تنگ کرنے والے خود چوکیدار بن گئے

قارئین! جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم العالیہ کا مضمون پڑھ کر کچھ لوگ اپنی عقل کے شکستہ پیمانے پر اسے تولتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ ایسے من گھڑت واقعات ہیں، جو اولین و آخرین میں کسی کے ساتھ رونما نہیں ہوئے، تو آج کس طرح یہ سب ہو سکتا ہے؟ ایسے تمام حضرات کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ قرآن و حدیث کی طرف رجوع کریں اور ان میں چھپے ہوئے قیمتی موتی اپنے دامن میں سمیٹ کر اپنے عقائد کی اصلاح کریں۔ ہمارے اکابر واسلاف نے جنات سے ملاقات کرنے کے واقعات اتنی کثرت سے بیان کیے ہیں، جن کا انکار کرنا ایک صحیح العقل انسان کے بس کی بات نہیں۔ مثلاً مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ صحابی رسول حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک دفعہ میں حمص سے چلا تو راستے میں رات کے وقت ایک جگہ وہاں کے جنات میرے پاس آگئے۔ میں نے اسی وقت سورہ اعراف کی یہ آیت پڑھی: "إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ”۔ یہ سنتے ہی جنات نے ایک دوسرے سے کہا: اب تو صبح تک اس کا پہرہ دینا پڑے گا۔ چنانچہ انہوں نے ساری رات (مجھے تنگ کرنے اور ڈرانے دھمکانے کی بجائے) میرا پہرہ دیا۔ صبح کو میں سواری پر بیٹھا اور آگے چل پڑا۔ (اخرجہ الطبرانی، بحوالہ کتاب: حیات الصحابہ صفحہ ۴۵۹ حصہ سوم، ناشر: زمزم پبلشرز، کراچی) علامہ مفتی فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ جب صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ واپس لوٹے تو راستے میں مقام جحفہ پر قیام کیا اور فرمایا: تم میں سے کون باہمت ہے جو فلاں کنویں سے پانی لے آئے، میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ ایک صحابی نے عرض کی کہ میں جاتا ہوں۔ حضرت سلمہ بن اکوع بھی ان کے ساتھ تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ جب ہم کنویں کے قریب پہنچے تو وہاں کے درختوں سے عجیب و غریب آوازیں آرہی تھیں اور ان سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے۔ ہم ڈر کے واپس آگئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنات تھے، اگر تم میرے کہنے کے مطابق چلے جاتے تو وہ تمہیں کچھ نہ کہتے۔ پھر ایک اور جماعت بھیجی، وہ بھی ڈر کر واپس لوٹ آئی۔ بالآخر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر پانی لینے بھیجا۔ ان کے ساتھ بھی ایک جماعت تھی جو ایسا خوفناک منظر دیکھتے ہی ڈر گئی جتنے کہ ان خوفناک درختوں سے کٹے ہوئے سر ظاہر ہونے لگے۔ مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ڈرو نہیں! یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اور "أعوذ بالرحمن” پڑھتے ہوئے کنویں کے قریب پہنچ گئے۔ کنویں میں سے پانی نکالنا شروع کیا تو وہاں سے بھی قہقہوں کی خوفناک آوازیں آتی رہیں، مگر انہوں نے اطمینان سے پانی بھرا اور واپس آگئے۔ راستے میں ہاتفِ غیبی کی آواز آئی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں منقبت پڑھ رہا تھا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر ماجرا سنایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہاتف "عبداللہ جن” تھا، جس نے بتوں کے شیطان مسعر کو کوہِ صفا میں قتل کیا تھا۔ (بحوالہ کتاب: جن ہی جن صفحہ 118، ناشر: سیرانی کتب خانہ، نزد سیرانی مسجد بہاول پور) محترم قارئین! بھلا ایسی بدقسمتی کس پر غالب ہوگی جو حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بیان کردہ حقائق کو خودساختہ کہانیاں کہہ کر رد کرتا پھرے۔

