خاص ساعتوں میں خاص وظائف

حضرت کاشمیریؒ سے خاص ساعتوں میں خاص وظائف پڑھنے کا ثبوت ماہنامہ عبقری میں اکابرؒ کی تعلیمات کے مطابق مسائل کے حل کے لئے خاص ساعتوں میں پڑھنے کے لئے مستند وظائف شائع کیے جاتے ہیں‘ جن پر کم علم طبقے کی طرف سے اعتراض اٹھتا ہے کہ یہ وظائف خود ساختہ ہیں۔آئیے اس کا حوالہ اکابرین کی زندگی سے لیتے ہیں۔استاذ الحدیث علامہ سید انور شاہ کاشمیریؒ لکھتے ہیں کہ جس شخص کی زبان میں لکنت ہو‘ اسے چاہیے کہ شب جمعہ میں چار رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ یٰسین‘ دوسری رکعت میں سورۃ دخان‘ تیسری رکعت میں سورۃ الم سجدہ اور چوتھی رکعت میں سورۃ ملک پڑھ کر سلام پھیر دے اور اپنی لکنت کے دور ہونے کی دعا کرے۔ان شاءاللہ زبان جاری ہو جائے گی۔بہت مجرب ہے، (بحوالہ کتاب گنجینہ اسرار‘ ص 144‘ ناشر:ادارہ اسلامیات‘ لاہور) اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ کیا عبقری کی مثال ایک ایمان دار ڈاکیے جیسی نہیں ہے؟جو اکابرین کی ڈاک بڑی حفاظت اور احتیاط سے آپ تک پہنچانےکا فرض انجام دے رہا ہے۔
دورانِ عمل تالی بجانا اور اکابرؒ کی سند

قارئین !دسمبر 2023ء میں مصر کے روحانی سفر کے بعد شیخ الوظائف نے تسبیح خانہ لاہور میں ایک روحانی عمل کروایا جس میں روحانی کلمات کے ساتھ تالی بجائی۔ہر عمل کی طرح یہ عمل بھی شیخ الوظائف اور تسبیح خانہ کا اپنا نہیں بلکہ اکابرؒ سے باقاعدہ ثابت ہے۔آئیے اکابرینؒ کی کتابوں سے اس عمل کے چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی شہرہ آفاق کتاب’’ گنجینہ اسرار‘‘ میں درج ہے کہ: ’’بعد نماز عشاء اول وآخر تین بار درود پاک کے ساتھ قرآن پاک کی یہ آیات قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ-اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى-وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا(110)وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا(بنی اسرائیل:111)پڑھیں‘اس کے بعد تین مرتبہ اللہ اکبر پڑھ کر‘مشرق و مغرب‘ شمال و جنوب‘ہر چہار جانب تالیاں بجائیں اور اگر ان آیات کوتعویذ بنا کر اپنے سامان یا دکان ومکان وغیرہ میں رکھ دیںتو نہ چور آئیں گے‘ نہ چوری ہو گی‘ ان شاءاللہ دوامی طور پر آزمودہ ہے۔‘‘(حوالہ:کتاب گنجینہ اسرار‘ص 27‘پبلشر‘بیت الحکمت‘سہارنپور‘انڈیا) اس کے علاوہ اکابرینؒ کی بہت سی کتب میں بے شمار وظائف ہیںجن میں دورانِ عمل ہاتھوں سے مخصوص قسم کے اشارے کرنا ثابت ہے۔(حوالہ جات:دعائے حزب البحر:تالیف ‘حضرت ابو الحسن شاذلیؒ‘روایت و اجازت حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ۔اعمال قرآنی ص27‘تالیف ـ:حضرت مولانا اشرف علیؒ :بیت الکتب کراچی‘۔گنجینہ اسرار‘ص43) ان حوالہ جات کی روشنی میںتسبیح خانہ کے منبر سے بتائے ہوئے ہر عمل کی طرح اس عمل پر بھی یہ بات صادق آتی ہے کہ شیخ الوظائف وظائف بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں۔
