مکتبہ اہل حدیث، دیوبندی، بریلوی اور اہل تشیع کے مستند حوالہ جات! 1. شاہ عبد العزیزؒ کےتعویذ ریشمی رومال سے ہر ضرورت پوری اور ہر دعا قبول ! جو شخص آیت شریفہ کے نقش کو طالع سعید میں سفید حریر (ریشمی کپڑے)کے ٹکڑے پر لکھے اورحَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ کو ۴۵۰ مرتبہ اور دعا ئے حزب النصرکو تین مرتبہ پڑھ کر اپنے پاس رکھے تو اللہ تعالیٰ تمام اسباب ضرور یہ اس کے مہیا کر دے گا اور خدا کے حکم سے وہ مقبول الدعا ہو گا۔ (صفحہ نمبر 67، کتاب :شاہ عبد العزیزؒ اور ان کی تعلیمات ، جناب مولانا مولوی ظہیر الدین سید احمد ؒنبیرہ حضرت مولانا شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ، تصیح و تزیین : جناب مولانا سبحان محمود استاذ دارلعلوم، کراچی، ناشر: کلام کمپنی ناشران و تاجران کتب مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی) 2. ہر شخص کپڑے پر یہ لکھ کر اپنے پاس رکھے !شاہ عبد العزیزؒ کا عمل! قبر میں مومن کامل جو جواب دیتا ہے وہ موافق احادیث کے لکھا جاتا ہے۔اس لئے یہ جواب ور و زبان کرنا چاہیے اور نئے کپڑے پر خوشبو سے لکھوا کراپنے پاس رکھنا چاہیے۔ وہ جواب یہ ہیں:اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدً اَعْبْدُهُ ورَسُولُهُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّاوَ بِالْإِسلَامِ دِيناً وَّ بِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَرَسُولًا وَ بِالْقُرْاٰنِ إِمَامًاوبالْكَعْبَةَ قِبْلَةً وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ إِخْوَا نًا وَ بِالصِّدِّيْقِ وَ بِالْفَارُوقِ بِذِي النُّورَينِ وَبِالْمُرْتَضٰى أَئِمَّةً رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِم مَرْحَبًا بِالْمَلَكَيْنِ الشَّاهِدَيْنِ الْحَاضِرَينِ واَشْهَدَا بِاَنَّا نَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُولُ اللَّهِ عَلَى هَذِهِ الشَّهَادَةِ نَحْیٰی وَ عَلَیْھَا نَمُوْتُ وَ عَلَیْھَا نُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى (صفحہ نمبر 48، کتاب :شاہ عبد العزیزؒ اور ان کی تعلیمات ، جناب مولانا مولوی ظہیر الدین سید احمد ؒنبیرہ حضرت مولانا شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ، تصیح و تزیین : جناب مولانا سبحان محمود استاذ دارلعلوم، کراچی، ناشر: کلام کمپنی ناشران و تاجران کتب مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی) 3. نشانہ خطانہ ہونا سورہ بنی اسرائیل حریرسفید (ریشمی کپڑا)کے ٹکڑنے پر لکھ کر کمان پر لپیٹ کرسی دیں تو کوئی تیر خطانہ ہو ۔ 4. دفع آسیب کوئی بھوت پلید کسی کے سر ہو گیا تو نیلے پشمینہ پریا کاغذ پر سورہ بنی اسرائیل لکھ کر اس کے بازو پرباندھ دی جائے۔ وہ دفع ہو جائے گا۔ (صفحہ 114،کتاب : اعمال قرآنی ، حکیم الامت مولانااشرف علی تھانویؒ، ناشر: دارُا لاشاعت، کراچی) 5. عزت و آبرو بڑھانے کیلئے سورۃ طہ لکھ کر اور حریر سبز (ریشمی کپڑا)کے کپڑے میں لپیٹ کر پاس رکھے اگر نکاح کا پیغام بھیجے کامیابی ہو ،اگر دو شخصوں یا دو لشکروں میں صلح کرانا چاہے انکار نہ کریں۔ اگر اس کو پانی سے دھو کر پی لے تو بادشاہ سے مطلب حاصل ہو اور جس عورت کی شادی نہ ہوتی ہو اس کو اس کے پانی سے غسل دیں تو نکاح آسان ہو ۔ 6. رتبہ وشان بڑھنے کیلئے وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ-اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗOوَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّاO(سورۃ مریم: ۵۷،۵۶)رتبہ اور شان بڑھنے کیلئے حریر زرد(ریشمی کپڑا) کے ٹکڑے پر اس زعفران سے جو شہد میں حل کیا گیاہو یہ آیات لکھ کرتعویذ بنالیں اور موم کو کندر میں گوندھ کر اس سے تعویذ کو دھونی دیں اور باندھ لیں ہرجگہ عزت و آبرو ہو۔ (صفحہ118،کتاب : اعمال قرآنی ، حکیم الامت مولانااشرف علی تھانویؒ، ناشر: دارُا لاشاعت، کراچی) 7. شراب ترک کروانے کیلئے سورۃ المؤمنون سفید کپڑے پر شب کو لکھ کر شرابی کو پلانے سے شراب کی عادت چھوٹ جائے۔ 8. برائے مقبولیت لوگوں کی نظر میں مقبول ہونے کیلئے سورہ مومنون کی آیت نمبر12تا 14 باریک کپڑے پر جو آب تو ت میں غوطہ دیا ہوا ہو لکھ کر عمامہ کے نیچے اور اگر عورت ہو تو عصابہ کے نیچے رکھ لے۔(صفحہ 123،کتاب : اعمال قرآنی ، حکیم الامت مولانااشرف علی تھانویؒ، ناشر: دارُا لاشاعت، کراچی) 9. دشمن پر دہشت غالب کرنے کیلئے كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَO فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَO (سورۃ روم : ۵۹ تا ۶۰ )دشمن ظالم پر دہشت و حیرت غالب کرنے کے لئے اس کے کپڑے پر یہ آیتیں لکھ کر اپنے پاس رکھے مگر بلا طریق مشروع اس کا کپڑا لینا جائز نہیں بلکہ ایسی تدبیر کریں کہ وہ شخص کسی کو اپنا کپڑا دیدے اور وہ تم کو خوشی سے دے دے یا کسی طرح خرید لیا جائے۔(صفحہ 129،کتاب : اعمال قرآنی ، حکیم الامت مولانااشرف علی تھانویؒ، ناشر: دارُا لاشاعت، کراچی)تجارت میں برکت ہواِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ O لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ-اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌO(سورۃفاطر : 29،30)برکت تجارت کیلئے سوتی کپڑے کے چار ٹکڑوں پر لکھ کر اپنے مال و متاع میں رکھ دیں۔(صفحہ 132،کتاب : اعمال قرآنی ، حکیم الامت مولانااشرف علی تھانویؒ، ناشر: دارُا لاشاعت، کراچی) 10. مقبول ہونے کے لئے قبولیت عامہ کیلئے باوضو مشک و گلاب و زعفران سے سورۃ فتح کی پہلی چار آیات ہرن کی جھلی پر لکھ کر ٹوپی میں رکھ لیں مگر پہنتے وقت بھی باوضو ہوں ۔ (صفحہ 136،کتاب : اعمال قرآنی ، حکیم الامت مولانااشرف علی تھانویؒ، ناشر: دارُا لاشاعت، کراچی) 11. ہیبت اور قبولیت عوام کے لئے يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِئُوْا نُـوْرَ اللّـٰهِ بِاَفْوَاهِهِـمْ وَاللّـٰهُ مُتِمُّ نُـوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَOهُوَ الَّـذِىٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـه بِالْـهُـدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٝ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّـهٖۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُـوْنَOيَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِـيْمٍ Oتُؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖ وَتُجَاهِدُوْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ ۚ ذٰلِكُمْ خَيْـرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ Oيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُـوْبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِىْ جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِـيْمُ Oوَاُخْرٰى تُحِبُّوْنَـهَا ۖ نَصْرٌ مِّنَ اللّـٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَO ( سورة الصف، آیت 8 تا 13)یہ آیات حریر (ریشمی کپڑا)سفیدکے کپڑے پر مشک خالص و زعفران اور آب نسرین مقطر سے لکھ کراندر کے کرتہ میں رکھیں۔ قبول عام اور ہیبت حاصل ہوگی ۔ (صفحہ 140،کتاب : اعمال قرآنی ، حکیم الامت مولانااشرف علی تھانویؒ، ناشر: دارُا لاشاعت، کراچی) 12. دفع در دسر قیصر روم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں شکایت دردسر کی عرض کی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ٹوپی

