لاکھوں لوگوں کو مالدار بنا دینے والی سورہ کوثر کے دیگر کمالات۔۔۔!

( ڈاکٹر فیصل شمسی صاحب، لاہور ) تسبیح خانہ میں سب سے زیادہ جو عمل مقبول ہوا وہ سورہ کوثر سے مالدار بنیں والا عمل ہے اس سورت کے کتنے کمالات ہیں یہ تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔۔۔ ! سورۃ الکوثر میں عددی معجزے نے ہی مجھے حیران کر رکھا ہے، سوچا اکابر پر اعتماد کے دوستوں کے ساتھ شئیر کرلوں ، سورۃ الکوثر قرآن کی سب سے چھوٹی سورت ہے اور اس سورۃ کے جملے الفاظ 10 ہیں۔ قرآن بذات خود ایک معجزہ ہے سورۃ الکوثر کی پہلی آیت میں 10 حروف ہیں۔ سورۃ الکوثر کی دوسری آیت میں 10 حروف ہیں۔۔سورۃ الکوثر کی تیسری آیت میں 10 حروف ہیں۔۔ اس پوری سورت میں جو سب سے زیادہ تکرار سے حرف آیا ہے وہ حرف ” ” الف ہے جو 10 دفعہ آیا ہے۔۔ وہ حروف جو اس سورت میں صرف ایک ایک دفعہ آئے ہیں انکی تعداد 10 ہیں۔ اس سورت کی تمام آیات کا اختتام حرف ” را” راء پر ہوا ہے جو کہ حروف ہجا میں 10 واں حرف شمار ہوتا ہے۔۔ قرآن مجید کی وہ سورتیں جو حرف ” را” راء پر اختتام پذیر ہو رہی ہیں، انکی تعداد 10 ہے جن میں سورۃ الکوثر سب سے آخری سورت ہے۔ سورت میں جو 10 کا عدد ہے اسکی حقیقت یہ ہے کہ وہ ذوالحجہ کے مہینے کا 10 واں دن ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ” فصل لربک وانحر” ” پس نماز پڑھو اور قربانی کرو وہ در اصل قربانی کا دن ہے اللہ کی شان کے یہ سب کچھ قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورت، جو ایک سطر پر مشتمل ہے، میں آ گیا ہے۔ آپکا کیا خیال ہے بڑی سورتوں کے متعلق !! اللہ تعالی نے اسی لیے فرمایا ” ہم نے اپنے بندے پر جو کچھ نازل کیا ہے اگر تمہیں اس میں شک ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی لے آؤ اللہ تعالی مجھے اور آپ کو حوض کوثر سے ایسا مبارک پانی پلائے جسکے بعد ہمیں بھی پیاس نہ لگے ۔ آمین محترم قارئین اتسبیح خانہ سے سورہ کوثر کا جو عمل شائع ہوا اللہ کے کلام کی برکت سے لاکھوں لوگ اس کی وجہ سے مالدار بنے ، پاکٹ منی میں برکت ہوئی اگر آپ بھی ان برکتوں کو پانا چاہتے ہیں تو ایک کپڑے کی تھیلی سلوائیں اور اس پر 129 مرتبہ صبح و شام سورہ کوثر پڑھ کر دم کریں جب بھی اس میں سے پیسے نکالیں یا اس میں ڈالیں تو ایک مرتبہ سورہ کوثر پڑھ لیا کریں اور برکتیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔۔۔ ! ہے ناں اکابر پر اعتماد کا کمال

تسبیح خانہ میں پریشانیاں اور مصائب کیوں حل ہوتے ہیں۔۔۔!

