جنات کو تعلیم دینے اور مشورہ کرنے والے تبلیغی علامہ لاہوتی پراسراری

اکابر پر اعتماد پیج دیکھ کرادارہ عبقری کیلئے بڑی دعائیں نکلتی ہیں کیونکہ موجودہ دور میں علمی اور فکری گمراہیوں سے بچنے کیلئے عبقری کی خدمات نہایت قابل تحسین ہیں اس دور میں اسلاف پر بے اعتمادی۔۔۔۔ ہزار گمراہیوں کی ایک گمراہی ہے۔ تبلیغی جماعت کے بڑے بزرگ جو کہ اپنے وقت کے علامہ لا ہوتی صاحب ہی تھے ان کی جناتوں سے ملاقاتوں کے واقعات بہت کثرت سے ملتے ہیں ان میں سے چند آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں: (1) مفتی محمد شاکر خان قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے بزرگ حضرت مولانا محمد یونس صاحب (جو کہ پونہ کے رہائشی اور علامہ لاہوتی صاحب کی طرح جنات سے ملاقات کرنے اور ان کو تعلیم دینے والے باکمال بزرگ تھے ) ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ سلیم تالاب صاحب نے کہا کہ مولانا یونس صاحب آخری سفر سے پہلے جامعہ انعام الحسن کونڈ وا تشریف لائے اورفرمانے لگے کہ بھئی مجھے جلدی واپس جانا ہے کیونکہ میرا جنات کے ساتھ مشورہ ہے۔ (2) ایک مرتبہ اجتماع میں خدمت کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم نے مجمع کے لحاظ سے خوب کھانا پکا یا لیکن کھانے کے وقت آدھا مجمع بھی نہیں آیا اور کھانا بہت بچ گیا ہم مولانا یونس صاحب کے پاس گئے اور ساری صورتحال عرض کر دی ۔ مولا نا فرمانے لگے کے مجمع میں بیٹھے لوگ جنات تھے جو بیان میں زیادہ نظر آرہے تھے وہ تمہارا کھانا نہیں کھاتے بلکہ ان کا الگ انتظام ہے اس لیے وہ وہاں سےچلے گئے۔ (3) مولانا یونس صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رات کو میرا دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا میں ہڑ بڑا کر اٹھا، دروازہ کھولا تو چھوٹے چھوٹے ڈھیر سارے بچے ہاتھوں میں قرآن ، قاعدے اور ( بقول حافظ محبوب صاحب اپنے قد کے برابر بخاری و مسلم شریف) لیئے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم کو قرآن پڑھائیے میں نے کہا اتنی رات ( تین بجے ) کو پڑھنے آئے ہو تم کون ہو تو وہ کہنے لگے ہم جنات کے بچے ہیں۔ (4) مولانا یونس صاحب کے کمرے میں جنات بہت تھے اور یہ بات بہت مشہور تھی کہ آپ کے کمرے میں جو کوئی سوتا ہے جنات اسے سونے نہیں دیتے اور وہاں سے اٹھا دیتے ہیں ، مولانا فاروق صاحب بھی کہتے ہیں کہ ان کے کمرے میں جنات صرف انہی کو سونے دیتے تھے آپ کے علاوہ کسی کو نہیں سونے دیتے تھے۔ (5) حافظ محبوب صاحب انگلینڈ والے فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مولانا کے ساتھ سفر میں مڈبہال پہنچا تو آپ سے عرض کی کہ یہاں جنات بھی آئے ہیں تو مولانا نے فرمایا کہ یہاں جنات کی پوری بستی آباد ہے۔ ( بحوالہ سوانح مولانا محمد یونس (پونہ)، ص212، مصنف: مفتی محمد شاکر خان قاسمی ، ناشر: فرید بک ڈپو، دہلی ) محترم قارئین ! عبقری کے ایک ایک واقعہ اور تحریر کی سند کا اکابر کی کتابوں میں بکھری پڑی ہے اگر ہم اس پیج کو خود پڑھیں اور زیادہ سے زیادہ دوستوں تک پہنچا ئیں یہ ہماری دنیا اور آخرت میں بہت بڑی خیر کا ذریعہ ہے۔