ہمارے اکابر جسمانی علاج بھی روحانی طریقے سے کرتے

مولانا حکیم خلیل احمد صدیقی صاحب ( حال مقیم مدینہ منورہ) لکھتے ہیں کہ : جامعہ خیر المدارس کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد صدیق رحمة اللہ علیہ ایک عالم با عمل اور متبع سنت ہونے کے ساتھ ساتھ عامل کامل اور روحانی معالج بھی تھے۔ ان کو جادو، جنات کے خاتمے میں مہارت تامہ حاصل تھی ۔ بڑی جرات سے علاج کرتے اور کامیاب ہوتے ۔ حتیٰ کہ جسمانی امراض کا علاج بھی روحانی علاج سے کرتے ۔ شیخ محمد موسی روحانی بازی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح ان کے بعض تعویذات بہت مجرب تھے ( بحوالہ : ماہنامہ الخیر ملتان ، اکتوبر 2018ء صفحہ 16 ایڈیٹر:مولانا محمد حنیف جالندھری، ناشر : جامعہ خیر المدارس ، ملتان) محترم قارئین! درج بالا واقعے میں بیان کردہ ثبوت کی طرح ہمارے تمام اکابرو اسلاف ہی روحانی دنیا سے وابستہ تھے۔ اب اگر انہی اکابر واسلاف کی نقل کرتے ہوئے ماہنامہ عبقری اپنے قارئین کو مشکلات سے نجات کے وظیفے بتادے تو اس پر من گھڑت اور خود ساختہ ٹوپی ڈرامے کی مہر لگا دی جاتی ہے۔ حالانکہ انہی وظائف کے ذریعے ہمارے اکابر نے اپنے اپنے زمانے میں مخلوق خدا کو خیر و برکت کی راہوں پر لگایا اور انہیں مشکلات سے نکلنے کا رستہ دکھایا۔ کچھ لوگ جو عبقری کے متعلق شک و شبے کا شکار ہیں، وہ یہ تو دیکھیں کہ اگر ہم عبقری کے متعلق ایسا غلط نظریہ رکھتے ہیں تو پھر ان تمام اکابر و اسلاف پر بھی نعوذ باللہ من گھڑت اور خود ساختہ ٹوپی ڈرامہ وظائف بیان کرنے کا الزام لگ جائے گا !!!

اولاد اور کاروبار پر کبھی زوال نہیں آئے گا

عبقری اور تسبیح خانے میں اکثر ایک عمل بتایا جاتا ہے کہ آئینے میں اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے "بسم الله مَا شَاءَ اللهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله " پڑھنے سے انسان کو لگی ہوئی نظر بدٹوٹ جاتی ہے، جادو بڑی آسانی سے ڈھل جاتا ہے اور جنات پیچھا چھوڑ دیتے ہیں۔ جن مردو خواتین کو مخصوص امراض لاحق ہوں ، ان کیلئے یہ عمل اتنا کار گر ثابت ہوا ہے کہ سینکڑوں لوگوں کے مشاہدات تحریری طور پر سامنے آئے۔ اگر یہی کلمات اپنی اولاد کو دیکھتے ہوئے پڑھے جائیں تو اولاد بیماریوں ، حادثات اور گناہوں سے محفوظ رہتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی لا علمی کی بناء پر بلا وجہ کا اعتراض کرتے ہیں کہ عبقری اور تسبیح خانے سے بتایا جانے والا کوئی بھی عمل مستند نہیں ہوتا۔ حالانکہ ان کی یہ بات حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ جل شانہ نے ایک شخص کو اپنی ولایت کیلئے چنا ہو اور وہ لوگوں کو اسی رب سے دور کر دے؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ تسبیح خانے اور عبقری میں بیان کیے جانے والے اس عمل کے پیچھے کن ہستیوں کا فرمان پوشیدہ ہے زبدة المحدثین علامہ سید صدیق حسن خان بھو پالی (مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں کہ امام مالک رحمة اللہ علیہ نے گھر کے دروازے پر یہ آیت لکھوائی ہوئی تھی ماشاء اللہ قوة الا باللہ کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: سورہ کہف میں ارشاد ہے کہ آدمی کو اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت یہ آیت پڑھ لینی چاہئے۔ پس میرا گھر میرا باغ ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے اہل (بیوی بچوں میں اور مال کاروبار، زمینداری تجارت) میں ہمیشہ خوشی دیکھے، تو اسے چاہئے کہ انہیں دیکھتے ہوئے یہ آیت پڑھ لیا کرے۔ کیونکہ اس کی برکت سے ان پر موت کے سوا کوئی آفت نہیں آئے گی. (ذکرہ الشرجی بلا تخریج) نواب سید محمد صدیق حسن خان بھوپالی رحمة اللہ علیہ اس سے آگے لکھتے ہیں کہ میں نے اس عمل کا تجربہ کیا تو اس صحیح پایا۔ (حوالہ کتاب: الداء والدواء صفحه 54 ناشر: اسلامی کتب خانہ افضل مارکیٹ، اردو بازار، لاہور ) محترم قارئین ! اس موضوع کے متعلق اگر آپ کے پاس بھی حوالہ جات ہوں تو ہمیں ضرور بھیجیں، تا کہ جو لوگ قرآن وسنت سے ماخوذ وظائف کو خود ساختہ اور من گھڑت کہہ کر مخلوق خدا کے دل میں وساوس پیدا کرتے ہیں ان لوگوں کی اصلاح اور ہدایت کیلئے محنت اور دعا کی جاسکے۔

