برکت والی تھیلی کا حدیث میں ثبوت

محترم قارئین! پہلے دور کے تمام اولیاء صالحین پیسے رکھنے کیلئے تھیلی استعمال فرمایا کرتے تھے اللہ پاک جل شانہ نے یہ سعادت بھی حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کو عطا فرمائی، جن کی پر خلوص محنت سے عبقری تسبیح خانے کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو اولیاء صالحین کی طرح تھیلی استعمال کرنے کی عادت پڑ گئی۔ اس کے بے شمار فوائد میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ 129 مرتبہ سورۃ کوثر کے دم والی تھیلی سے پیسے بھی چوری نہیں ہوتے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ برکت والی تھیلی صحابہ کرام کے دور میں کس طرح استعمال کی جاتی تھی؟ مولا نا ہارون معاویہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی فاقہ کشی دور کرنے کی ایک عجیب ترکیب سوجھی۔ انہوں نے کچھ کھجوریں لیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جاکر عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں برکت کی دعا فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو اکٹھا کیا اور ان میں برکت کی دعا کر کے فرمایا: انہیں اپنے تو شہ دان میں رکھ لو اور جب کبھی ضرورت ہو، اندر ہاتھ ڈال کر نکال لیا کرو، اس توشہ دان کو نہ کبھی الٹنا، نہ ہی جھاڑنا۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کھجوروں کو ایک تھیلی میں رکھ لیا۔ جب ضرورت ہوتی، ان میں سے خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے ۔ اس طرح انہوں نے بیسیوں من کھجوریں اندر سے نکال نکال کر فاقہ کش مسکینوں میں تقسیم فرمائیں۔ آپ اس تھیلی کو قیمتی سرمایہ سمجھتے ہوئے نہایت احتیاط سے اپنے پاس رکھتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے 26 سال بعد جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی ، اس دن وہ تھیلی بھی گم ہو گئی۔ لہذا اس دن کے بعد ان کی برکت والی کھجوریں نکلنا بھی ختم ہو گئیں۔ سیرت کبری جلد 2 صفحہ 831 بحوالہ سنن ترمذی، بحوالہ کتاب: کتابوں کی لائبریری میں صفحہ 118 ناشر : مکتبہ بیت العلوم ، نابھہ روڈ، انار کلی بازار لاہور

20 سیکنڈ کا مستند عمل اور آپ کی ہر دلی مراد پوری

تسبیح خانہ کا پیغام اعمال سے پلنے، بننے اور بچنے کا یقین یہی تو وہ یقین ہے جو قرآن وسنت اور تعلیماتِ اکابر متوکل علی اللہ کی حقیقت ہے۔ ایک بزرگ نے فرمایا کہ اللہ رب العزت کی ذات اقدس پر ہمیں اتنا یقین ہونا چاہیے کہ ہم اگر آدھے سے زیادہ بھی اژدھے کے منہ میں چلے جائیں تو ہمیں پھر بھی اللہ کریم کی ذات اقدس پر یقین ہونا چاہیے کہ اللہ ہمیں بچا سکتے ہیں۔۔۔! اور تسبیح خانہ کی بھی محنت یہی ہے کہ بندہ اپنے رب سے اعمال کے ذریعے جڑنے والا بن جائے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس دعا کے پڑھنے والے کے بڑے بڑے کام اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ لے لیتے ہیں جو کہ آسانی سے پورے ہو جاتے ہیں خواہ وہ جھوٹے منہ ہی پڑھ لے (مسلم)۔ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کے تمام غموں فکروں کیلئے کافی ہو جاتے ہیں (ابوداؤد)۔ تمام پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں۔ (حیاۃ الصحابہ) حَسْبِیَ اللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ (7 مرتبہ صبح و شام)

ایسی جگہ جہاں جو مانگیں ملے گا اور ہر مراد پوری ہوگی (انشاء اللہ تعالی )