قاسم العلوم کی حضرت صابر کلیری کے مزار پر با ادب حاضری اور فیض کا حصول

علامہ لاہوتی صاحب اور شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے واقعات میں مزارات کی حاضری کا ذکر بار بار ملتا ہے اس سفر کو تعلیمات اکابر کی روشنی میں تلاش کیا جائے تو کتابوں کی کتابیں ان واقعات سے بھری پڑی ہیں ، ذیل میں اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے حجتہ الاسلام کی مزارات پر با ادب حاضری کا ایک واقعہ عرض کرتا ہوں جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ عبقری کا کوئی ایک عمل بھی قرآن وسنت و تعلیمات اکابر سے ہٹ کر نہیں۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی صاحب بانی دار العلوم اکثر سال میں کلیر شریف حاضر ہوتے اور اس انداز سے کہ میرے خیال میں آج بھی کوئی بزرگوں کا معتقد شاید (مزارات پر ) اس انداز سے نہ جاتا ہو، رڑ کی (جگہ کا نام) سے چھ میل کے فاصلے پر حضرت صابر کلیری کا مزار ہے اور نہر کے کنارے کنارے راستہ جاتا ہے ۔ تو آپ نہر کے کنارے پٹری پر پہنچ کر جوتے اتار لیتے تھے۔ چھ میل ننگے پیر طے کرتے وہاں پہنچ کر عشاء کی نماز کے بعد روضہ میں داخل ہوتے ۔ پوری رات مزار پر گزارتے تھے اس میں ریاضتیں ، مجاہدہ ، استفاضہ اور فیض حاصل کرتے اور صبح کی نماز کیلئے وہاں سے نکلتے ۔ حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب فرماتے ہیں کہ اگر وہ مزارات پر جانے کو نا جائز سمجھتے تو خود ننگے پیر مزارات کیلئے کیوں پیدل جاتے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی بھی ہندوستان میں جس قدر سلسلے کے اکابر ہیں سفر کر کے ان کے مزارات پر حاضر ہوئے ۔ حضرت شاہ محب اللہ صاحب الہ آبادی کا مزار الہ آباد میں ہے تو وہاں گئے ،حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اور حضرت خواجہ صابر کلیری کے مزار پر بھی آپ نے حاضری دی۔ امام اعظم ابو حنیفہ نے اپنی مسند میں روایت نقل کی ہے کہ آداب زیارت میں سے ہے کہ قبلہ کی طرف پشت اور میت کی طرف چہرہ ہو اس لیے کہ وہ (مردہ) تمہاری بات سنے گا اور تمہیں دیکھتا ہے جب یہ تفصیل موجود ہے تو اولیاء اور صلحات کے مزارات پر بے ادبی اور گستاخی کسی طرح سے جائز نہیں اور اولیاء اللہ تو بڑی چیز ہیں صلحا مومنین کی قبروں کے ساتھ بھی گستاخی جائز نہیں ہے۔ قبر کو تکیہ لگانا، پھلانگ کر جانا قبر کی بے حرمتی ہے۔ جس شریعت نے اولیاء اللہ کی اتنی تو قیر کی ہو کہ ان کی زندگی میں بھی تہذیب سے پیش آؤ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی قبروں سے تو قیر و تعظیم کا معاملہ کرو تو کون ہے جو ان کی قبروں کی بے ادبی کو جائز رکھے گا۔ (بحوالہ : خطبات حکیم الاسلام، ج 7، ص 10, 16 – ترتیب: مولانا نعیم احمد، مدرس جامعہ خیر المدارس ملتان، ناشر مکتبہ امدادیہ ملتان محترم قارئین! پرفتن دور میں ایمان کی سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ اسلاف اور ا کا بر کے ساتھ اپنے دامن کو جوڑ لیا جائے۔۔! اللہ کے فضل سے ساری دنیا میں عبقری اور تسبیح خانہ کی کوشش یہی ہے کہ مرتے دم تم ہمارا دامن اپنے اکابر سے جدا نہ ہو آمین۔ (مفتی محمد فرقان محمود، فاضل جامعہ بنوریہ)

حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اور علامہ لا ہوتی صاحب تابعی کیسے بنے؟