تسبیح خانہ میں سوا کروڑ سورۂ اخلاص کے عمل کے مستند حوالہ جات

ہر سال تسبیح خانہ لاہور میں سورۂ اخلاص کی گیارہ جمعراتوں کا عمل ہوتا ہے ‘جس میں اجتماعی طور پر سوا کروڑ سورۂ اخلاص پڑھوائی جاتی ہے اور اس کا نقش بھی لکھوایا جاتا ہے ۔اس عمل کی برکت سے بےشمار لوگ مستفید ہو کر اپنے مسائل‘ مشکلات اور لا علاج بیماریوں سے نجات پا رہےہیں۔ قارئین!ہر عمل کی طرح یہ عمل بھی عبقری کا خود ساختہ نہیں بلکہ اکابرینؒ سے ثابت ہے۔مختلف مستند کتب میں سورئہ اخلاص کی تلاوت اور اس کے نقش کے فوائد بیان ہوئے ہیں۔چند حوالہ جات درج ذیل ہیں۔ (1)تفسیر ابن کثیر‘مصنف :عماد الدین ابن کثیر‘ترجمہ :مولانا محمد جوناگڑھی ‘صفحہ 652 تا 657‘ناشر :مکتبہ اسلامیہ۔ (2)مجربات دیربی‘مصنف :خواجہ احمد دیربیؒ ‘صفحہ 84،85‘ناشر:ممتاز اکیڈمی۔s (3)الاوفاق (عملیات امام غزالیؒ)‘مصنف:حضرت امام غزالیؒ‘صفحہ نمبر94‘ناشر:بک کارنر پبلشرز۔ (4)شمع شبستان رضا‘مصنف:مولانا احمد رضا خان ؒ‘صفحہ42‘66‘ناشر:قادری رضوی کتب خانہ۔ (5)نقش سلیمانی‘مصنف:خواجہ اشرف علی لکھنویؒ‘صفحہ 35‘40‘263‘ناشر:توصیف پبلیکیشنر۔ (6)مجربات اکابر‘محمد اسحاق ملتانی‘صفحہ 432‘ناشر‘ادارہ تالیفات اشرفیہ۔ معلوم ہوا ‘ تسبیح خانہ لاہور میں کروایا جانے والا ’’سوا کروڑ سورۂ اخلاص کا عمل ‘‘بھی من گھڑت نہیں !
70 ہزارمرتبہ کلمہ بخشش کا ذریعہ

تسبیح خانہ میں ہر ماہ ہونے والے حلقہ کشف المحجوب میں شیخ الوظائف مرحومین کی مغفرت کی نیت سے اجتماعی طور پر 70 ہزار کلمہ کے نصاب کا عمل کرواتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس عمل کا ہما رے اکا بر ؒ سے کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام اذکا ر میں سب سے با بر کت فضیلت کا حامل یہی کلمہ ہے۔ تما م مشا ئخ کے سلاسل میں بھی اس کلمہ پر روحانی عروج کا دار ومدار ہے ۔ شیخ ابو یزید قرطبیؒ کا اپنے اہل وعیال کے لئے کلمے کے نصاب پڑھنا حضر ت شیخ الحدیث مولانا محمد ذکر یاؒ فضا ئل ذکر ،با ب دوم میں اس کلمہ کے نصاب کے با رے میں لکھتے ہیں کہ ہمارےحضر ت شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ نے ’’قول جمیل ‘‘میں اپنے وا لد ؒ سے نقل کیاہے کہ ابتدائے سلوک میں ایک سانس میں لاالہ الااللہ دو سو مرتبہ پڑھاکرتا تھا۔شیخ ابویزید قرطبی رحمہ اللہ فرما تے ہیں میں نے یہ سنا کہ جو شخص ستر ہزار مرتبہ لاالہ الااللہ پڑھے اس کو دوزخ کی آگ سے نجات ملے گی ، میں نے یہ سن کر ایک نصاب یعنی ستر ہزار کی تعداد اپنی بیوی کیلئے بھی پڑھا اور کئی نصاب خو د اپنے لئے پڑ ھ کر ذخیر ہ آخر ت بنا یا ۔ کلمہ کا نصاب گناہگار عورت کی بخشش کا ذریعہ شیخ ابویزید قرطبی رحمہ اللہ فرما تے ہیں مزید فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک نوجوان رہتا تھا جس کے متعلق یہ مشہو ر تھا کہ یہ صا حب کشف ہے ، جنت دوزخ کا بھی اس کو کشف ہو تا ہے ، مجھے اس کی سچائی میں کچھ شک تھا ۔ایک مرتبہ وہ نوجوان ہما رے ساتھ کھا نے میں شریک تھا کہ دفعتاً اس نے ایک چیخ ما ری اور سا نس پھولنے لگا اورکہا کہ میری ماں دوزخ میں جل رہی ہے۔اس دوران مجھے خیا ل آیا کہ ایک نصاب اس کی ماں کو بخش دوں جس سے اس کی سچائی کا بھی مجھے تجربہ ہو جائےگا۔چنانچہ میں نے ایک نصاب ستر ہزار کا ان نصابوں میں سے جو اپنے لئے پڑھے تھے اس کی ما ں کو بخش دیا۔ میں نے اپنے دل میں چپکے ہی سے بخشا تھا اور میر ے اس پڑھنےکی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی مگر وہ نوجو ان فوراًکہنے لگا کہ ’’چچا میر ی ما ں دوخ کے عذاب سے ہٹا د ی گئی ہے.‘‘ قرطبی رحمہ اللہ فرما تے ہیں مجھے اس قصہ سے دو فائدے ہو ئے ایک تو اس برکت کا جو ستر ہزا ر کی مقدار پر میں نے سنی تھی اس کا تجر بہ ہو ا، دوسرے اس نوجو ان کی سچائی کا یقین ہو گیا۔ آگے شیخ الحدیث ؒ فرماتے ہیں کہ یہ ایک واقعہ ہے اس قسم کے نا معلوم کتنے واقعا ت اس امت میں پائے جا تے ہیں۔(کتاب: فضا ئل اعمال‘باب ذکر ‘صفحہ نمبر 404، مصنف شیخ الحد یث مولا نا محمد ذکر یا کا ندھلوی رحمہ اللہ ، ناشر : ادارہ دینیات ،ممبی‘انڈیا ) ان اعمال اور ان کے حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شیخ الوظائف لوگوں کو شرک و بدعت سے ہٹا کر اعما ل کے ذریعے اللہ اور رسول ﷺْ کی اطاعت پر لگا رہے ہیں ۔ کتاب کےحوالہ کا لنک:
شیخ الوظائف کا کیا مفاد ہے۔۔۔ وجہ جان لیں!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم لاکھوں کی تعداد میں پودے لگانے کی کیوں ترغیب دیتے ہیں اور کیوں اس کی حفاظت کی تلقین کرتے ہیں ،اس میں ان کا کیا مفاد ہے آئیے جانتے ہیں ۔۔۔ ! آپ نے اپنے تمام مراکز خانقاہ تسبیح خانہ لاہور، درود محل لاہور، ہجویری محل شیخو پوره، روحانی منزل مری، گوشہ درود و سلام کراچی ،عبقری حویلی احمد پور شرقیہ میں لاکھوں کی تعداد میں پودے لگائے ہیں۔ اس میں آپ کے پیش نظر احادیث مبارکہ پر عمل کرنا ہے جن میں پودے لگانے کی ترغیب اور ان کی حفاظت کی تعلیم دی گئی ہے چند احادیث مبارکہ پڑھیے اور آپ کے جذبہ اتباع سنت کو داد دیجئے ۔۔۔! 1. سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم سال ہم نے فرمایا: ” جس مسلمان نے کوئی درخت لگایا اور اس کا پھل آدمیوں اور جانوروں نے کھایا تو اس لگانے والے کے لیے صدقہ کا ثواب ہے۔“ (بخاری) 2. حضور اقدس سال ہم نے ارشاد فرمایا : ” کہ جب مسلمان کوئی درخت یا کھیتی اگاتا ہے، پھر اس سے کوئی انسان، جانور با کوئی بھی چیز کچھ کھالیتی ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے۔