ختم نبوت کے امیر کی صحابی جنؓ سے ملاقات

(انتخاب: قاری شعیب صاحب، فیصل آبادی، فاضل جامعہ دارالقرآن) علامہ لاہوتی صاحب کی صحابی جنؓ سے ملاقات کوئی انوکھی کہانی نہیں بلکہ تاریخ میں بکھرے سینکڑوں واقعات اس پر شاہد ہیں دور حاضر میں ختم نبوت کے امیر کی بھی صحابی جنؓ سے ملاقات عالمی مبلغ ختم نبوت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب کی زبانی پیش خدمت ہے: شاہی مسجد کہروڑ پکا کے خطیب حافظ حفظ الرحمن صاحب کہتے ہیں کہ مولانا غلام محمد ریحانؒ جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کہروڑ پکا کے ایک عرصہ تک امیر رہے۔ ایسے ہی بخاری چوک کی جامع مسجد میں عرصہ دراز تک امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ بخاری چوک والی مسجد سے پہلے ایک اور مسجد میں امام و خطیب رہے۔ ایک دن مسجد میں آئے تو ایک سانپ کے بچے کو دیکھا تو سانپ سمجھ کر مار دیا، وہ سانپ نہیں جن تھا۔ سانپ کے متعلق بھی مسئلہ یہ ہے کہ اگر سانپ ہو تو اسے تین دفعہ آواز دو کہ اگر تو کوئی اور چیز ہے تو نکل جا اور اگر نہ جائے تو اسے مار دو۔ بہرحال تھوڑی دیر کے بعد مولانا غائب ہو گئے۔ یعنی انہیں جنات اٹھا کر لے گئے اور تقریباً تین چار روز غائب رہے۔ ان کا کیس جنات کے قاضی کے سامنے پیش ہوا کہ مولوی صاحب نے ہمارا بچہ مار دیا ہے۔ مولانا سے پوچھا گیا تو مولانا نے کہا کہ میں نے سانپ کو مارا تھا، نہ کہ کسی آدمی اور جن کو، تو انہیں کہا گیا کہ وہ جن تھا، جو سانپ کی شکل میں تھا تو بہرحال جنات کے سربراہ نے کہا کہ آپ کے بچے کو کس نے کہا تھا کہ وہ سانپ کی شکل اختیار کر کے مسجد میں جائے؟ قاضی نے ایک بڑی عمر کے جن کو طلب کیا، وہ جن بڑی عمر کا تھا۔ اتنی بڑی عمر کہ اس کی آنکھیں پلکوں کے نیچے چھپ گئی تھیں، پلکیں اٹھا کر دیکھا تو اس نے تصدیق کی کہ واقعتاً یہ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ قاضی نے اپنے گارڈ (حفاظتی دستہ) کی حفاظت میں انہیں بھیجا، وہ آ کر ساٹھ ہزاری نہر (جو کہروڑ پکا سے پہلے واقع ہے، اس وقت جنگل ہوتا تھا) پر چھوڑ گئے تین چار دن جب موصوف غائب رہے تو والدین اور گھر والے پریشان اور ان کے استاد قاری امیر الدینؒ اپنی جگہ پر غصہ کہ میرا شاگرد بغیر اجازت کے غائب رہا، جب واپس آئے تو اس کے بعد حضرت قاری صاحبؒ بہت محبت فرماتے تھے۔ مسجد قاضیاں کے خطیب مولانا محمد یعقوبؒ جو اچھے عامل تھے، انہوں نے عملیات کے ذریعہ جنات کو بھگایا۔ مولانا غلام محمد ریحان نے ۱۷ جنوری ۲۰۱۷ء کو انتقال فرمایا۔ (مولانا محمد اسماعیل شجاع آباد)۔ (بحوالہ: ہفتہ روزہ ختم نبوت، ۳۰ ربیع الثانی تا ۶ جمادی الاول مطابق ۱۶ تا ۲۲ دسمبر ۲۰۲۰ء، جلد ۳۹، شماره ۴۷، صفحہ نمبر ۲۱) علامہ لاہوتی صاحب کے واقعات کا انکار کرنے والے کیا اس واقعہ کا بھی انکار کریں گے اور اسے بھی جھٹلائیں گے۔