مسائل، پریشانیوں ، جادو، جنات سے گھر سے لوگ تصحیح خانہ اور اس کی شاخوں میں اپنے مسائل کامل لینے آتے ہیں۔ الحمد للہ سبح خانہ لوگوں کوقرآن وسنت اور اکابر سے منقول شدہ اعمال وقرآنی وظائف سے جوڑتا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تو بہو کسی بھی حال میں مولا سے لو لگائے جا قدرت ذا الجلال میں کیا نہیں گڑ گڑائے جا اللہ تبارک تعالیٰ اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرنے والے ہیں جب ان کو پکارا جاتا ہے تو وہ پنے نام کی لاج رکھ لیتے ہیں اور سبیح خانہ میں آئے لوگوں کی پریشانیوں کو دور کر دتیا ہے آج میں تشبیح خانہ وادارہ عبقری کی شائع کردہ کتاب سنت کا نور ۔۔۔ ہر بلا دور سے چند دیما ئیں آپ کی خدمت میں نقل کرتا ہوں جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ تسبیح خانہ کیسے جاندار اعمال کی لوگوں کو ترغیب دے رہا ہے اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نبیح خانہ میں کرائے جانے والے ان اعمال کو کرنے والے کی اللہ پاک جھولیا بھر دیتے ہیں۔۔ تسبیح خانہ میں بتائے جانے والے 100 فیصد دعائیں قبول کرانے والے کلمات (1) – اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَلْكَ بِأَبِي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنتَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ( حسن ) فائدہ: آپ سال یہ پیہم نے ان کلمات کو اسم اعظم فرمایا ہے کہ ان کے ذریعے جو مانگا جاتا ہےاللہ تبارک وتعالی ضرور دیتے ہیں۔ (2) – رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (سورة البقرة ) فائدہ : حضور سان بين يتم سود عا ئمیں بھی مانگتے تو ان کے شروع میں درمیان میں اور آخر میں یہ دعا ضرور مانگتے ۔ وضاحت: اس دعا پر شیخ الوظائف کے کئی درس موجود ہیں۔ (3) – اسْتَلْكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبُّ السَّمَوتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ وَاسْتَلْكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبِّ السَّمَوَتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ وَاسْتَلْكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبِّ السَّمَوتِ السَّبْعِ وَالْأَرْضِينَ السَّبْعِ وَمَا فِيهِنَّ إِنَّكَ عَلَى کل شیءٍ قَدِير فائدہ : حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: جسے کوئی غم یا پریشانی پیش آئے یا اسے کسی بادشاہ سے خوف ہو اور وہ ان کلمات کے ذریعہ دعا کرے گا تو اس کی دعا ضرور قبول ہوگی ( حیاۃ الصحابہ)۔ نوٹ: یہ دعا پڑھنے کے بعد اللہ سے اپنی ضرورت مانگے۔ (4) – سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ فائدہ: حضور سلیم نے فرمایا دو کھلے زبان پر بہت ہلکے، میزان میں بہت وزنی ، رحمن کو بہت محبوب ہیں ( بخاری )۔ (5) – اللَّهُمَّ ارْحَمْ أُمَّةً مُحَمَّدٍ رَّحْمَةً عَامَّةٌ قائده: حدیث پاک میں آتا ہے کہ یہ بہترین دعا ہے ( کنز العمال)۔ (6) – اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْئَلُكَ مِنْ خِيْرٍ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُبِكَ مِنْ شَرِ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ فائدہ: حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ حضور سما ہنی پریتم نے ایک مرتبہ بہت زیادہ دعا مانگی لیکن ہمیں ان دعاؤں میں سے کچھ یاد نہ رہا۔ حضور سی بی ایرینم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی جامع دعانہ بتا دوں جس میں یہ سب ( دعائیں ) جمع ہو جا ئیں ؟ تم یہ دعا مانگا کرو (ترمذی) (7) – لا إلهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ ( تردى) فائدہ: جو بھی مسلمان آدمی کسی بھی مقصد کیلئے اس آیت کریمہ کو پڑھ کر دعا مانگے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرمائیں گے۔ (8) – أَسْأَلُكَ بِكُلِ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ فائدہ: آپ سی ایم ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے .(مسند احمد )

سوشل میڈیا کے دوست اپنی دینی کمزوری کی وجہ جانیں ۔۔۔!