“ (مسلم) 3. حضور اقدس مسلاسلام نے ارشادفرمایا: ” کہ جب کوئی شخص کوئی درخت اگا تا ہے تو جتنا پھل اس میں سے نکلتا ہے تو اللہ تعالی اس کے بقدر اس کے لیے اجر لکھ دیتا ہے۔“ (مسند احمد ) 4. حضرت ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس علم حاصل کرنے کی غرض سے کچھ طلبہ آئے ، تو انھوں نے دیکھا کہ حضرت ابوالدردا رضی اللہ عنہ درخت لگا رہے ہیں، تو ان طلبہ نے تعجب سے عرض کیا کہ آپ تو حضور منی لا الہ سلم کے صحابی ہو کر یہ دنیوی کام کر رہے ہیں؟ تو حضرت ابوالدردا رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور اقدس سیلی لا یتم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس شخص نے کوئی درخت اگا یا، تو اس میں سے کوئی انسان، پرندہ یا کوئی اور جانور جو کچھ بھی کھاتا ہے تو اللہ اس کو اس کا اجر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ خشک نہ ہو جائے۔” (الترغيب والترهيب) 5. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی ہی تم نے ارشاد فرمایا : سات اعمال ایسے ہیں جن کا اجر و ثواب بندے کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے، حالانکہ وہ قبر میں ہوتا ہے: (1) جس نے علم سکھایا (2) یا نہر کھدوائی (3) یا کنواں کھودا (یا کھدوایا ) (4) یا کوئی درخت لگایا ( 5 ) یا کوئی مسجد تعمیر کی (6) یا قرآن شریف ترکے میں چھوڑا (7) یا ایسی اولا د چھوڑ کر دنیا سے گیا جو مرنے کے بعد اس کے لیے دعائے مغفرت کرے۔( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ) 6. حضور سی ایم نے فرمایا : کہ اگر قیامت قائم ہونے لگے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو (جس کو وہ لگانا چاہ رہا ہو ) تواگر قیامت قائم ہونے سے پہلے اسے لگا سکتا ہے تو لگا لے۔ (اتحاف الخيرة الحمرة)"
شیخ الوظائف نے رجال الغیب کی دُعا اُمت کیلئے عام کر دی

شب برات کے حوالے سے معاشرے میں خرافات پھیل چکی ہیں لوگ یہ مبارک رات اللہ کو منانے اور عبادات میں گزارنے کی بجائے غفلت میں گزار دیتے ہیں۔ شیخ الوظائف شب برات میں بھی اکابرین کی ترتیب پر چلتے ہوئے لوگوں کو ایسے روحانی اعمال اور دعاؤں کیساتھ اللہ سے لینا اور اس مبارک رات کو قیمتی بنانا سکھا رہے ہیں جس سے مخلوق خدا دنیا کے مسائل حل کروانے کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت بھی سنوار لیں۔ اس شب برات تسبیح خانہ میں ہونے والی روحانی محفل کے دوران شیخ الوظائف نے دعائے حضرت خضر کے خاص الخاص راز سے پردہ اُٹھایا جو عام انسان کو مقام ولایت تک پہنچادے اور جو انسان کو مشکلات ناکامیوں، تنگدستی، بیماریوں سے نکال کر اللہ کے خزانوں سے کامیابیاں، دولت صحت اور خوشحالیاں دلائے ۔ اس دعا میں ایک خاص بات یہ ہے کہ انسان اپنی ذات سے نکل کر نبی کریم سانی نیستم کی پوری اُمت کیلئے مانگنے والا بن جاتا ہے۔ یہ کلمات راز دارانہ طور پر حضرت خضر کی طرف سے ابدالوں کو سکھائے گئے ہیں۔ اس دعا کے حوالہ جات درج ذیل ہیں۔ ( بحوالہ : تنبیہ الغافلین ص ۵۷۹ / مدارج النبوة جلد۱، ص۲۸۰/ نزہتہ البساتین ترجمه روضته الریاحین، جلد ۵ ص ۴۰۶، امام جلیل ابومحم عبد الله الیمنی یافتی) اسکے علاوہ عملیات کی مستند کتب میں موجود بہت سے عملیات کا جو ہر اکٹھا کر کے شیخ الوظائف نے اس ایک محفل میں مخلوق خدا کو ہدیہ کر دیا جس کی تاثیر اور کمالات صدیوں سے اکابر کے آزمودہ ہیں۔ ان روحانی عملیات کے حوالہ جات درج ذیل کتب میں موجود ہیں۔ طلسماتی ڈبی کنکر اور تعویذ کے حوالہ جات: مجربات دیر بی (اردو ترجمه ) ، مصنف : خواجہ احمد دیر بی، ناشر مشتاق بک کارنر : صفحہ نمبر 24، 26،25 مجربات دیر بی ، صفحہ 39،31 ،164 مجربات دیر بی صفحہ نمبر 119، 120۔ تعویذ لکھے کپڑے کا عمل حوالہ جات: مجربات دیر بی صفحہ نمبر 82، 285، مجربات دیر بی : 269 ،298 آئینہ عملیات ،صفحہ نمبر 43، 24۔ کان کی لو اور بھنوؤں سے شفاء عمل ( یا صد ) حوالہ جات: مجربات دیر بی صفحہ نمبر 99۔ عملیاتی چُھری: مجربات دیر بی صفحہ نمبر 117 ،118، 287،126 ، شمع شبستان رضا، صفحہ نمبر 609‘مجربات دیر بی ،صفحہ نمبر 89،88، 117، 180 مجربات دیر بی صفحہ نمبر 114 ، شمس المعارف ، مصنف : حضرت شیخ ابو العباس احمد بن علی بوٹی، ناشر : شبیر برادرز، اردو بازار لاہور، صفحہ نمبر 35 ۔ نیلے رنگ کے کپڑے کا عمل : میرے والد ماجد اور ان کے مجرب عملیات ، صفحہ نمبر 102، مرتب: مفتی محمد شفیع عثمانی ، آسان عملیات و تعویزات، جلد 7 صفحہ 289، ناشر: انورشاہ کراچی، آسان عملیات و تعویزات، جلد 5، صفحہ 189 ، ناشر: انورشاہ کراچی۔
جلدی اور عین چاہت کے مطابق شادی کر وانے کا انوکھا اور پُر تاثیر عمل

رمضان المبارک کے گیارہ اور بارہ روزے کی درمیانی شب کے نوافل ہر سال کی طرح اس سال بھی تسبیح خانہ لاہور میں شادی میں رکاوٹ، رشتوں کی بندش، رزق کی تنگی دور اور قرضوں سے خُلاصی کے لیے 11 اور 12 رمضان المبارک کی درمیانی شب میں 12 رکعت نوافل کا اجتماعی عمل کروایا گیا‘ جس میں پورے ملک سے لوگوں نے شرکت کی ۔ عمل کے آخر میں شیخ الوظائف نے سسکیوں بھری دُعا کروائی۔اس عمل کی برکت سے جو مخلوق خدا کو فائدہ ہوا وہ گمان سے بالاتر ہے۔ یہ عمل تسبیح خانہ کی ایجاد یا خود ساختہ نہیں ہے۔ہمارے اکابرؒ کی حیات کے ورق پلٹیں تو یہ عمل ان کی زندگی میں آپ کو ملے گا۔ ذیل میں ایک موجودہ مفتی اعظم کا فتویٰ ملحوظ فرمائیے، جس میں انھوں نے انہی نوافل کا تذکرہ فرمایا ہے۔ تسبیح خانہ کی یہی کوشش رہی ہے کہ مخلوق خدا کو مسنون اعمال پر لگا کر ان کے دُکھ ‘ درد بانٹے جائیں!نہ کہ شرک اور بدعت پر لگایا جائے!