شرعی تعویز کے جائز ہونے کا فتویٰ

قسط نمبر 123شرعی تعویز کے جائز ہونے کا فتویٰ اکابر پر اعتماد ماہنامہ عبقری کا بنیادی مقصد لوگوں کے دکھوں کا مداوا اور پریشانیوں کا حل ہے اور ہمارے اکابر نے دکھوں اور بیماریوں کے حل کیلئے جہاں دیگر اسباب اختیار کیے، وہاں ایک سبب تعویذات کا بھی استعمال کیا ۔ کچھ لوگ اپنی کم علمی یا لاعلمی کی بناء پر ان تعویذات کو شرک کہتے ہیں۔ کراچی کے نہایت معتمد علمی ادارے ( جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن ) کا تعویذات کی تائید میں فتویٰ پیش خدمت ہے۔ اُمید ہے یہ فتویٰ علمی ذوق رکھنے والے حضرات کیلئے تسلی کا باعث بنے گا۔ اللہ پاک اکا بر و اسلاف کا علمی دفاع کرنے والے ان حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ سوال : ( کسی نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر سوال پوچھا کہ ) تعویذ کے جواز کے دلائل کیا ہیں؟ جواب: حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا، اللہ تعالیٰ کی قدرت و کبریائی پر مشتمل کلمات تعوذ اپنے سمجھ دار بچوں کو یاد کراتے تھے اور جو بچہ سمجھ دار نہ ہوتا ، اُس کے گلے میں وہ کلمات لکھ کر تعویذ کی شکل میں ڈال دیتے تھے” ۔ یہی تعویذ کی حقیقت ہے۔ اُن کے اس عمل سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت پر مشتمل پر اثر کلمات کا تعویذ جائز ہے۔ باقی حدیث میں جن تعویذات کے استعمال کرنے کی ممانعت آئی ہے ، اس سے مراد وہ تعویذ ہیں، جن میں شرکیہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہوں یا اس کے مؤثر بالذات ہونے کا عقیدہ رکھا جاتا ہو یا کلمات مجہولہ یا نا معلوم منتر اس میں ہوں۔ فقہاء کرام نے نصوص میں غور و فکر کر کے تعویذات اور عملیات کے ذریعے علاج کرنے اور اس پر معقول معاوضہ لینے کو چند شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے : (1) ان کا معنی و مفہوم معلوم ہو (۲) ان میں کوئی شرکیہ کلمہ نہ ہو، (۳) ان کے مؤثر بالذات ہونے کا اعتقاد نہ ہو (۴) عملیات کرنے والا علاج سے واقف اور ماہر ہو ، فریب نہ کرتا ہو۔ لہذا ایسے تعویذ اور عملیات جو آیات قرآنیہ، ادعیہ ماثورہ یا کلمات صحیحہ پر مشتمل ہوں ان کو لکھنا ، استعمال کرنا اور ان سے علاج کرنا شرعاً درست ہے۔