( مفتی محمد فرقان محمود متخصص جامعہ بنوریہ کراچی) جب سے اکابر پر اعتماد کی پوسٹیں پڑھ رہا ہوں دل سے آپ حضرات کیلئے دعائیں نکلتی ہیں کہ اس پرفتن دور میں آپ اپنے اکابر کا دفاع کر رہے اور سچ بات یہی ہے کہ ہم اپنے آپ کو عقل کل نہ سمجھیں بلکہ ہر وقت ہر جگہ ا کابر کے طرز عمل کو تلاش کریں اسی میں ہمارے لیے عافیت اور ایمان کی سلامتی ہے۔ دوستوں کیلئے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کا تابعی بننے کا واقعہ پیش خدمت ہے جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ علامہ لاہوتی دامت برکاتہم بھی اس دور کے تابعی ہیں جنہوں نے صحابی جن کی بار بار زیارت کی۔ حضرت مولانا گنگوہی فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ کا ہے کہ ایک رات وہ مطالعہ میں مصروف تھے، ایک کتاب اُٹھائی تو دیکھا کہ اُس کے نیچے سانپ ہے، آپ نے لاٹھی اُٹھائی اور اُس کو مارا وہ مرگیا ، اتنے میں وہ کیا دیکھتے ہیں کہ کسی نے ان کو اُٹھا لیا ، اُٹھانے والی چیز نظر نہیں آرہی تھی ۔ وہ انھیں گھر سے باہر لائے اور جنگل میں لے گئے ۔ وہاں لے جا کر ایک جگہ سے پتھر ہٹایا اور نیچے تہ خانہ کی طرح راستہ تھا ادھر لے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ نیچے تو ایک پورا جہان آباد تھا، ایک زبر دست شاہی محل کی طرح اور تمام انتظامات تھے۔ مجھے وہ ایک دربار میں لے گئے، وہاں ایک تخت موجود تھا، ان کے بادشاہ سلامت بیٹھے ہوئے تھے مجلس لگی ہوئی تھی۔ ایک صاحب نے اپنی زبان میں ایک درخواست بادشاہ کو پیش کی ، پھر وہ حضرت شاہ ولی اللہ سے مخاطب ہوئے اور کہا کیا تم نے ان کے بھائی کو قتل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ پھر انہوں نے سوال کیا کیا تم نے کسی سانپ کو مارا ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں! پھر وہ جنات آپس میں باتیں کرنے لگے۔ اتنے میں ایک عمر رسیدہ بزرگ جن جو کہ صحابی تھے انہوں نے پڑھنا شروع کیا کہ سَمِعْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ تَزَيَّا بِزِقَ غَيْرِهِ فَقُتِلَ فَدَ مُهُ هَدَر “ ترجمہ: ”جو اپنی موجودہ شکل کے علاوہ میں اور دوسری کوئی شکل اختیار کرے اور اُس میں اُسے قتل کیا جائے ، تو اُسکا خون معاف ہے اور اُس کا نہ قصاص ہے، نہ دیت ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے میں بہت خوفزدہ تھا، پھر سمجھ گیا کہ یہ جنات کی دُنیا ہے۔ میں نے اُن( صحابی جن) سے پوچھا کہ کیا آپ نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سےیہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں“۔ آپ فرماتے ہیں اس کے بعد میرا سارا خوف خوشی میں بدل گیا کہ آج میں تابعی بن گیا۔ کیوں کہ میں نے صحابی جن سے براہ راست حدیث مبارکہ ان کی زبان مبارک سے سنی۔ ( بحوالہ : کرامات و کمالات اولیاء، ج 1، ص 45، مجموعه ارشادات: حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف متالا مدظلہ، ناشر: از ہراکیڈ می لندن )