جنات لوگوں کو اٹھا کر بھی لے جاتے ہیں بالکل سچا انکشاف

علامہ لاہوتی صاحب کے جنات کے واقعات میں جنات کی دنیا میں کئی مرتبہ لوگوں کو اٹھا کر لے جانے کا ذکر ملتا ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے جنات کو یہ طاقت نہیں کہ وہ انسانوں کو اٹھا کر ہی لے جائیں تو ایسے لوگوں کیلئے جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ پیش خدمت ہے: جنات کو اللہ رب العزت نے انسانی آزمائش کے لیے یہ قدرت دے رکھی ہے کہ وہ مختلف تصرف کر کے انسانی زندگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جس کا قرآن و حدیث سے واضح ثبوت بھی ملتا ہے، لہٰذا کسی کے جسم پر جن کا تسلط اور اس کے اثر سے مغلوب ہو جانا کوئی بعید نہیں ہے، نیز جنات کی تسخیر ممکن ہے اور ان سے بچاؤ کے لیے شرعاً اس کی گنجائش بھی ہے اور جنات کا انسان کے پاس آنا ممکن اور ثابت ہے۔ ایک واقعہ تو خود حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ "بنو عذرہ” قبیلے کا ایک شخص جس کا نام "خرافہ” تھا اسے جنات پکڑ کر لے گئے تھے، وہ ایک عرصہ تک جنات کے درمیان مقیم رہا پھر وہی اسے انسانوں کے پاس چھوڑ گئے ۔ اب وہ واپس آنے کے بعد عجیب عجیب قصے سنایا کرتا تھا، اس لئے لوگ (ہر عجیب بات کو) خرافہ کا قصہ کہنے لگے۔ مسند احمد مخرجاً (42 / 141) : علامہ لاہوتی صاحب کے واقعات کو سمجھنے کیلئے وسیع علم کا ہونا ضروری ہے

وضو کرنے والے جنات کے حملوں سے بچ جائیں!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی پندرہویں دلیل علامہ لاہوتی صاحب جو مشن لے کر چلے ہیں وہ یہ ہے کہ جنات اور اس کے حواری ہمارے معاملات، عبادت، ایمانیات، معاشرت میں تو قدم قدم پر سینکڑوں قسم کی رکاوٹیں ڈالتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہماری طہارت میں بھی یہ ہمیں مختلف انداز سے بہکانے کی کوشش کرتے ہیں علامہ صاحب اس دعویٰ کی دلیل حضرت ابی بن کعبؓ کی روایت دیتے ہیں جس میں وہ حضور پاک ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ: اِنَّ لِلْوُضُوْءِ شَیْطَانًا یُّقَالُ لَہُ الْوَلْھَانُ فَاتَّقُوْا وَسْوَاسَ الْمَاءِ۔ وضو کا بھی شیطان ہوتا ہے جسے ’’ولہان‘‘ کہا جاتا ہے اس سے بچو، اس سے بچو۔ (سنن کبریٰ ص 19) عبقری کا مشن ہی یہ ہے کہ انسانیت کے دکھوں کو بانٹا جائے اور بے لوث ہو کر زیادہ سے زیادہ جنات کے حملوں سے بچایا جائے

