ہر پریشانی کیلئے تسبیح خانہ کا بیان کردہ مستند درود
قسط نمبر112/2ہر پریشانی کیلئے تسبیح خانہ کا بیان کردہ مستند دروداکابر پر اعتمادعبقری کا مستند وظیفہ تعلیمات اکابر کی روشنی میں ) احادیث کے کچھ حوالہ جات میں نے آپ کی خدمت میں اس سے پہلی قسط میں عرض کیے تھے اب اولیاء کی زندگی سے ایک واقعہ آپ کی خدمت میں عرض کر دیتا ہوں جس سے آپ دیتا کو عبقری کے پیغام اعمال سے پلنے اور بچنے کا یقین انشاء اللہ اور بھی پختہ ہو جائے۔ حافظ ابونعیم حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ باہر جارہا تھا میں نے ایک جوان کو دیکھا کہ جب وہ قدم اٹھاتا ہے یا رکھتا ہے تو یوں کہتا ہے اھم صل علی محمد و علی آل محمد میں نے اس سے پوچھا کیا کسی علمی دلیل سے تیرا یہ عمل؟ ہے۔ (یا محض اپنی رائے سے ) اس نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا سفیان ثوری ۔ اس نے کہا کیا عراق والے سفیان ثوری۔ میں نے کہا ہاں ! کہنے لگا تجھے اللہ کی معرفت حاصل ہے میں نے کہاہاں ہے ۔ اس نے پوچھا کس طرح معرفت حاصل ہے ؟ میں نے کہا وہ رات دن نکالتا ہے دن سے رات نکالتا ہے، ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت پیدا کرتا ہے۔ اس نے کہا کچھ نہیں پہچانا۔ میں نے کہا پھر تو کس طرح پہچانتا ہے؟ اس نے کہا کسی کام کا پختہ ارادہ کرتا ہوں اس کو فسخ کرنا پڑتا ہے اور کسی کام کے کرنے کی ٹھان لیتا ہوں مگر نہیں کر سکتا اس سے میں نے پہچان لیا کہ کوئی دوسری ہستی ہے جو میرے کاموں کو انجام دیتی ہے۔ میں نے پوچھا یہ تیرا درود کیا چیز ہے؟ اس نے کہا میں اپنی ماں کے ساتھ حج کو گیا تھا، میری ماں وہیں رہ گئی ( یعنی مرگئی ) اس کا منہ کالا ہو گیا اور اس کا پیٹ پھول گیا، جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ کوئی بہت بڑا سخت گناہ ہوا ہے اس سے، میں اللہ جل شانہ کی طرف دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میں نے دیکھا کہ تہامہ (حجاز ) سے ایک ابر آیا اس سے ایک آدمی ظاہر ہوئے اور انھوں نے اپنا مبارک ہاتھ میری ماں کے منہ پھر پھیرا جس سے وہ بالکل روشن ہو گیا۔ اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو ورم بالکل جاتا رہا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کون ہیں کہ میری اور میری ماں کی مصیبت کو آپ نے دور کیا۔ انھوں نے فرمایا کہ میں تیرانبی صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.ہوں۔ میں نے عرض کیا مجھے کوئی وصیت کیجئے تو حضور صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.نے فرمایا کہ جب کوئی قدم رکھا کر یا اٹھایا کرے تو الھم صل علی محمد وعلی آل محمد پڑھا کر۔ (نزہتہ المجالس بحوالہ فضائل درود شریف ص 104 ، مصنف شیخ الحدیث مولا نا محمد ذکریا۔ کتب خانہ فیضی لاہور )
اللهم صل على محمد وآل محمد کی سندی حیثیت

عبقری کا مستند وظیفہ احادیث اور تعلیمات اکا برگی روشنی میں 2018 محرم کے مہینے میں تسیح خانہ میں اجتماع ہوا جس میں اللهم صل علی محمد و آل محمد اس درود پاک کے کمالات اور برکات بیان کی گئیں بہت سے لوگ اس درود کو ایک خاص طبقہ کے ساتھ منسوب کر کے کہنے لگے کہ یہ تو ان کے ساتھ ہی خاص ہے، ایسے تمام حضرات کی خدمت میں احادیث مبارکہ اور اکابر کی زندگی کے چند حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں : اللہ پاک ہمیں آل و اصحاب رضى الله عنہم کا سچا عشق ن عطا فرمائے (1) حضرت بشیر رضى الله عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اللہ جل شانہ ۔ ہمیں درود پڑھنے کا حکم دیا ہے آپ یا صلى الله عليه وسلم ارشاد فرمائیے کہ کس طرح درود پڑھا کریں حضور صلى الله عليه وسلم نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ ہم تمنا کرنے لگے کہ وہ شخص سوال ہی نہ کرتا پھر حضور صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا یوں کہا کرو اھم صل علی محمد و آل محمد. ( مسلم و ابوداود بحوالہ فضائل درود شریف ص 104 ، مصنف شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا ۔ کتب خانہ فیضی لاہور، مکتبہ دیو بند ) (2) مفتی محمد مزمل سلاوٹ صاحب رفيق دار التصنيف و استاد جامعہ فارقیہ نے اپنی کتاب البركات المدنیہ میں ص 37 پر سنن نسائی ج 1 ص 383 رقم الحديث 1215 ، خلاصة البدر المنير ج 1 ص 140 عمل اليوم واليلة للنسائي رقم الحديث 53 کے حوالے سے بھی اس درود پاک کو لکھا ہے۔ اسی طرح مولانا لیاقت لاہوری صاحب نے یہ درود پاک ذریعہ الوصول الی جناب الرسول کے حوالے سے لکھا ہے تفصیل کیلئے دیکھیں : ( بحوالہ کتاب مجرب اور مبارک درود شریف ص 44 ناشر کا با سنز کراچی مکتبہ دیوبند ) (3) مولانا عبد الرحمن مبارکپوری نے اپنی کتاب میں اس دورد پاک کو لکھا ہے تفصیل کیلئے دیکھیں : ( بحوالہ کتاب تحفۃ الاحوذی جلد 2 ص 495 مصنف شیخ العلام حضرت مولانا عبد الرحمن مبارکپوری، ناشر مکتبہ العلمیہ بیروت ، مکتبہ اہل حدیث ) (4) پروفیسر خورشید احمد صاحب حفظہ اللہ نے بھی اپنی کتاب میں شیخ محمد ابو المواہب شاذ لی کے معمولات کے حوالے سے روزانہ ایک ہزار مرتبہ پڑھنا لکھا ہے ۔ ( بحوالہ کتاب درود سلام کا انسائیکلو پیڈیا ص 170 مصنف پروفیسر خورشید احمد ، ناشر مشتاق بک کارنر لاہور، مکتبہ بریلویہ ) اب آپ ہی بتائیں کہ عبقری لوگوں کو کتنے خوبصورت انداز سے قرآن وسنت سے جوڑ رہا ہے۔۔!
جاؤ ! کسی مردے پر فاتحہ پڑھو، زندہ کے پاس کیا لینے آئے ہو؟

علامہ عبد المصطفی اعظمی رحمة الله عليه ( مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ حضرت خواجہ حسن افغان رحمة الله عليه شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمة الله عليه کے مرید خاص تھے۔ ایک دفعه دوران سفر کسی مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے جماعت میں شریک ہو گئے۔ جب نماز مکمل ہوئی اور سب نمازی چلے گئے تو آپ رحمة الله عليه نے امام مسجد کو فرمایا : اے خواجہ! میں نے دیکھا کہ تم نماز کے دوران پہلے دہلی پہنچے ، وہاں سے غلام خرید کر خراسان لے گئے ۔ پھر وہاں سے چلتے ہوئے ملتان آگئے اور میں تمہارے پیچھے حیران پھرتا رہا کہ آخر یہ کیسی نماز ہے؟ (بحوالہ کتاب: روحانی حکایات، صفحہ 284 ناشر : الاعظمیہ پبلی کیشنز توحید نگر لاہور ) مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمة الله عليه مکتبہ اہل حدیث ) لکھتے ہیں کہ : 1947 ء کے فسادات کے دوران ایک بزرگ میاں اللہ دتہ مرحوم کو باز و پر گولی لگی اور وہ گرتے پڑتے پاکستان پہنچ گئے۔ ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی اور زخم بگڑتا جارہا تھا۔ اس طرح چار ماہ بعد اپنے شیخ طریقت مولانا صوفی محمد سلیمان روہڑی رحمة الله عليه کے پاس جہانیاں منڈی پہنچے اور اپنی پریشانی بتائی۔ انہوں نے فرمایا: پٹی کھول دو۔ ان شاء اللہ یہ زخم اب بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن یا درکھنا کہ تمہاری موت اسی زخم سے ہوگی اور اللہ تمہیں شہادت کی موت عطا فرمائے گا۔ بس ان کے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ پھر نہ کوئی زخم رہا، نہ درد اور نہ ہی پیپ ۔ باز و بالکل صحیح سلامت ہو گیا اور پندرہ سال گزر گئے ۔ ایک دن اچانک کسی ظاہری سبب کے بغیر ان کا زخم دوبارہ تازہ ہوا تو بولے: اب میں نہیں بچوں گا ، کیونکہ میرے شیخ رحمة الله عليه نے پیشین گوئی فرمائی تھی۔ چنانچہ چند روز بعد خالق حقیقی سے جاملے۔ ( بحوالہ کتاب: قافلہ حدیث، صفحہ 48 ناشر: مکتبہ قدوسیہ، غزنی اسٹریٹ، اردو بازار لاہور ) مفتی ثناء اللہ محمود صاحب لکھتے ہیں کہ: حافظ ضامن شہید رحمة الله عليه کو علما میں خاص مقام حاصل ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه کا بیان ہے کہ ایک صاحب کشف بزرگ جب حضرت حافظ صاحب رحمة الله عليه کے مزار پر فاتحہ پڑھنے تشریف لے گئے تو بعد میں کہے لگے: بھائی صاحب ! یہ بزرگ کون ہیں؟ بڑی دل لگی کرتے ہیں۔ جب میں ان کے مزار پر فاتحہ پڑھنے لگا تو مجھ سے فرمانے لگے : جاؤ کسی مردے پر فاتحہ پڑھو، یہاں زندوں پر کیا پڑھنے آئے ہو؟ ( ارواح ثلاثہ صفحہ 203 بحوالہ کتاب: مرنے کے بعد زندہ ہونے والوں کے حیرت انگیز واقعات ، صفحہ 183 ناشر : ادارۃ الانور، بنوری ٹاؤن کراچی ) علامہ مفتی طالب حسین ( مکتبہ اثنا عشریہ ) لکھتے ہیں : اس بات پر تمام علمائے اہل سنت و مجتہدین شیعت کا اتفاق ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالٰی اپنے خاص بندوں کی باطنی آنکھ کھول دیتا ہے، جسے عرف عام میں ” کشف” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کشف کی کئی اقسام ہیں، مثلاً کشف الصدور ، کشف القبور، کشف الارواح ، کشف سمعی اور کشف بصری و غیر هم – چنانچہ ائمہ معصومین میں شامل تمام بزرگان کرام کا کشف اتنا قوی تھا، جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ امام نعمان بن ثابت المعروف به ابو حنیفہ رحمة الله عليه کو کشفی طور پر وضو کے پانی میں جو لوگوں کے گناہ نظر آجایا کرتے تھے تو یہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ہی کی صحبت کیمیا اثر کی تاثیر تھی. ( بحوالہ کتاب: احسن العقائد صفحہ 78 ناشر : رحمت بک ایجنسی، کراچی) قارئین ! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماہنامہ عبقری کے سلسلہ وار کالم جنات کا پیدائشی دوست میں بیان کیے جانے والے کشف کے واقعات سو فیصد برحق ہیں۔ تمام مکاتب فکر کے اکابر و اسلاف میں آپ کو وہ ہستیاں تو کثرت سے ملیں گئی جنہوں نے ایسی باتوں کو سچ جانا ، مگر کوئی ایک شخصیت بھی ایسی نہیں ملے گی، جس نے ان باتوں کا انکار کیا ہو۔
نارمل ڈلیوری کیلئے اکابر کا مجرب عمل
قسط نمبر 110 نارمل ڈلیوری کیلئے اکابر کا مجرب عمل اکابر پر اعتماد سالہا سال سے ماہنامہ عبقری مخلوق خدا کو اکابرین امت کے اعمال میں ڈھالنے کی خدمت کر رہا ہے۔ اس میں دیے جانے والے تمام وظائف ( خواہ وہ کسی بھی مقصد کیلئے ہوں ) سو فیصدا کابر واسلاف کی ترتیب کے مطابق ہوتے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے قارئین عبقری کو ڈلیوری میں آسانی کیلئے سورہ انشقاق کا عمل دیا گیا تو اس پر جہاں ہزاروں لوگوں کی طرف سے پسندیدگی کا اظہار ہوا، وہاں کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ عبقری نئے نئے وظائف بناتا ہے۔ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ماہنامہ عبقری وظائف بناتا نہیں ، بتاتا ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ سورۃ الانشقاق کی ابتدائی چار اور سورۃ زلزال کی ابتدائی دو آیات لکھ کر پہلے حاملہ خاتون کو تین مرتبہ دکھا ئیں، پھر اس کی بائیں ران پر باندھ دیں (بحوالہ کتاب: شفاء المریض کامل صفحہ 36 ناشر: ادارہ کریمیہ تعلیم القرآن، شیرانوالہ گیٹ لاہور ) مولانا محمد ولی اللہ منصور پوری رحمة الله عليه ( مکتبہ اہل حدیث ) لکھتے ہیں کہ : بچے کی پیدائش سے پہلے جو درد ہو، اسے ختم کرنے اور پیدائش میں آسانی کیلئے ان آیات کو لکھ کر عورت کی دائیں ران پر باندھ دیا جائے تو ان شاء اللہ آسانی ہوگی اور انجام بخیر ہوگا۔ پیدائش کے فوراً بعد یہ تعویذ اتار دینا چاہئے ۔ بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ (1) وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ (2) وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ (3) وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ (4) ( بحوالہ کتاب: تحفة العاملین صفحه 7 ناشر: رشید بک ڈپو، کچہری بازار، جڑانوالہ ) مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں کہ : سورۃ الانشقاق کی ابتدائی 4 آیات لکھ کر کپڑے میں لپیٹ کے عورت کی بائیں ران پر باندھیں ۔ ان شاء اللہ بچہ آسانی کے ساتھ پیدا ہوگا۔ ( جنتی زیور صفحه 608 بحوالہ کتاب: مدنی پنج سورہ صفحہ 242 ناشر: مکتبۃ المدینہ کراچی ) مکتبۃ کراچی) سرکار علامہ رشید ترابی ) مکتبہ اثناء عشریہ ) لکھتے ہیں کہ جس آدمی کی جورو ، دروزہ میں مبتلاء ہو، اسے چاہئے کہ ایک قرطاس پر کالی سیاہی والے قلم سے یہ آیات لکھے اور اپنی جو رو کی داہنی طرف ران پر بندھوا دے۔ وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ مگر خیال رہے کہ یہ تعویذ اسی وقت باندھا جائے ، جب ولادت کے آثار پیدا ہو جائیں۔ ورنہ بارہا دیکھنے میں آیا ہے کہ جو نہی ان آیات کا تعویذ باندھا گیا، اسی وقت پیدائش ہو گئی۔ لہذا قبل از وقت پیدائش نو مولود کی صحت کیلئے مضر ہے۔ (بحوالہ کتاب : طلب معصومین صفحه 47 ناشر: حیدری کتب خانہ، مرز اعلی روڈ ، امام باڑہ بمبئی) محترم قارئین ! اب آپ خود سوچیں کہ اگر عبقری کے وظائف من گھڑت ہوتے تو تمام مکاتب فکر کے اکابرو اسلاف کی سالوں پہلے لکھی گئی کتب میں ان کا ثبوت کیسے ملتا ؟
امام ابنِ حبان رحمۃ اللہ علیہ کا دعا قبول کروانے کا خاص طریقہ
قسط نمبر 104امام ابنِ حبان رحمۃ اللہ علیہ کا دعا قبول کروانے کا خاص طریقہاکابر پر اعتماد عملیات کی دنیا میں بہت سے وظائف ایسے ہیں، جن کو پڑھنے کے بعد بزرگانِ دین کے وسیلے سے دعا کرنی ہوتی ہے۔ ماہنامہ عبقری میں بھی ایسے کئی اعمال شائع ہو چکے ہیں، کیونکہ صالحین کے وسیلے سے دعا مانگنا ہمارے تمام اکابر و اسلاف سے ثابت ہے۔ مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد فرید رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ دیوبند) لکھتے ہیں: "تمام اکابرین توسل بالصالحین کے قائل ہیں۔ مثلاً حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارات کو ملاحظہ کریں: المہند علی المفند”(بحوالہ: فتاویٰ فریدیہ، جلد 1، صفحہ 348، اشاعت: مولانا حافظ حسین احمد، مہتمم دارالعلوم صدیقیہ زوبی، ضلع صوابی، پاکستان) حضرت مولانا جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ بریلویہ) اپنی کتاب میں 12 مشائخ سے وسیلہ کو ثابت کر کے لکھتے ہیں:صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تمام بزرگانِ دین کا یہی عقیدہ ہے کہ بزرگوں کو وسیلہ بنانا جائز ہے — زندگی میں بھی اور وفات کے بعد بھی۔(بحوالہ: بزرگوں کے عقیدے، صفحہ 301، ناشر: اکبر بک سیلرز، لاہور) مشہور محدث، اور صحیح ابنِ حبان کے مصنف، امام ابنِ حبان رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ اہلِ حدیث) فرماتے ہیں:"میں نے شیخ علی بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ کی کئی مرتبہ زیارت کی۔ مجھے جب بھی کوئی مصیبت پیش آئی، تو میں ان کی قبر پر جا کر اللہ سے دعا مانگتا، اور وہ دعا قبول ہوتی اور پریشانی دور ہو جاتی۔قد جرّبتُه مراراً فوجدتُه(یعنی: میں نے اس کا بار بار تجربہ کیا، اور اسے ایسا ہی پایا)”(بحوالہ: کتاب الثقات، جلد 8، صفحہ 407، ناشر: مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ، حیدرآباد دکن، ہند)