چور جس طرف بھی جاتا ، اندھا ہو جاتا

ماہنامہ عبقری میں مخلوق خدا کے نفع کیلئے ایسے کئی اعمال شائع ہو چکے ہیں، جن کی برکت سے مال و اسباب کے چوری ہونے سے حفاظت رہتی ہے، اور اس میں اہم بات یہ کہ عبقری میں دیا جانے والا کوئی بھی عمل شریعت سے نہیں ٹکراتا ، یعنی ہر عمل قرآن و سنت ، صحابہ واہل بیت رضی اللہ عنہم یا اکابر و اسلاف رحمہم اللہ کے معمولات زندگی میں موجود ہوتا ہے۔ کچھ لوگ عبقری کے وظائف کے متعلق شک و شبہے کا اظہار کرتے ہیں، تو انہیں چاہئے کہ اپنے اکابر واسلاف کے حالات زندگی کا مطالعہ کرنا بھی اپنی مصروفیات میں شامل کر لیں۔ اس سے ناصرف علم میں اضافہ ہوگا، بلکہ اکابرین امت کی طرح زندگی عافیتوں اور برکتوں کا مجموعہ بھی بن جائے گی۔ ان شاء اللہ ! مفتی محمد فاروق صاحب ( مدرس جامعہ فاروقیہ ) لکھتے ہیں کہ : حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی جب بھی حرم شریف میں داخل ہوتے تو جوتے دروازے پر ہی چھوڑ جاتے ، حالانکہ وہاں جوتے کا محفوظ رہنا بہت مشکل تھا لیکن حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی کا جوتا کبھی چوری نہ ہوتا۔ لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجب تھا۔ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ آپ کا جوتا چوری نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ تو فرمانے لگے کہ میں جس وقت جوتا اتارتا ہوں ، تو یہ نیت کر لیتا ہوں کہ میرا جوتا چور کیلئے حلال ہے ۔ پھر چونکہ چور کی قسمت میں حلال نہیں ہے ، اس لیے میرا جوتا چوری نہیں ہوتا۔ اسی طرح مولا نا محمد یعقوب مہاجر مکی مکہ معظمہ کے قیام کے دوران کچھ سامان خرید نے بازار تشریف لے گئے ۔ اشرفیوں کی تھیلی ہاتھ میں تھی۔ ایک بدو آیا اور اشرفیوں کی تھیلی چھین کر بھاگ گیا۔ مولانا جلدی سے اپنے مکان میں داخل ہو گئے اور یہ کہتے ہوئے دروازہ بند کر دیا کہ میں نے وہ تھیلی اس چور کیلئے حلال کر دی ۔ لیکن چور جس طرف بھی جاتا، راستے بند پاتا۔ تھک ہار کر اس جگہ آیا اور معافی مانگتے ہوئے تھیلی واپس کر دی ( بحوالہ کتاب ملفوظات مفتی محمود حسن گنگوہی ص 252،134، ناشر: دار الھدی کی کراچی ) محترم قارئین ! حضرت شاہ محمد اسحاق علیہ الرحمہ وہ جلیل القدر محدث ہیں، جنہیں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی مسند حدیث کا وارث بنایا۔ جو لوگ اپنے اکابر واسلاف کی ترتیب زندگی سے غافل ہو کر عبقری میں شائع کیے جانے والے حقائق پر اعتراض کرتے ہیں، کیا وہ اتنے بڑے محدث کے درج بالا اعمال پر بھی خود ساختہ اور من گھڑت ہونے کی مہر لگا سکتے ہیں؟