( محمد صہیب رومی ، لاہور ) اللہ کے فضل و کرم سے عبقری اور تسبیح خانہ کی کوشش یہ کہ زیادہ سے زیادہ لوگ قرآن وسنت سے بذریعہ اکا بر جڑ جائیں کیونکہ جب بھی اپنی سوچ سے دین کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی تو ایک نیا فتنہ ہی اٹھے گا۔۔۔! ایک مرتبہ حضرت حکیم العصر ( شیخ الحدیث جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا،ساتویں امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ) نے امت میں دینی انحطاط اور احکام شریعت سے دوری کی بابت گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اس بارے میں بہت سے علماء کی آراء کا مطالعہ کیا ہے لیکن مجھے ان سب میں حضرت لاہوری کے خلیفہ مجاز حضرت زاہد الحسینی رحمتہ اللہ علیہ کی رائے سب سے اچھی لگی اور وہ یہ تھی کہ اس امت میں دینی انحطاط اور زوال کا سبب یہ ہے کہ اس امت کی نسبت اپنے نبی سالی یہ تم سے کٹتی جارہی ہے اور اسی انقطاع نسبت ہی کا اثر ہے کہ سرور کائنات سالی یا یہ تم کی طرف سے آنے والا فیضان بند ہوتا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اب اس امت میں بے دینی عام ہوتی جارہی ہے ۔ (کتاب : مجالس حکیم العصر، صفحہ 30 ، اہتمام : مولانا مفتی ظفر اقبال، ناشر: مکتبہ شیخ لدھیانوی، لودھراں) محترم قارئین! شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی کوشش اپنے تمام بیانات ،رسالے اور کتابوں سے یہی ہے کہ ہر شخص کا دامن عقیدت بارگاہ رسالت ساینا اینم سے مضبوط نہیں بلکہ مضبوط تر ہو جائے اس لیے وہ بہانے بہانے سے لوگوں کو سنت اعمال سے جوڑتے جارہے ہیں اللہ میں عقل سلیم عطا فرمائے ۔ آمین

فوت شده بزرگ نے دیا ایسا علاج جسے کرتے ہی آپ شفایاب ہو جائیں ۔۔۔!

( محمد اکمل فاروق ریحان ایم اے ہسٹری، سیاسیات ) حضرت مولانا شاہ عبد الغفور عباسی مجددی مدنی نے انتقال کے بعد ہر بیماری سے نجات کیلئے یقینی علاج عطا فرمایا۔ خود پڑھیں اور اکابر پر اعتماد کے تمام دوست صدقہ جاریہ کی نیت سے آگے پھیلائیں۔ حضرت مولانا شاہ عبد الغفور عباسی مجددی مدنی ” کا فیض آج بھی جاری ہے۔ کئی برس ہوئے ، چھوٹے بیٹے کی طبیعت خراب تھی۔ وہ اپنی والدہ کے کمرہ میں ہوتا تھا، رات بھر اس کی والدہ مرحومہ بیٹھی رہتی اور اس کو تسلی تشفی دیتی رہتی۔ میں اپنے کمرہ میں سورہا تھا کہ بیٹا اٹھ کر آ گیا، ساتھ ہی اس کی والدہ مرحومہ بھی آگئی ، مجھے اٹھایا ، بیٹے نے کہا حضرت والا ( مولانا عبد الغفور عباسی ) تشریف لائے تھے، انہوں نے فرمایا کہ اپنے بابا سے کہو کہ سات مرتبہ یسین شریف پڑھ کر دم کر دیں، یہ بھی فرمایا کہ میں بھی اس کے پاس جارہا ہوں، مجھ سے دریافت کیا کہ حضرت صاحب تشریف لائے تھے؟ اس کی والدہ نے اسے پلنگ پر لٹا لیا، خود پاس بیٹھ کر دعا اور وظائف کرتی رہیں۔ میں نے حکم کی تعمیل میں سات مرتبہ یسین شریف پڑھ کر دم کر دیا، الحمدللہ مریض اطمینان سے سو گیا اور چند یوم میں رفتہ رفتہ صحت حاصل ہو گئی۔ (کتاب: تجلیات غفوری ، ص 77 ، تالیف: مولانا محمد روح اللہ نقشبندی غفوری، ناشر: مکتبہ عمر فاروق) محترم قارئین! اکابر پر اعتماد پیج کی اللہ کے فضل وکرم سے یہ خصوصیت ہے کہ اس میں ذکر کیا جانے والا ہر واقعہ قرآن وسنت کے براہین اور ا کا بڑ کے دلائل سے مزین ہوتا ہے آئیں سارے عالم میں اکابر پر اعتماد کی دھوم مچادیں۔۔!

