رجب المرجب میں بدنصیبوں، بے برکتوں اور بے اولادوں کیلئے تحفہ!

بزرگان دین سے منقول ہے جو شخص رجب میں یہ دعا پڑھ کر سلاطین اربعہ کو اعمال یا رقم کا ہدیہ کرے، کھانا تقسیم کرے اور اللہ سے ان چار سلاطین اربعہ (جو چار سمتوں کے بادشاہ ہیں اور روحانیت میں ان کا مقام بہت اعلیٰ ہے) ان کے وسیلہ سے اپنے دل کی حاجات اللہ سے مانگے، اللہ ضرور پوری کرتا ہے۔ جو یہ عمل کرلے پورا سال خوشحال رہے گا ان شاء اللہ!چار بزرگ ہستیوں کے نام درج ذیل ہیں: 1) حضرت خواجہ عبدالکریم جانب مشرق 2) حضرت خواجہ عبدالرحیم جانب شمال 3) حضرت خواجہ عبدالرشید جانب جنوب 4) حضرت خواجہ عبدالجلیل جانب مغرب دعا درج ذیل ہے : اَللّٰھُمَّ اَنْتَ قَدِیْمٌ اَزَلِیٌّ تُنْزِیْلُ الْعِلَلِ وَلَمْ تَزَلْ وَلَا تَزَالُ اِرْحَمْنِیْ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ Oاَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّۃِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْاَللّٰھُمَّ ارْحَمْ اُمَّۃَ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ ہر نماز کے بعد 3، 7 یا 11 مرتبہ پڑھیں۔ صبح شام بھی پڑھ سکتے ہیں۔ ورنہ سینکڑوں ، ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں پڑھیں۔ نزهةالبساتين،جلد5صفحه406امام جليل ابومحمدعبداللہ یافعیؒمدارج النبوۃ جلد1 صفحہ280 شاہ عبدالحق محدث دہلویتنبیہ الغافلین صفحہ579 تعویذ اکابرین کی کتب میں اس تعویذ کے بہت سے فوائد منقول ہیں۔ جو شخص جس مراد کی نیت سے اس تعویذ کو لکھ کر اپنےپاس رکھے گا وہ پوری ہوگی، بے اولادی ختم، نرینہ اولاد، نعمتوں کا عروج، رزق میں فراوانی، برکت کے خزانے، بخت بلند، آفات و بلیات سے نجات ملے گی، دکھ، پریشانیاں اور غم دور ہوں گے۔ ان شاء اللہ! گلے/ با زو میں باندھیں یا اپنے پاس رکھیں [خزینہ عملیات، صفحہ نمبر 90][آسان عملیات و تعویذات، جلد 13، صفحہ 89][آسان عملیات و تعویذات، جلد 6، صفحہ 49][آسان عملیات و تعویذات، جلد 4، صفحہ 247][آسان عملیات و تعویذات، جلد 7، صفحہ 179][آسان عملیات و تعویذات، جلد 2، صفحہ 118][شمع شبستان رضا، حصہ اول، صفحہ 110][شمع شبستان رضا، حصہ اول، صفحہ 116][شمع شبستان رضا، حصہ دوم، صفحہ 91][شمع شبستان رضا، حصہ اول، صفحہ 93][شمع شبستان رضا، حصہ اول، صفحہ 112] حوالہ جات: حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی یا اسلم نے ارشاد فرمایا:رحمان کے خلیل ( یعنی حضرت ابراھیم ) کی طرح چالیس (40) آدمیوں سے زمین کبھی خالی نہیں ہوگی ہو ان کی وجہ سے تمہیں سیراب کیا جائے گا، اور ان کی وجہ سے تمہاری مدد کی جائے گی ، ان میں سے کوئی ایک نہ مرے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کوئی دوسرا بدل لے آئیں گے۔ المعجم الأوسط – امام الطبرانی (م 360 ہ) : حدیث نمبر 4101) (مجمع الزوائد- الہیثمی (م 807 ہ): 116674 میری امت میں تیس (30) ابدال ہوں گے جن کی وجہ سے تم روز یاں دیئے جاؤ گے تم پر بارش برسائی جائے گی اور تمہاری مدد کی جائے گی۔ 1 هيثمي، مجمع الزوائد، 10 : 63 کشف المحجوب حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری لکھتے ہیں مفہوم ہے: اوتاد چار ہوتے ہیں، جو چاروں سمتوں میں ہوتےہیں ، اور ان کے سبب زمین میں توازن قائم رہتا ہے۔ کشف المحجوب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں :” اللہ تعالیٰ نے بعض بندوں کو زمین میں برکت کا سبب بنایا ہے، جن کی وجہ سے بارش ، رزق اور امن قائم رہتا ہے۔ غنیۃ الطالبین حوالہ جات: اوتاد اور رجال الغیب کے بارے میں دار العلوم ديوبند انڈیا کافتوی حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے التکشف “ میں مسند احمد کی ایک روایت نقل فرمائی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: شریح بن عبید سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے رو برو اہل شام کا ذکر آیا کسی نے کہا اے امیر المومنین ان پر لعنت کیجیے، فرمایا نہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے فرماتے تھے کہ ابدال ( جو ایک قسم ہے اولیاء اللہ کی ) شام میں رہتے ہیں اور وہ چالیس آدمی ہوتے ہیں جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے اللہ تعالی اس کی جگہ دوسرا شخص بدل دیتا ہے ان کی برکت سے بارش ہوتی ہے اور ان کی برکت سے اعداء (دشمنوں پر غلبہ ہوتا ہے اور ان کی برکت سے اہل شام سے عذاب ( دنیوی) ہٹ جاتا ہے۔ (رواہ احمد) آگے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی سے فرماتے ہیں کہ صوفیا کے ملفوظات و مکتوبات سے اقطاب، اوتاد، غوث کے الفاظ اور ان کے مدلولات کے صفات، برکات و تصرفات پائے جاتے ہیں اوپر ذکر کردہ حدیث سے جب ایک قسم کا اثبات ہے تو دوسرے اقسام بھی مستبعد نہ رہے، برکات تو اس حدیث میں مذکور ہیں اور تصرفات تکوینیہ قرآن مجید میں حضرت خضر علیہ السلام کے قصہ سے ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا میں از قبیل اصلاح معاش اور انتظام امور جو تغیرات ہوتے ہیں انھیں کو تکوین کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اولیاء دو قسم کے ہوتے ہیں ایک قسم ان حضرات کی جن سے مخلوق کے ارشاد ہدایت و اصلاح قلب، تربیت نفوس اور اللہ تعالیٰ کے قرب وقبول کے طریقوں کی تعلیم سپر د ہوتی ہے وہ اہل ارشاد کہلاتے ہیں ، ان میں سے جو اپنے زمانہ میں افضل و اکمل ہو اور اس کا فیض اتم وائم ہو وہ قطب الارشاد کہلا تا ہے۔ دوسری قسم ان ولیوں کی جن سے متعلق اصلاح معاش و انتظام امور د نیو یہ اور دفع بلیات ہے کہ اپنی ہمت باطنی سے باذن الہی ان امور کی درستی کرتے ہیں ان کے اختیار میں خود کچھ نہیں ہوتا، یہ حضرات اہل تکوین کہلاتے ہیں اور ان میں سے جو سب سے اعلی اور اقومی اور دوسروں پر حاکم ہوتا ہے اسے قطب التکوین کہتے ہیں ، ان کی حالت مثل حضرات ملائکہ علیہم السلام کے ہوتی جن کو مد برات امر فر ما یا گیا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم دار الافتاء، دارالعلوم دیوبند انڈیافتوی نمبر : 4/1439=Fatwa:375-49/D حوالہ جات: فتاوی رضویہ امام احمد رضا خان بریلوی فرماتے ہیں: اوتاد، ابدال، نجیب اور نقیب اللہ کے وہ بندے ہیں جن کے ذریعےزمین قائم ہے اور مخلوق کو فیض پہنچتا ہے۔ فتاوی رضویہ اولیائے کرام میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اوتاد کہا جاتا ہے، جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بلاؤں کو ٹالتا ہے۔
گدھے کے ناخن بطور علاج،ثبوت!

اگر گدھے کے کُھر (ناخن )پر کوئی نجاست نہ لگی ہو تو وہ پاک ہے ،مرگی کے مریض پر کسی طبیب نے بطور علاج کے لٹکانے کا کہا ہے تو لٹکاسکتے ہیں ۔ دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن۔فتویٰ نمبر : 14470210147 مرگی کے لیے گدھے کا سُم (کُھر)لے کر اس کی انگوٹھی بنا کر مریض اپنی انگلی میں پہنے۔اللہ تعالیٰ مرگی کو دور کرے گا اور مریض شفا پائے گا۔ مولانا صوفی محمد عزیزالرحمنؒ پانی پت کی کتاب: آئینہ عملیات، صفحہ نمبر 230پر لکھا ہے: گدھے کے کُھر کی بنی انگوٹھی سے مرگی کاعلاج اگر گدھے کے کُھرسے انگوٹھی بنا کر مرگی کے مریض کو پہنائی جائے تو اسے مرگی کا دورہ نہیں پڑتا۔ امام كمال الدين الدميريؒ کی کتاب حیاۃ الحیوان کبریٰ ،جلد اول،صفحہ نمبر 358پر لکھا ہے۔ مشہور صوفی عالم عبدالوہاب الشعرانی ؒنے حکیم امام السویدیؒ کی طبی یادداشتوں کا خلاصہ ’’ مختصر تذکرہ امام السویدی فی الطب‘‘ کے نام سے مرتب کیا۔ اس کتاب میں بھی مرگی کے علاج کے تحت گدھے کے کُھر کا مجرب نسخہ درج ہے۔ گدھے کے کُھر کی بنی انگوٹھی سے مرگی کاعلاج:اور اگر وحشی گدھے کے دائیں پاؤں کے کُھر سے انگوٹھی بنا کر مرگی کے مریض کو پہنائی جائے تو وہ پورے سال دورے سے محفوظ رہتا ہے، اور ہر سال نئی انگوٹھی تجدید کی جائے۔ امام الشعرانی ؒ کی کتاب” مختصر تذکرہ امام السویدی فی الطب ” صفحہ 27 پر لکھا ہے۔ ابن بیطار نے اپنی کتاب” الجامع لمفردات الأدوية والأغذية ” میں مشہور طبیب ابو بکر محمد بن زکریا الرازیؒ کی ’’ کتاب الخواص‘‘ میں سے نقل کیا ہے کہ گدھے کے ناخن سے مرگی کا علاج :۔ مجھے ایک کتاب ملی جو ہرمِس سے منسوب ہے، کہ اگر گدھے کے دائیں پاؤں کے کُھر سے انگوٹھی بنا کر مرگی کے مریض کو پہنائی جائے تو وہ مرگی کے دورے سے محفوظ رہتا ہے۔ ابن بیطار ، الجامع لمفردات الأدوية والأغذية،صفحہ نمبر 239پر لکھا ہے۔ مرگی کے علاج کے لیے،تِریاقِ سونا (ترياق الذهب)، زمرد کو لٹکانا اور اسے پینا، اور گدھے کےدائیں کُھر سے بنے ہوئے انگوٹھی کو بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں پہننا اس شرط کے ساتھ کہ ہر سال اس کی تجدید کی جائے ۔یہ سب مفید ہیں۔ شیخ داؤد الانطاکیؒ ، تذكرةأولى الألباب المؤلف, جلد نمبر 3 ،صفحہ نمبر 398پر لکھا ہے
ڈلیوری کیلئے اکابر کا مجرب عمل

سالہا سال سے ماہنامہ عبقری مخلوق خدا کو اکابرین امت کے اعمال میں ڈھالنے کی خدمت کر رہا ہے۔ اس میں دیے جانے والے تمام وظائف (خواہ وہ کسی بھی مقصد کیلئے ہوں ) سو فیصدا کا بر و اسلاف کی ترتیب کے مطابق ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے قارئین عبقری کو ڈلیوری میں آسانی کیلئے سورہ انشقاق کا عمل دیا گیا تو اس پر جہاں ہزاروں لوگوں کی طرف سے پسندیدگی کا اظہار ہوا، وہاں کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ عبقری نئے نئے وظائف بناتا ہے۔ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ماہنامہ عبقری وظائف بناتا نہیں بتاتا ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمة الله لکھتے ہیں کہ سورۃ الانشقاق کی ابتدائی چار اور سورۃ زلزال کی ابتدائی دو آیات لکھ کر پہلے حاملہ خاتون کو تین مرتبہ دکھا ئیں، پھر اس کی بائیں ران پرباندھ دیں (بحوالہ کتاب: شفاء المریض کامل صفحہ 36 ناشر : اداره کریمیہ تعلیم القرآن، شیرانوالہ گیٹ لاہور ) مولانا محمد ولی اللہ منصور پوری طی شیمی ( مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں کہ : بچے کی پیدائش سے پہلے جو درد ہو، اسے ختم کرنے اور پیدائش میں آسانی کیلئے ان آیات کو لکھ کر عورت کی دائیں ران پر باندھ دیا جائے تو ان شاء اللہ آسانی ہوگی اور انجام بخیر ہوگا۔ پیدائش کے فوراً بعد یہ تعویذ اتار دینا چاہئے ۔ بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ (1) وَأَذِنَتْ لِرَيْهَا وَحُقَّتْ (2) وَإِذَا الْأَرْضُ مُدّت (3)وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلّت (4) ( بحوالہ کتاب: تحفۃ العالمین صفحہ 7 ناشر: رشید بک ڈپو، کچہری بازار، جڑانوالہ ) مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں کہ: سورۃ الانشقاق کی ابتدائی 4 آیات لکھ کر کپڑے میں لپیٹ کے عورت کی بائیں ران پر باندھیں ۔ ان شاء اللہ بچہ آسانی کے ساتھ پیدا ہوگا۔ جنتی زیور صفحہ 608 بحوالہ کتاب: مدنی پنج سورہ صفحہ 242 ناشر: مکتبۃ المدینہ کراچی) سرکار علامہ رشید ترابی ( مکتبہ اثناء عشریہ ) لکھتے ہیں کہ جس آدمی کی جورو ، دردزہ میں مبتلاء ہو، اسے چاہئے کہ ایک قرطاس پر کالی سیاہی والے قلم سے یہ آیات لکھے اور اپنی جورو کی داہنی طرف ران پر بندھوا د – وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَ تَخَلتُ وأذنت ليها وحلف بر خیال رہے کہ یہ تعویذ اسی وقت باندھا جائے ، جب ولادت کے آثار پیدا ہو جائیں۔ ورنہ بارہا دیکھنے میں آیا ہے کہ جو نہی ان آیات کا تعویذ باندھا گیا، اسی وقت پیدائش ہوگئی۔ لہذا قبل از وقت پیدائش نو مولود کی صحت کیلئے مضر ہے۔ (بحوالہ کتاب: طب معصومین صفحه 47 ناشر : حیدری کتب خانہ، مرزاعلی روڈ ، امام باڑہ بمبئی) محترم قارئین ! اب آپ خود سوچیں کہ اگر عبقری کے وظائف من گھڑت ہوتے تو تمام مکاتب فکر کے اکابرو اسلاف کی سالوں پہلے لکھی گئی کتب میں ان کا ثبوت کیسے ملتا؟
جائو! کسی مردے پر فاتحہ پڑھو، زندہ کے پاس کیا لینے آئے ہو؟