حضرت علامہ شعرانی اپنے وقت کے بہت بڑے علامہ لاہوتی پراسراری

ماہنامہ عبقری میں چھپنے والے ہر دلعزیز کالم ” جنات کے پیدائشی دوست“ کے عنوان سے لکھنے والے علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کی جتنی بھی باتیں اور واقعات ہیں وہ تمام کے تمام ہمارے اکابرکی کتابوں میں موجود ہیں اگر علامہ نبہانی کی کتاب جامع کرامات ہی دیکھ لی جائے تو وہ بھی اس موضوع پر بہت ہی جامع کتاب ہے ذیل میں علامہ شعرانی کے لاہوتی واقعات کی ایک جھلک سے آپ علامہ لا ہوتی صاحب کے واقعات کو بخوبی سمجھ جائیں گے۔ حضرت علامہ شعرانی فرماتے ہیں کہ میں نے جب حضرت شیخ امین الدین عمری کے پیچھے نماز مغرب ادا کی تو میرے دل کے تمام حجاب دور ہو گئے اور میں اللہ جل شانہ کی تمام مخلوق کی تسبیح سنتا تھا کہ کس کس طرح چرند، پرند، مچھلیاں اور دوسری تمام مخلوق اللہ جل شانہ کی تسبیح کرتی ہے۔ اللہ جل شانہ نے ان سب کی زبان سمجھنے کی مجھے طاقت اور قدت عطافرمادی تھی۔ اسی طرح جناتوں سے بھی آپ کی ملاقاتیں ہونے لگیں ۔ آپ ان کی زبانیں سمجھتے اور وہ آپ سے اپنے مسائل پوچھتے اور اپنی ضرورتیں بتاتے۔ آپ کو جنات کیلئے مستقل ایک کتاب جس کا نام ”کشف القناع وَالزَّانِ عَنْ وَجْهِ أَسْئِلَةِ الْجَان تصنیف کرنی پڑی۔ جس میں آپ نے جنات کے پچھتر (75) سوالات کا ذکر کیا ہے، جس میں جنات نے پچھتر (75) چیزیں پوچھیں اور آپ نے ایک ایک چیز کا تفصیلاً جواب لکھا ہے اور وہ پوری ایک کتاب کئی اجزاء پر مشتمل ہے اُن کو لکھ کر دی۔ یہ صرف ایک نماز اللہ والے کے پیچھے پڑھنے سے ملا۔ ( بحوالہ : کرامات و کمالات اولیاء، ج 1، ص 39، مجموعہ ارشادات: حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف متالا مدظلہ، ناشر : از ہر اکیڈمی لندن) محترم قارئین ! جنات پیدائشی دوست میں ذکر کی جانے والی محیر العقول باتیں کوئی دیو مالائی کہانیاں نہیں بلکہ روز روشن کی طرح واضح ہیں جس کی تصدیق اکا بر کے ہزاروں واقعات کر رہے ہیں۔ اللہ پاک ہماری زندگی سے اسلاف بیزاری ختم تحریرفرمائیںاور اکا بر کی زندگی پر اعتماد کی تو فیق عطا فرمائیں تحریر محمد سجاد بہاولنگر، درجہ خامسہ، جامعہ محمدیہ

علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح جنات کو تعلیم دینے والی علمی ہستی

علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے شب روز جس طرح جنات کے ساتھ گزر رہے ہیں تاریخ کا مطالعہ کرنے والے حضرات اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جنات سے ملاقاتوں کے یہ واقعات صرف علامہ صاحب ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہزاروں سے زائد علماء اور مشائخ کی زندگی میں ان ملاقاتوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ ذیل میں حدیث کنز العمال جیسی کتاب لکھنے والی علمی ہستی کی جنات سے نشست و برخاست کا واقعہ اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہے جس سے علامہ لاہوتی صاحب کے واقعات کی حقانیت ہمارے سامنے روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گی۔ علامہ شیخ علی متقی بہت زاہد ومتقی عالم تھے۔ آپ کے وصال سے دو ماہ قبل جناتوں کے دو گروہ آپ کی خدمت میں آنے جانے لگے ۔ ایک گروہ اعتقاد و محبت ، ارادت و الفت میں آپ کی خدمت میں حاضری دیتا تھا جبکہ دوسرا گروہ وہ تھا جو آپ سے بغض و عداوت رکھتا تھا ، یہ گروہ کبھی عیسائیوں ، فاسقوں اور کبھی بدکار لوگوں کی شکل میں آتے تھے اور گفتگو نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ پیرو مرشد ان کے نام خط لکھ کر دے دیا کرتے تھے۔ شیخ عبدالوہاب فرماتے ہیں کہ جنات کے ان خطوط میں سے دو خط اس فقیر کے پاس بھی موجود ہیں ۔ ( بحوالہ مشائخ احمد آبادص ،مصنف مولا نا محمد یوسف متالا صاحب 376 ناشر: کتب خانه انورشاہ) محترم قارئین! عبقری میں ذکر کردہ جنات کا پیدائشی دوست اپنی علمی مصروفیات کے ساتھ سالہا سال سے پڑھنے کا معمول ہے یقین جانیے! علامہ صاحب کیلئے دل سے دعا نکلتی ہے کہ ان کی ہر بات اور ہر واقعہ اللہ تبارک و تعالی کے بچھڑے بندوں کو رب سے ملانے کا ذریعہ بنتا ہے اللہ ان کو اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطافرمائے ۔ آمین ( مولانا دانش رضا فاضل جامعہ رحمانیہ کراچی)

