محض ”جھوٹے قصے کہانیاں“ ہیں حالانکہ اگر انہیں اپنے اکابر و اسلاف کے متعلق تھوڑی سی بھی خبر ہوتی تو وہ اس بات کی تہہ تک پہنچ جاتے کہ علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم جیسی مقبولِ خدا ہستیاں ہر دور میں موجود رہی ہیں۔ دُور مت جائیں، صرف ڈیڑھ صدی پہلے کے عظیم محدث، مرجع خلائق حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب دہلویؒ کی زندگی پر نظر ڈالیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے زمانے کے ”علامہ لاہوتی پراسراری“ تھے۔ تابعینِ جنات سے ملاقات: شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے سوانح نگار مولوی ظہیر الدین سید احمد صاحبؒ لکھتے ہیں کہ: ایک دن جمعے کی نماز کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ کی خدمت میں دو آدمی آئے اور ایک مشکل مسئلہ پوچھا۔ آپؒ نے جواب دیا تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے بالکل درست فرمایا۔ کیونکہ ہم نے یہی مسئلہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی پوچھا تھا تو انہوں نے یہی جواب ارشاد فرمایا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے ان جنات سے پوچھا: جس وقت تم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی زیارت کی تھی، تب تمہاری عمر کتنی تھی؟ بولے ”پانچ سو برس“ یعنی ہماری عمر کم و بیش 18 صدیاں بنتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ غائب ہوگئے۔ (بحوالہ کتاب: کمالاتِ عزیزی، صفحہ 34 ناشر: مکتبہ رحمانیہ 18 اردو بازار لاہور) قارئین! اگر عبقری میں ”جنات کا پیدائشی دوست“ محض قصے کہانیاں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ نعوذ باللہ اتنے بڑے محدث شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کی زندگی بھی صرف جھوٹ پر قائم تھی۔ اسلاف بیزار اور عقل پرست لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ سائنس کی طرح دین کی ہر بات پر بھی کبھی کبھار بغیر دیکھے یقین کرلینا چاہئے۔
ہمارے جسم جنات کے مسکن ہمارے گھر جنات کی گزرگاہیں

عبقری میں جا بجا اس بات کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے کہ ہماری زندگی میں پریشانیوں کی اصل وجہ گناہ اور شیطانی اثرات ہیں۔ انسانی زندگی کے ہر شعبے میں جنات کا دخل انداز ہونا ممکن ہے۔ بہت سے لوگ اس جناتی دخل اندازی کو نفسیاتی کہانیاں کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ کیا وہ لوگ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ سے بھی زیادہ توحید پرست بن چکے ہیں جنہوں نے جنات کے اثرات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ (1) جنات انسان پر شہوت یا عشق کی وجہ سے حملہ کرتے ہیں۔ (2) کبھی جنات انسان سے شادی کر لیتے ہیں اور کبھی انسان جنات سے شادی کر لیتا ہے۔ (3) بعض اوقات انجانے میں انسان جنات کو تکلیف پہنچا دیتے ہیں جیسے بے خبری میں ان کی قیام گاہ پر پیشاب کر دینا یا اس جگہ گرم پانی ڈال دینا وغیرہ۔ اس کے بعد جنات جہالت اور ظلم کی وجہ سے اس انسان سے انتقام لیتے ہیں۔ (4) کبھی بغیر وجہ کے بھی جنات انسانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ بحوالہ کتاب: مجرباتِ اکابر، صفحہ 254 مصنف: مولانا محمد اسحاق ملتانی، ناشر: ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ فوارہ چوک ملتان قارئین! کیا آج اعتراض کرنے والے ناسمجھ لوگوں میں اپنے اکابر و اسلاف سے زیادہ توحید آ گئی ہے؟ کیا خدانخواستہ ہمارے بڑے ان تحفظات کو نہیں سمجھتے تھے، جو آج ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ یاد رکھیے! ”روحانی عاملوں کا دماغ خراب ہوتا ہے“ کہنے والوں پر جب کوئی مصیبت آن پڑتی ہے تو پھر وہ ایسے ہی عاملوں کی دعاؤں کے محتاج بن جاتے ہیں۔ لہذا ہر دلعزیز ماہنامہ عبقری کی مخالفت کرنے کی بجائے اس کی قدردانی کرنی چاہئے جو آج ماشاء اللہ بے شمار لوگوں کو جناتی اور شیطانی حملوں سے نجات دلانے کا ذریعہ بنا ہوا ہے
یہ تیل ناک میں ڈال کر جنات سے نجات پائیں

امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک طالب علم سفر کر رہا تھا، راستے میں ایک شخص بھی اس کا ہم سفر بن گیا۔ جب شہر کے قریب پہنچا تو طالب علم سے کہنے لگا: میں ایک جن ہوں، مجھے تم سے ایک کام ہے۔ طالب علم پوچھنے لگا: وہ کیا؟ کہنے لگا: جب تم فلاں گھر میں جاؤ گے تو ان کی مرغیوں کے درمیان ایک سفید مرغ کو پاؤ گے، تم اس مرغ کو اس کے مالک سے خرید لینا اور اسی وقت ذبح کر دینا۔ طالب علم نے کہا: ٹھیک ہے، مگر مجھے بھی تم سے ایک کام ہے: جب شیطان سرکش ہو جائے اور اس میں جھاڑ پھونک دم وغیرہ کام نہ آئے تو اس کا علاج کیا کرنا چاہئے؟ جن کہنے لگا: آسیب زدہ آدمی کے ہاتھوں کے دونوں انگوٹھوں کو مضبوطی سے باندھ لیا جائے۔ پھر سداب بیری کا تیل نکال کر مریض کے دائیں نتھنے میں چار مرتبہ اور بائیں نتھنے میں تین مرتبہ ٹپکایا جائے، تو اس کا جن مر جائے گا اور بعد میں کوئی دوسرا جن بھی اس پر قابض نہ ہو سکے گا۔ چنانچہ وہ طالب علم جب مطلوبہ مکان میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ بڑھیا کا ایک سفید مرغ ہے جسے وہ فروخت کرنے سے انکار کرتی ہے۔ اس نے اسے اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ رقم دے کر بیچنے پر راضی کر لیا۔ جب اس نے مرغ کو ذبح کر دیا تو اسی وقت بڑھیا کے گھر والے اسے مارنے لگے۔ وہ کہتے تھے کہ جب سے تم نے مرغ کو ذبح کیا ہے، کسی جن نے ہماری لڑکی پر حملہ کر دیا ہے۔ طالب علم نے کہا: تم کہیں سے سداب بیری کا تیل لے آؤ۔ لہذا جب اس نے جن کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق لڑکی کے ناک میں تیل ٹپکایا تو وہ جن چیخ پڑا اور کہنے لگا: کیا میں نے تمہیں یہ عمل اپنے ہی خلاف کرنے کا کہا تھا؟ پھر اسی وقت وہ جن مر گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس لڑکی کو شفاء بخش دی اور اس کے بعد کوئی شیطان جن اس پر قابض نہ ہو سکا۔ (بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات،صفحہ 150 ناشر: مکتبہ یادگار شیخ اردو بازار لاہور )