سرکش جنات کو فرشتوں کے ذریعے ہرا دینے والا عمل

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی چودہویں دلیل جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی تیرہویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جس وقت بھی آپ جمائی لیتے ہیں اس وقت بھی جنات آپ پر حملہ کر دیتے ہیں۔ آج چودہویں دلیل میں آپ پڑھیں گے کہ صرف چند سیکنڈ کے عمل سے آپ ان سرکش جنات کے حملوں سے بچ سکتے ہیں۔ ’’ماہنامہ عبقری‘‘ میں علامہ لاہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس جناتی حملے کی دلیل مجمع الزوائد ومنبع الفوائد کی وہ روایت ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ تعوذ پڑھنے سے جنات سے حفاظت ہوتی ہے: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص روزانہ دس مرتبہ ’’اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘‘ پڑھ لیا کرے، اللہ تعالیٰ اس پر ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے، جو شیطان سے اس کی حفاظت کرتا ہے۔ عبقری کا مشن ہی یہ ہے کہ انسانیت کے دکھوں کو بانٹا جائے اور بے لوث ہو کر زیادہ سے زیادہ جنات کے حملوں سے بچایا جائے۔ عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملوں کے مستند حوالہ جات ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوست اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔

خطیب بادشاہی مسجد کے والد کی 1 صحابی جنؓ سے ملاقات

مولانا محمد اسماعیل صاحب شجاع آبادی مدظلہ (عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت) لکھتے ہیں: بادشاہی مسجد لاہور کے سابق امام و خطیب مولانا سید عبدالقادر آزادؒ کے والد محترم مولانا محمد سعید افغانیؒ (خلیفہ مجاز: حضرت پیر فضل علی قریشیؒ مسکین پور شریف) سے سینکڑوں لوگ اللہ اللہ سیکھ کر اپنے دل کی دنیا آباد کرتے۔ آپ مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ انسانوں کے علاوہ جنات نے بھی آپ سے فیوض و برکات حاصل کیں۔ ان کے بیٹے مولانا عبدالقادر آزادؒ نے مجھے بتایا کہ والد محترم (مولانا محمد سعید افغانیؒ) کے جنات بھی مرید تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے جنات مریدین سے فرمایا کہ کسی بڑی عمر کے جن سے میری ملاقات کرائیں۔ جنات نے کہا: ایک بڑی عمر کے جن کراچی میں قیام پذیر ہیں۔ ان سے درخواست کی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر مولانا محمد سعید افغانیؒ تشریف لائیں گے تو انہیں دقت ہوگی، میں آجاتا ہوں بشرطیکہ جہاں مولانا تشریف فرما ہوں (1) وہ زمین کسی کی ناجائز قبضہ شدہ نہ ہو (2) غیر شرعی شکل اور لباس والا کوئی آدمی وہاں موجود نہ ہو۔ حضرت والا (مولانا محمد سعید افغانیؒ) نے فرمایا: مجھے اس نیک جن کی دونوں شرائط منظور ہیں۔ چنانچہ وہ بزرگ جن انسانی شکل میں تشریف لائے اور جتنی دیر قیام فرما رہے، مسلسل ان کی آنکھوں سے آنسو جاری رہے۔ مولانا محمد سعید افغانیؒ نے وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا: میں رحمتِ عالم حضرت محمد ﷺ کی وفات سے دس منٹ پہلے مسلمان ہوا تھا، اسی وقت سے اپنی کم قسمتی پر آنسو بہا رہا ہوں۔ (بحوالہ: ہفت روزہ ختمِ نبوت، جلد 39 شمارہ 32 صفحہ 23 مطابق 23 اگست 2020ء) محترم قارئین! ماہنامہ عبقری کے ہر دلعزیز کالم ’’جنات کا پیدائشی دوست‘‘ میں آپ نے حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم العالیہ کی ایک صحابی جنؓ سے ملاقاتوں کے واقعات کئی بار ملاحظہ کیے ہوں گے۔ کچھ لوگ معلومات میں کمی کی وجہ سے ایسی چیزوں کو من گھڑت قصے کہانیوں سے تعبیر کرتے ہیں، جبکہ یہ حقیقی زندگی کے سچے واقعات تو صدیوں سے ہمارے اکابر و اسلاف کے ساتھ چلے آرہے ہیں۔ البتہ یہ واقعات ہر شخص کے ساتھ نہیں بیت سکتے، کیونکہ اتنا بڑا مقام پانے کیلئے معرفت الٰہی، اخلاص، عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور غلامیِ مصطفیٰ ﷺ بھی اپنے اکابر جن جیسی درکار ہوتی ہے۔ جو موجودہ دور میں اللہ پاک نے یہ تمام صلاحیتیں اپنے مقرب بندے حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی ذات میں ودیعت فرمائی ہوئی ہیں۔ اللھم زد فزد