نقشبندی درویش کے سامنے شاہ جنات کی عاجزی

سرتاج الاولیاء قطب الاقطاب حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب بہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین اور میرے والد گرامی حضرت خواجہ عزیز احمد بہلوی نقشبندی مدظلہ العالی بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت بہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں ڈیرہ غازی خان سے ایک مریض لایا گیا، جس پر جن قابض تھا۔ حضرت شیخ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حکم فرمایا کہ اسکو چھوڑ دو لیکن جن نے حکم کرتے ہوئے صاف انکار کر دیا۔ حضرت شیخ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مریض کے ساتھ آنے والے شخص کو ایک رقعہ دے کر فرمایا: فورآجاؤ اور کوہ سلیمان (جوڈی جی خان کے قریب واقع ہے) پہاڑی کے دامن میں جا کر آواز لگانا: "محمد محمد ( یہ دراصل ایک جن کا نام تھا) جب وہ تمہارے سامنے آجائے تو یہ خط اس کو دے دینا۔ پھر جب تک جواب نہ ملے اسی جگہ انتظار کرتے رہنا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس شخص نے جا کر آواز لگائی تو محمد نامی جن آگیا ۔ جب حضرت شیخ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا خط اس کے سامنے پیش کیا تو جن ( محمد ) نے کہا: سردار نے آپ کو بھی ساتھ ہی بلایا ہے۔ لہذاوہ خط لے کر جب شاہ جنات کے پاس پہنچا تو وہ سردار کھڑے ہو گئے۔ خط میں لکھا تھا: کیا آپ اپنے جنات کو ادب نہیں سکھلاتے ؟ یہ پڑھتے ہی سردار کو غصہ آگیا۔ جس جن نے اس شخص کے مریض پر قبضہ کیا ہوا تھا، شاہ جنات نے اسی وقت اس جن کو بلا کر اس کا سر قلم کر دیا۔ پھر بڑے ادب سے کہا : حضرت شیخ بہلوی سے عرض کرنا: اپنے جن کی گستاخی پر میں نہایت شرمندہ ہوں اور اس کی طرف سے میں خود حاضر ہوں۔ میری سزا آپ تجویز فرمادیں۔ یہ تھا جنات کی نظر میں ایک صاحب کمال درویش کا مقام! تحریر مفتی حسین احمد مدنی بہلوی مدظلہ خانقاہ پہلو یہ نقشبندیہ شجاع آباد مؤرخہ 14 ستمبر 2019