بانی تبلیغی جماعت مولانا محمد الیاس نے انتقال کے بعد ا کا بر پر اعتماد کیلئے اہم پیغام دے دیا۔۔!

( مولانا محمد نواز صاحب، فاضل جامعہ مظاہر العلوم، لاہور )   شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا نے ارشاد فرمایا: اکابر کے لیے ایصال ثواب ضرور کیا کرو، اس سے ان کی ارواح متوجہ ہوتی ہیں اور ان کے فیوض و برکات ملتے ہیں۔ حاجی عبد الرحمن صاحب نو مسلم میرے تایا ابا کے زمانے میں اسلام لائے تھے ان کی بہت سی خصوصیات ہیں ( جو سوانح محمد الیاس میں مذکور ہیں ) ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص بات عطا فرمائی تھی کہ ان کے ذریعہ بہت سے آدمی اسلام لائے۔ ایک مرتبہ دلی میں ایک تانگہ والے کے پاس گئے اس نے کہا کہ میری گاڑی میں جگہ نہیں ہے۔ بہر حال بہت جھگڑے کے بعد تانگہ والے نے بٹھا یا۔ اللہ کی شان دلی سے نظام الدین پہنچے کہ وہ مسلمان ہو گیا۔ انہوں نے میرے چچا جان کے انتقال پر ایک معمول یہ بنایا تھا کہ سورۃ یسین پڑھ کر اور دو رکعت نفل پڑھ کر ایصال ثواب کیا کرتے تھے۔ ایک روز خواب میں دیکھا کہ چچا جان نے فرمایا کہ ”میرے اکابر کو چھوڑ دیتے ہو مجھے اس سے شرم آتی ہے کہ مجھے آپ ثواب پہنچاؤ اور دوسرے مشائخ کو نہ پہنچاؤ ، ان کو بھی بخشا کرو۔۔۔! بہر حال اکابر کے لیے ایصال ثواب کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے تا کہ ان کے سامنے سرخروئی ہو سکے۔ (کتاب: ملفوظات شیخ الحدیث ،ص 281، ترتیب: مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن مدنی مدظله، ناشر: مکتبہ لدھیانوی) محترم قارئین! آج اللہ کریم کے فضل سے تسبیح خانہ کی ایک ایک بات اسلاف وا کا بڑ سے جڑی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اکابر پر اپنا اعتماد بڑھائیں.

شیخ الوظائف امام بخاری کے مزار پر کیوں گئے۔راز سے پردہ ہٹ گیا۔۔۔!

