اپنے جانور کی قربانی سے پہلے شیخ الوظائف سے فضائل ضرور سن لیں ۔۔۔!

انسان کی طبیعت میں حرص اور لالچ ہے ،یہ شروع دن سے ہی اپنے نفع کی تلاش میں رہتا ہے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی کو شش یہی ہوتی ہےکہ اعمال کے فضائل اور فوائد بتاکر لوگوں کو اعمال سے جو ڑا جائے ۔۔!آپ بھی شیخ الوظائف کے ساتھی بنئے اور اکابر پر اعتماد کے پیج کے ذریعے ملنے والے اعمال کو ساری دنیا میں پھیلادیجئے۔۔۔! (۱)قربانی کے جانور کے ہر بال کےبدلے ایک نیکی لکھی جاتی ہے(حاکم)۔ (۲)جو شخص قربانی کے وقت اپنےجانور کو ذبح ہوتے دیکھے توخون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتے ہی اس شخص کے گناہ معاف کردیئے جائیںگے(بزار)۔ (۳)قربانی کا جانورقیامت کے دن گوشت اور خون کے ساتھ 70گناہ زیادہ کرکےترازومیں تولا جائےگا(ترغیب)۔ (۴) قربانی کا خون زمین پر گر نےسے پہلےاللہ تعالیٰ کے ہاں ایک خاص مقام پاچکا ہوتا ہے(ابن ماجہ)۔ (۵) قربانی کے دِن کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدِیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ پسندیدہ نہیں (مشکوٰة)۔(۶) جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعت ہو پھر بھی قربانی نہ کرے تو (ایسا شخص) ہماری عیدگاہ میں حاضر نہ ہو۔ (مسند احمد )
قربانی کی قبولیت کیلئے شیخ الوظائف کا اہم پیغام

جو بھی اللہ والے ہوتےہیں ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ انسانیت ایسی نیکی کی طر ف آجائے جو نیکی اللہ کریم کی بارگاہ میں قبول بھی ہواسی لیئے شیخ الوظائف دامت برکاتہم بھی ہمہ تن اسی کوشش میں رہتے ہیں ۔۔۔۔شیخ الوظائف کو قربانی کے اس موسم میں یہ فکر ہے کہ تمام انسانیت کی قربانیاں اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوجائیں ۔ (1) جس جانور کوذبح کرنا ہو یا اس کے موذی ہونے کی وجہ سے قتل کرنا ہو تو جلدی سے کام تمام کردے اس کو تڑپائے نہیں، بھوکا پیاسا رکھ کر جان نہ لے ۔ (2) جانوروں کو بسم اللہ، اللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا جائے کیونکہ اس سے جانوروں کو تکلیف نہیں ہوتی ۔ (3)کند چھری سے ذبح کرناٹھیک نہیں کیونکہ اس سے جانور کو بہت تکلیف ہوتی ہے ، اس طرح ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی کھال کھینچنا ہاتھ پائوں توڑنا یہ غلط ہے ۔ بعض لوگ ذبح کرتے وقت گردن توڑ دیتے ہیں اس سے جانور کو زائد تکلیف ہوتی ہے ، حدیث شریف میں اس کی ممانعت آئی ہے ۔ (4)ذبح سے قبل جانور کو پانی دکھانا ضروری ہے۔ ایک جانور کو دوسرےکے سامنے ذبح نہ کریں، اسی طرح چھری کو جانور کے سامنے تیز نہ کریں (بدائع ) ۔ (5)افضل یہ ہے کے قربانی اپنےہاتھ سے کی جائےوگرنہ جانور کو ذبح ہوتے وقت تو ضرور دیکھے(بشیر ونذیر) اہم نصیحت :حلال آمدنی سے جو بھی استعدا د کی قربانی ہو خالص اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا کی خاطر کی جائے اور اس میں ذرہ برابر بھی دکھلاوا اور نمود و نمائش نہ ہو۔ قربانی کے جانور کو قبلہ رخ لٹا کر یہ دعا پڑھیں اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ o قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَ مَـحْیَایَ وَ مَـمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ o اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ، بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَرُ۔(حصن حصین)کہہ کر چھری چلادیں۔