انسان کے بداخلاق ہونے میں جنات کا کردار

مولانا شبیر حسن چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ فاضل دارالعلوم ) لکھتے ہیں کہ تفسیر فتح العزیز میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جنات کے 4 فرقے بیان فرمائے ہیں۔ پہلا فرقہ کافر جنات کا ہے جو اپنے کفر کو پوشیدہ نہیں رکھتے بلکہ جہاں تک ممکن ہو سکئے، کھلم کھل طور پر انسانوں کو بہکانے میں لگے رہتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ ہم سے غیب کی خبریں پوچھا کر و مصیبت کے وقت ہم سے مدد مانگا کرو ہم تمہاری حاجت روائی اور مشکل کشائی کیا کریں گے ۔ ایسے جنات لوگوں سے کفر و شرک کرواتے ہیں اور انہیں اسلام قبول کرنے سے روکے رکھتے ہیں۔ دوسرا فرقہ منافق جنات کا ہے جو خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے اپنے پوشیدہ مکر و فریب سے انسانوں کا نقصان کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ تیسرا افرقہ فاسق جنات کا ہے جو انسانوں کو ہر طرح سے مناتے ہیں ۔ اپنے لیے نذرونیاز مٹھائی شربت وغیرہ سب کچھ قبول کر لیتے ہیں۔ چوتھا فرقہ ان جنات کا ہے جو چوروں کی طرح بعض لوگوں کی روح کو بد اخلاقی ، تکبر کینے اور حسد وغیرہ کی آلودگی کی طرف کھینچ کر لے جاتے ہیں اور انہیں اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں. ( بحوالہ کتاب: جنات کے پر اسرار حالات، صفحہ 157 ناشر : آستانہ بکڈ پودہلی) محترم قارئین ! حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے اس فرمان کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ آج کل عبقری میگزین میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ اپنے کالم جنات کا پیدائشی دوست میں جو انسانوں کو مختلف طریقوں سے جنات کے ستانے کے واقعات بیان فرماتے ہیں، یہ حقائق کوئی اس صدی کی پیداوار نہیں، بلکہ گزشتہ تمام اولیائے کرام نے مخلوق خدا کی خیر خواہی چاہتے ہوئے اسی طرح سے خبر دار کیا اور جنات کی شرارتوں سے بچنے کیلئے بے شمار وظائف عطا فرمائے۔ کیونکہ مخلوق خدا کو ایمان اعمال والی راہوں پر لانے کا کام ہر دور میں جاری رہا ہے۔ کام کبھی نہیں رکتا، بس چہرے بدل جاتے ہیں۔ پس آج کے دور میں اس عظیم منصب پر فائز حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے اور ان کیلئے جتنی بھی دعائیں کی جائیں، حق بنتا ہے۔

انسانی زندگی پر اثر انداز ہونے کیلئے جنات کی مختلف ڈیوٹیاں

حضرت علامہ کمال الدین دمیری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ شیطان نے اپنی اولا د کو بعض مخصوص کاموں پر مامور کیا ہوا ہے۔ چنانچہ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان کے مطابق ان جنات کے نام اور کام یہ ہیں۔ لاقیسں ، ولہان : یہ دونوں جنات وضو اور نماز پر مامور ہیں اور لوگوں کے دلوں میں جلدی کرنے کے وسوسے ڈالتے ہیں۔ ھفاف: یہ جن صحرا پر مامور ہے اور صحراؤں میں شیطانیت پھیلا کر لوگوں کو گناہوں پر اکساتا ہے۔ زلنبور: یہ جن بازاروں پر مامور ہے اور لوگوں کو جھوٹی قسم کھانے اور جھوٹی تعریف کرنے پر اکساتا ہے۔ بژ : یہ جن مصیبت زدہ لوگوں کو ماتم کرنے نوحہ کرنے گریبان چاک کرنے اور چہرہ نوچنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ابیض: یہ جن انبیاء علیہم السلام کے دلوں میں وسوسے ڈالنے پر مامور ہے۔ اعور: یہ جن زنا کروانے پر مامور ہے اور زنا کے وقت مرد و عورت کی شرمگاہ پر سوار رہتا ہے۔ واسم : اس جن کی ڈیوٹی یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا بھول جائے تو یہ گھر والوں میں فساد کروانے کا سبب بنتا ہے۔ مطوس یہ جن غلط قسم کی بے بنیاد افواہیں پھیلانے پر مامور ہے۔ (بحوالہ کتاب: جنات کے پر اسرار حالات صفحہ 75 ناشر: آستانہ بک ڈپو دہلی)