(مولانا صوفی محمد اجمل طارقی، جہلم، فاضل: جامعہ امدادیہ فیصل آباد) شیخ الوظائف دامت برکاتہم کئی مرتبہ بہت سے اہلِ اللہ کے مزارات پر تشریف لے گئے ابھی حال ہی میں آپ تاجکستان کے دورہ پر گئے تو اس دورہ نے دنیا بھر میں ایک نیا شعور بیدار کیا اور اللہ کریم کے فضل وکرم سے ہمارے تانے بانے دوبارہ سے ہمارے اکابر و اسلاف سے نہایت مضبوط ہو گئے۔۔۔ شاید اس پرفتن دور میں ہمارے محسن اسلاف سے دنیا بھر کو جوڑنے کی یہ سعادت شیخ الوظائف کے حق میں لکھی ہوئی تھی۔۔۔ اللہ کریم اخلاص کا ذریعہ بنائے اور اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔۔۔ اکابر کے مزارات پر حاضری کے چند حوالہ جات مولانا نعیم الدین صاحب دامت برکاتہم (جامعہ مدنیہ قدیم لاہور کے شیخ الحدیث مکتبہ قاسمیہ اردو بازار لاہور کے مالک) لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کاظمؒ کو اللہ تعالیٰ نے وفات کے بعد بھی ان کے مزار کو یہ مقام بخشا کہ بزرگوں کے تجربہ کے مطابق وہاں جو دعا کی جائے، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتے ہیں۔ شیخ ابو علی خلالؒ کہتے ہیں کہ ”مجھے جب بھی کوئی پریشانی پیش آئی تو میں حضرت موسیٰ بن جعفرؒ کے مزار پر گیا، اور ان کے توسل سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ میرے مقصد کو آسان فرما دیا،“ (تاریخ بغداد للخطیب ص: 120، ج: 1) بغداد کے مغربی حصے رصافہ میں آپ کا مزار مبارک واقع ہے۔ اس مزار کی وجہ سے پورے علاقہ کا نام ”کاظمیہ“ ہے۔ حضرت معروف کرخیؒ کی وفات 200ھ میں ہوئی اور یہ بات اہلِ بغداد میں مشہور تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے مزار پر کی ہوئی دعا قبول فرماتے ہیں۔ خاص طور پر قحط کے زمانے میں بارش کی دعا (الطبقات الکبریٰ للشعرانی ص: 61، ج: 1) شیخ ابوعبداللہ بن الحاملیؒ فرماتے ہیں کہ ”میں معروف کرخیؒ کی قبر کے بارے میں ستر سال سے جانتا ہوں کہ جو کوئی غمزدہ وہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتے ہیں۔ (تاریخ بغداد للخطیب ص: 123، جلد 1) (کتاب: بیاضِ مجلس نفیس، ص 708، حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم، ناشر: صفہ ٹرسٹ لاہور) شیخ یافعیؒ فرماتے ہیں حضرت شیخ معروف کرخی رضی اللہ عنہ اجابتِ دعا کے سلسلہ میں مشہور تھے۔ اور اب بھی یہ بات مشہور ہے کہ ان کی قبر پر دعا قبول ہوتی ہے اور اہلِ بغداد ان کی قبر کو تریاقِ مجرب کہتے ہیں۔ (روض الریاحین: تالیف: امام عبداللہ بن اسعد یافعیؒ ترجمہ مولانا جعفر علی نگینویؒ، بحکم: مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ، تقریظ مفتی محمد شفیع صاحبؒ، ناشر: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

حور مین سے فوری شادی اور پرسکون زندگی کے خواہشمند افراد ضرور پڑھیں

تسبیح خانہ کا عزم ہے کہ دکھی انسانیت کو اللہ کریم اور اس کے حبیب ﷺ کے در سے جوڑ دیا جائے تسبیح خانہ میں یومیہ پڑھی جانے والی کتاب ”سنت کا نور ہر بلا دور“ سے ایک دعا پیش خدمت ہے پڑھیں اور جنت میں حورعین کے ساتھ اپنے نکاح کی تقریب منعقد کروائیں ”اللہ کریم کی رحمت سے“ ”اکابر پر اعتماد“ کے تمام دوستوں کو اس دعوت میں ضرور شریک کریئے گا۔۔۔! آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو یہ کلمات پڑھنے کی تلقین فرمائی اور چھ انعامات ملنے کا تذکرہ فرمایا: (1) شیطان اور اس کے لشکر سے حفاظت۔ (2) جنت میں اسے قنطار (اُحد پہاڑ سے زیادہ) اجر۔ (3) اَبْرار جیسا بلند مرتبہ عطا کرینگے۔ (4) حورعین سے اسکی شادی۔ (5) بارہ ہزار فرشتے پھیلے ہوئے باریک چمڑے پر اس کا ثواب لکھیں گے اور قیامت کے دن لے کر اس شخص کیلئے حاضر ہوں گے۔ (6) اتنا اجر ہے گویا اس نے تورات، انجیل، زبور اور قرآن کو پڑھا۔ مقبول حج عمرہ کا ثواب دیتے ہیں اور اس دن یا رات یا مہینہ میں مر گیا تو شہدا کی مہر اس پر لگا دی جائیگی۔ (تفسیر قرطبی) لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاَسْتَغْفِرُ اللہَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (صبح و شام دس مرتبہ) ہے ناں ’اکابر پر اعتماد‘ کا کمال۔۔۔ جس میں بتائے گئے اعمال سے جنت بن گئی آپ کیلئے میرج ہال