عبقری میں ذکر کردہ تعویذات کاپوسٹ مارٹم

سالہا سال ماہنامہ عبقری اور ادارہ عبقری کی جانب سے شائع ہونےوالی کتابوں میں تعویذا ت و نقش ذکر ہوتےہیں اسے کے بارے میں چند ناسمجھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’’نقش اور تعویذ‘‘ سے کس طرح مسائل کا حل ہوسکتا ہے ؟تو ایسے لوگوں کی خدمت میں نہایت ادب سے عرض ہے کہ و ہ اپنےمطالعہ کو بڑھائیں ۔ شیخ ابو جعفر محمد بن علیؒ(امام زین العابدینؓ) سے جب یونس بن حبانؒ ؒ نے پوچھا کہ اگر میں تعویذ لٹکائوں؟ فرمایا اگر وہ’’ تعویذ‘‘ اللہ کی کتاب سے ہو یا نبیﷺ کے کلام سے ہو تو لٹکالے اور اس سے شفاء حاصل کر ۔ امام ابن السُنّیؒ نے’’ عمل الیوم واللیلۃ ‘‘میں نبی کریمﷺ سے روایت کیا ہے کہ جب عورت تنگی ولادت میں مبتلا ہو تو ایک صاف برتن میں یہ لکھا جائے ’’کانھم یوم یرون مایو عدون (الخ) کانھم یوم یرونھا لم یلبثوا الا عشیۃ او ضحٰھا ولقدکان فی قَصَصِمِ عبرۃ لاولی الالباب (الخ)‘‘پھر اس برتن کو دھو کر کچھ اس عورت کو پلا دیا جائے اور کچھ اس پر چھڑک دیا جائے۔ (عمل الیوم ص 231)(اکابرپر اعتما د قسط 457) امام بیہقیؒ نے بھی دعوات میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ جو عورت ولادت کی تنگی میں مبتلا ہو اس کے لئے قرآنی آیات کاغذ پر لکھ کر پلائی جائیں۔ امام حسن بصریؒ، امام مجاہد اور امام اوزاعی رحمھم اللہ سب یہ فرماتے ہیں کہ قرآن کو شفاء کے لئے لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام زہریؒ اپنے بچوں کو حافظے میں تقویت کے لئے چار سورتیں لکھ کر پلاتے تھے۔ (درّالنظیم فی خواص القرآن العظیم) جی ہاں ! دلائل سے مزین اکابر پر اعتما د پیچ دلائل بناتا نہیں بلکہ دلائل بتاتا ہے۔۔!
پندرہ شعبان المعظم کا عمل تحفہ فقیر شب برأت کے اس عمل سے پیسے نہیں ڈالر($) ملیں گے۔۔۔!

( 15 شعبان المعظم 1442ھ29 مارچ) ہر سال تسبیح خانہ لاہور میں شعبان المعظم کی رات یعنی شب برأت میں ہمارے اکابرؒ کے مسنون اعمال کروائے جاتے ہیں۔الحمداللہ ! تسبیح خانہ کا ممبر مخلوق خدامیں اعمال اور اذکار کے پھول بکھیر رہا ہےنہ کہ شرک اور بدعت! آپ کی خدمت میں اکابرینؒ سے منسوب عمل پیش خدمت ہے ،جو صرف ایک دن کر نا ہے اور آپ مالدار ہوجائیں ۔انشاء اللہ تعالیٰ! 14 شعبان المعظم ظہر کے بعد غسل کرکے صاف لباس پہن کے 21 بار سورۃ القدر، 101 بارواللہ یرزق من یشاءبغیرحساب ،سات سو(700 )بار، یاواسع پورےعمل کے اول و آخر 11بار درودشریف پڑھ کر دعا کرلیں۔ اگلے روز سے دن میں کسی وقت (مسلسل روزانہ اگلے سال تک ‘اضافہ برائے وضاحت از عبد الرحمن قاسم یکے از شاگردان حضرت رحمانی مدظلہ ) سو(100) بار یاواسع اول و آخر گیارہ(11) بار درودشریف کےساتھ پڑھ لیا کریں ان شاءاللہ تعالیٰ مالی پریشانیوں کا خاتمہ ہوگااورر زق میں وسعت اورآسانیاں پیدا ہوں گی۔ اسی دن مغرب سے چند منٹ قبل باوضو چالیس (40) مرتبہ لاحول و لاقوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھنا روحانی ترقی اور رفعِ درجات کے لئے مفید ہے۔اللہ تعالی عمل کی توفیق عطافرمائے ۔