سوال: عبقری میں علامہ لاہوتی پُراسراری کہتے ہیں کہ وہ خود اور بعض دوسرے بزرگ تھوڑے وقت میں زیادہ ذکر کر لیتے ہیں‘ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے؟ (سائل: محمد احسان‘ حیدرآباد)
جواب: میرے دوست! اس میں حیرانگی والی کون سی بات ہے؟ ہمارے اکابر میں اس قسم کے واقعات اتنے زیادہ منقول ہیں کہ ان کو شمار میں لانا مشکل ہے۔ مثلاً حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے:
حافظ زبیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ راتوں رات نوافل اور تراویح میں 36 پارے پڑھ لیتے تھے۔ میرے لیے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے‘ کیونکہ میرے چچا کاندھلہ میں تراویح سنانے جاتے تو دو رکعت میں ایک قرآن ختم کر دیتے۔ حضرت امام شافعی اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہما اللہ کے متعلق ہم نے سنا ہے کہ رات اور دن میں دو قرآن ختم کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے اپنے دوستوں سے رمضان المبارک میں 61 قرآن ختم کرنے کیلئے لکھا۔ مولوی انعام صاحب نے واقعی 61 قرآن سنا دیے۔ میری دادی جان رحمۃ اللہ علیہا کا معمول تھا کہ روزانہ اپنے معمولات (ذکر اذکار) کے ساتھ چالیس پارے ختم کر لیا کرتی تھیں‘ حالانکہ یہ اس وقت کی بات ہے‘ جب گھر میں کوئی خادمہ بھی نہیں ہوتی تھی-
(بحوالہ کتاب: ملفوظاتِ شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ صفحہ 280 مصنف: مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن‘ ناشر: مکتبہ لدھیانوی بنوری ٹاؤن‘ کراچی)
اسی طرح شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے عصر اور مغرب کے درمیان دس ہزار لوگوں کے مجمع کے سامنے مکمل قرآن مجید پڑھ کے سنایا۔ سید جلیل ابن الکاتب الصوفی رحمۃ اللہ علیہ دن اور رات میں آٹھ قرآن پڑھ لیتے تھے۔ شیخ منصور العباد تابعی رحمۃ اللہ علیہ ایک ختم قرآن ظہر اور عصر کے درمیان کرتے اور ایک ختم قرآن مغرب اور عشاء کے درمیان کرتے۔ جبکہ رمضان المبارک میں مغرب اور عشاء کے درمیان دو ختم قرآن کرتے۔ شیخ شمس الدین ترکستانی رحمۃ اللہ علیہ روزانہ پانچ ختم قرآن کرتے تھے۔ اسی طرح نوافل کی ایک ایک رکعت میں ختم قرآن کرنے والوں کی تعداد شمار سے باہر ہے (شذرات الذہب)
(بحوالہ کتاب: اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ص 130 تا 140 مصنف: مولانا محمد یوسف ہاشمی‘ ناشر: ادارہ اسلامیات انارکلی لاہور)