ایک مرتبہ درود شریف سے 70 ہزار مردوں کی بخشش واقعہ پڑھیں اور ابھی یہ عمل شروع کر دیں۔۔۔!

شیخ الوظائف اپنے ہفت وار دروس میں ایک سورۂ تکاثر کا عمل اکثر بیان فرماتے ہیں آج ”اکابر پر اعتماد“ کے دوستوں کیلئے مکمل حوالہ جات کے ساتھ نقل کیے دیتا ہوں۔ ایک عورت حضرت حسن بصریؒ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میری لڑکی کا انتقال ہوگیا۔ میری تمنا ہے کہ میں اسے خواب میں دیکھوں۔ حضرت حسن بصریؒ نے فرمایا عشاء کی نماز پڑھ کر چار رکعت نماز پڑھو اور ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد الہکم التکاثر پڑھو اور اس کے بعد لیٹ جا۔ اور سونے تک نبی ﷺ پر درود پڑھتی رہ اس نے ایسا ہی کیا۔ تو اس لڑکی کو خواب میں دیکھا کہ نہایت ہی سخت عذاب میں ہے۔ تارکول کا لباس اس پر ہے، دونوں ہاتھ اس کے جکڑے ہوئے ہیں اور اس کے پاؤں آگ کی زنجیروں سے بندھے ہوئے ہیں۔ وہ صبح کو اٹھ کر پھر حضرت کے پاس گئی۔ تو آپ نے فرمایا کہ اس طرف سے صدقہ کر شاید اللہ جل شانہ اس کی وجہ سے تیری لڑکی کو معاف کردے۔ اگلے دن حضرت حسن بصریؒ نے خواب میں دیکھا کہ جنت کا ایک باغ ہے اور اس میں ایک بہت اونچا تخت ہے اور اس پر ایک نہایت حسین و جمیل خوبصورت لڑکی بیٹھی ہوئی ہے۔ اس کے سر پر ایک نور کا تاج ہے۔ وہ کہنے لگی حسن تم نے مجھے نہیں پہچانا۔۔۔! میں نے کہا نہیں پہچانا کہنے لگی میں وہی لڑکی ہوں جس کی ماں کو تم نے درود شریف پڑھنے کا حکم دیا تھا (یعنی عشاء کے بعد سونے تک) حضرت حسنؒ نے فرمایا کہ تیری ماں نے تو تیرا حال اس کے برعکس بتایا تھا جو میں دیکھ رہا ہوں۔ اس نے کہا میری حالت وہی تھی جو ماں نے بیان کی تھی۔ میں نے پوچھا پھر یہ مرتبہ کیسے حاصل ہوگیا۔ اس نے کہا ہم 70 ہزار آدمی اسی عذاب میں مبتلا تھے جو میری ماں نے آپ سے بیان کیا، صلحاء میں سے ایک بزرگ کا گزر ہمارے قبرستان پر ہوا۔ انہوں نے ایک دفعہ درود شریف پڑھ کر اس کا ثواب ہم سب کو پہنچا دیا۔ ان کا درود اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسا مقبول ہوا کہ اس کی برکت سے ہم سب اس عذاب سے آزاد کر دیئے گئے اور ان بزرگ کی برکت سے یہ رتبہ نصیب ہوا۔ (القول البدیع)۔ (بحوالہ کتاب: فضائل درود شریف ص 96، مصنف: شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحبؒ، ناشر فیض کتب خانہ، لاہور) محترم قارئین! دیر کیسی آج ہی ”اکابر پر اعتماد“ کے اس پیغام کو سارے عالم میں عام کردیں نہ جانے ہم میں سے کس کا عمل اللہ کریم کی بارگاہ میں قبول ہو جائے اور اس کی وجہ سے کتنے لوگوں کی بخشش ہو جائے۔۔۔!