آمین ! بہت عرصہ قبل فقیر کو یہ عمل ایک اللہ والے سےحاصل ہوا تھا اور الحمدللہ فقیر کو بھی فائدہ ہوا اور میرے بتانے پر بہت سےدیگر ساتھیوں کو بھی ہوا۔ اس لئے فقیر کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر سال اپنے محبین اور متعلقین کو یاد دہانی کرادے۔ ضروری وضاحت یادرہےکہ یہ عمل خالص بزرگوں کے مجربات میں سے ہے، اس لئے جس کا مَن چاہے کرے اور جو مطمئن نہ ہو وہ ہرگز نہ کرے، نیز علماءکرام سےدست بستہ بصداحترام گزارش ہےکہ فقہی موشگافیوں سے گریز کریں‘ بدعت اور من گھڑت فتوے لگا کر عوام کےدلوں میں شکوک و شبہات اور وساوس سےپرہیزکریں۔ اس عمل میں قران پاک کی سورتِ مبارکہ آیتِ کریمہ اور، اللہ تبارک وتعالی کا اسمِ مبارک ہے ۔۔ اسکےعلاوہ کچھ نہیں اللہ تعالی سب بھائیوں کی ہر پریشانی دور فرمائے آمین! سب بھائیوں کا خیرخواہ فقیرعزیزالرحمن رحمانی 15 شعبان المعظم 1442ھ29 مارچ (یہ عمل ہمارے اکابرؒ کا بتایا ہوا ہے۔) یاد رکھیں !تسبیح خانہ اعمال بناتا نہیں بلکہ بتاتاہے۔
کیا تسبیح خانہ کی طرف سے شب برأت کے روزہکی ترغیب بدعت ہے۔۔۔۔ ایک علمی جواب!

بعض لوگوں کی طبیعت میں ضرورت سے زیادہ سختی ہوتی ہے وہ بہت سی جائز چیزوں کو بھی ناجائز اور حلال چیزوں کو بھی حرام کہہ جاتے ہیں اور ماڈرن معاشرے کے اس دور میں بھی یہ وبا بڑھتی جارہی جسے اعتراض بے جا کا نام دینا بالکل درست لگتا ہے یہی سب کچھ شب برأ ت کے روزے کے معاملے میں بھی ہوا کہ بعض دوستوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ تسبیح خانہ شب برات کے دن جو روزہ رکھنے کی ترغیب دیتا ہے یہ تو روایت ہی ثابت نہیں ۔۔۔! ایسے کم علموں کی خدمت میں حضرت مولانا ابوجندل قاسمی صاحب (مدرسہ قاسم العلوم تیوڑہ، مظفرنگر، یوپی)کاعلمی جواب پیش کرتے ہیں اللہ کریم ہمیں دین کی صحیح فہم عطا فرمائے۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جب نصف شعبان کی رات آجائے تو تم اس رات میں قیام کیا کرو اور اس کے دن (پندرہویں تاریخ) کا روزہ رکھا کرو؛ اس لیے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے سے طلوعِ فجر تک قریب کے آسمان پر نزول فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ کیا ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا جس کی میں مغفرت کروں؟، کیا ہے کوئی مجھ سے رزق کا طالب کہ میں اس کو رزق عطا کروں؟ کیا ہے کوئی کسی مصیبت یا بیماری میں مبتلا کہ میں اس کو عافیت عطا کروں؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ اللہ تعالیٰ برابر یہ آواز دیتے رہتے ہیں؛ یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے۔ (ابن ماجہ ص۹۹، شعب الایمان ۳/۳۷۸، حدیث ۳۸۲۲) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مندرجہ بالا حدیث شریف پر عمل کرتے ہوئے امت میں پندرہویں تاریخ کے روزہ رکھنے کا معمول رہا ہے۔ اگرچہ وہ حدیث باتفاقِ محدثین انتہائی ضعیف ہے؛ کیونکہ اس کے ایک راوی ”ابوبکر بن عبد اللہ بن محمد بن ابی سبرہ“ پر حدیثیں گھڑنے کا الزام ہے۔ تاہم اس حدیث شریف کو موضوع نہیں کہا جاسکتا؛ کیوں کہ ابوبکر بن عبد اللہ پر حدیثیں گھڑنے کے الزام سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ حدیث بھی اس کی بنائی ہوئی ہے، جس کی تین وجوہات ہیں: (۱) پہلی وجہ یہ ہے کہ اصولِ حدیث وغیرہ کی مختلف کتابوں میں صراحت ہے کہ کسی حدیث کی سند میں کوئی راوی متّہم بالکذب یا متّہم بالوضع پایا جائے تو محض اتنے سے وہ حدیث موضوع نہیں ہوجاتی، جب تک کہ کوئی دوسری دلیل اس کے موضوع ہونے پر دلالت نہ کرے؛ چناں چہ امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہٰذا مَعَ اَنّ مُجَرّدَ تَفَرُّدِ الْکَذّابِ بَلِ الْوَضّاعِ ولو کان بعدَ الاسْتِقْصَاءِ والتَّفْتِیْشِ منْ حافِظٍ مُتَبَحِّرٍ تَامِّ الاسْتِقْرَاءِ غَیْرُ مُسْتَلْزِمٍ لِذٰلِکَ بل لابُدّ مَعَہ من انضِمَامِ شَیْءٍ مِمّا سَیَأتِیْ“ ترجمہ: محض کسی جھوٹے بلکہ وضَّاعِ حدیث کا کسی حدیث میں متفرد ہونا اس کو (یعنی حدیث کے موضوع ہونے کو) مستلزم نہیں، اگرچہ اس کا ثبوت کسی متبحر اور دیدہ ور حافظِ حدیث کی تحقیق سے ہوا ہو؛ بلکہ اس کے ساتھ کسی اور دلیل کا ملنا بھی ضروری ہے، جس کا ذکر آئندہ آرہا ہے۔ (فتح المغیث ۲/۶۸، باب تحمل الاجازة) مثلاً: حدیث: ”لا تقولوا سورة البقرة الخ“ کو امام احمد رحمہ اللہ نے منکر اور اس کے راوی ”عُبیس“ کو منکر الحدیث کہا ہے، جس کی وجہ سے علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس حدیث شریف کو موضوعات میں داخل کردیا، تو علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا اس پر سخت اعتراض نقل کیا ہے، فرماتے ہیں: ”قال ابنُ حجر فی اَمالِیْہ اَفْرَطَ ابنُ الجوزی فی اِیْرادِ ہٰذا الحدیثِ فی الْمَوْضُوْعاتِ ولَمْ یَذْکُرْ مُسْتَنَدَہ اِلَّا قولَ احمد وتضْعِیْفَ عُبَیْسَ وہٰذا لاَ یَقْتَضِیْ وَضْعَ الْحَدِیْثِ“ یعنی ابن جوزی رحمہ اللہ نے اس حدیث شریف کو موضوعات میں شمار کرکے تشدد سے کام لیاہے اور دلیل میں حضرت امام احمد رحمہ اللہ کے قول اور عبیس کی تضعیف کے علاوہ کچھ اور ذکر نہیں کیا؛ لیکن یہ بات اس حدیث کے موضوع ہونے کا تقاضہ نہیں کرتی۔ (اللآلی المصنوعہ ۱/۲۱۸) لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ پندرہویں شعبان کے روزے کی فضیلت والی حدیث کو محض اس وجہ سے موضوع کہنا کہ اس کے ایک راوی ”ابوبکر بن عبد اللہ“ پر وضعِ حدیث کا الزام ہے، بالکل غلط ہے، خود مشہور اہل حدیث عالم مولانا عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ اس حدیث کو شب براء ت کی فضیلت کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں اور اس شخص پر حجت قائم کرتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت ثابت نہیں، جیساکہ ان کی عبارت اوپر گزرگئی، اگر یہ حدیث موضوع ہوتی تو ہرگز وہ یہ بات نہ فرماتے۔ (۲) دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث شریف سنن ابن ماجہ کی ہے اور بعض حضرات نے سنن ابن ماجہ کی موضوع احادیث کی نشان دہی کی ہے اور اس سلسلے میں ایک رسالہ ”مَا تَمَسُّ اِلَیْہِ الْحَاجة“ لکھا ہے، جس میں ان تمام موضوع احادیث کو ذکر کردیاگیا ہے؛ لیکن ان میں اس حدیث شریف کا ذکر نہیں ملتا۔ (۳) درج بالا سطور میں تفصیل کے ساتھ یہ بات بیان کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث موضوع نہیں، اس کو موضوع قرار دینا محدثین کے اصول کے خلاف نیز کم علمی کی دلیل ہے، ہاں یہ حدیث شریف ضعیف ضرور ہے؛ مگر اس کا ضعف اس پر عمل کرنے سے مانع نہیں؛ کیوں کہ محدثین نے اس کی بھی صراحت کی ہے کہ ”باب الفضائل“ میں ضعیف حدیث قابل قبول ہوتی ہے؛ چناں چہ امام احمد، عبدالرحمن بن مہدی اور عبداللہ بن المبارک رحمہم اللہ تعالیٰ کا قول منقول ہے: ”اذا رَوَیْنَا فی الحلالِ والحرامِ شَدَّدْنَا واِذَا رَوَیْنَا فی الفضائِلِ ونَحْوِہَا تَسَاہَلْنَا“ جب ہم حلال وحرام کے باب میں حدیث نقل کرتے ہیں تو مکمل احتیاط اور سختی سے کام لیتے ہیں اور جب فضائل وغیرہ کے باب میں روایت کرتے ہیں تو نرمی برتتے ہیں۔ (اللآلی المصنوعہ ۱/۹۹) اسی طرح علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یَجُوْزُ عِنْدَ اَہْلِ الْحَدِیْثِ وغَیْرِہِمْ التّسَاہُلُ فی الاَسَانِیْدِ الضَّعِیْفَةِ وَرِوَایَةِ مَا سِوَی الْمَوْضُوعِ من الضّعِیْفِ والعَمَلِ بِہ من غیرِ
شب برأت کے فضائل تسبیح خانہ نے بنائے نہیں بتائے ہیں ۔۔۔!

سال بعد شب برأ ت کی رات آنی ہے نہ جانے ہم میں سے کون زندہ ہو یا نہ ہو۔۔۔۔!اس رات میں اگر برکتیں پانا چاہتے ہیں تو اس رات کی ضرور قدر کریں اس رات کے حیرت انگیز کرشمات جاننا چاہتے ہیں تو29 مارچ کو تسبیح خانہ لاہور میں ضرور تشریف لائیں ۔ شب برأت کی برکات اور فضائل تسبیح خانہ کے خود ساختہ نہیں بلکہ احادیث مبارکہ میں بیان فرمودہ ہیں چند احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں : (1)۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کیا تم جانتی ہوکہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کی یارسول اللہﷺ آپ فرمائیے۔ ارشادہوا آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اورجتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیئے جاتے ہیں اوراس رات میں لوگوں کے(سال بھرکے)اعمال اٹھائے جاتے ہیں اوراس میں لوگوں کامقررہ رزق اتاراجاتاہے۔(مشکوۃ‘جلد 1صفحہ277) (2)۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو اپنی تمام مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ‘پس اللہ تعا لیٰ اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ پرور کے۔‘‘ (صحیح الترغیب و الترھیب: ۲۷۶۷‘علامہ البانی ؒ) (3)۔شب برأت میں حضور ﷺ نےخود بھی شب بیداری کی اور دوسروں کو بھی شب بیداری کا حکم دیا اور نہ صرف حکم دیا بلکہ جاگنے کی فضیلت بھی بیان فرمائی آپ ﷺ نےفرمایا کہ جس شخص نےپانچ راتوں کو زندہ رکھا اس کیلئے جنت واجب ہوگئی (۱)آٹھویں ذوالحجہ کی رات (۲)نویں ذوالحجہ کی رات(۳)عیدالاضحی کی رات(۴)عید الفطر کی رات(۵)پندرہویں شعبان کی رات۔(ترغیب و ترھیب) (4)۔جب شعبان کی پندرھویں رات ہو تو رات کو قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات سورج غروب ہوتے ہی آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور فرماتا ہے: کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی مغفرت کروں؟ کون مجھ سے رزق طلب کرتا ہے کہ میں اسے رزق دوں؟ کون مبتلائے مصیبت ہے کہ میں اسے عافیت دوں؟ اسی طرح صبح تک ارشاد ہوتا رہتا ہے‘‘۔(سنن ابن ماجه) شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیںکہ اس رات کی خصوصیت یہ ہےکہ شروع رات سےہی اللہ تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتےہیں۔اور صبح فجر تک یہ نزول اجلال رہتاہے۔(ماثبت بالسنۃ)
شیخ الوظائف بڑی عمر کے بزرگوں سے دعا کروانے کاکیوں فرماتے ہیں۔۔۔ وجہ جان لیں ۔۔۔!