( مولانا وسیم اسلم صاحب، جامعہ اشرفیہ ) شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو اللہ پاک نے جو علمی صلاحیت، باطنی بصیرت اور ہمہ گیر شخصیت کی صفات سے نوازا ہے وہ با صفات لوگوں سے پوشیدہ نہیں ۔۔۔! آپ کے ہر عمل میں کوئی کوئی نہ کوئی حکمت کارفرما ہوتی ہے تاریخ کے جھر کوں سےاہم واقعہ پڑھیں اور شیخ الوظائف کے امام الحدثین کے مزار اقدس پر جانے کی حکمت کو سمجھ لیں ۔۔۔! علامہ امام ذہبی ( م ۷۴۸ ھ) نے امیر المومنین فی الحدیث اور سید المحدثین امام محمد بن اسماعیل بخاری (م ۲۵۶ھ) کی قبر مبارک سے تبرک کا ایک واقعہ درج کیا ہے: شیخ ابوالفتح نصر بن حسن اسکتی سمرقندی نے بیان کیا کہ ایک بار سمر قند میں کچھ سالوں سے بارش نہ ہوئی تو لوگوں کو تشویش لاحق ہوئی پس انہوں نے کئی بار نماز استسقاء ادا کی لیکن بارش نہ ہوئی۔ اسی اثناء ان کے پاس ایک صالح شخص جو صلاح“ کے نام سے معروف تھا۔ سمرقند کے قاضی کے پاس گیا اور اس سے کہا: میں آپ سے اپنی ایک رائے کا اظہار کرنا چاہتا ہوں ۔ قاضی نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میری رائے ہے کہ آپ کو اور آپ کے ساتھ تمام لوگوں کو امام محمد بن اسماعیل بخاری کی قبر مبارک پر حاضری دینی چاہیے، ان کی قبر خر تک میں واقع ہے، ہمیں قبر کے پاس جا کر بارش طلب کرنی چاہیے عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بارش سے سیراب کر دے۔ قاضی نے کہا: آپ کی رائے بہت اچھی ہے۔ پس قاضی اور اس کے ساتھ تمام لوگ وہاں جانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے قاضی نے لوگوں کے ساتھ مل کر بارش کے لیے دعا کی اور لوگ قبر کے پاس رونے لگے اور اللہ کے حضور صاحب قبر کی سفارش کرنے لگے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی وقت اپنے صالح بندہ کی برکت کے سبب ) وافر پانی کے ساتھ بادلوں کو بھیج دیا، تمام لوگ تقریباً سات دن تک خر تک میں رکے رہے، ان میں سے کسی ایک میں بھی کثیر بارش کی وجہ سے سمرقند پہنچنے کی ہمت نہ تھی حالانکہ خر تنک اور سمرقند کے درمیان تین میل کا فاصلہ تھا۔ (سیر اعلام النبلاص 469 ج 12، علامہ شمس الدین ذھبی ) محترم قارئین با عقلمند لوگ اپنی روشن تاریخ اور تعلیمات اکابر کوفراموش نہیں کر تے بلکہ ہمیشہ اسے اپنے سر کا تاج بنائے رکھتے ہیں۔

 شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیری کی انتقال کے بعد حسرت ۔۔۔!