تسبیح خانہ میں لوگوں کو دو لاکھ 20 ہزار سے زیادہ جنت کے محل مل گئے۔۔۔ بالکل سچی خبر

(مولانا ابوبکر بھکر، قسط نمبر 401) گیارہ جمعرات تسبیح خانہ لاہور میں لاکھوں مرتبہ سے زیادہ سورہ اخلاص کا ورد کرایا گیا، دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے پر ایک جنت کے محل کا وعدہ ہے اگر فرض کریں کہ 11 جمعرات کو 22 لاکھ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھی گئی ہے (جبکہ یہ تعداد نہایت کم ہے اس سے زیادہ پڑھی گئی ہے) تو دو لاکھ 20 ہزار جنت کے محل اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کیے گئے آپ ﷺ کی حدیثِ مبارک ملاحظہ فرمائیے: امام دارمی کی صحیح روایت میں ہے کہ: جس شخص نے دس مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں ایک محل بنائے گا، اور جس شخص نے 20 مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں دو محل بنائے گا، اور جس شخص نے 30 مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں تین محل بنائے گا، تو حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: واللہ یا رسول اللہ، پھر تو ہم بہت زیادہ محل بنائیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کا (فضل و کرم) اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ (رواہ ال امام احمد 3 / 437)، وابن السنی، والطبرانی فی ”الاوسط“ عن ابی ہریرہ مرفوعاً) محترم قارئین! عبقری میں شائع ہونے اور تسبیح خانہ سے بیان ہونے والی ہر بات کے حوالہ جات اور اکابرین کے فتاویٰ جات جاننے کیلئے ”اکابر پر اعتماد“ پیج کو زیادہ سے زیادہ لائق اور شیئر کریں۔۔۔!

سورہ اخلاص پر شیخ الوظائف کے بیانات فتاویٰ جات کی روشنی میں

(مفتی عبدالباری صاحب، باغ آزاد کشمیر) قرآن و حدیث اور دین کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ سورہ اخلاص کے قرآن و سنت میں کس قدر فضائل و کمالات وارد ہوئے ہیں وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں اور کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ سورہ مبارکہ تمام توحید کا خلاصہ ہے۔ شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے اس موضوع پر 11 بیانات واقعی باکمال و لاجواب ہیں اور ان بیانات میں جو روایات بیان کی گئی ہیں وہ تمام ہمارے اکابرین نے اپنی کتابوں میں نقل کی ہیں تسبیح خانہ میں بیان کی جانے والی روایات میں سے چند کے حوالہ جات پیش خدمت ہیں: دارالعلوم انڈیا کا فتویٰ (1)۔ سورہ اخلاص کو اپنے وظیفے میں شامل کر سکتے ہیں، معتبر روایات میں اس کے دیگر بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں مثلاً ایک روایت میں ہے جو شخص دوسو مرتبہ سورہ اخلاص کی تلاوت کرے گا اس کے دوسو سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ (شعب الایمان، رقم: 23110) (2)۔ ایک روایت میں ہے: جس شخص نے ”قل ھو اللہ احد“ پڑھا اس نے گویا تہائی قرآن پڑھا، الحدیث (الدرالمنشور: 8 / 674) (فتویٰ نمبر 166573) جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ مشکاۃ شریف اور دیگر کتب میں سورہ اخلاص کے بہت سے فضائل آئے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں: (1)۔ جو شخص دن میں دوسو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے، اس سے 50 سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، الا یہ کہ اس پر کسی کا قرض ہو۔ (الترمذی والدارمی) (2)۔ جو شخص سونے کا ارادہ کرے اور دائیں کروٹ پر سوئے پھر سومرتبہ سورہ اخلاص پڑھے جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: اے میرے بندے! اپنی دائیں جانب سے جنت میں داخل ہوجا۔ (ترمذی) (3)۔ ایک آدمی کو سورہ اخلاص سے بہت محبت تھی اور اس محبت کی وجہ سے وہ اس سورت کو ہر نماز کی قراءت کے اختتام پر پڑھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس کی اس سورت سے محبت کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کردیا۔ (ترمذی 2901) (4)۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس صحابی کے متعلق جو امام تھے اور ہر نماز میں قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ ضرور پڑھا کرتے تھے اور جب ان سے اس کا سبب دریافت کیا گیا تو کہا: مجھے اس سورت سے بے حد محبت ہے۔ فرمایا: اس شخص کو خبر دے دو کہ بے شک اللہ تعالیٰ بھی اس شخص سے محبت کرتے ہیں۔ (5)۔ ایک اور حدیث میں ایک صحابی کا واقعہ آیا ہے کہ وہ ہمیشہ اور سورتوں کے ساتھ سورہ اخلاص ہر رکعت میں ضرور پڑھا کرتے تھے، جب ان سے اس کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا: مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس سورت کی محبت ہی تم کو جنت میں داخل کردے گی۔ (6)۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو (صدقِ دل سے) قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: اس شخص کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ (فتویٰ نمبر 143909201584) محترم قارئین! تسبیح خانہ کے ہر عمل کے پیچھے قرآن و سنت و اکابر کی مہر مثبت ہے ضرورت اپنے بڑوں کی زندگی سے استفادہ کرنے کی ہے۔۔۔!

