حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جنات سے ملاقات

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کسی جن کے ساتھ ملاقات ہوئی تو اس نے کہا:"آپ مجھ سے کشتی لڑیں گے؟”چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کشتی میں پچھاڑ دیا اور فرمایا:"کیا بات ہے کہ میں تمہیں بہت کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے ہاتھ کتے جیسے ہیں۔ کیا تم جنات میں سے ہو؟”جن بولا: "ہاں… لیکن کیا آپ رضی اللہ عنہ آیت الکرسی پڑھتے ہیں؟ جو شخص بھی گھر میں داخل ہوتے وقت آیت الکرسی پڑھ لے، تو شیطان وہاں سے گدھے کی طرح گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے۔” (بحوالہ کتاب: مصائب الانسان من مكائد الشیطان، صفحہ 142، مصنف: شیخ ابن مفلح) محترم قارئین! عبقری میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی جنات سے ملاقات والے واقعات پڑھ کر جو لوگ شک و شبہ میں پڑ جاتے ہیں، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق کیا کہیں گے؟
سات صدیاں پرانا جُبّہ

جو لوگ کہتے ہیں کہ جنات سے ملاقات من گھڑت کہانیاں ہیں، اب تک ان کے سامنے اکابرینِ امت کے درجنوں دلائل پیش کیے جا چکے ہیں، جن میں جنات سے ملاقات کا ثبوت موجود ہے۔ اس کے برعکس اعتراض کرنے والوں کے پاس اس بات کے سوا کوئی دلیل نہیں کہ "یہ بات ہماری عقل میں نہیں آتی”۔ اب ایک اور حوالہ ملاحظہ فرمائیں: حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ امام ابن جوزی نے حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت بیان کی:انہوں نے کسی مقام پر ایک بوڑھے جن کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جس نے اُون کا جبّہ پہنا ہوا تھا اور اس پر بڑی روانی محسوس ہو رہی تھی۔ حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:نماز سے فارغ ہونے پر میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے جواب دے کر فرمایا:”تم اس جبّے کی روانی پر تعجب کر رہے ہو؟ یہ جبّہ سات سو سال سے میرے بدن پر ہے۔ اسی جبّے میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیارت کی، اور اسی جبّے میں مجھے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ کیونکہ میں ان جنات میں سے ہوں جن کے متعلق سورۃ الجن نازل ہوئی تھی۔” (دیکھیے تفسیر مظہری بحوالہ کتاب سنہرے قصے، صفحہ 191، مصنف: متقی محمد عاصم عبداللہ،رئیس دارالافتاء جامعہ حمادیہ ناشر، جامعہ حمادیہ، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
سفید مرغ 16 گھروں کی حفاظت کرتا ہے

کچھ عرصہ پہلے تسبیح خانے میں درس کے دوران سفید مرغ کے کمالات بتائے گئے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں۔ بھلا مرغ کا سکون اور سلامتی سے کیا رشتہ؟ حالانکہ ایسے حضرات کو سوچنا چاہئے تھا کہ بھلا دینی امور کے ساتھ کم عقلی کا کیا رشتہ؟ 1400 سال پہلے نازل ہونے والی شریعت میں آقائے دو جہاں ﷺ نے جن باتوں کو کائنات میں بسنے والے انسانوں اور جنات کے سامنے پیش کر دیا، بھلا آج ایسی کون سی تبدیلی آ گئی ہے کہ ان باتوں سے انکار کر دیا جائے؟ کیا آج کا انسان روٹی کی بجائے چارہ کھانا شروع ہو گیا ہے؟ کیا آج کا انسان لباس کی بجائے چیتے کی کھال سے جسم ڈھانپنا شروع ہو گیا ہے؟ کیا آج کا انسان زمین کی بجائے جنت الفردوس کا باسی بن گیا ہے؟ اگر ایسا کچھ نہیں ہوا تو جان لیں کہ ہمیں بھی انہی احتیاطوں کی ضرورت ہے جو آج سے 1400 برس پہلے بتائی گئی تھیں۔ الحمدللہ! عبقری اور تسبیح خانے کا عالمی مقصد یہی ہے کہ مخلوقِ خدا کو ایسے آزمودہ وظائف اور آسان ٹوٹکے بتائے جائیں، جن کی برکت سے ان کی دنیاوی زندگی بھی خوشحال ہو جائے اور آخرت بھی بہترین۔ امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"سفید مرغ رکھا کرو، کیونکہ جس گھر میں سفید مرغ ہو، وہاں نہ تو شیطان اس گھر کے قریب ہوگا، نہ جادوگر اور نہ کوئی درندہ ان گھروں کے قریب آئے گا جو اس گھر کے اردگرد ہیں”۔ (رواہ فی الأوسط) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"مرغ نماز کے لیے اذان دیتا ہے، اور جو شخص سفید مرغ رکھے گا، اس کی تین چیزوں سے حفاظت کی جائے گی:1۔ شیطان کے شر سے2۔ جادوگر کے شر سے3۔ کاہن کے شر سے” (رواہ فی شعب الایمان) امام حارث بن ابی اسامہ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"سفید مرغ میرا دوست ہے اور میرے دوست کا بھی دوست ہے۔ یہ اپنے مالک کے گھر کی بھی نگہبانی کرتا ہے اور اس کے اردگرد کے سات گھروں کی بھی نگہبانی کرتا ہے”۔ (مسند حارث) حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"شاخ دار کلغی والا سفید مرغ میرا دوست ہے اور میرے دوست حضرت جبریل علیہ السلام کا بھی دوست ہے۔ یہ اپنے گھر کی بھی حفاظت کرتا ہے اور اپنے پڑوس کے 16 گھروں کی بھی حفاظت کرتا ہے: 4 دائیں طرف، 4 بائیں طرف، 4 سامنے سے اور 4 پیچھے سے”۔ (رواہ ابو الشیخ فی کتاب العظمة) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:"سفید مرغ کو برا بھلا مت کہو، اس لیے کہ یہ میرا دوست ہے اور میں اس کا دوست ہوں، اور اس کا دشمن میرا دشمن ہے۔ جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے، یہ جنات کو دفع کرتا ہے”۔ (رواہ ابن حبان)
کشف کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے — امام ابن تیمیہ کا فتویٰ

حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ایسے واقعات، جن میں جنات کو دیکھنے، ان سے ملاقات کرنے، کشف القبور اور کشف الارواح کا ذکر ہو، یا ایسے واقعات جن میں تھوڑے وقت میں زیادہ سفر کرنا، ایک ہی وقت میں کئی جگہ نظر آنا وغیرہ کا بیان ہو، کچھ لوگوں کی عقل میں نہیں سماتے اور وہ فوراً فتویٰ لگا دیتے ہیں کہ ایسے تمام علوم غیر شرعی ہوتے ہیں۔ حالانکہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ کشف اور تصرفات کی طرح بعض خرقِ عادت امور بھی ہوتے ہیں۔ کشف کا تعلق علم سے ہے اور تصرفات کا تعلق قدرت سے ہے۔ تو اگر کوئی انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مرضیات حاصل کرنے کے لیے کشف اور تصرفات سے مدد لے، تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا درجہ مزید بلند ہو جاتا ہے، اور اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔ (بحوالہ کتاب: مجموعۃ الفتاویٰ لابن تیمیہ، جلد 11، صفحہ 299، ناشر: مجمع الملک فہد، المدینہ المنورہ)
چین کا ایسا مکان منظر پہ آ گیا جہاں سے غیبی آواز کے ذریعے راستہ بتایا جاتا ہے

محترم قارئین! عبقری میں علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ہر دلعزیز کالم "جنات کا پیدائشی دوست” میں بعض اوقات ایسی قدیم اور پُراسرار عمارتوں کا تذکرہ سامنے آتا ہے، جن میں جنات کا بسیرا ہوتا ہے۔ چین میں ایک ایسی ہی پُراسرار عمارت کا انکشاف علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ پر بھی ہوا تھا۔ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: شیخ عیسیٰ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حجاج بن یوسف کو معلوم ہوا کہ چین میں ایک ایسا مکان ہے کہ اگر لوگ راستہ بھول جائیں تو اس مکان میں سے آواز آتی ہے کہ صحیح راستہ اس طرف ہے، جبکہ آواز دینے والا دکھائی نہیں دیتا۔ حجاج بن یوسف نے کچھ لوگ وہاں بھیجے اور کہا کہ تم جان بوجھ کر راستہ بھول جانا اور جب غیبی آواز سنو تو اس پر حملہ کر دینا۔ چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا اور حملہ کر دیا۔ اسی وقت غیبی آواز آئی کہ: "تم لوگ ہم کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔” انہوں نے پوچھا: "تم کون ہو اور یہاں کتنے عرصے سے آباد ہو؟”آواز آئی: "ہم جنات ہیں اور عرصے کے متعلق تو بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ ملک چین آٹھ مرتبہ تباہ ہو کر پھر آباد ہوا، ہم تب سے یہاں مقیم ہیں۔” ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: "کیا جنات پر بھی موت آتی ہے؟”فرمایا: "ہاں، ابلیس کے علاوہ باقی جنات پر موت آتی ہے۔ اور یہ جو تم سانپوں کی ایک قسم ‘الجان’ دیکھتے ہو، یہ چھوٹے جن ہوتے ہیں۔” (رواہ ابوالشیخ فی کتاب العظمة)
صرف 10 روپے میں بیماریوں اور گناہوں سے نجات ہے

کچھ عرصہ پہلے تسبیح خانے میں صدقات و خیرات کے ذریعے روحانی و جسمانی امراض سے بچنے کا ایک عمل بتایا گیا کہ اپنی روزانہ یا ماہانہ آمدنی کا اڑھائی فیصد حصہ الگ نکال لیا کریں۔ یا ایسا کریں کہ ایک ڈبہ علیحدہ رکھ لیں اور روزانہ چھوٹا یا بڑا نوٹ اپنے پورے جسم پر پھیر کر اس ڈبے میں ڈالتے جائیں۔ جب کافی رقم جمع ہو جائے تو کسی ایسے مستحق تنگ دست رشتہ دار یا اجنبی کو دے دیں، جو مانگنے والا نہ ہو۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر کے ہاں اس عمل کی کیا حیثیت ہے؟ مولانا حمید الرحمان صاحب (کراچی) لکھتے ہیں کہ گزشتہ سال اکتوبر (2017ء) میں بندہ حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے دفتر میں بغرض ملاقات موجود تھا۔ اس دوران ایک صاحب آکر پوچھنے لگے کہ صدقہ کرنے کی بہتر صورت کیا ہے؟ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ بزرگوں کا طریقہ یہ رہا ہے کہ اپنی آمدنی میں سے کچھ حصہ مخصوص کر دیا جائے مثلاً ایک فیصد یا دس فیصد، یا جتنی بھی استطاعت ہو، اس حساب سے متعین کر لیا جائے اور پھر وہ پیسہ صدقے کے طور پر دے دیا جائے۔ اسی طرح "ماہنامہ البلاغ مفتی اعظم نمبر” میں بھی اکابر کی مثالیں ملتی ہیں۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم اپنے تاثراتی مضمون "میرے والد میرے شیخ” میں رقمطراز ہیں: حضرت والد صاحب (مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ) کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا بہت شوق تھا اور اس کیلئے جو طریقہ کار اپنایا ہوا تھا وہ بڑا سبق آموز اور لائقِ تقلید ہے۔ آپ کا معمول یہ تھا کہ زکوٰۃ ادا کرنے کے علاوہ آپ کے پاس جب بھی کوئی رقم آتی تو اس کا ایک متعین حصہ فوراً علیحدہ فرما لیتے اور طے کیا ہوا تھا کہ آمدنی اگر محنت سے حاصل ہوئی ہے تو بیسواں حصہ (پانچ فیصد) اور اگر کسی محنت کے بغیر حاصل ہوئی ہے (مثلاً انعام، ہدیہ، تحفہ وغیرہ) تو اس کا دسواں حصہ فوراً علیحدہ نکال لیا جائے۔ صندوقچی میں ایک تھیلا آپ کے پاس ہمیشہ رہتا تھا، جس پر "صدقہ و مبرات” لکھا رہتا تھا۔ تنگ دستی کا زمانہ ہو یا فراخی کا، آمدنی کا مذکورہ حصہ آپ فوراً اس تھیلے میں رکھ دیتے تھے، اور جب تک یہ حصہ "صدقہ و مبرات” کے تھیلے میں نہ چلا جاتا، اس وقت تک اس آمدنی کو استعمال نہیں فرماتے تھے۔ اگر دس روپے بھی کہیں سے آتے تو فوراً اس کے چھوٹے نوٹ بدلوا کر ایک روپیہ اس تھیلے میں رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے (بحوالہ: ماہنامہ البلاغ مفتی اعظم نمبر، جلد ۱، صفحہ 459) اسی طرح البلاغ مفتی اعظم نمبر کی دوسری جلد میں حضرت مفتی عبدالحکیم صاحب رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا تھانوی اپنی کمائی کا ایک تہائی حصہ خیرات کر دیا کرتے تھے اور مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب اپنی کمائی کا ایک خمس (یعنی پانچواں حصہ) خیرات کرتے تھے۔ حضرت مولانا سید اصغر حسین صاحب کو دیکھا کہ ان کے پاس تین چپاتیاں آتی تھیں، ان میں ڈیڑھ چپاتی خود تناول فرماتے، ایک چپاتی خیرات کر دیتے تھے اور آدھی کسی کو ہدیہ کر دیتے تھے (بحوالہ: ماہنامہ البلاغ مفتی اعظم نمبر، جلد ۲، صفحہ ۸۹۱)
یہ عمل صرف ایک مرتبہ کرنے سے حافظہ مضبوط ہو جائے گا
کچھ عرصہ پہلے تسبیح خانے سے ” تیس روزے تیس عبادتیں” نامی ایک قیمتی کتاب شائع ہوئی۔ جس میں لاجواب حافظہ پانے کا ایک مجرب عمل لکھا ہوا تھا۔ بعض لوگوں نے اس کے مزید دلائل مانگے ، جو گزشتہ پوسٹوں میں دے دیے گئے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر کے ہاں حافظہ مضبوط بنانے کیلئے کون کون سے اعمال جاری تھے اور یہ بھی سوچتے ہیں کہ کیا ہمارے اکابر کے ان اعمال پر بھی ایسے ہی اعتراض کیا جاتا تھا، جیسے عبقری کے متعلق کیا جاتا ہے؟ حضرت خواجہ احمد دیر بی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور زمانہ کتاب میں لکھتے ہیں کہ اگر تم چا ہو کہ پڑھی ہوئی بات کبھی نہ بھولو تو کچھ بھی پڑھنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لیا کرو : اللهم افتح على فتوح العارفين بحكمتك وانشر على رحمتك وذكر في ما نسيت ياذا الجلال والاكرام – امام کلبی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ان کا بیٹا قرآن مجید میں سے جو یاد کرتا تھا، اسے بھول جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دن انہوں نے خواب دیکھا کہ اپنے بیٹے کیلئے یہ آیات لکھو : الرحمن – علم القرآن – خلق الانسان علمه البيان الشمس والقمر بحسبان – ان علينا جمعه وقرآنه . فاذا قراناه فاتبع قرآنه ثم ان علينا بیانه بل هو قرآن مجید في لوح محفوظ سنقرئك فلا تنسى – اقرا وربك الاكرم الذي علم بالقلم – علم الانسان مالم يعلم لکھنے کے بعد ان آیات کو پانی سے دھو کر بچے کو پلا دو۔ یہ عمل بس ایک ہی مرتبہ کرنا کافی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ عمل ایک ہی دفعہ کیا تو میرا بیٹا آسانی سے حافظ قرآن بن گیا (بحوالہ کتاب: مجربات دیر بی صفحه 399 ناشر: مشتاق بک کارنر، اردو بازار لاہور )
حل مشکلات کیلئے اکابر کا آزمودہ نقش

زیر نظر حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں لکھے ہوئے نقش کا عکس پیش کیا گیا ہے۔ جس میں واضح طور پر ” اصحاب کہف” کے نام پڑھے جاسکتے ہیں۔ الحمد للہ عبقری میں بھی اکابر کی ترتیب کے عین مطابق ” اصحاب کہف” کے مبارک ناموں کے وسیلے سے دعا کی قبولیت اور جادو سے نجات کے واقعات شائع ہوتے رہتے ہیں۔ جو لوگ عبقری وظائف کے متعلق من گھڑت اور خود ساختہ ٹوپی ڈرامہ جیسے الفاظ ادا کرتے ہیں ، وہ حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق کیا فرمائیں گے؟
جو مکان نہ بکتا ہو، وہاں یہ عمل کریں