( محمد عبد اللہ ریاض نیازی ، میانوالی) شیخ الوظائف تسبیح خانہ میں ہفت وار ہونے والے درس میں اکثر مراقبہ کی کیفیات کا ذکر فرماتے ہیں یہ کوئی من گھڑت کہانی نہیں بلکہ ایک مسلمہ زندہ حقیقت ہے دوران مطالعہ ایک واقعہ پر نظر گزری سوچا اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے شیئر کر دوں۔ حضرت خواجہ صاحب فضل علی قریشی کے حالات و واقعات و کمالات بریلوی مسلک کے جید عالم مولانا ابوالخیر زبیر حیدر آبادی نے اپنی کتاب (سندھ کے صوفیائے نقشبند، ج ۲،ص ۵۵۹ تا ۵۶۲) تک لکھے ہیں اور ان کی بہت تعریف کی ہے آپ فرماتے ہیں کہ (خواجہ فضل علی قریشی) قبلہ عالم ہندوستان تشریف لائے یہ خاکسار کا تب الحروف ( مولا نا مسلم ) بھی وہاں پہنچ گیا اس عرصہ میں چند ایک رفیقوں کو لے کر جن میں کاتب الحروف اور مولانا عبدالمالک صاحب احمد پوری مدظلہ العالیٰ بھی تھے۔ حضرت مولانا محمد قاسم رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضر ہوئے فاتحہ خوانی کے بعد مراقبہ کیا اور دیر تک مراقبہ کرتے رہے وہاں سے اٹھ کر حضرت مولانا انور شاہ کے مزار پر گئے اور مراقب ہوئے۔ مراقبہ سے فارغ ہو کر اس خاکسار سے مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص آپ کے خلفاء میں سے ہوگا اس کو ہدایت کرو کہ یہ ہمارے پاس آیا کرے حالانکہ یہ خاکسار اس وقت مبتدی تھا اور بیعت کو ایک سال ہوا تھا۔ اور فرمایا کہ شاہ صاحب نے اپنے لڑکوں کے نیک اور صالح ہونے کی دعا کرنے کو کہا ہے اور فرمایا ہے کہ مجھے علم میں شاہ ولی اللہ جیسا سمجھیں مگر میں تقویٰ میں ان کے برابر نہیں۔ افسوس کہ میں نے موٹا موٹا تقوی کیا اور زیادہ خیال نہیں کیا۔ یہاں آکر معلوم ہوا کہ تقویٰ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں پھر پہلے مراقبہ کی نسبت فرمایا کہ رسول خداسی یتیم کی روح پرفتوح ظاہر ہوئی اور شاہ ولی اللہ کی روح بھی وہیں موجود تھی ۔ حضور اکرم صلی یا یہی تم نے مولانا محمد قاسم صاحب اور شاہ ولی اللہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ان دونوں نے ہندوستان میں میرے دین کی اشاعت و تبلیغ کی ہے۔ حیات فضلیہ ص ۴۳، ۴۴، بحوالہ مقامات فضلیہ ص ۳۶، ۳۷ بحوالہ کتاب: (اکابرین کیا تھے؟ صفحه ۱۷۲، مؤلف: مولانا منیر احمد اختر صاحب، ناشر: دار النعیم، اردو بازار لاہور) محترم قارئین! عبقری کے منبر بیان ہونے والی ہر بات کے پیچھے اللہ کریم کے فضل سے قرآن وسنت اور تعلیمات اکا بڑ کی مہر لگی ہے۔

