اپنے بچوں کے کان میں اذان دے کر جنات کو بھگائیں۔۔۔!عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی آٹھویں دلیل

جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی ساتویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جنات کس طرح ہر وقت ہماری طاق میں رہتے ہیں۔۔۔ آج آٹھویں دلیل میں آپ پڑھیں گے کہ نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دینا بھی اس وجہ سے ہے کہ تا کہ یہ بچہ جنات سے دور رہ سکے۔۔۔! "ماہنامہ عبقری میں علامہ لا ہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس جناتی حملے کی دلیل سنن ابوداؤد اور سنن ترمذی کی وہ روایت ہے جس میں ذکر ہے کہ اذان سے شیطان بھاگتا ہے اس لئے مسلمان کو چاہئے کہ بچے کی ولادت کے وقت نومولود کے کان میں اذان دے۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو رسول اللہ ﷺ ہم نے ان کے کان میں اذان کہی” (امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے ) عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملوں کے مستند حوالہ جات اکابر پر اعتماد کے دوست اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔
گھر جانے سے پہلے دیکھ لیں جنات تو آپ کے ساتھ نہیں چمٹ گئے ۔۔۔!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی چھٹی دلیل جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی پانچویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جنات خوابوں کے ذریعے بھی انسانوں پر حملہ کرتے اور گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آج آپ پڑھیں گے کہ جب بھی آپ گھر جاتے اور کھانا کھاتے ہیں اس وقت بھی جنات آپ پر حملہ آور ہوتے ہیں ماہنامہ عبقری میں علامہ لا ہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس دعویٰ کی دلیل صحیح مسلم کی وہ روایت ہے جو کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول صلى الله عليه وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان (جنات ساتھی جناتوں سے ) کہتا ہے کہ تمہارے لئے یہاں شب بسر کرنے کی جگہ نہیں ہے اور نہ کھانا ہے اور جب گھر میں داخل ہوتے وقت آدمی اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان (جن اپنے ساتھی جناتوں سے ) کہتا ہے کہ تم نے شب بسر کرنے کی جگہ پالی, اور جب کھانا کھاتے ہوئے بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے تو شیطان ( جن ) کہتا ہے کہ تم نے شب بسر کرنے اور کھانا کھانے کی جگہ پالی۔ عبقری میں ذکر کر وہ جناتوں کے انسانوں پر حملوں کے مستند حوالہ جات کا بر پر اعتماد کے دوست اگلی ملاحظہ فرمائیں۔
خبر دار جنات کے خوابوں سے ہوشیار رہیں ۔۔۔!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی پانچویں دلیل جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی چوتھی دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جماعت سے ٹوٹنا بھی جنات کی وجہ سے ہوتا ہے آج آپ پڑھیں گے کہ جنات خوابوں کے ذریعے بھی انسانوں پر حملہ کرتے اور گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ”ماہنامہ عبقری میں ذکر کردہ اس دعوی کی دلیل حضرت انس ، حضرت ابوبکر ، حضرت ام العلاء ، حضرت ابن عمرؓ، حضرت عائشہ ، حضرت ابوموسی ، حضرت جابر ، حضرت ابو سعید خدری ، حضرت ابن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے منقول روایات ہیں ان میں سے ایک روایت پیش خدمت ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک خواب وہ ہے جو سچا ہوتا ہے، ایک خواب وہ ہے کہ آدمی جو کچھ سوچتا رہتا ہے، اسی کو خواب میں دیکھتا ہے، اور ایک خواب ایسا ہے جو شیطان (جنات) کی طرف سے ہوتا ہے اور غم وصدمہ کا سبب ہوتا ہے، لہذا جو شخص خواب میں کوئی نا پسندیدہ چیز دیکھے تو اسے چاہئے کہ وہ اٹھ کر نماز پڑھے ، آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ” مجھے خواب میں بیڑی کا دیکھنا اچھا لگتا ہے اور طوق دیکھنے کو میں نا پسند کرتا ہوں، بیڑی کی تعبیر دین پر ثابت قدمی ( جمے رہنا) ہے ، آپ صلی ا یتم فرمایا کرتے تھے : ” جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو وہ میں ہی ہوں، اس لیے کہ شیطان میری شکل نہیں اپنا سکتا ہے، آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے : ” خواب کسی عالم یا خیر خواہ سے ہی بیان کیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملے کے مستند حوالہ جات اکابر پر اعتماد کے دوست آئندہ اقساط میں ملاحظہ فرمائیں-
گوجرانوالہ میں جنات کو شرعی مسائل بتانے والی ہستی

محترم قارئین ! جنات کے پیدائشی دوست میں علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم کی جنات سے ملاقاتوں اور ان سے بات چیت کون سی نئی چیز ہے، جو عقل انسانی میں نہ سما سکے ؟ ہر دور میں ایسی ہستیاں گزریں، جن کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جنوں کا بھی مخدوم بنایا۔ حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خان صاحب سابق ایم این اے نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں حضرت صوفی صاحب ( مولانا عبدالحمید سواتی ” بانی جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) سے ملنے کے لیے آیا تو انھوں نے مجھ سے فقہ کا ایک سوال پوچھا کہ ایک جنس کی دوسری جنس سے شادی ہو سکتی ہے؟ یعنی انسان اور جن کی ؟ مجھے یہ جزئیہ یاد نہ تھا ، میں نے کہا کہ دیکھوں گا۔ جا کر میں نے فتاوی کی کتابیں چھان ماریں کہیں یہ جزئیہ نہ ملا۔ البتہ حضرت تھانوی کے مواعظ میں ایک جگہ یہ بات ملی کہ ایسا نکاح احناف کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ میں فوراً صوفی صاحب کے پاس حاضر ہوا اور بتایا کہ فقہ وفتاوی میں تو ایسی کوئی صراحت نہیں ملی البتہ حضرت تھانوی کے مواعظ میں یہ بات ملی ہے کہ جائز نہیں ۔ اس وقت حضرت صوفی صاحب مدرسہ میں نیم کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے تو آپ نے نیم کی طرف منہ کر کے تین دفعہ فرمایا کہ "مسئلہ یہی ٹھیک ہے ۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ نیم کی طرف منہ کر کے آپ فرما رہے ہیں ۔ بعد میں مجھے خیال آیا کہ یقیناً جنات نے ان سے ایسا مسئلہ پوچھا ہوگا ، یا ان کو نکاح کی پیش کش کی ہوگی۔ بحوالہ : ماہنامہ نصرۃ العلوم مفسر قرآن نمبر ۳۰۴ بحوالہ کتاب: اکابرین دیوبند کے واقعات و کرامات صفحه ۶۴۵ ، مصنف : حافظ مومن خان عثمانی ، ناشر: مکتبہ المیزان، اردو بازار لاہور محترم قارئین ! جنات سے ملاقاتیں گفتگو کرنا، ان سے وظائف پو چھنا یا بتانا یا ان سے احادیث کی روایات لینا ہمارے اکابرین میں تواتر سے چلا آرہا ہے، ضروری نہیں جو بات ہمیں معلوم نہ ہو تو ہم اس کا انکار ہی کر دیں ۔۔۔۔!
کوئی جن بھی آپ پر قابو نہ پا سکے۔۔۔۔!