شیخ الحدیث مولانا جلیل احمد اخون صاحب لکھتے ہیں کہ مفتی اعظم پاکستان، حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا فلیٹ برائے فروخت رکھا لیکن وہ بک نہیں رہا تھا۔ حضرت نے مجھے ایک عامل کے پاس بھیجا، کہ ان سے کوئی وظیفہ پوچھ کر آؤں۔ اس عامل نے کہا کہ مکان میں بیٹھ کر 14 ہزار مرتبہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کا ختم کروائیں تو مکان بک جائے گا۔ حضرت مفتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اس کام پر میری ڈیوٹی لگائی۔ میں مدرسے کے چند ساتھیوں کو لے کر وہاں گیا اور ہم نے بیٹھ کر وظیفہ ختم کیا، جس کے چند دن بعد مکان بہترین قیمت پر فروخت ہو گیا (بحوالہ کتاب: جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں بیتے ہوئے دن، صفحہ 174 ناشر: مکتبہ حکیم الامت، عید گاہ بہاول نگر) محترم قارئین! اس واقعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ چھوٹی بڑی ضروریات زندگی میں اعمال کا سہارا لینا صرف تسبیح خانے کی ترتیب نہیں، بلکہ ہمارے تمام اکابر و اسلاف کی ترتیب ہے۔ جو جتنا زیادہ اعمال کی طرف راغب ہوتا چلا جائے گا، وہ اتنا ہی زیادہ اللہ جل شانہ کا قرب اور آقا سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی پاتا چلا جائے گا۔ یہی مقصد ہے عبقری تسبیح خانے کا اور یہی مشن ہے تمام اکابر واسلاف صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کا۔ جس طرح گزشتہ دور میں اللہ تعالیٰ اپنے دین کی تجدید کا کام اپنے مقرب اولیائے کرام سے لیتا تھا، اسی طرح موجودہ دور میں یہی کام حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ سے لیا جا رہا ہے۔ اللہم زد فزد
مفتی اعظم پاکستان کے مکان پر جنات کا قبضہ ایک روحانی عامل کی فوری مدد

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ روحانی عملیات سب ٹوپی ڈرامہ ہے۔ حقیقت میں "جن” نہیں ہوتا، بلکہ عاملوں کے من گھڑت قصے ہوتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف جب ہم اپنے اکابر واسلاف کے واقعات پڑھتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ جادو اور جنات کائنات کے ایسے حقائق ہیں، جن کے سامنے بعض اوقات انسان بے بس ہو جاتا ہے اور جب تک وظائف / روحانی عملیات کے ذریعے خدائی مدد حاصل نہ کرلے، تب تک گھر میں سکون نہیں آتا، کاروبار میں برکت نہیں ہوتی، عہدے میں ترقی نہیں ملتی، صحت تندرستی برقرار نہیں رہتی حتی کہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں بنتی۔ شیخ الحدیث مولانا شاہ جلیل احمد اخون صاحب لکھتے ہیں کہ فقیہ العصر مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمتہ اللہ علیہ کی رہائش جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے قریب ایک فلیٹ میں تھی۔ بعد میں انہوں نے پٹیل پاڑہ میں کوٹھی نما مکان بنالیا اور کچھ عرصے کیلئے وہ مکان خالی پڑا رہا، جس پر جنات نے قبضہ کر لیا۔ حضرت مفتی صاحب اس سلسلے میں لالو کھیت کے ایک عامل کے پاس تشریف لے گئے جو حضرت کے دیرینہ دوست تھے۔ انہوں نے معاملے کی تفصیل سنی اور اگلے دن حضرت کے ہاں آکر کچے تعویذات دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعویذات اس مکان کے ہر کمرے میں پورے سات دن تک جلانے ہیں۔ حضرت مفتی صاحب نے تعویذات جلانے کی ڈیوٹی میرے ذمے لگائی۔ چنانچہ میں روزانہ رات کو دس بجے اس مکان میں جاتا اور ہر کمرے میں تعویذ جلاتا۔ سات دن کے بعد اس عامل نے دوبارہ آکر مکان کا جائزہ لیا اور تصدیق کی کہ اب یہ مکان بالکل ٹھیک ہے۔ لہذا حضرت مفتی صاحب نے اپنا سامان اس مکان میں شفٹ کر لیا. (بحوالہ کتاب: جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں بیتے ہوئے دن، صفحہ 174 ناشر: مکتبہ حکیم الامت، عید گاہ بہاول نگر)