شیخ الوظائف نے مخدوم صاحب کی قبر پر پانچ گھنٹہ مراقبہ کیوں کیا۔؟

( حافظ عطاء اللہ صاحب، عبر سلطان ) شیخ الوظائف ابھی کچھ عرصہ قبل مکلی قبرستان میں مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی ” کے مزار پر تشریف لے گئے اور وہاں تپتی دھوپ میں آپ نے پانچ گھنٹے کا مراقبہ کیا جو کہ ہمارے تمام اکا بڑ کی ترتیب ہے اہل اللہ کی سوانح میں سے چند واقعات کا انتخاب اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہے: شیخ الحدیث کا ساڑھے تین گھنٹے مزار پر مراقبہ: جب حضرت مدنی کی وفات ہوئی تو دار العلوم میں تعزیتی اجلاس ہوا، اس میں سب کا بر تشریف لائے ، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا صاحب بھی تشریف لاے اور فرمایا : ” اجلاس میں تو سب حضرات موجود ہیں میں حضرت کے پاس حاضری دوں گا یہ کہہ کر قبرستان چلے گئے، ایوب صاحب کہتے ہیں کہ میں وہاں پہلے سے بیٹھا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ حضرت شیخ الحدیث صاحب تقریبا ساڑھے تین گھنٹے تک مراقب رہے، دار العلوم سے آپ کو لینے کے لیے چار بزرگ آئے ، مولانا محمد میاں صاحب، مولانا حفظ الرحمن صاحب ، مولانا عتیق الرحمن صاحب، مولانا سعید احمد اکبر آبادی صاحب رحمہم اللہ سب سے پہلے مولانامحمد میاں صاحب گاڑی سے اترے اور شیخ الحدیث صاحب سے عرض کیا کہ حضرت جناب کا انتظار ہورہا ہے مگر آپ نے کوئی توجہ نہیں دی، پھر مولانا عتیق الرحمن صاحب اترے اور انہوں نے بھی یہی عرض کیا مگر اس پر بھی آپ نے کوئی توجہ نہیں دی، پھر مولانا حفظ الرحمن صاحب اتر کر آئے اور آپ نے کہا کہ حضرت ! جناب کے سب منتظر ہیں چلیے، اس پر شیخ نے سر اٹھایا، میں نے دیکھا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہورہا ہے اور آپ فرما رہے ہیں ”مبارک ہیں وہ لوگ جنہوں نے حضرت مدنی کے چہرہ کو دیکھا ہے“۔ کتاب : (بیا به مجلس نفیس ، صفحہ 250، حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم ، ناشر : صفہ ٹرسٹ لاہور ) ٹیپوسلطان کی قبر پر حضرت مولانا مدنی ” کا مراقبہ: مفتی محمود حسن گنگوہی سے سوال کیا گیا کہ ٹیپو سلطان صاحب ریش تھے، یا نہیں ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ان کا مجسمہ بنارکھا ہے، وہ تو بغیر ریش کے ہے، البتہ ایک مرتبہ حضرت مدنی ان کی قبر پر گئے اور بہت دیر تک مراقب رہے، بعد میں فرمایا کہ ان کے چہرہ پر سنت تھی ، پھر فرمایا ( حضرت قدس سرہ نے ) کہ ٹیپو سلطان دو گزرے ہیں، ایک دادا، ایک پوتا، دونوں انگریز کے خلاف تھے۔ کتاب : ملفوظات مفتی محمود حسن گنگوہی ، ج ص 276 ، ترتیب جدید : مفتی محمد فاروق استاذ جامعہ محمودیہ، ناشر: دار الحدی) مراقبہ میں عقلمند قبروں کا مشاہدہ : حضرت مولانا پیر ذالفقار صاحب نقشبندی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ نے کسی قبرستان میں مراقبہ کیا۔کسی نے پوچھا، حضرت! آپ نے قبرستان والوں کو کس حال میں پایا؟ فرمایا، ان کو اپنی عقلیت پر اتنی حسرت ہے کہ اگر ان کی یہ حسرت لوگوں پر تقسیم کریں تو وہ سب پاگل ہو جائیں۔ میرے دوستو ! جمعتہ المبارک کو قبرستان میں جانا مسنون ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ انسان وہاں جا کر اس شہر خاموشاں سے عبرت حاصل کرے۔ (کتاب : موت کی تیاری صفحہ 26 ، مرتب: محمد حنیف نقشبندی مجددی، ناشر : مكتبه الفقير ، فیصل آباد) حضرت ذالنون مصری کے مزار پر حاضری کی برکات: حضرت علامه جائی (متوفی 898ھ ) لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ ابوالحارث اولائی نے بیان فرمایا کہ میں نے حضرت ذوالنون مصری کی بہت شہرت سنی تھی۔ چند مسئلوں کے حل کرنے کے لیے میں نے ان کی زیارت کا قصد کیا۔ جب میں مصرف پہنچا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ ان کا تونل انتقال ہو گیا۔ یہ کن لر میں ان کے مزار پر گیا وہاں پہنچ کر مراقبہ میں بیٹھ گیا کچھ دیر کے بعد مجھے نیند آ گئی خواب میں ان کا دیدار ہوا اور مجھے جو مشکل مسئلے درپیش تھے وہ میں نے ان سے دریافت کئے انہوں نے ان سب کا مجھے جواب مرحمت فرمایا (نفحات الانس صفحہ 193) محترم قارئین ! عبقری اور تسبیح خانہ نے آج تک اللہ کریم کے فضل سے کوئی بھی ایسا عمل شائع نہیں کیا جس کی سند قرآن وسنت اہل بیت و صحابہ کرام اور اکابرین امت کی طرف نہ ہو۔۔۔ حکیم الامت نے فرمایا ہمیں چاہیے کہ علمی تحقیقات پر زور دینے سے زیادہ فکرا کا بر کے ادب اور احترام کی کرنی چاہیے-

اک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے اس پیغام محبت کو سارے عالم میں پھیلا دیں۔