اکابر کی زندگی میں محو میں محبتوں کا پیغام

آج کے اس گئے گزرے دور میں ہماری پستی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب باہمی منافرت اور فرقہ واریت ہے جس سے اُمت کا شیرازہ بکھرتا جارہا ہے جبکہ اختلاف تو شروع سے رہا ہے اور تا قیامت رہے گا۔ اکابر واسلاف کی باہمی رواداری کے متعلق مولانا سید محمد کفیل بخاری مدظلہ کی ایک تحریر آپ کی خدمت میں پیش ہے، جس سے آپ کو عبقری کا پیغام رواداری سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہمارے بڑے کس طرح مل کر رہتے تھے۔ مولانا مظہر علی اظہر علیہ الرحمۃ ( مکتبہ اثناء عشریہ ) مجلس احرار اسلام کے بانی رہنماؤں اور حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے رفقاء میں سے تھے۔ وہ مجلس احرار اسلام ہند کے سیکرٹری جنرل بھی رہے مفکر احرار چودھری افضل حق رحمہ اللہ کے بعد مجلس احرار میں وہ دوسری شخصیت تھے ، جنھوں نے قلم سنبھالا اور تحریری میدان میں بھی مجلس اور قوم کی خوب رہنمائی کی ۔ مولانا مظہر علی اظہر نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے کے باوجود 1930 کی تحریک مدح صحابہ رضى الله عنہم لکھنو کی قیادت کی ، 1935 کی تحریک مقدس تحفظ ختم نبوت میں بھی بھر پور حصہ لیا ۔ احیاء احرار کیلئے جلسوں میں شرکت کی اور خطاب فرمایا۔ پیرانہ سالی کے باوجو ذہنی طور پر احرار سے ہی وابستہ رہے اور کسی دوسری جماعت میں شامل نہ ہوئے ۔ 7 ستمبر 1974 کو پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور مولانا اپنی زندگی میں یہ عظیم فیصلہ سن کر دنیا سے رخصت ہوئے ۔ ان کی نماز جنازہ جانشین شیخ التفسیر حضرت مولانا عبید اللہ انور صاحب نے پڑھائی ۔ آپ کی تصنیفات میں مدح صحابہ رضى الله عنہم اور خطبات احرار جیسی بہت سی کتابیں شامل ہیں۔ (بحوالہ : ماهنامه نقیب ختم نبوت ستمبر ۲۰۱۸ صفحه ۲۹ ناشر: دار بنی ہاشم، مهربان کالونی، ملتان ) محترم قارئین! الحمد للہ موجودہ دور میں ماہنامہ عبقری اکابر واسلاف کے پیغام رواداری کو نہایت احسن انداز سے پھیلانے میں اپنا حصہ شامل کر رہا ہے۔

حضور صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کائنات کے راز کھول دیے

