زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں میں اپنے کانوں سے سنا ایک واقعہ آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ شیخ الحدیث مولانا جمشید صاحب رحمہ اللہ (رائے ونڈ والے) کے خادمِ خاص مجھ سے کہنے لگے کہ ایک مرتبہ میں رات کے تین بجے حضرت کی خدمت کیلئے ان کے حجرے میں گیا تو دیکھا کہ آپ بالکل نئے زرق و برق لباس میں ملبوس تھے، میں بڑا حیران ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ (کیونکہ آپ کی عام زندگی میں اس طرح کا لباس نہیں تھا) اسی دوران میں نے دوسرے ساتھی سے پوچھا خیریت تو ہے؟ وہ کہنے لگے کہ ابھی حضرت جنات کی شادی میں گئے تھے وہاں سے آ رہے ہیں۔
(1) شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف متالا مدظلہ، شیخ الکبیر عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے جنات میں تدریس اور تعلیم کا بھی کام لیا اور ان کیلئے مستقل انہوں نے کئی اجزا پر مشتمل کتاب لکھی ”کشف القناع والران عن وجہ اسئلۃ الجان“
(2) شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف متالا مدظلہ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ کو جنات سے بہت سی روایات حاصل ہوئی ہیں ان تمام روایات کو آپ نے ایک کتاب میں جمع کر دیا ہے جس کا نام انہوں نے ”مسندالجن“ رکھا ہے۔
(3) شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ کے مدرسے، تصنیف گاہ اور کتب خانہ میں بھی بہت سے جنات رہا کرتے تھے جو کہ بعض اوقات شرارت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ انہوں نے کتب خانہ کا دروازہ اندر سے بند کر لیا بہت کوشش کے باوجود نہ کھلا، بالآخر جب شیخ الحدیث خود تشریف لے کر گئے تو فوراً بغیر دھکا دیے دروازہ کھل گیا۔
(بحوالہ کرامات و کمالاتِ اولیاء، مجموعہ ارشادات حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف متالا مدظلہ، جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 47، ناشر: ازہر اکیڈمی لمیٹڈ، لندن)
(4) شیخ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن علی ہرملی یمنی رحمہ اللہ کی علمی پختگی نہایت ہی باکمال تھی، آپ جناتوں کے استاد مشہور تھے اور دور دور سے جنات آپ کے پاس حدیث و فقہ کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے آیا کرتے تھے۔
(جامع کرامات اولیاء، مصنف: علامہ محمد یوسف نبہانی رحمہ اللہ صفحہ نمبر 346 ناشر: ضیاء القرآن کراچی)
علامہ لاہوتی صاحب کی جنات سے ملاقات کا انکار کرنے سے نشانہ کہاں پڑتا ہے۔۔۔!