(حضرت مولانا منیر احمد منور اختر صاحب، جہانیاں )  عبقری کا پیغام محبت و امن وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اس ضرورت کو تمام مکاتب فکر کے سنجیدہ علمائے کرام نہایت ہی اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں حضرت مولانا منیر احمد منور اختر صاحب اس پیغام رواداری کو اس انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اللہ کریم ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے ۔ اتحاد امت وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے ۔ اتفاق کی فضاء قائم کرنا بہت ضروری ہے ، رحماء بینھم کی مثال قائم کرتے ہوئے باہم شیر وشکر ہونا اور اشداء على الكفار کی سنت پر عمل پیرا ہو کر اسلام دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا لازم کی حد تک ضروری ہو چکا ہے۔ مسلمانوں کو صرف مسلمان ہونے کی سزادی جارہی ہے۔۔۔! تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی متحد و متفق ہوں اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ گھر کے باہر کے جھگڑے سے اس وقت تک نہیں نمٹا جاسکتا جب تک چار دیواری کے اندر امن و اتحاد کا ماحول قائم نہ ہو۔ ظالم کو ظلم سے اس وقت تک نہیں روکا جاسکتا جب تک انصاف کے علمبرداروں کی آواز ایک نہ ہو۔ آپس کے فروعی و سیاسی اختلافات ترک کر کے دو تالب یک جان ہونے کا بھر پور مظاہرہ کریں۔ محترم قارئین! عبقری کا پیغام امن ہر مسلک، جماعت تنظیم، تحریک، ہر شہر، اور ہر صوبہ کی ضرورت ہے۔۔

تسبیح خانہ میں کیے جانے والے اعمال پر آخرت میں کیا ملے گا۔۔۔!

( قاری محمد یوسف، مری بھوربن ) زندگی مال سے نہیں اعمال سے بنتی ہے آج اس پیغام کو اللہ کے فضل آج تسبیح خانہ نے سارے عالم میں پہنچانے کی کوشش کی ہے جس کے ذریعے لاکھوں لوگ گناہوں سے تو بہ کر کے اپنے رب سے جڑ گئے ہیں ۔۔۔۔! ان اعمال پر ہمیں آخرت میں کیا کچھ اللہ کریم کے فضل سے ملنے والا ہے ایک سچا واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔ ہمیں عبد اللہ نے محمد بن الحسین، عیسی بن سالم، ابوالمسیح الرقی حسن بن دینار، ثابت بنانی کی سند سے نقل کیا ہے کہ وہ اور ایک دوسرا شخص (راوی دونوں ہیں ) مطرف بن عبد اللہ بن شیخیر کی عیادت کرنے گئے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ بے ہوش ہیں اور ان کے جسم پر نور کے تین ٹکڑے صاف نظر آ رہے ہیں، ایک سر سے، دوسرا ناف سے اور تیسرا پاؤں سے اوپر کی طرف نکلا ہوا تھا، دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے ، جب ان کو ہوش آیا تو ہم نے ان سے کہا کہ اے ابو عبد اللہ ! کیا حال ہے؟ ہمیں ایک عجیب چیز نظر آئی جس سے ہم خوف زدہ ہو گئے۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ نے کیا دیکھا؟ ہم نے انوارات کا واقعہ سنا دیا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے ایسا دیکھا : ہم نے کہا جی ہاں بالکل، تو انہوں نے کہا دراصل یہ سورہ سجدہ ہے اس میں انتیس (۲۹) آیتیں ہیں اس کا پہلا حصہ میرے سر سے، دوسرا حصہ میری ناف سے اور تیسرا حصہ میرے پاؤں سے چمکا اور اب وہ میری سفارش کے لیے آسمان میں چڑھ گئی ہے اور سورہ ملک ہر شر سے بچانے کے لیے میرے اوپر پہرہ دے رہی ہے، یہ کہتے ہی ان کی آنکھیں بند ہوگئیں اور ان کا انتقال ہو گیا۔ کتاب : (مرنے کے بعد زندہ ہونے والوں کے حیرت انگیز واقعات ،ص 80، جمع و ترتیب: مفتی ثناء اللہ محمود، ناشر : ادارہ الانور ) تسبیح خانہ اور اسکی تمام شاخوں میں اللہ کریم کے فضل و کرم سے سالہا سال سے یہ دونوں سورتیں عشاء کی نماز کے بعد پڑھنے کا معمول ہے ۔ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ جو ان کا اہتمام کرتا ہے اسے آخرت میں کیا ملے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ-

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025