مسجد کی صفائی سے دنیا و آخرت کی کمائی

(محمد صہیب رومی، لاہور) شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے تمام دروس اٹھا کر دیکھ لیں ہر درس میں اسلامی تعلیمات کا کوئی نہ کوئی پیغام نہایت ہی خوبصورت انداز سے ہوتا ہے آپ اپنے اکثر دروس میں مسجد کی صفائی پر دنیا و آخرت کی مشکلات کا حل بیان فرماتے ہیں آئیے تعلیمات نبوی ﷺ کے حسین گلستانِ ادب سے اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ہماری زندگی کا مقصد نبی ﷺ کے دین کی سرفرازی ہم اسی لیے مسلمان ہم اسی لیے نمازی حضرت عبیداللہ بن مرزوق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بی بی کا انتقال ہو گیا تھا اور حضور ﷺ کو اس کی اطلاع نہیں ہوسکی تھی کچھ دنوں کے بعد جب اس کی قبر کی طرف آپ ﷺ کا گزر ہوا تو پوچھا ”یہ نئی قبر کس کی ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! (ﷺ) یہ قبر اُمّ مِحجنؓ کی ہے پھر آپ نے پوچھا وہی اُمّ مِحجنؓ جو ہماری مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا جی ہاں! یہ سنتے ہی آپ نے قبر کی طرف منہ کر کے سوال کیا: اے اُمّ مِحجن! (رضی اللہ عنہا) بتاؤ تم نے وہاں کس عمل کو زیادہ قیمتی پایا؟ صحابہؓ پوچھنے لگے یا رسول اللہ (ﷺ) وہ کیا اب سن رہی ہیں؟ حضور ﷺ نے جواب دیا، ہاں وہ تم زندوں سے زیادہ سن رہی ہیں اس کے بعد حضور ﷺ نے ان کا جواب بھی صحابہؓ سے نقل کیا کہ وہ مسجد میں جھاڑو دینے کے عمل کو سب سے بہتر عمل بتا رہی ہیں۔ (کتاب: مرنے والوں سے ملاقات، ص 121، جمع و ترتیب: محمد اسحق ملتانی، ناشر: ادارہ تالیفات اشرفیہ) محترم قارئین! جی ہاں شیخ الوظائف آپ کو جو بھی بات یہ پیغام دیتے ہیں اس کے پیچھے قرآن و سنت اور اکابر کی بڑی دلیل ضرور ہوتی ہے۔۔۔!

بارگاہِ رسالت ﷺ سے ملا ایک لاکھ کی جگہ 15 لاکھ پانے کا نسخہ۔۔۔!