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ماہنامہ عبقری میں دیے جانے والے وظائف کے ساتھ جو شرط ہوتی ہے کہ اگر یہ وظیفہ فلاں وقت میں پڑھا جائے تو اس کا نفع سو فیصد ہوگا۔ اگر اس ورد کو فلاں تعداد میں کیا جائے تو اس کی تاثیر حاصل ہو جائے گی۔ ایسی شرائط کا شریعت سے کیا ثبوت ہے؟ حالانکہ ان لوگوں کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان معلوم ہونا چاہئے : وكل شئی عندہ بمقدار (سورة الرعد آية 8) وما ننزله الا بقدر معلوم ( سورۃ الحجر آیة (21) یعنی اللہ جل شانہ نے ہر چیز کی ایک خاص تعداد مقرر کی ہوئی ہے۔ اس کے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں لیکن و مقدار کے بقدر ہی نازل فرماتا ہے ۔ دوسری طرف جب ہم احادیث میں دیکھتے ہیں تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ملتی ہے کہ حضور سرور کونین صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہفتے کے دن زمین کو پیدا کیا۔ اتوار کے دن اس میں پہاڑوں کو پیدا کیا۔ پیر کے دن درختوں کو پیدا کیا۔ منگل کے دن کام کاج کی چیزوں کو پیدا کیا۔ بدھ کے دن کو رکو پیدا کیا۔ جمہ کے دن زمین میں جانور پھیلائے اور سب مخلوقات کے آخر میں جمعے کے دن کی آخری ساعت میں آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا ( صحیح مسلم 7054) جب ہم شریعت کے احکام میں غور کرتے ہیں، تو یہ بات سامنے آتی ۔ خاص وقت اور خاص تعداد مقرر ہے۔ 9 ذی الحجہ کے علاوہ انسان سخت گرمی میں جا کر میدان عرفات میں بیٹھا رہے لیکن اسے وقوف عرفہ کا ثواب نہیں مل سکتا۔ سارا سال انسان بکرے ذبح کرتا ر ہے، اسے مسنون قربانی کا ثواب نہیں ہو سکتا۔ فرض نمازوں میں سب سے زیادہ ثواب سجدے میں ملتا ہے ۔ انسان ہر رکعت میں دو کی بجائے تین سجدے کرنا شروع کر دے، یہ شریعت کی نماز نہیں ہوگی ، بلکہ طبیعت کی نماز سمجھی جائے گی۔ مکہ میں حج کے دوران جگہ جگہ حد بندی کی گئی ہوتی ہے کہ یہاں سے مزدلفہ کی حد شروع ہو چکی ہے، یہاں منی کی حد ہے۔ حالانکہ شہر تو ایک ہی ہے ۔ ہمارے یہاں عام مساجد میں بھی اسی طرح حد بندی ہوتی ہے کہ یہ حصہ مسجد میں شامل نہیں ، صرف بیت الخلاء کیلئے یا مولانا صاحب کی رہائش کیلئے مختص ہے، حالانکہ مسجد کے باہر مین گیٹ تو ایک ہی ہوتا ہے۔ سورج کے نکلنے کا ایک خاص وقت مقرر ہے ۔ پھر اس کی ساعات جاننے کیلئے مساجد میں با قاعدہ شیڈول لگا ہوتا ہے کہ اب ظہر کا وقت داخل ہو گیا ہے ، اب عصر کا وقت ختم ہو چکا ہے۔حالانکہ دن تو ایک ہی ہے نماز تو اللہ جل شانہ کیلئے ہی پڑھنی ہے، اس کے باوجود ہمیں خاص وقت اور خاص تعداد کا پابند کیا گیا تو کیا جو وظیفہ اللہ جل شانہ کی رضا حاصل کرنے ، اس سے اپنے مسائل حل کروانے مشکلات ملوانے اور بیماریوں کو شفاء میں تبدیل کروانے کیلئے پڑھا جائے گا، کیا اس کے لیے کوئی تعداد اور کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا؟ یاد رکھیے ! مولانا سید محمد ابوبکر غزنوی رحمۃ اللہ عیہ فرمایا کرتے تھے کہ جس طرح دوائی کی ایک خاص مقدار ہی کے ذریعے علاج ہوتا ہے۔ اسی طرح وظائف کی بھی خاص تعداد مقرر ہے ۔ اگر دوائی کم کھائیں گے تو مرض ختم نہیں ہو گا، اگر مقررہ مقدار سے زیادہ کھائیں گے تو بھی نقصان ہو گا. ( بحوالہ : ہفت روزہ الاسلام گو جرانوالہ اشاعت خصوصی ۱۹۷۹ء گوجرانوالہ صفحہ ۷۸) لہذا اپنی مرضی سے وظائف پڑھنے کا ثواب تو ملتا رہے گا لیکن جس مقصد کیلئے پڑھا جارہا ہو، اس کا سو فیصد رزلٹ حاصل کرنے کیلئے اپنے اکابر و اسلاف کی تجربہ شدہ خاص تعداد اور خاص وقت کا پابند ہونالازم ہے۔