علامہ لاہوتی صاحب کی جنات سے ملاقات کا انکار کرنے والے حضرات کیلئے یہ واقعہ سند کی حیثیت نہیں رکھتا۔۔۔۔ قسط نمبر 424) امام حاکم نے اپنی تاریخ میں اور امام دیلمی نے (مسند الفردوس) میں اور امام ابن عساکر نے حضرت ہشام بن عروہ سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے خلیفہ بننے سے قبل میرے والد عروہ بن زبیر کے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں نے گزشتہ شب ایک عجیب واقعہ دیکھا ہے میں اپنے گھر کی چھت پر بستر پر لیٹا ہوا تھا کہ میں نے راستہ میں ایک شور سنا، میں نے جھانک کر دیکھا تو شیطان اتر رہے تھے یہاں تک کہ وہ میرے گھر کے پیچھے ایک ویران جگہ میں جمع ہو گئے پھر اہلیس آیا اور بلند آواز سے چلایا کہ میرے پاس عروہ بن زبیر کوکون پیش کرے گا؟ تو ان میں سے ایک جماعت نے کہا ہم پیش کریں گے چنانچہ وہ گئے اور واپس آئے اور کہا ہم ان پر بالکل قابونہ پاسکے۔ تو وہ دوسری مرتبہ پہلے سے بھی بلند آواز میں چیخا کہ عروہ بن زبیر کوکون میرے پاس لائے گا ؟ تو ایک دوسری جماعت نے کہا ہم پیش کریں گے تو وہ جماعت گئی اور کافی دیر گزرنے کے بعد واپس آئی اور کہا ہم بھی اس پر قابونہ پاسکے۔ پھر وہ (ابلیس) تیسری مرتبہ چلایا میں نے گمان کیا کہ شاید زمین پھٹ گئی ہے کون عروہ بن زبیر کو میرے سامنے پیش کرے گا ؟ تو جنوں کی ایک تیسری جماعت اٹھی اور چلی گئی بہت دیر کے بعد لوٹی اور کہا ہم بھی اس پر قابو نہ پاسکے۔ تو ابلیس غصہ میں گیا اور یہ جن بھی اس کے پیچھے پیچھے گئے تو حضرت عروہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے فرمایا مجھ سے میرے والد حضرت زبیر بن العوام نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم کو فرماتے سنا ہے جو شخص رات اور دن کے ابتداء میں یہ دعا پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کو ابلیس اور اسکے لشکر سے محفوظ رکھے گا. بِسْمِ اللهِ ذِي الشَّانِ عَظِيمِ الْبُرْهَانِ شَدِيدِ السِّلْطَانِ مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِیمِ “ ترجمہ : یعنی شان والے اللہ کے نام سے جو عَظِيْمِ الْبُرْهَانِ شَدِيدِ السُّلْطَانِ تمام بادشاہوں کا بڑا ) ہے جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ۔ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے۔ حوالہ کتب : جنوں کی دنیا۔ صفحہ نمبر 272 تصنیف امام جلال الدین سیوطی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ۔ ناشر مکتبہ برکات المدینہ کراچی پتا چلا عبقری میں شائع ہونے والے جنات کے پیدائشی دوست میں جنات سے ملاقاتیں کوئی نئی نہیں بلکہ تاریخ میں بکھرے ہزاروں واقعات اس کے شاہد ہیں۔
کیا آپ کو ستانے پر جنات کی ڈیوٹی تو نہیں لگی؟

محترم قارئین! حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ عبقری میگزین میں جب انسانوں پر جنات کے قابض ہونے کے واقعات بیان کرتے ہیں تو ماڈرن طبقہ تو ر ہا ایک طرف کچھ دین دار با شرع لوگ بھی اس شعبے کے متعلق وہم کا شکار ہو کر کہتے ہیں کہ جنات صرف ایک مخلوق ہے جس کا جہان الگ ہے اور اس مخلوق کا انسانوں سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکتا ۔ نہ ہی ان سے فائدہ مل سکتا ہے اور نہ کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جبکہ قرآن وسنت کی تعلیمات اور ہمارے اکابر کے تجربات یہ ہیں کہ انسانوں پر جنات قابض بھی ہوتے ہیں اور شرعی وظائف پڑھنے یا روحانی عملیات کرنے سے چھوڑ بھی جاتے ہیں۔ جیسا کہ مولانا ابواحمد طه مدنی صاحب لکھتے ہیں کہ جنات کا شکار ہونے والے کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں، جن کے ہاتھوں جنات کو غیر شعوری طور پر نقصان پہنچ جاتا ہے اور اس شخص کو اس چیز کی خبر بھی نہیں ہوتی۔ لیکن جنات انتقامی کارروائی پر اتر آتے ہیں اور مختلف طریقوں سے تنگ کرتے ہیں۔ جنات کا شکار ہونے والے لوگوں کی ایک قسم میں عامل حضرات غیر شرعی تعویذات یا کالے عملیات کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچانے کی خاطر جنات کی ڈیوٹیاں لگا دیتے ہیں تو جنات اس شخص کو مسلسل پریشان کرتے ہیں اور آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ آخری قسم کی نوعیت ذرا مختلف ہے، جس کی زیادہ تر شکار صرف خواتین ہوتی ہیں۔ عام طور پر جنات کسی خوبصورت عورت پر اس کے حسن کی بدولت مسلط ہو جاتے ہیں۔ (بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات صفحہ 147 ناشر: مکتبہ یادگار شیخ ، اردو بازارلاہور )
شاندار زندگی پر کی گئی بندشوں کا توڑ

مولانا ابوطه مدنی صاحب اپنی کتاب میں کسی روحانی عامل کا واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرا ایک ہم جماعت مجھے ملنے آیا۔ اسے یہ علم نہیں تھا کہ میں عملیات میں بھی مہارت حاصل کر چکا ہوں۔ ہم دونوں کسی کام کے سلسلے میں جارہے تھے کہ راستے میں پہلوانوں کے اکھاڑے کے پاس سے گزر ہوا۔ ہم بھی ان کی کشتی دیکھنے کیلئے رک گئے۔ میرا دوست کہنے لگا: ان میں سے جو زیادہ طاقتور پہلوان ہے وہ کشتی جیت جائے گا۔ میں نے کہا: اگر اس کی بجائے کمزور پہلوان جیت جائے تو کیا خیال ہے؟ وہ کہنے لگا: مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگتی۔ عاملوں کے پاس جب کچھ ہوتا ہے تو انہیں ۔ غصہ بہت جلد آتا ہے فطری سی بات تھی کہ مجھے بھی غصہ آ گیا۔ میں نے اپنے ایک مؤکل کی ڈیوٹی لگائی کہ کمزور پہلوان کے ساتھ تعاون کرو اور طاقتور پہلوان کا برا حشر کر دو۔ دیکھتے ہی دیکھتے طاقتور پہلوان نے قلابازیاں کھانی شروع کر دیں اور کمزور پہلوان نے اسے مار مار کے منٹوں میں ہرا دیا۔ میرے دوست کو مؤکل کے بارے کچھ پتہ نہیں تھا۔ چنانچہ کمزور پہلوان جیت کر بہت خوش ہو رہا تھا اور میرا دوست بھی حیران تھا کہ یہ کیسے جیت گیا؟ لیکن میں سوچ رہا تھا کہ آج تو یہ پہلوان مؤکل کی وجہ سے جیت گیا، لیکن کل کلاں کسی مقابلے میں ان دونوں کا سامنا ہو گیا تو یہ بے چارہ کیا کرے گا؟ (ماخوذ : جنات اور جادو گر کے سربستہ راز مصنف : عبید اللہ طارق ڈار بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات ،صفحہ 153 ناشر: مکتبہ یادگار شیخ ، اردو بازارلاہور ) قارئین ! ذرا غور کریں کہ ان پہلوانوں میں سے نہ تو مارنے والے کو پتہ چلا کہ میں کیوں ماررہا ہوں ؟ اور نہ ہی مارکھانے والے کو سمجھ آئی کہ یہ کمزور شخص مجھ پر کیسے غالب آگیا ؟ یہی کی یہی صورت حال گھریلو لڑائی جھگڑوں میں ہوتی ہے کہ میاں بیوی یا اولاد اور ماں باپ یا بہن بھائیوں میں کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ چھوٹی سی بات پہ دلوں میں نفرتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟ مگر جن کی باطنی نگاہیں اللہ پاک نے اپنے علوم روحانی کی برکت سے کھول دی ہوں وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ گھروں کے اجڑنے کی اصل وجہ خاوند کی کم آمدنی یا بیوی کا بے ذائقہ کھانا نہیں، بلکہ کسی خبیث دجال نے اپنا رنگ دکھایا ہوا ہے۔ لہذا اللہ پاک جزائے خیر عطافرمائے، حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو جنہوں نے عبقری میگزین میں جنات کا پیدائشی دوست کالم کے کے ذریعے مخلوق خدا میں یہ شعور اجاگر کیا کہ تمہارے اصل دشمن یہ شریر جنات میں ان سے بچنے کیلئے اعمال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور وظائف اولیاء کی طرف لوٹ آؤ تا کہ تمہارا خوشحال اور شاندار زندگی گزارنے کا خواب پورا ہو سکے ۔
یہ تیل ناک میں ڈالیں اور جنات سے نجات پائیں

امام ابن جوزی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک طالب علم سفر کر رہا تھا، راستے میں ایک شخص بھی اس کا ہم سفر بن گیا۔ جب شہر کے قریب پہنچا تو طالب علم سے کہنے لگا: میں ایک جن ہوں، مجھے تم سے ایک کام ہے۔ طالب علم پوچھنے لگا: وہ کیا؟ کہنے لگا: جب تم فلاں گھر میں جاؤ گے تو ان کی مرغیوں کے درمیان ایک سفید مرغ کو پاؤ گئے تم اس مرغ کو اس کے مالک سے خرید لینا اور اسی وقت ذبح کر دینا۔ طالب علم نے کہا: ٹھیک ہے مگر مجھے بھی تم سے ایک کام ہے: جب شیطان سرکش ہو جائے اور اس میں جھاڑ پھونک دم وغیرہ کام نہ آئے تو اس کا علاج کیا کرنا چاہئے؟ جن کہنے لگا: آسیب زدہ آدمی کے ہاتھوں کے دونوں انگوٹھوں کو مضبوطی سے باندھ لیا جائے ۔ پھر سداب بیری کا تیل نکال کر مریض کے دائیں نتھنے میں چار مرتبہ اور بائیں نتھنے میں تین مرتبہ ٹپکایا جائے، تو اس کا جن مرجائے گا اور بعد میں کوئی دوسرا جن بھی اس پر قابض نہ ہو سکے گا چنانچہ وہ طالب علم جب مطلوبہ مکان میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ بڑھیا کا ایک سفید مرغ ہے جسے وہ فروخت کرنے سے انکار کرتی ہے۔ اس نے اسے اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ رقم دے کر بیچنے پہ راضی کر لیا۔ جب اس نے مرغ کو ذبح کر دیا تو اسی وقت بڑھیا کے گھر والے اسے مارنے لگے۔ وہ کہتے تھے کہ جب سے تم نے مرغ کو ذبح کیا ہے کسی جن نے ہماری لڑکی یہ حملہ کر دیا ہے۔ طالب علم نے کہا : تم کہیں سے سداب بری کا تیل لے آؤ۔ لہذا جب اس نے جن کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق لڑکی کے ناک میں تیل ٹپکایا تو وہ جن چیخ پڑا اور کہنے لگا: کیا میں نے تمہیں یہ عمل اپنے ہی خلاف کرنے کا کہا تھا ؟ پھر اسی وقت وہ جن مر گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس لڑکی کو شفاء بخش دی اور اس کے بعد کوئی شیطان جن اس پر قابض نہ ہو سکا۔ ( بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات، صفحہ 150 ناشر: مکتبہ یادگار شیخ اردو بازار لاہور)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں سانپ کی سرگوشی

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔ آرام کی غرض سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے سائے میں بیٹھے تو اچانک ایک کالا سانپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر اپنا منہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان کے قریب لے گیا۔ کچھ دیر بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سانپ کے کان کے قریب اپنا منہ مبارک لے جا کر کچھ فرمایا اس کے بعد وہ سانپ ایسے غائب ہوا جیسے اس کو زمین نگل گئی ہو۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم اس سانپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب دیکھ کر ڈر گئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جانور نہیں، بلکہ جن تھا۔ فلاں سورت کی چند آیات بھول گیا تھا، انہی آیات کی تحقیق کیلئے جنات نے اسے بھیجا تھا۔ تم لوگ موجود تھے، اس لیے وہ سانپ کی شکل میں آیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک گاؤں میں پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس گاؤں کی ایک خوبصورت عورت پر ایک جن عاشق ہو گیا ہے۔ اس نے اسے اتنا پریشان کر رکھا ہے کہ وہ نہ کھاتی ہے نہ پیتی ہے بس مرنے کے قریب ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کو میں نے بھی دیکھا وہ ایسی تھی جیسے چاند کا ٹکڑا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکار کر فرمایا : اے جن! کیا تجھے معلوم ہے کہ میں اللہ کا رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں؟ تو اس عورت کو چھوڑ کر یہاں سے چلا جا۔ یہ سنتے ہی وہ عورت صحت یاب ہو گئی اور ہوش میں آنے پر اپنا منہ ہم سب سے چھپانے لگی. ( بحوالہ کتاب : پرتاثیر واقعات صفحہ 95 مصنف: مولانا ابواحمد طه مدنی، ناشر: مکتبہ یادگار شیخ اردو بازار لاہور )
حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے جنات سے کیا سیکھا

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے مرشد حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کوفرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک دن سفر پہ نکلا اور ایک پہاڑ کے دامن میں پہنچ کر رات ہو گئی۔ وہاں میرا کوئی ہم سفر نہ تھا۔ اچانک مجھے وہاں سے کسی کی آواز آئی کہ : اندھیروں میں دل نہیں پگھلنے چاہئیں بلکہ محبوب رب کریم کے حاصل نہ ہونے کا خوف دلوں کے پگھلنے کا باعث بننا چاہئے۔ یہ سن کر میں حیران ہو گیا اور پوچھا: یہ آواز کسی جن کی ہے یا انسان کی؟ جواب ملا۔۔۔ یہ آواز اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے مومن جن کی ہے اور میرے ساتھ میرے بھائی مومن جنات بھی ہیں ۔ میں نے پوچھا: کیا ان کے پاس بھی وہ معرفت الہی ہے جو تمہارے پاس ہے؟ کہنے لگا : جی ہاں ! بلکہ ان کے پاس مجھ سے زیادہ معرفت ہے۔ اتنے میں دوسرے جن کی آواز آئی : بدن سے اس وقت تک خدا کا غیر نہیں نکلتا جب تک کہ دائمی طور پر بے گھر نہ رہا جائے۔ پھر تیسرے جن کی آواز آئی: جو اندھیروں میں اللہ تعالی کے ساتھ مانوس رہتا ہے اسے کسی قسم کا فکر نہیں ہوتا۔ یہ سن کر میری چیخ نکل گئی اور میں بے ہوش ہو گیا۔ کسی نے مجھے پھول سونگھا یا تو مجھے ہوش آئی۔ وہ پھول میرے سینے پر موجود تھا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے مجھے کوئی وصیت کرو۔ کہنے لگے : اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والے شخص کے دل کو ہی جلا بخشتا ہے، جو شخص غیر اللہ کی طمع کرتا ہے اس نے ایسی لایعنی جگہ پر طمع کی جو اس لائق ہی نہ تھی اور جو مریض ہمیشہ معالج کے پاس چکر لگائے اسے کبھی شفاء نہیں ملتی۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے الوداع کیا اور چلے گئے۔ میں ان جنات کے کلام کی برکت ہمیشہ اپنے دل میں محسوس کرتا رہتا ہوں. (بحوالہ : تاریخ جنات و شیاطین، بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات، صفحہ 160 مؤلف: مولانا ابواحمد طہٰ مدنی، ناشر: مکتبہ یادگار شیخ ، اردو بازار لاہور )