علامہ عبدالمصطفی اعظمی رحمة الله ( مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ حضرت خواجہ حسن افغان رحمة الله شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمة الله کے مرید خاص تھے۔ ایک دفعہ دوران سفر کسی مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے جماعت میں شریک ہو گئے ۔ جب نماز مکمل ہوئی اور سب نمازی چلے گئے تو آپ نے امام مسجد کو فرمایا: اے خواجہ ! میں نے دیکھا کہ تم نماز کے دوران پہلے دہلی پہنچے ، وہاں سے غلام خرید کر خراسان لے گئے ۔ پھر وہاں سے چلتے ہوئے ملتان آگئے اور میں تمہارے پیچھے حیران پھرتا رہا کہ آخر یہ کیسی نماز ہے؟ ( بحوالہ کتاب: روحانی حکایات ، صفحہ 284 ناشر: الاعظمیہ پبلی کیشنز تو حید نگر لاہور ) مولا نا محمد اسحاق بھٹی رحمة الله مکتبہ اہل حدیث ) لکھتے ہیں کہ : 1947ء کے فسادات کے دوران ایک بزرگ میاں اللہ دتہ مرحوم کو بازو پر گولی لگی اور وہ گرتے پڑتے پاکستان پہنچ گئے۔ ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی اور زخم بگڑتا جارہا تھا۔ اسی طرح چار ماہ بعد اپنے شیخ طریقت مولانا صوفی محمد سلیمان روہڑی ریای شمالیہ کے پاس جہانیاں منڈی پہنچے اور اپنی پریشانی بتائی۔ انہوں نے فرمایا: پٹی کھول دو۔ ان شاء اللہ یہ زخم اب بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن یاد رکھنا کہ تمہاری موت اسی زخم سے ہوگی اور اللہ تمہیں شہادت کی موت عطا فرمائے گا۔ بس ان کے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ پھر نہ کوئی زخم رہا ، نہ درد اور نہ ہی پیپ ۔ بازو بالکل صحیح سلامت ہو گیا اور پندرہ سال گزر گئے۔ ایک دن اچانک کسی ظاہری سبب کے بغیر ان کا زخم دوبارہ تازہ ہوا تو بولے: اب میں نہیں بچوں گا، کیونکہ میرے شیخ پریمیہ نے پیشین گوئی فرمائی تھی ۔ چنانچہ چند روز بعد خالق حقیقی سے جاملے۔ (بحوالہ کتاب: قافلہ حدیث ، صفحہ 48 ناشر: مکتبہ قدوسیہ، غزنی اسٹریٹ، اردو بازار لاہور ) مفتی ثناء اللہ حمود صاحب لکھتے ہیں کہ : حافظ ضامن شہید رحمة الله کو علما میں خاص مقام حاصل ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله کا بیان ہے کہ ایک صاحب کشف بزرگ جب حضرت حافظ صاحب ریلی لیہ کے مزار پر فاتحہ پڑھنے تشریف لے گئے تو بعد میں کہے لگے: بھائی صاحب! یہ بزرگ کون ہیں؟ بڑی دل لگی کرتے ہیں۔ جب میں ان کے مزار پر فاتحہ پڑھنے لگا تو مجھ سے فرمانے لگے : جاؤ کسی مردے پر فاتحہ پڑھو، یہاں زندوں پر کیا پڑھنے آئے ہو؟ ( ارواح ثلاثہ صفحہ 203 بحوالہ کتاب: مرنے کے بعد زندہ ہونے والوں کے حیرت انگیز واقعات، صفحہ 183 ناشر : ادارۃ الانور، بنوری ٹاؤن کراچی) علامہ مفتی طالب حسین ( مکتبہ اثناعشریہ ) لکھتے ہیں : اس بات پر تمام علمائے اہل سنت و مجتہدین شیعت کا اتفاق ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کی باطنی آنکھ کھول دیتا ہے، جسے عرف عام میں ” کشف” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کشف کی کئی اقسام ہیں ، مثلاً کشف الصدور ، کشف القبور، كشف الارواح ، کشف سمعی اور کشف بصری و غیر ھم ۔ چنانچہ ائمہ معصومین میں شامل تمام بزرگان کرام کا کشف اتنا قوی تھا، جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ امام نعمان بن ثابت المعروف بہ ابوحیفہ ریلی علیہ کو شفی طور پر وضو کے پانی میں جو لوگوں کے گناہ نظر آجایا کرتے تھے تو یہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ہی کی صحبت کیمیا اثر کی تاثیر تھی. (بحوالہ کتاب : احسن العقائد صفحہ 78 ناشر : رحمت بک ایجنسی، کراچی) قارئین ! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماہنامہ عبقری کے سلسلہ وار کالم ‘جنات کا پیدائشی دوست“ میں بیان کیے جانے والے کشف کے واقعات سو فیصد برحق ہیں۔ تمام مکاتب فکر کے اکابر و اسلاف میں آپ کو وہ ہستیاں تو کثرت سے ملیں گئی جنہوں نے ایسی باتوں کو سچ جانا مگر کوئی ایک شخصیت بھی ایسی نہیں ملے گی، جس نے ان باتوں کا انکار کیا ہو۔