موئے مبارک کی برکت کا مبارک و حسین واقعہ

( تحریر : مولانا قاری خلیل الرحمن صاحب، فاضل : جامعہ امدادیہ فیصل آباد ) تسبیح خانہ کے درس میں 18/10/2018 بروز جمعرات بعد مغرب درس میں بیان کیے جانے والے واقعے کا اکابر کی زندگی سے ثبوت مولانا سید محمد حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ جو کہ دار العلوم میں مدرس بھی رہے ہیں آپ نے ایک کتاب لکھی جس پر شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع صاحب جیسی عظیم ہستیوں نے تقاریظ لکھیں ۔ اس کتاب کا نام حکیم الامت مجد دملت مولانا اشرف علی تھانوی نے خود وهب النسيم على نفحات الصلوۃ والتسلیم رکھا۔ اس کتاب کے صفحہ ۳۳ پر ایک بہت حسین واقعہ لکھا ہوا ہے کہ بلخ کا رہنے والا ایک تاجر بڑا دولت مند تھا اور علاوہ دولت دنیا کے اس کے پاس حضور علیہ السلام کے تین بال مبارک بھی تھے، تاجر فوت ہو گیا ، صرف دو ہی اس کے بیٹے تھے، بڑے نے کہا اس کے دو ٹکڑے کر دیتے ہیں آدھا تو لے لے اور آدھا میں، چھوٹے نے کہا میں ہر گز سرکار علیہ السلام کے موئے مبارک کے ٹکڑے نہیں ہونے دوں گا۔ بڑے بھائی نے کہا اگر تجھے موئے مبارک سے اتنی محبت ہے تو تینوں بال لے لے اور ساری دولت دنیا مجھے دے دے۔ چھوٹے نے خوش ہو کر منظور کر لیا اور اپنا حصہ بھی اس کو دے دیا اور سرکار علیہ السلام کے تینوں موئے مبارک لے لیے۔ اب وہ روزانہ بالوں کی زیارت بھی کرتا اور کثرت سے درود و سلام بھی پڑھتا ، قدرت خداوندی سے بڑے کا مال گھٹنا شروع ہو گیا اور چھوٹے کے مال و عظمت میں دن بدن اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ کچھ دنوں کے بعد چھوٹا بھائی فوت ہو گیا تو حضور علیہ السلام نے اس زمانے کے ایک بزرگ کو خواب میں فرمایا کہ لوگوں سے کہہ دو کہ کوئی بھی حاجت یا مشکل کسی کو ہو تو اس لڑکے کی قبر پہ جا کر اللہ سے دعا کرو مقصد پورا ہو گا چنانچہ اس کے بعد اس لڑکے کے مزار کی بڑی عظمت ہو گئی ۔ مدارج النبوۃ واشرف التفاسیر ص ۱۳۸ میں ہے کہ شاہ ھرل کو سر درد رہتا تھا کئی علاج کیسے شفا نہ ہوئی ، خوش قسمتی سے اس کو حضور علیہ السلام کاایک بال مبارک مل گیا اس نے ٹوپی میں ہی کر ٹوپی پہنی تو در دفورا ختم ہو گیا۔ ا محترم قارئین! الحمد الله تسبیح خانہ میں بیان کیا جانے والا ایک ایک واقعہ اسلاف اور ا کا برگی زندگی میں موجود ہے۔

سخی کی قبر ۔۔۔ برکت کا گھر

(تحریر : مولا نا دانش رضا خان فاضل وفاق المدارس العربيه ) 18/10/2018 بعد نماز مغرب تسبیح خانہ جمعرات کے درس میں یہ واقعہ سنایا گیا تو فیس بک پر بعض دوست اس واقعہ کا حوالہ مجھ سے طلب کرنے لگے ۔ میں نے ان تمام دوستوں سے عرض کیا کہ اللہ کے فضل وکرم سے ایڈیٹر عبقری کے درس میں بیان کی جانے والی ہر بات باحوالہ اور اکابر کی زندگی میں موجود ہوتی ہے افادہ عام کیلئے تمام دوستوں کو اس کا حوالہ پیش کیا جارہا ہے : حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : عرب کی ایک جماعت ایک مشہور سخی کریم کی قبر کی زیارت کو گئی ۔ دور کا سفر تھا ، رات وہیں ٹھہرے اور سو گئے۔ ان میں سے ایک شخص نے اس قبر والے کو خواب میں دیکھا، جو اس سے کہہ رہا ہے : کیا تو اپنے اونٹ کو میرے بختی اونٹ کے بدلے فروخت کرتا ہے؟ ( بختی اونٹ اعلیٰ قسم کے اونٹوں میں شمار ہوتا ہے، جو اس میت نے ترکہ میں چھوڑا تھا) خواب دیکھنے والے نے خواب ہی میں معاملہ کر لیا۔ وہ صاحب قبر اٹھا اور اس کے اونٹ کو ذبح کر دیا۔ جب یہ اونٹ والا نیند سے بیدار ہوا تو اس کے اونٹ کی گردن سے خون جاری تھا۔ اس نے اٹھ کر اسے مکمل ذبح کر دیا اور گوشت تقسیم کر دیا۔ سب نے پکایا اور کھایا۔ پھر یہ لوگ وہاں سے واپس ہوئے اور جب اگلی منزل پر پہنچے تو ایک شخص بختی اونٹنی پر سوار ملا، جو یہ تحقیق کر رہا تھا کہ فلاں نام کا شخص تم میں کوئی ہے؟ اس خواب والے شخص نے کہا: یہ میرا ہی نام ہے۔ اس نے پوچھا: کیا تو نے اُس قبر والے کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کی تھی ؟ خواب دیکھنے والے نے اپنا پورا قصہ سنایا۔ جو شخص بختی اونٹنی پر سوار تھا، اس نے کہا: وہ میرے ابا جان کی قبر تھی ، یہ ان کی بختی اونٹنی ہے۔ انہوں نے مجھے خواب میں آکر کہا تھا کہ اگر تو میری اولاد ہے تو میرا بختی اونٹ فلاں شخص کو دے دے۔ لہذا یہ اونٹ اب تیرے حوالے ہے۔ ہے۔ یہ کہ کر وہ شخص چلا گیا. ( بحوالہ : اتحاف السادة المتقين شرح احياء علوم الدین (امام غزائی ) ، مصنف : علامہ محمد بن محمد الحسینی الزبیدی ” ناشر : دار الكتب العلمية ، بیروت لبنان بحوالہ کتاب: فضائل صدقات ، حصہ دوم صفحہ 711 مصنف : حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی، ناشر: کتب خانہ فیضی لاہور، پاکستان )