شیخ الوظائف اپنے دروس میں ایک پیکیج بیان فرماتے ہیں کہ بوڑھے حضرات ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کا احترام کریں اور انھیں اپنے لیے دعا کا عرض کریں آج آپ ’’اکابر ؒپر اعتماد‘‘ کے دوستوں کیلئے اس کی وجہ عرض کرتے ہیں: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ مومن جب 40سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا حساب آسان فرما دیتے ہیں اور جب 60 سال کی عمر کو پہنچے تو اس کو اپنی طرف رجوع و انابت نصیب فرما دیتے ہیں اور 70سال کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو قائم فرما دیتے ہیں اور اس کی برائی کو مٹا دیتے ہیں اور جب 90سال کی عمر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیتے ہیں اور اس کو اپنے اہل بیتؓ کے متعلق شفاعت کرنے کا حق دیدتے ہیں اور آسمان میں اس کے نام کے ساتھ لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ اسیر اللہ فی الارض ہے یعنی زمین میں اللہ کی طرف سے قید ی ہے ۔ ( تفسیر ابن کثیر عن ابی یعلیٰ و مسند احمد وغیرہ بحوالہ ماہنامہ القاسم زیر سرپرستی: مولانا عبد القیوم حقانی صاحب صفحہ نمبر 9نومبر 2020) آج کے دور میں بوڑھے حضرات کو کس نگاہ سے اور بے توجہی کےساتھ دیکھا جارہا ہے ہر شخص بخوبی جانتا ہے۔ تسبیح خانہ کی کوشش یہی ہے کہ بڑوں کااحترام ہماری زندگی میں آجائے ۔۔۔!
ہزاروں میل دور بیٹھی جنتی کوحضرت لاہوری نے ایک پل میں حاضر کر لیا

مولانا حاکم علی صاحب لکھتے ہیں : عبدالرشید زرگر نے بتایا کہ امام الاولیاء شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ اپنے چھوٹے بھائی مولوی محمد الیاس کے ہمراہ ایک انگوٹھی بنوانے کیلئے میری دکان پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں عبدالغنی آرامشین والے کے پاس ٹھہرا ہوا ہوں ، انگوٹھی وہاں پہنچا دینا۔ میں حضرت کے چہرے مہرے اور شخصیت سے بے حد متاثر ہوا۔ میرے ایک دوست لال دین صاحب پر کچھ جناتی اثرات تھے۔ چنانچہ شام کو انگوٹھی پہنچانے کے وقت میں نے انہیں اپنے ساتھ لیا اور حضرت کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ وہاں جا کر دوست کے متعلق ذکر کیا تو حضرت نے تفصیل پوچھے بغیر مختصر سا مراقبہ فرمایا اور اس ( جناتی) چیز کو حاضر کر لیا۔ پھر فرمایا: لو بھئی ! تمہاری ساتھی (جننی ) حاضر ہوگئی ہے اور کہہ رہی ہے کہ میں ہزاروں میل دور بیٹھی تلاوت میں مصروف تھی ، حضرت نے مجھے وہاں سے حکماً اٹھایا اور ایک لمحے کی مہلت بھی نہیں دی۔ میں کچھی ہوئی یہاں چلی آئی اور حضرت کے پیچھے کھڑی ہوگئی ، کیونکہ سامنے کھڑے ہونے کی جرات نہیں ہے ( بحوالہ کتاب: حضرت لاہوری کے حیرت انگیز واقعات ، صفحہ 446 ناشر: مکتبہ نعمان بن ثابت اردو بازار لاہور )