اللھم صل علی محمد و آل محمدکی سندی حیثیت

(عبقری کا مستند وظیفہ احادیث اور تعلیمات اکابر کی روشنی میں) 2018 محرم کے مہینے میں تسبیح خانہ میں اجتماع ہوا جس میں اللھم صل علی محمد وآل محمد اس درود پاک کے کمالات اور برکات بیان کی گئیں بہت سے لوگ اس درود کو ایک خاص طبقہ کے ساتھ منسوب کر کے کہنے لگے کہ یہ تو ان کے ساتھ ہی خاص ہے، ایسے تمام حضرات کی خدمت میں احادیث مبارکہ اور اکا بڑ کی زندگی کے چند حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں : اللہ پاک ہمیں آل و اصحاب بنالی پیر کا سچا عشق عطا فرمائے ۔ (1) حضرت بشیر بنی عنہ نے عرض کی یارسول اللہ صلیم اللہ جل شانہ نے ہمیں درود پڑھنے کا حکم دیا ہے آپ صلی ا یہ تم ارشاد فرمائیے کہ کس طرح درود پڑھا کریں حضور پاک این نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ ہم تمنا کرنے لگے کہ وہ شخص سوال ہی نہ کرتا پھر حضوسا نیا اینم نے ارشاد فر ما یا یوں کہا کر والھم صل علی محمد و آل محمد ( مسلم و ابوداؤد بحوالہ فضائل درود شریف ص 104، مصنف شیخ الحدیث مولانامحمد ذکریا۔ کتب خانہ فیضی لاہور، مکتبہ د یو بند ) (2) مفتی محمد مزمل سلاوٹ صاحب رفیق دارالتصنیف داستاد جامعہ فارقیہ نے اپنی کتاب البركات المدنیہ میں ص 37 پرسنن نسائی ج1 ص 383 رقم الحديث 1215، خلاصة البدر المنير ج 1 ص 140 عمل الیوم والیلۃ للنسائی رقم الحدیث 53 کے حوالے سے بھی اس درود پاک کو لکھا ہے۔ اسی طرح مولا نا لیاقت لاہوری صاحب نے یہ درود پاک ذریعہ الوصول الی جناب الرسول کے حوالے سے لکھا ہے تفصیل کیلئے دیکھیں : ( بحوالہ کتاب مجرب اور مبارک درود شریف ص 44 ناشر گا باسنز کراچی مکتبہ دیوبند) (3) مولانا عبد الرحمن مبارکپوری نے اپنی کتاب میں اس دورد پاک کو لکھا ہے تفصیل کیلئے دیکھیں : ( بحوالہ کتاب تحفۃ الاحوذی جلد 2 ص 495 مصنف شیخ العلام حضرت مولا نا عبدالرحمن مبارکپوری، ناشر مکتب العلمیہ بیروت، مکتبہ اہل حدیث) (4) پروفیسر خورشید احمد صاحب حفظہ اللہ نے بھی اپنی کتاب میں شیخ محمد ابو المواہب شاذلی کے معمولات کے حوالے سے روزانہ ایک ہزار مرتبہ پڑھنا لکھا ہے ۔ ( بحوالہ کتاب درود سلام کا انسائیکلو پیڈیاص 170 مصنف پروفیسر خورشید احمد، ناشر مشتاق بک کارنر لاہور، مکتبہ بریلویہ) اب آپ ہی بتائیں کہ عبقری لوگوں کو کتنے خوبصورت انداز سے قرآن وسنت سے جوڑ رہا ہے۔۔!
ہرپریشانی کیلئےتسبیح خانہ کابیان کردہ مستند درود

(عبقری کا مستند وظیفہ تعلیمات اکابر کی روشنی میں) احادیث کے کچھ حوالہ جات میں نے آپ کی خدمت میں اس سے پہلی قسط میں عرض کیے تھے اب اولیاء کی زندگی سے ایک واقعہ آپ کی خدمت میں عرض کر دیتا ہوں جس سے آپ کو عبقری کے پیغام اعمال سے پلنے اور بیچنے کا یقین انشاء اللہ اور بھی پختہ ہوجائے۔ حافظ ابو نعیم حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ باہر جارہا تھا میں نے ایک جوان کو دیکھا کہ جب وہ قدم اٹھاتا ہے یا رکھتا ہے تو یوں کہتا ہے الھم صل علی محمد وعلی آل محمد میں نے اس سے پوچھا کیا کسی علمی دلیل سے تیرا یہ عمل؟ ہے۔ ( یا محض اپنی رائے سے ) اس نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا سفیان ثوری ۔ اس نے کہا کیا عراق والے سفیان ثوری ۔ میں نے کہا ہاں ! کہنے لگا تجھے اللہ کی معرفت حاصل ہے میں نے کہا ہاں ہے ۔ اس نے پوچھا کس طرح معرفت حاصل ہے ؟ میں نے کہا وہ رات دن نکالتا ہے دن سے رات نکالتا ہے، ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت پیدا کرتا ہے۔ اس نے کہا کچھ نہیں پہچانا۔ میں نے کہا پھر تو کس طرح پہنچانتا ہے؟ اس نے کہا کسی کام کا پختہ ارادہ کرتا ہوں اس کو فسخ کرنا پڑتا ہے اور کسی کام کے کرنے کی ٹھان لیتا ہوں مگر نہیں کر سکتا اس سے میں نے پہچان لیا کہ کوئی دوسری ہستی ہے جو میرے کاموں کو انجام دیتی ہے۔ میں نے پوچھا یہ تیرا درود کیا چیز ہے؟ اس نے کہا میں اپنی ماں کے ساتھ حج کو گیا تھا، میری ماں وہیں رہ گئی ( یعنی مرگئی ) اس کا منہ کالا ہو گیا اور اس کا پیٹ پھول گیا، جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ کوئی بہت بڑا سخت گناہ ہوا ہے اس سے، میں اللہ جل شانہ کی طرف دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میں نے دیکھا کہ تہامہ (حجاز ) سے ایک ابر آیا اس سے ایک آدمی ظاہر ہوئے اور انھوں نے اپنا مبارک ہاتھ میری ماں کے منہ پھر پھیر اجس سے وہ بالکل روشن ہو گیا۔ اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو ورم بالکل جاتا رہا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کون ہیں کہ میری اور میری ماں کی مصیبت کو آپ نے دور کیا۔ انھوں نے فرمایا کہمیں تیرانی سالی پر نہ ہوں۔ میں نے عرض کیا مجھے کوئی وصیت کیجئے تو حضور اپنا پیہم نے فرمایا کہ جب کوئی قدم رکھا کر یا اٹھایا کرے تو اھم صل علی محمد وعلی آل محمد پڑھا کر۔ (نزہتہ المجالس بحوالہ فضائل درود شریف ص 104 مصنف شیخ الحدیث مولانامحمد ذکریا۔ کتب خانہ فیضی لاہور)
صوفیائے کرامؒ کے بارے میں غلط فہمی

قسط نمبر آج کے دور میں آٹا دال چینی اور دیگر اجناس مہنگی ہوتی جارہی ہیں اور کفر کا فتویٰ لگانے کی مہر ستی ہوتی جارہی ہے۔ بعض لوگ اپنی ناواقفیت کی وجہ سے ایک دوسرے پر اور بالخصوص صوفیائے کرام کی ان باتوں کو جو کہ ان کی عقل میں نہ آنے والی ہوں تو بغیر سمجھے فتویٰ لگا دیتے ہیں ایسے لوگوں کوصوفیائے کرام کا مقام سمجھانے کیلئے مختلف مکاتب فکر سے صوفیائے کا مقام ذکر کیا جاتا ہے اور اللہ کے فضل سے آج کے اس گئے گزرے دور میں جبکہ بھائی بھائی سے دل برداشتہ ہو چکا ہے تسبیح خانہ سارے عالم میں یہ صدا لگا رہا ہے کہ اک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے (1) حکیم العصر شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو لوگ صوفیائے کرام پر شرک کے فتوی لگاتے ہیں وہ بے وقوف اور جاہل ہیں ، ورنہ اصل توحید تو ہوتی ہی صوفیاء کے پاس ہے۔ ( آگے فرماتے ہیں ) جب اللہ تعالیٰ کسی کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا میلان پاکباز لوگوں پر طعنہ بازی کی طرف کر دیتا ہے۔ (بحوالہ ہاہنامہ لولاک حکیم العصر ص 74 ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان) (2) مورخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھٹی صاحب رحمہ اللہ ( مکتبہ اہل حدیث ) فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اسلام میں صوفیائے کرام کی تبلیغ کو نظر اندا کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ صوفیاء کرام نے بہت خدمات انجام دی ہیں۔ لہذا انھیں وہی اہمیت دی جائے جس کے وہ مستحق ہیں۔ ( بحوالہ سہ ماہی مجلہ سلفی لاہور جون 2018 ص11) (3) مولانا جلال الدین احمد امجدی صاحب دامت برکاتہم ( مکتبہ بریلویہ) فرماتے ہیں انبیائے کرام اور بزرگان دین ہی کا طریقہ سیدھا راستہ ہے لیکن آج کل بہت سے لوگ بزرگان دین کے عقیدے اور ان کے طریقے سے مسلمانوں کو بہکا رہے ہیں۔ دوسرے مقام پر آپ لکھتے ہیں اور جو سب بزرگوں کے عقیدے ہیں وہی ہم اہل سنت و جماعت کے بھی عقیدے ہیں ۔ ( بحوالہ کتاب بزرگوں کے عقیدے ص 5 ، مصنف مولانا جلال الدین احمد امجدی صاحب دامت سرکا تہم ، ناشر اکبر بک سیلرز لاہور
سخی کی قبر ۔۔۔۔ برکت کا گھر

(تحریر: مولانا دانش رضا خان فاضل وفاق المدارس العربیہ ) 18/10/2018 بعد نماز مغرب تسبیح خانہ جمعرات کے درس میں یہ واقعہ سنایا گیا تو فیس بک پر بعض دوست اس واقعہ کا حوالہ مجھ سے طلب کرنے لگے ۔ میں نے ان تمام دوستوں سے عرض کیا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ایڈیٹر عبقری کے درس میں بیان کی جانے والی ہر بات باحوالہ اور ا کا بڑ کی زندگی میں موجود ہوتی ہے افادہ عام کیلئے تمام دوستوں کو اس کا حوالہ پیش کیا جا رہا ہے: حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ عرب کی ایک جماعت ایک مشہور سخی کریم کی قبر کی زیارت کو گئی۔ دُور کا سفر تھا، رات وہیں ٹھہرے اور سو گئے۔ ان میں سے ایک شخص نے اس قبر والے کو خواب میں دیکھا، جو اس سے کہہ رہا ہے: کیا تو اپنے اونٹ کو میرے بختی اونٹ کے بدلے فروخت کرتا ہے؟ ( بختی اونٹ اعلیٰ قسم کے اونٹوں میں شمار ہوتا ہے، جو اس میت نے ترکہ میں چھوڑا تھا ) خواب دیکھنے والے نے خواب ہی میں معاملہ کر لیا۔ وہ صاحب قبر اٹھا اور اس کے اونٹ کو ذبح کر دیا۔ جب یہ اونٹ والا نیند سے بیدار ہوا تو اس کے اونٹ کی گردن سے خون جاری تھا۔ اس نے اٹھ کر اسے مکمل ذبح کر دیا اور گوشت تقسیم کر دیا۔ سب نے پکایا اور کھایا۔ پھر یہ لوگ وہاں سے واپس ہوئے اور جب اگلی منزل پر پہنچے تو ایک شخص بختی اونٹنی پر سوار ملا، جو یہ تحقیق کر رہا تھا کہ فلاں نام کا شخص تم میں کوئی ہے؟ اس خواب والے شخص نے کہا: یہ میرا ہی نام ہے۔ اس نے پوچھا: کیا تو نے اُس قبر والے کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کی تھی ؟ خواب دیکھنے والے نے اپنا پورا قصہ سنایا۔ جوشخص بختی اوٹنی پر سوار تھا، اس نے کہا: وہ میرے ابا جان کی قبر تھی، یہ ان کی بختی اونٹنی ہے۔ انہوں نے مجھے خواب میں آکر کہا تھا کہ اگر تو میری اولاد ہے تو میرا بختی اونٹ فلاں شخص کو دے دے۔ لہذا یہ اونٹ اب تیرے حوالے ہے۔ یہ کہہ کر وہ شخص چلا گیا ( بحوالہ : اتحاف السادۃ المتقین شرح احیاء علوم الدین (امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ ) ، مصنف : علامہ محمد بن محمد الحسینی الزبیدی vرحمتہ اللہ علیہ ” ناشر : دار الکتب العلمیہ ، بیروت لبنان بحوالہ کتاب: فضائل صدقات ، حصہ دوم صفحہ 711 مصنف: حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ ، ناشر: کتب خانہ فیضی لاہور، پاکستان )
موئے مبارک کی برکت کا مبارک و حسین واقعہ

(تحریر : مولانا قاری خلیل الرحمن صاحب، فاضل : جامعہ امدادیہ فیصل آباد ) تسبیح خانہ کے درس میں 18/10/2018 بروز جمعرات بعد مغرب درس میں بیان کیے جانے والے واقعے کا اکا برگی زندگی سے ثبوت اکابر پر اعتماد مولاناسید محمد حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ جو کہ دار العلوم میں مدرس بھی رہے ہیں آپ نے ایک کتاب لکھی جس پر شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع صاحب جیسی عظیم ہستیوں نے تقاریظ لکھیں ۔ اس کتاب کا نام حکیم الامت مجد دملت مولانا اشرف علی تھانوی نے خود وھب النسيم علی نفحات الصلوۃ والتسلیم ” رکھا۔ اس کتاب کے صفحہ ۳۳ پر ایک بہت حسین واقعہ لکھا ہوا ہے کہ بلخ کا رہنے والا ایک تاجر بڑا دولت مند تھا اور علاوہ دولت دنیا کے اس کے پاس حضور علیہ السلام کے تین بال مبارک بھی تھے، تاجر فوت ہو گیا،صرف دو ہی اس کے بیٹے تھے، بڑے نے کہا اس کے دوٹکڑے کر دیتے ہیں آدھا تو لے لے اور آدھا میں، چھوٹے نے کہا میں ہر گز سرکار علیہ السلام کے موئے مبارک کے ٹکڑے نہیں ہونے دوں گا۔ بڑے بھائی نے کہا اگر تجھے موئے مبارک سے اتنی محبت ہے تو تینوں بال لے لے اور ساری دولت دنیا مجھے دے دے۔ چھوٹے نے خوش ہو کر منظور کر لیا اور اپنا حصہ بھی اس کو دے دیا اور سرکار علیہ السلام کے تینوں موئے مبارک لے لیے۔ اب وہ روزانہ بالوں کی زیارت بھی کرتا اور کثرت سے درود وسلام بھی پڑھتا، قدرت خداوندی سے بڑے کا مال گھٹنا شروع ہو گیا اور چھوٹے کے مال و عظمت میں دن بدن اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ کچھ دنوں کے بعد چھوٹا بھائی فوت ہو گیا تو حضور علیہ السلام نے اس زمانے کے ایک بزرگ کو خواب میں فرمایا کہ لوگوں سے کہہ دو کہ کوئی بھی حاجت یا مشکل کسی کو ہو تو اس لڑکے کی قبر پہ جا کر اللہ سے دعا کرو مقصد پورا ہو گا چنانچہ اس کے بعد اس لڑکے کے مزار کی بڑی عظمت ہو گئی۔ مدارج النبوۃ واشرف التفاسیر ص ۱۳۸ میں ہے کہ شاہ ھرل کو سر درد رہتا تھا کئی علاج کیسے شفا نہ ہوئی، خوش قسمتی سے اس کو حضور علیہ السلام کا ایک بال مبارک مل گیا اس نے ٹوپی میں ہی کر ٹوپی پہنی تو درد فوراً ختم ہو گیا۔ محترم قارئین! الحمد اللہ تسبیح خانہ میں بیان کیا جانے والا ایک ایک واقعہ اسلاف اور ا کا بڑ کی زندگی میں موجود ہے۔
حضورﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کائنات کے راز کھول دیے

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ماہنامہ عبقری میں دیے جانے والے وظائف کے ساتھ جو شرط ہوتی ہے کہ اگر یہ وظیفہ فلاں وقت میں پڑھا جائے تو اس کا نفع سو فیصد ہو گا۔ اگر اس ورد کو فلاں تعداد میں کیا جائے تو اس کی تاثیر حاصل ہو جائے گی۔ ایسی شرائط کا شریعت سے کیا ثبوت ہے؟ حالانکہ ان لوگوں کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان معلوم ہونا چاہئے : وکل شئی عندہ بمقدار (سورة الرعد آية8) وما ننزله الا بقدر معلوم (سورۃ الحجر آية 21) یعنی اللہ جل شانہ نے ہر چیز کی ایک خاص تعداد مقرر کی ہوئی ہے۔ اس کے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں لیکن وہ ایک خاص مقدار کے بقدر ہی نازل فرماتا ہے ۔ دوسری طرف جب ہم احادیث میں دیکھتے ہیں تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ملتی ہے کہ حضور سرور کونین سالی نے میرا ہاتھ پکڑا ، پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہفتے کے دن زمین کو پیدا کیا۔ اتوار کے دن اس میں پہاڑوں کو پیدا کیا۔ پیر کے دن درختوں کو پیدا با منگل کے دن کام کاج کی چیزوں کو پیدا کیا۔ بدھ کے دن نورکو پیدا کیا ۔ جمعرات کے دن زمین میں جانور پھیلائے اور کیا۔ سب مخلوقات کے آخر میں جمعے کے دن کی آخری ساعت میں آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا ( صحیح مسلم 7054) جب ہم شریعت کے احکام میں غور کرتے ہیں، تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر چیز کیلئے ایک خاص وقت اور خاص تعداد مقرر ہے۔ 9 ذی الحجہ کے علاوہ انسان سخت گرمی میں جا کر میدان عرفات میں بیٹھا رہے لیکن اسے وقوف عرفہ کا ثواب نہیں مل سکتا۔ سارا سال انسان بکرے ذبح کرتا رہے، اسے مسنون قربانی کا ثواب نہیں ہو سکتا۔ فرض نمازوں میں سب سے زیادہ ثواب سجدے میں ملتا ہے ۔ انسان ہر رکعت میں دو کی بجائے تین سجدے کرنا شروع کر دے، یہ شریعت کی نماز نہیں ہوگی، بلکہ طبیعت کی نماز سمجھی جائے گی۔ مکہ میں حج کے دوران جگہ جگہ حد بندی کی گئی ہوتی ہے کہ یہاں سے مزدلفہ کی حد شروع ہو چکی ہے، یہاں منی کی حد ہے ۔ حالانکہ شہر تو ایک ہی ہے۔ ہمارے یہاں عام مساجد میں بھی اسی طرح حد بندی ہوتی ہے کہ یہ حصہ مسجد میں شامل نہیں ، صرف بیت الخلاء کیلئے یا مولانا صاحب کی رہائش کیلئے مختص ہے، حالانکہ مسجد کے باہر مین گیٹ تو ایک ہی ہوتا ہے۔ سورج کے نکلنے کا ایک خاص وقت مقرر ہے۔ پھر اس کی ساعات جاننے کیلئے مساجد میں با قاعدہ شیڈول لگا ہوتا ہے کہ اب ظہر کا وقت داخل ہوگیا ہے، اب عصر کا وقت ختم ہو چکا ہے ۔ حالانکہ دن تو ایک ہی ہے ۔ نماز تو اللہ جل شانہ کیلئے ہی پڑھنی ہے، اس کے باوجود ہمیں خاص وقت اور خاص تعداد کا پابند کیا گیا ہے۔ تو کیا جو وظیفہ اللہ جل شانہ کی رضا حاصل کرنے ، اس سے اپنے مسائل حل کروانے مشکلات ٹلوانے اور بیماریوں کو شفاء میں تبدیل کروانے کیلئے پڑھا جائے گا، کیا اس کے لیے کوئی تعداد اور کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا؟ یاد رکھیے! مولاناسید محمدابو بکر غزنوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ جس طرح دوائی کی ایک خاص مقدار ہی کے ذریعے علاج ہوتا ہے۔ اسی طرح وظائف کی بھی خاص تعداد مقرر ہے ۔ اگر دوائی کم کھائیں گے تو مرض ختم نہیں ہوگا، اگر مقررہ مقدار سے زیادہ کھالیں گے تو بھی نقصان ہوگا ( بحوالہ : ہفت روزہ الاسلام گو جرانوالہ اشاعت خصوصی ۱۹۷۹ء صفحہ ۷۸) لہذا اپنی مرضی سے وظائف پڑھنے کا ثواب تو ملتا رہے گا لیکن جس مقصد کیلئے پڑھا جار ہا ہو، اس کا سوفیصد رزلٹ حاصل کرنے کیلئے اپنے اکابر و اسلاف کی تجربہ شدہ خاص تعداد اور خاص وقت کا پابند ہونالازم ہے۔