صوفیائے کرام کے بارے میں غلط فہمی

آج کے دور میں آٹا دال چینی اور دیگر اجناس مہنگی ہوتی جارہی ہیں اور کفر کا فتوی لگانے کی مہر ستی ہوتی جا رہی ہے بعض لوگ اپنی نا واقفیت کی وجہ سے ایک دوسرے پر اور بالخصوص صوفیائے کرام کی ان باتوں کو جو کہ ان کی عقل میں نہ آنے والی ہوں تو بغیر سمجھے فتوی لگا دیتے ہیں ایسے لوگوں کو صوفیائے کرام کا مقام سمجھانے کیلئے مختلف مکاتب فکر سے صوفیائے کا مقام ذکر کیا جاتا ہے اور اللہ کے فضل سے آج کے اس گئے گزرے دور میں جبکہ بھائی بھائی سے دل برداشتہ ہو چکا ہے تسبیح خانہ سارے عالم میں یہ صدا لگا رہا ہے کہ اک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے. (1) حکیم العصر شیخ الحدیث مولانا عبد المجید صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو لوگ صوفیائے کرام پر شرک کے فتوی لگاتے ہیں وہ بے وقوف اور جاہل ہیں، ورنہ اصل توحید تو ہوتی ہی صوفیاء کے پاس ہے ۔ ( آگے فرماتے ہیں جب اللہ تعالی کسی کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا میلان پاکباز لوگوں پر طعنہ بازی کی طرف کر دیتا ہے۔ (بحوالہ ہاہنامہ لولاک حکیم العصر ص 74 ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان ) (2) مورخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھٹی صاحب رحمہ اللہ ( مکتبہ اہل حدیث ) فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اسلام میں صوفیائے کرام کی تبلیغ کو نظر اندا کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ صوفیاء کرام نے بہت خدمات انجام دی ہیں۔ لہذا انھیں وہی اہمیت دی جائے جس کے وہ مستحق ہیں ۔ ( بحوالہ سہ ماہی مجلہ سلفی لاہور جون 2018 ص (11)) (3) مولانا جلال الدین احمد امجدی صاحب دامت برکاتہم ( مکتبہ بریلویہ ) فرماتے ہیں انبیائے کرام اور بزرگان دین ہی کا طریقہ سیدھا راستہ ہے لیکن آج کل بہت سے لوگ بزرگان دین کے عقیدے اور ان کے طریقے سے مسلمانوں کو بہکار ہے ہیں ۔ دوسرے مقام پر آپ لکھتے ہیں اور جو سب بزرگوں کے عقیدے ہیں وہی ہم اہل سنت و جماعت کے بھی عقیدے ہیں ۔ (بحوالہ کتاب بزرگوں کے عقیدے ص 5 ، مصنف مولانا جلال الدین احمد امجدی صاحب دامت برکاتہم ، ناشرا کبر یک سیلرز لاہور )

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025