تبلیغی جماعت میں جنات کتنے چلے لگاتے ہیں؟

تبلیغی جماعت میں جنات کتنے چلے لگاتے ہیں؟ حضرت مولانا سید محمد شاہد صاحب سہارنپوری لکھتے ہیں کہ : حضرت مولا نا انعام الحسن صاحب نے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کو سنبھل مراد آباد میں ہونے والے 1387 ھجری کے اجتماع کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا: سنبھل اجتماع میں جنات بھی کثیر تعداد میں تشریف لائے ہیں۔ ان میں سے چالیس جنات جماعت میں تین چلے کیلئے بھی گئے ہیں۔ ایک دن ان جنات میں سے” بدرالد جی” نامی جن نے بندہ ( مولانا انعام احسن صاحب) سے بیعت ہونے پر اصرار کیا۔ لیکن میں نے اسے آپ جناب کا حوالہ دے دیا کہ آپ ہم سب کے بزرگ ہیں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے! میں مرکز جا کر دو دن رہوں گا۔ براہ کرم اس کے متعلق تفصیل سے ارشاد فرما ئیں کہ کیا کیا جائے ؟ (بحوالہ کتاب: سوانح حضرت مولانا انعام الحسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ جلد 3 صفحہ 331 ناشر: فرید بک ڈپو دہلی)
استخارہ کرنے اور گمشدہ کو واپس لانے کیلئے شیرینی تقسیم کریں

مولا نا محمد ابراہیم صاحب دہلوی لکھتے ہیں کہ : ولكل وجهة هو موليها فاستبقو الخيرات، این ماتکونوا یات بکم الله جميعا ، ان الله على كل شئی قدیر – اول آخر 11 مرتبہ درود شریف پڑھ کے اس آیت کو 1217 دفعہ پڑھیں اور عمل مکمل ہونے پر سواسیر شیرینی نابالغ بچوں کو تقسیم کر دیں۔ ان شاء اللہ 3 دن میں مقصد حاصل ہو جائے گا ( بحوالہ کتاب: طب روحانی صفحه 93 ناشر: رابعہ بک ڈپو، اردو بازارلاہور ) مولانا اعجاز احمد سنگھانوی لکھتے ہیں : کہ مفرور شخص کو جلد واپس لانے کیلئے نہایت مجرب عمل یہ ہے کہ ایک کاغذ پر یہ کلمات لکھیں: ” بحق شیخ فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علی” لکھنے کے بعد پتھر کے نیچے دبا دیں۔ مفرور شخص کے واپس آنے پر اس پتھر کے وزن کے برابر شیرینی لے کر حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کو ایصال ثواب کی نیت سے بچوں میں تقسیم کر دیں ( بحوالہ کتاب: آسان عملیات وتعویذات ،صفحہ 177 ناشر : کتب خانہ انور شاہ، کورنگی ٹاؤن کراچی ) مولانا محمد از ہر صاحب ( استاذ الحدیث جامعہ خیر المدارس ملتان) لکھتے ہیں : استخارہ کرنے اور خواب میں اپنا معاملہ دیکھنے کیلئے 1100 مرتبہ ” الرحیم” پڑھیں ۔ پھر پانچ سوروپے کی شیرینی بچوں میں تقسیم کرتے ہوئے یہ نیت کریں کہ اس کا ثواب اولیاء اللہ کو پہنچے ۔ کسی پرچے پر ” الرحیم” لکھ کر اپنے سر کے نیچے رکھ کے سوجائیں ، خواب میں معاملہ معلوم ہو جائے گا ( بحوالہ کتاب: مجربات اکابر صفحہ 201 ناشر: اداره تالیفات اشرفیه چوک فواره مالتان)