دار العلوم میں اپنی آنکھوں سے جنات کو دیکھنے والے عالم دین

مولانا شبیر حسن چشتی نظانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ مجھے بعض اساتذہ کی زبانی معلوم ہوا کہ دار العلوم میں جنات بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ دار العلوم کے مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک رات بارہ بجے گشت کے دوران دیکھا کہ ایک بند کمرے میں دوسانپ آپس میں کھیل کو د کر رہے ہیں، جبکہ ان کے سامنے کتابیں کھلی ہوئی موجود ہیں۔ حضرت مہتمم صاحب نے انہیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا: یہ وقت کھیلنے کودنے کا ہے یا مطالعہ کرنے کا؟ یہ سنتے ہی دونوں سانپ انسانی شکل میں آگئے اور ان سے معذرت کرنے لگے کہ آئندہ آپ کو شکایت کا موقع نہیں دیں گے۔ اسی طرح طالب علمی کے زمانے میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ میرے خصوصی تعلقات تھے۔ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ شاہ صاحب ! میرا دل چاہتا ہے اپنی آنکھوں سے جنات کو دیکھوں۔ فرمانے لگے: اچھا ٹھیک ہے اس شب جمعہ میں تمہیں دکھا دیں گے۔ چنانچہ جمعے کی رات مجھے تقریباً ایک بجے اٹھا کر فرمایا: جاؤ، فلاں مقام پر تمہیں اس ہیئت کے دو شخص ملیں گے ان سے کوئی بات نہ کرنا۔ مجھے جنات کو دیکھنے کا اتنا شوق تھا کہ ننگے پاؤں ہی چل پڑا اور ان کے قریب پہنچ کر ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ دارالعلوم کی مسجد تک تو میرا اور ان کا ساتھ رہا لیکن مسجد میں داخل ہوتے ہی وہاں مجھے کوئی نظر نہ آیا۔ وہ دونوں جنات دراز قد اور سفید پوش تھے۔ آپس میں باتیں کر رہے تھے مگر میں نہ سمجھ سکا کہ وہ کس زبان میں گفتگو کر رہے ہیں ( بحوالہ کتاب: جنات کے پر اسرار حالات، صفحہ 162 ناشر : آستانہ بک ڈپو دہلی)

جنات اور انسانوں کی شادی ہونے کا ثبوت

محترم قارئین ! عبقری میگزین میں انسانوں اور جنات کی شادی کے متعلق جب مضمون شائع ہوا تو کچھ لوگوں نے لاعلمی کی بنیاد پر سوال اٹھایا کہ یہ کیسے قصے کہانیاں ہیں؟ جن کا شریعت سے کوئی ثبوت ہی نہیں ملتا ۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر” کا اس معاملے میں کیا فرمان ہے؟ مولانا شبیر حسن چشتی نظانی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں کہ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی شخص نے سوال پوچھا: کیا جن عورت سے مسلمان مرد کا نکاح جائز ہے ؟ فرمایا: ہاں جائز ہے بشرطیکہ دو گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کیا جائے ۔ اسی طرح فتاوی سراجیہ میں بھی جنات اور انسانوں کے نکاح کو جائز فرمایا گیا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعثت نبوی صلی اللہ وسلم سے پہلے دیگر انبیاء کے زمانے میں جنات اور انسانوں کی شادی ہوا کرتی تھی۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت سلیمان علیہ السلام کی زوجہ ملکہ بلقیس کے ماں باپ میں سے ایک جن تھا۔ علامہ کمال الدین دمیری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ مجھ سے ایک صالح شخص نے بیان کیا کہ میں نے 4 جن عورتوں سے نکاح کیا ہوا ہے۔ مجھے اس کی بات کا یقین نہ آیا اور میں نے کہا : یہ کس طرح ممکن ہے کہ لطیف اور کثیف جسم یکجا ہو سکیں ؟ لیکن کچھ عرصے بعد وہی شخص دوبارہ نظر آیا تو اس کے سر پہ پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ میرا اپنی ایک جن بیوی سے جھگڑا ہو گیا تھا اس نے میرا سر پھاڑ دیا ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات میں لکھا ہے کہ ان کے ایک طالب علم کا نکاح جن عورت سے ہو گیا۔ پھر جب اس عورت نے اپنے انسان خاوند کے پاس ضرورت سے زیادہ ہی آنا شروع کر دیا تو اس نے تنگ آکر حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے شکایت کی۔انہوں نے اسے ایک تعویذ عطا فرمایا، جس کے بعد اس جن عورت کی آمد ورفت بند ہوگئی ( بحوالہ کتاب: جنات کے پر اسرار حالات، صفحہ 152 ناشر : آستانہ بک ڈپو دہلی )

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025