یہی تو ہے تسبیح خانہ کا پیغام ”اعمال سے بننے کا یقین ہو جائے عام“ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وظیفہ مقرر تھا۔ ایک لاکھ درہم۔ ایک ماہ وظیفہ آنے میں دیر ہوگئی اور بڑی تنگی آئی تو خیال آیا کہ خط لکھ کر یاد دلاؤں۔ قلم اور دوات منگوایا پھر یکدم چھوڑ دیا قلم کاغذ سرہانے رکھ کر سو گئے۔ خواب میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: حسن! میرے بیٹے ہو کر مخلوق سے مانگتے ہوں؟ کہا۔ تنگی آگئی ہے۔ تو فرمایا تو میرے اللہ سے کیوں نہیں مانگتا؟ کہا۔ کیا مانگوں؟ حضور ﷺ نے خواب میں مندرجہ ذیل دعا سکھائی: ”اَللّٰھُمَّ اقْذِفْ فِیْ قَلْبِیْ رَجَاءَکَ ۔ وَاقْطَعْ رَجَائِیْ عَمَّنْ سِوَاکَ حَتّٰی لَا اَرْجُوْا اَحَدًا غَیْرَکَ اَللّٰھُمَّ وَمَا ضَعُفَتْ عَنْہُ قُوَّتِیْ وَقَصُرَ عَنْہُ اَمَلِیْ ۔ وَلَمْ تَنْتَہِ اِلَیْہِ رَغْبَتِیْ وَلَمْ تَبْلُغْہُ مَسْأَلَتِیْ وَلَمْ یَجْرِ عَلٰی لِسَانِیْ مِمَّا اَعْطَیْتَ اَحَدًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ مِنَ الْیَقِیْنِ فَخُصَّنِیْ بِہٖ یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ“ ترجمہ: ”اے اللہ! ہمارے دل کو اپنی امیدوں سے وابستہ فرما اور اپنے علاوہ سے ہماری امیدیں ختم فرما یہاں تک کہ تیرے علاوہ کسی سے امید نہ ہو۔ اے اللہ! میری قوت کمزور ہوگئی۔ امید ختم ہوگئی اور میری رغبت تیری طرف ختم نہیں ہوئی۔ نہ میرا سوال تجھ تک پہنچ سکا اور میری زبان پر وہ یقین نہ جاری ہوسکا جو تو نے اولین و آخرین کو دیا۔ اے رب العالمین! مجھے بھی اس کے ساتھ خاص کردے“۔ کیا زبردست دعا ہے بیٹا یہ دعا مانگ چند دن کے بعد ایک لاکھ کے بجائے پندرہ لاکھ پہنچ گیا۔ (الارج۔ ابن ابی الدنیا 86/3۔ الدعاء المسنون۔ صفحہ 520)۔ (مرنے والوں سے ملاقات، ص 333، ترتیب: محمد اسحق ملتانی، ناشر: ادارہ تالیفات اشرفیہ) ہے ناں ’اکابر پر اعتماد‘ کا کمالجس سے آپ ہو جائیں گے مالامال دین و دنیا بھی ہو جائے خوشحال اور آخرت بھی پر جمال و باکمال

عبقری پر اعتراض کرنے سے پہلے شیخ الحدیث کا یہ پیغام ضرور پڑھ لیں۔۔۔!

(پروفیسر محمد الطاف، پاک ترک، انٹرنیشنل اسکول اینڈ کالجز) عبقری پر اعتراض کرنے والے لوگوں میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک تو وہ جن کو اپنے اکابر کی تعلیمات کا شعور ہی نہیں ہے اور دوسرے وہ لوگ جو جانتے تو ہیں لیکن ان کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ عبقری کو اتنی شہرت کیسے مل گئی۔۔۔! اللہ کریم سے دعا کیا کریں کہ اللہ کریم سدا ہمیں ”اکابر پر اعتماد“ سے جوڑے رکھے۔۔۔! ”اکابر پر اعتماد“ سے دین و دنیا بھی ہوگی خوشحال اور آخرت بھی پرجمال بے مثال و باکمال“ عبقری میں ذکر کی جانے والی کرامات، اعمال پر ملنے والے مشاہدات اور حیرت انگیز کیفیات و واردات پر اعتراض کرنے والے بھائیوں کی خدمت میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ (خلیفہ مجاز حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ) کی آپ بیتی نمبر 6 صفحہ نمبر 397 سے آپ کا ایک ملفوظ نقل کرتا ہوں جس سے ہمیں امید ہے کہ ہم اکابر پر عدم اعتماد سے توبہ کرلیں گے: ”شیخ الحدیث نے فرمایا ”سلوک کی لائن روموز و اسرارِ الٰہی سے مزین ہے بعض ایسے اسرار کے تحمل کا ہر شخص اہل نہیں ہے۔ اس لیے ایسے واقعات کے بارے میں اپنی ناقص عقل پر نہیں جانا چاہیے بلکہ یوں سوچنا چاہیے کہ میں ابھی نابالغ ہوں اور اس لائن کے بالغوں کی کئی باتوں سے ناواقف ہوں۔“

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026