سید عطاء الحسن بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا مقام

حضرت امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندِ گرامی مولانا سید عطاء الحسن بخاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، جگر گوشہ، بتولِ رضى الله عنہا، اور نظر علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ لولوئے لالہ ہیں۔ آپ رضى الله عنہ نہایت صالح، عابد، باکمال، منکسر المزاج، متواضع، شب زندہ دار، تہجد میں اللہ تعالیٰ سے گفتگو کرنے والے، عاجزی کے طویل سجدے کرنے والے، اور قیام میں ایک یا دو پارے نہیں، بلکہ پوری سورۃ البقرہ پڑھنے والے تھے۔ انہوں نے بچپن میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کی بہاریں پائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں کھیلے، اور آپ ہی ریحانۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔” بحوالہ: ماہنامہ نقیب ختم نبوت، ملتان صفحہ: 20 زیر نگرانی: مولانا سید عطاء المہیمن بخاری دامت برکاتہمبفیضانِ نظر: حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمۃ اللہ علیہ شعبہ تبلیغ تحفظ ختمِ نبوت، مجلس احرارِ اسلام پاکستان
وظیفہ تو ہوتا ہی "خودساختہ” ہے

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عبقری میگزین کے خودساختہ وظائف کی کیا سند ہے؟ جبکہ اس میگزین میں وظائف لکھنے والے سب لوگ عالمِ دین نہیں ہوتے، بلکہ عام قارئین بھی اپنے روحانی عملیات اس میں بھیجتے رہتے ہیں۔ تو کیا یہ تمام وظائف پڑھنا جائز ہیں؟ اس سوال کا جواب چند آسان مثالوں کے ذریعے درج ذیل ہے۔ محترم قارئین! سب سے پہلے تو یہ سمجھیں کہ وظائف کلی طور پر خودساختہ ہوتے ہیں۔ یعنی قرآن میں آیات اور احادیث میں مسنون دعائیں تو موجود ہیں، لیکن ان کا طریقۂ استعمال علماء، محدثین اور روحانی عاملین خود طے کرتے ہیں۔جس طرح ادویات کے اجزاء تو موجود ہوتے ہیں، مگر ان کو آپس میں ملا کر خاص مقصد کے لیے دوا خود تیار کی جاتی ہے، اسی طرح عملیات کے شعبے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہمارے اکابر و اسلاف نے کس وظیفے کو کس مقصد کے لیے پڑھا اور اس سے مزید کیا کیا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ شریعت میں بس اتنا حکم ہے کہ صرف وہ وظیفہ پڑھنا یا وہ دم کرنا حرام ہے، جس میں شرکیہ الفاظ ہوں۔ اس کے سوا باقی تمام اذکار جائز ہیں۔ جیسا کہ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق کئی کتابوں میں یہ بات ملتی ہے کہ وہ اپنے پاس آنے والے لوگوں کے مسائل سنتے تھے، پھر ان مسائل سے ملتی جلتی آیات یا ماثورہ دعاؤں کا وظیفہ پڑھنے کے لیے بتا دیتے تھے۔ وہ شخص جا کر جب اس آیت کی تکرار کرتا، تو اس کا مسئلہ حل ہو جاتا اور کوئی یہ اعتراض بھی نہ کرتا کہ تمہیں یہ خودساختہ وظیفہ کس نے بتایا ہے؟ مکتبہ اہل حدیث کے معروف روحانی عامل مولانا محمد اقبال سلفی نے بیری کے پتوں سے نہانے کو جنات سے جان چھڑوانے کا کامیاب علاج بتایا۔ تو کسی شخص نے ان سے اس عمل کی دلیل مانگی۔ فرمانے لگے کہ: عملیات کی دنیا میں جو بات مشاہدات کے ذریعے سامنے آتی ہو، وہ زیادہ قوی (مضبوط) ہوتی ہے، البتہ اس کی شرط یہ ہے کہ وہ چیز حدیث سے نہ ٹکراتی ہو۔ بیری کے پتوں سے نہانے میں چونکہ کوئی غیر شرعی چیز نہیں، اس لیے اس میں کوئی قباحت نہیں۔ (بحوالہ: یہ بیان انٹرنیٹ سے لیا گیا ہے) صاحبزادہ حضرت شیخ محمود الحسن صدیقی (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ تعویذات اور عملیات بے اثر نہیں ہوتے، کیونکہ ہر تعویذ اور ہر عمل کا تعلق علم سے ہے، اور جو تعویذات اور عملیات اس علم کے عالموں نے تحریر کیے ہیں، وہ تجربے اور عمل کے بعد ہی درج کیے جاتے ہیں۔ (بحوالہ کتاب: مجربات تعویذات و عملیات روحانی، صفحہ 23، ناشر: کتب خانہ شانِ اسلام، راحت مارکیٹ، اردو بازار، لاہور) مولانا انظر شاہ کاشمیری لکھتے ہیں:اس نادر کتاب (اسماء الحسنیٰ کی برکات) میں ایسے وظائف درج کیے جا رہے ہیں، جن کو اکثر مشائخِ عظام اور اولیاء اللہ نے اپنے معمولات میں داخل رکھا ہے۔ اور ان کے ذریعے بہت سے طالبانِ حق کے نفوس کی منجھائی اور قلوب کی صفائی کر چکے ہیں۔ قارئین! اس کے بعد پوری کتاب میں ایسے تمام عملیات، تعویذات، وظائف اور نقش درج کیے گئے ہیں، جن کی نہ تعداد قرآن سے ثابت ہے، نہ ہی پڑھنے اور لکھنے کا طریقہ حدیث میں لکھا ہوا ہے۔ اس کے باوجود پورے مکتبہ فکر کے ہاں اس کتاب کو معتبر حیثیت حاصل ہے۔ (دیکھیں کتاب: اسماء الحسنیٰ کی برکات، ناشر: مشتاق بک کارنر، الکریم مارکیٹ، اردو بازار، لاہور)
ایک بادشاہ نے دوسرے بادشاہ کو کیسے بخشوایا؟

ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالم جنات کا پیدائشی دوست میں حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے متعلق کشف القبور کے بعض واقعات پڑھ کر کچھ لوگ "کیا، کیوں اور کیسے” کی الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔ انہی احباب کے شرحِ صدر کے لیے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں کہ کشف القبور کوئی نئی چیز نہیں، جس کا ہمارے اکابر و اسلاف میں وجود ہی نہیں تھا، بلکہ یہ حقائق روحانی دنیا کے شہسواروں میں صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ اگر کسی کو اپنے اکابر و اسلاف کی باتوں پر یقین نہیں آتا تو خود گناہوں اور مشکوک رزق سے بچنا اور شریعت پر سو فیصد چلنا شروع کر دے، ان شاء اللہ کچھ ہی دنوں میں اسے بھی کشف ہونے لگے گا۔ پھر آنکھوں دیکھی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ مولانا غلام رسول مہر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: مولانا سید عبدالجبار شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ مولانا ولایت علی جونپوری رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد ایک صاحب مجھے ملنے کے لیے آئے جنہیں کشف القبور میں مہارت حاصل تھی۔ میں انہیں مجاہدین کے قبرستان میں لے گیا اور مولانا ولایت علی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر کے پاس بٹھا کر کہا کہ فرمائیے: یہ کون صاحب ہیں اور ان کا حلیہ کیا ہے؟ وہ تقریباً آدھا گھنٹہ مراقب رہے، پھر اٹھے تو مجھے فرمایا کہ آؤ چلیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ صاحبِ قبر نے ان کے دل پر گہرا اثر ڈالا۔ راستے میں مجھے بتایا کہ یہ بزرگ سرحد کے نہیں، ہندوستان کے ہیں اور ان کا درجہ بہت اونچا ہے۔ میں نے حلیہ پوچھا تو کہا: رنگ سانولا ہے اور داڑھی کے بال رخساروں پر کم ہیں، تھوڑی پر زیادہ۔ غرض جو حلیہ بتایا، وہ مولانا ولایت علی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندانِ ارجمند مولانا عبد اللہ اور مولانا عبد الکریم رحمہما اللہ سے خاصی مشابہت رکھتا تھا۔ لہٰذا مجھے یقین ہو گیا کہ صاحبِ کشف کا بیان درست ہے۔ (بحوالہ کتاب: سرگزشت مجاہدین، صفحہ 344، مصنف: مولانا غلام رسول مہر، ناشر: مکتبۃ الحق، ماڈرن ڈیری، ممبئی) علامہ یوسف بن اسماعیل النبهانی (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں: امام یافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ شنبلیہ کے امام و محدث شیخ احمد حرار شنبلی رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے بتایا: جب میں مصر کی مسجدوں میں رات گزارتا تھا تو رات کے وقت جبانہ کے قبرستان میں نکل جاتا۔ اللہ کریم نے میرے سامنے قبر والوں کے احوال کھول دیے تھے۔ میں نعمت والوں کو بھی دیکھتا اور عذاب والوں پر بھی نظر ڈالتا۔ فتح کی طرف قبرستان کا جو حصہ تھا، ان قبر والوں کے حالات بہت اچھے تھے۔ (بحوالہ کتاب: جامع کراماتِ اولیاء، صفحہ 687، ناشر: ضیاء القرآن پبلی کیشنز، گنج بخش روڈ، لاہور) علامہ وحید الزمان حیدرآبادی (مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں کہ دکن کا ایک بادشاہ بہت گناہگار تھا، جب فوت ہونے لگا تو اس نے وصیت کی کہ مجھے سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے پاس دفن کر دینا۔ چنانچہ اسے وہیں دفن کیا گیا۔ کچھ دن بعد ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ بارگاہِ الٰہی میں گڑگڑا کر عرض کر رہے ہیں: "یا اللہ! یہ بادشاہ میرے پاس اس امید سے آیا ہے کہ تو اسے بخش دے۔” پس اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی۔ (بحوالہ کتاب: تیسیر الباری، ترجمہ صحیح بخاری، ناشر: نعمانی کتب خانہ، اردو بازار، لاہور)
کیا وظائف اور تعویذ سے علاج کرنا حرام ہے؟
قسط نمبر 98 کیا وظائف اور تعویذ سے علاج کرنا حرام ہے؟ اکابر پر اعتمادموجودہ دور میں کچھ افراد نے دین کے نہایت حساس شعبے "فتویٰ” دینے کو ایک معمولی مشغلہ بنا لیا ہے، اور آئے دن قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے خلاف نت نئے فتوے جاری کرتے رہتے ہیں۔ ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے شرک و بدعت سے پاک مجرب وظائف کو بھی اعتراض کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ یہ "خود ساختہ” ہیں۔ حالانکہ ایسے افراد کو چاہیے کہ رٹی رٹائی باتوں کو دہرانے کے بجائے کچھ دینی علم حاصل کریں، تاکہ انہیں معلوم ہو کہ دم، وظائف پڑھنے اور تعویذات کا شرعی حکم کیا ہے۔زبدۃ المحدّثین علامہ سید محمد صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ اہل حدیث) کا فتویٰ:حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ”"ایسا دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جس میں شرک نہ ہو۔”— (صحیح مسلم) علامہ صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو دم (وظائف) زمانۂ جاہلیت کے ہوں، یا کفار و مشرکین کے وضع کردہ ہوں، وہ ممنوع ہیں۔اس کے علاوہ جو دم اسلام کے ہوں، یا قرآن و حدیث سے ثابت ہوں، یا علمائے اہلِ توحید سے ماثور ہوں، وہ بلا شک و شبہ جائز ہیں۔اور سب سے بہتر دم سورۃ الفاتحہ، سورہ اخلاص، اور معوّذتین ہیں۔ — (بحوالہ: الداء والدواء، صفحہ 17، ناشر: مشتاق بُک کارنر، اردو بازار، لاہور) مفتی محمد ایوب نعیمی رضوی مدّظلّہ العالی (مکتبہ بریلوی) کا فتویٰ:یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جس طرح انسانی جسم بیماری کا شکار ہوتا ہے، اسی طرح اس کی روحانی لطافت بھی بعض اوقات غیر محسوس اور باطل قوتوں کی زد میں آ کر مختلف روحانی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے۔بعض اوقات انسان بڑے وسائل خرچ کر کے بھی ظاہری علاج سے فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔ اسی لیے روحانی شفاء کے لیے نقوش (تعویذات) اور عملیات کا سلسلہ زمانۂ قدیم سے چلا آ رہا ہے۔ — (بحوالہ: شمعِ شبستانِ رضا، صفحہ 6، ناشر: قادری رضوی کتب خانہ، گنج بخش روڈ، لاہور) . مفتی محمد عبدالغنی مدّظلّہ (فاضل جامعہ بنوری ٹاؤن) کا فتویٰ:سنن ابی داؤد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:"اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کا علاج رکھا ہے، اس لیے علاج کرو، لیکن حرام چیز سے نہیں۔” مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں: اکابر و مشائخ کا ہمیشہ معمول رہا ہے کہ وہ قرآنی آیات اور دعائیں لکھ کر ان کا دھویا ہوا پانی مریضوں کو پلاتے ہیں، اور اس سے اللہ تعالیٰ شفاء عطا فرماتا ہے۔ امام ملا علی قاری رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے کہ:قرآنی آیات، اسماء الحسنیٰ اور ماثورہ دعاؤں سے علاج نہ صرف جائز ہے، بلکہ افضل ہے، چاہے یہ تعویذ کی شکل میں ہو، یا دم اور منتر کی صورت میں۔ — (بحوالہ: مستند علاجِ نبوی صلى الله عليه وسلم، صفحہ 13، مؤلف: الشیخ احمد بن محمود الدِّیب، ترجمہ: مفتی محمد عبدالغنی،فاضل بنوری ٹاؤن،ناشر: درخواستی کتب خانہ، علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی)
بہترین نوکری حاصل کرنے کیلئے 4 علما کا ازمودہ شرطیہ عمل
قسط نمبر 96 اکابر پر اعتمادبہترین نوکری حاصل کرنے کیلئے 4 علما کا ازمودہ شرطیہ عمل جولوگ کہتے ہیں کہ عبقری میں دیے جانے والے وظائف کی کوئی سند نہیں ہوتی کیا عبقری پر وحی نازل ہوتی ہے کہ فلاں وظیفے کا فلاں فائدہ ہے ؟ ایسے تمام احباب کی خدمت میں گزارش ہے کہ اپنے دل میں چھپے ہوئے شہبات دُور کر کے یہ یقین پختہ کر لیں کہ حضور سرور کونین میانہ کی ختم نبوت کے صدقے وحی کا سلسلہ ہمیشہ کیلئے بند ہے۔ الحمدللہ عبقری کے تمام قارئین کو اس بات پر قلبی اطمینان حاصل ہے کہ عبقری میں صرف وہی وظائف دیے جاتے ہیں ، جو سالہا سال سے ہمارے اکابر و اسلاف رحمہم اللہ کے تجربات سے ثابت ہیں ۔ ان وظائف کو پڑھ کے ہمارے تمام اکابر و اسلاف نہ خود مشرک ہوئے، نہ ہی ان کے ذریعے کسی اور کو شرک و بدعت کے جراثیم لگے ۔ بلکہ عین ایمان کی حالت میں ان کی زندگی گزری اور خالص ایمان ہی کی حالت میں وہ دنیا سے رخصت ہوئے لیکن جاتے جاتے اپنے پیچھے ان وظائف کی صورت میں ہمارے لیے انمول جواہرات چھوڑ گئے ۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ خدارا اپنی مصروفیات سے تھوڑا وقت نکال کر اپنے اُن اکا بر و اسلاف کے متعلق معلومات حاصل کریں، جن کے ذریعے ہم تک دین چلا آرہا ہے۔ اگر اتنی فرصت ممکن نہیں تو پھر اعتماد رکھیں کہ ان شاء اللہ عبقری کے ذریعے ایسی کوئی چیز نہیں پھیلائی جاتی ، جو شریعت سے ٹکراتی ہو ۔ مثلاً چند برس پہلے عبقری میں روزگار کی پریشانیوں سے بچنے رشتوں کی بندش توڑنے اور اچھی جگہ نوکری حاصل کرنے کیلئے سورۃ اضحی میں آنے والے کان پر 9 مرتبہ یا کریمپڑھنے کا ایک عمل شائع ہوا۔ کچھ لوگوں کیلئے یہ عمل نیا تھا لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ اس عمل کو مولانا الیان باید تشکری ای داخل مایا علیم ) نے مشکلات کے حل کیلئے اکسیر المجرب لکھا ہوا در دار السلام ہے (دیکھیں کتاب : پریشانیوں کا شرعی علاج ، صفحہ 11 ناشر: گاباسنز، اردو بازار، کراچی) یہی عمل بقیه السلف حضرت ملاقا تیرے پاس پانچوی در حالے نے بے روزگاری کے خاتمے کیلئے پڑ تا ثیر قرار دیا ہے (دیکھیں کتاب : بکھرے موتی ،صفحہ 84 ناشر بلسم پیلی کیشنز ، 40 اردو بازار، لاہور ) اسی عمل کو علان حان اقبال کریمی صاحب نے ملازمت کے حصول کیلئے شرطیہ عمل قرار دیا ہے (دیکھیں کتاب : وظائف الصالحین ، صفحہ 160 پسند فرموده: شیخ الحدیث ڈاکٹر شیر علی صاحب، مولانا عبد العزیز صاحب اور مفتی حمید اللہ جان صاحب، ناشر: مکتبہ شہید اسلام، لال مسجد، اسلام آباد) روحانی اسکالر مجید حول حسین مهدی صاحب نے بھی اسی ترتیب اور اس تعداد کے مطابق یہ وظیفہ نوکری حاصل کرنے کیلئے مجرب قرار دیا ہے (دیکھیں کتاب: اسلامی وظائف کا انسائیکلو پیڈیا صفحہ 134 پسند فرمودہ: مولانا محمدمظہر جامعہ اشرف المدارس کراچی، ناشر: ربانی پبلی کیشنز، دھرم پورہ لاہور )