منہ کھولتے وقت احتیاط کریں کہیں جنات داخل نہ ہو جائیں۔۔۔!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی تیرہویں دلیل جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی بارہویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ خواتین کی ماہواری میں بھی ’’جنات‘‘ حملہ آور ہو جاتے ہیں آج تیرہویں دلیل میں آپ پڑھیں گے کہ جس وقت بھی آپ جمائی لیتے ہیں اس وقت بھی جنات آپ پر حملہ کر دیتے ہیں۔ ’’ماہنامہ عبقری میں علامہ لاہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس جناتی حملے کی دلیل مشہور و معروف کتب حدیث میں جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ جمائی کے وقت منہ پر ہاتھ رکھنے سے جنات سے حفاظت ہوتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ تم میں سے جو کوئی چھینک کر ’’الحمدللہ‘‘ کہے تو سننے والے پر حق ہے یوں کہے ’’یرحمک اللہ‘‘ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ جمائی شیطان (جنات) کی طرف سے ہے، تم میں سے جب کوئی جمائی لے تو حتی الامکان اسے روکے کیونکہ تم میں کوئی (جمائی کے وقت منہ کھول کر) کہتا ہے ’’ہا‘‘ تو اس سے شیطان (جن) خوش ہوتا ہے۔ جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لیا کرے کیونکہ شیطان (جن) جمائی کے ساتھ اندر گھس جاتا ہے۔ (کتاب الاذکار) عبقری کا مشن ہی یہ ہے کہ انسانیت کے دکھوں کو بانٹا جائے اور زیادہ سے زیادہ جنات کے حملوں سے بچایا جائے۔ عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملوں کے مستند حوالہ جات ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوست اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔

ہر خواتین پر جنات کا حملہ۔۔۔ خبردار رہیں!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی بارہویں دلیل جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی گیارہویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ ہمارے بیت الخلاء بھی جنات کے مورچے ہیں اور وہاں بیٹھے جنات ہر وقت ہماری گھات میں رہتے ہیں آج بارہویں دلیل میں آپ پڑھیں گے کہ خواتین کی ماہواری میں بھی ’’جنات‘‘ حملہ آور ہو جاتے ہیں ’’ماہنامہ عبقری‘‘ میں علامہ لاہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس جناتی حملے کی دلیل ’’سنن ترمذی‘‘ کی وہ روایت ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ ’’جنات‘‘ خواتین کو پریشان اور بیمار کرنے کے لئے انہیں رحم کی ایک خاص رگ میں ٹھوکر مار کر استحاضہ میں مبتلا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے انہیں معمول کی ماہواری کے علاوہ بہت زیادہ خون جاری رہتا ہے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحشؓ کی ہمشیرہ، خالہ المؤمنین سیدہ حمنہ بنت جحشؓ نے ایک بار آنحضرت ﷺ سے کثرتِ استحاضہ کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اِنَّمَا ھِیَ رَکْضَۃٌ مِّنْ رَّکَضَاتِ الشَّیْطٰنِ یہ تو شیطان کی ایک ٹھوکر ہے۔ (سنن ترمذی) اس حدیث کی مسند احمد اور بخاری کی روایت سے بھی اس طرح تائید ہوتی ہے۔ اِنَّمَا ھُوَ عِرْقٌ وَّلَیْسَتْ بِالْحَیْضَۃِ یہ تو ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے یعنی اس حدیث میں ایک بات مذکور ہے کہ شیطان (جن) رحم کی کسی رگ کو ایسی ٹھوکر مارتا ہے جس سے رحم کے راستے خون جاری ہو جاتا ہے۔ عبقری کا مشن ہی یہ ہے کہ انسانیت کے دکھوں کو بانٹا جائے اور زیادہ سے زیادہ جنات کے حملوں سے بچایا جائے۔ عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملوں کے مستند حوالہ جات ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوست اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت امام زین العابدینؒ کا جنات کو زوردار طمانچہ۔۔۔!

علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کی جنات سے ملاقات کا انکار کرنے اور انھیں افسانوی کہانی کہنے والے اہل بیت کے شہنشاہ کی جنات سے اس ملاقات کے بارے میں کیا کہیں گے۔۔۔! حضرت امام زین العابدین رحمۃ اللہ ایک رات نمازِ تہجد میں مشغول تھے کہ ایک ’’جن‘‘ اژدھے کی شکل میں آپ کے قریب آگیا اور اس نے آپ کے پاؤں مبارک کے انگوٹھے کو منہ میں لے کر کاٹنا شروع کیا، آپ ہمہ تن مشغولِ عبادت تھے اور آپ کا دھیان مکمل طور پر اللہ رب العزت کی طرف تھا، وہ ذرا بھی اس کے اس عمل سے متاثر نہ ہوئے اور بدستور نماز میں مصروف رہے بالآخر وہ ’’جن‘‘ عاجز آگیا اور جس وقت آپ نے اپنی نماز مکمل کرلی اس کے بعد آپ نے اس ’’جن‘‘ ملعون کو طمانچہ مار کر دور ہٹا دیا اس وقت غیب سے ایک آواز آئی ’’انت زین العابدین‘‘ بے شک تم عبادت گزاروں کی زینت ہو، اسی وقت آپ کا یہ لقب ہو گیا۔ (مطالب السؤل ص 262، شواہد النبوت ص 177)۔ اللہ معاف کرے علامہ لاہوتی صاحب ’’جنات‘‘ کے واقعات بناتے یا گھڑتے نہیں بلکہ اپنی سچی آپ بیتی سناتے ہیں اور اس طرح کی ’’جنات‘‘ سے ملاقاتیں ہزاروں اکابر سے ثابت ہیں۔

بیت الخلاء جانے سے پہلے جنات سے بچ جائیں

جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی دسویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لیا جائے تو ’’جنات‘‘ گھر میں داخل ہو جاتے ہیں۔۔۔! آج گیارہویں دلیل میں آپ پڑھیں گے کہ ہمارے بیت الخلاء بھی جنات کے مورچے ہیں اور وہاں بیٹھے جنات ہر وقت ہماری گھات میں رہتے ہیں ’’ماہنامہ عبقری میں علامہ لاہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس جناتی حملے کی دلیل سنن ابو داؤد، اور مسند امام احمد کی وہ روایت ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ بیت الخلاء میں داخل ہونے سے قبل دعا پڑھنے سے جنات سے حفاظت ہوتی ہے: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ قضائے حاجت کی جگہیں (بیت الخلاء) ایسی ہیں جن میں شیاطین حاضر ہوتے ہیں۔ پس تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کی جگہ (بیت الخلاء) داخل ہونے لگے تو یہ پڑھ لے: بِسْمِ اللہِ۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ۔ تسبیح خانہ کا پیغام اعمال سے پلنے، بننے اور بچنے کا یقین اسلامی تعلیمات کے سو فیصد موافق ہے۔۔۔!

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026