احادیث میں تعویذ ات لکھنے کا ثبوت

شیخ الوظائف عبقری رسالہ اور تسبیح خانہ کے ذریعے لوگوں کے مسائل ‘مشکلات اور الجھنوں کے خاتمہ کے لئے ایسے روحانی تعویذات امت کو عطا کر رہے ہیں جن کی بنیاد کلام الٰہی ہے نہ کہ شرک اور بدعت ۔تعویذات لکھنا صحابہ و اہل بیتؓ ‘ اولیائے کرامؒ اور اکابرینؒ سے ثابت ہے۔ آئیے تعویذات لکھنے کے حوالہ جات جانتے ہیں: (1) حضرت عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ تعویذ لکھ کردیا کر تے تھے ۔(ابوداؤ ج 2 ص543 ،مصنف ابن ابی شیبہ ج 12ص 75) ( 2) حضرت عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ بچے کی پیدائش کیلئے دوآیا ت قرآنی لکھ کر دیتے تھے اور ا ن کو دھو کر پلا نے کا حکم فرما تے (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12ص60) طبرانی کی روایت کے مطا بق یہا ں تک بھی ملتا ہے کہ اس پا نی میں سے کچھ پیٹ اور کچھ منہ پر بھی چھڑک دیتے تھے ۔ (3) سید ہ عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابھی اس کی قا ئل تھیں کہ پا نی میں تعویذ ڈا ل کر وہ پا نی مریض پر چھڑ کا جا ئے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12ص 60) (4) حضر ت مجا ہدؒ فر ما تے ہیں کہ ایسا کر نے میں کو ئی حرج نہیں کہ قرآنی آیا ت کو لکھ کر مریض کو پلا ئی جا ئیں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12ص 74) (5) حضر ت سعید بن مسیب ؒفرماتے ہیں چمڑے میں ڈال کر تعویذ پہننا جا ئز ہے ۔(مصنف ابن ابی شیبہ ج 12ص 74) (6)اما م با قرؒ اس میں کو ئی حرج نہیں سمجھتے تھے کی قرآن کریم کی آیا ت کو چمڑے میں لکھ کر لٹکا یا جا ئے (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12ص74) مستند دارالافتاء کا فتویٰ سوال : کیا تعویز کا باندھنا بدعت ہے چاہے وہ قرآن کی آیات ہو یا اور کچھ ؟ جواب : رقیہ اور تعویذ تین شرطوں کے ساتھ جائز ہے: (۱) یہ کہ وہ آیاتِ قرآنیہ‘ اسمائے حسنیٰ وغیرہ پر مشتمل ہو۔ (۲) عربی یا اس کے علاوہ ایسی زبان میں ہو جو معلوم المراد ہو۔ (۳) یہ عقیدہ ہو کہ یہ تعویذ موٴثر بالذات نہیں ہے (اس کی حیثیت صرف دوا کی ہے) موٴثر بالذات صرف اللہ رب العزت ہیں۔دارالعلوم انڈیا۔ (فتویٰ نمبر:L=3/1434/130-338) ان حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تعویذات لکھنا اور اس کا استعمال کرنا شرک و بدعت نہیں بلکہ اکابرین امتؒ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔
بخت بلند چھلہ کے مستند حوالہ جات

حواله نمبر 1 بارھویں صدی کے مجدد حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے فرمایا کہ ایک بار مجھے شرف زہرہ اور شرف قمر کے اوقات میں دو انگوٹھیاں بنوانے کا اتفاق ہوا اور وہ دونوں انگوٹھیاں دو عورتوں کو دی گئیں۔ تھوڑے دنوں بعد وہ دونوں سخت تکلیف میں مبتلا ہو ئیں۔ بہت علاج کیا گیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ روز بروز تکلیف بڑھتی گئی اور اس کا سبب معلوم نہ ہو سکا۔ آخر ایک روز مراقبے کے دوران یعنی حالت کشف میں ان دونوں انگوٹھیوں نے ہمارے سامنے شکایت کرنا شروع کی اور حد سے زائد گلے شکوے کیسے کہ ہم کو بغیر طہارت استعمال کیا جاتا ہے اور ہماری حرمت ( پاکیزگی ) کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ جس کی وجہ سے ہم بہت اذیت میں ہیں اور ان عورتوں کی بیماری کا بھی یہی سبب ہے۔ پس میں نے ان عورتوں کو انگوٹھیاں اتارنے کا حکم دیا اور جب ان سے لے کر احتیاط سے پاک وصاف جگہ پر رکھ دیا تب ان دونوں نے شفا پائی۔ پھر میں نے بہت تاکید اور سختی سے کہہ دیا کہ ان کو بغیر طہارت ہرگز نہ پہنا جائے۔ شرائط کی ادائیگی کے بعد ان انگوٹھیوں میں سے ایک نے جو شرف قمر سے متعلق تھی مصالحت کر لی لیکن جو شرف زہرہ سے متعلق تھی اس کو بمقابلہ اول شکایت زائد تھی وہ مصالحت کے لئے تیار نہ ہوئی چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد وہ گھر سے گم ہوگئی اور چند روز بعد اصحاب میں سے ایک کی جیب سے برآمد ہوئی گو یا وہ ز نانخانہ میں رہنے پر راضی نہ تھی۔ لہذا وہ ضرورتا اپنے پاس رکھ لی گئی اور اس طرح ایک دوسرے شخص نے بھی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کے استعمال کی احتیاط نہ برقی اس انگوٹھی نے بھی ہم سے شکایت کی اور ایسا معلوم ہوا کہ جس روحانی ساعت میں وہ انگوٹھی بنائی جاتی ہے اس کی روحانیت ، کمال اور برکت اس انگوٹھی میں شامل کر دی جاتی ہے۔ اور یہ بھی واضح ہو کہا تمام ستاروں کی روحانی طاقتیں فطری طور پر طہارت کی طرف مائل ہیں۔ یعنی جو شخص جتنازیادہ پاک صاف رہے گا، خوشبو کا اہتمام کرے گا، اسے ان ساعتوں کی اتنی ہی زیادہ تا ثیر حاصل ہوگی۔ (بحوالہ : حالات و واقعات و ملفوظات حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی القول البلی فی ذکر آثار الولی۔ صفحہ 187،213- مسئولف: حضرت مولانامحمد عاشق پھلتی۔ شاکر پبلی کیشنز لا ہور )https://archive.org/details/AlQaululJaliFizikarAsarEwaliByMaulana MuhammadAshiqPhulti/mode/2up (القول الحیلی کتاب کا آن لائن لنک) حواله نمبر 2 چاندی کے علاوہ کسی دھات کا چھلہ پہننے کے جواز میں فتویٰ سوال (۱۰۳۷۶): کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: چہرے پر دانوں کے علاج کے لیے تانے کا چھلہ پہنا درست ہے یا نہیں؟ جواب : تانے کا چھلہ پہنے سے چہرہ پر دانے نہیں ہوتے تو اس کی شرعاً کوئی اصل نہیں ہے، اور اگر واقعی کسی حکیم یا طبیب نے بطور علاج دانوں کے ختم کرنے کے لیے تانبہ کا چھلہ بتایا ہواور تجربہ سے اس کا فائدہ ظاہر ہو چکا ہوتو ایسی صورت میں بطور علاج تانبہ کا چھلا پہنے کی گنجائش ہے۔(مستفاد: محمود یہ قدیم ۴۲۱/۱۴، ڈابھیل ۱۹ / ۳۶۳، رحیمیہ قدیم ۲۷۹/۶، جدید زکریا ۱۰ / ۱۵۷) بھی الکلام فی بند الساعة الذي تربط به ويعلقه الرجل بزرثو به، والظاهر انه کهند السميه الذي تربط به (شامی، کتاب الحظر ال اباحه ، باب الاستبراء وغیر و زکریا ۹ / ۵۱۰، کراچی ۳۵۴/۶) فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبه: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ فتاوی قاسمیہ، جلد 23 (الف فتوی نمبر : ۷۱۲۷/۳۵) حواله نمبر 3 ریشمی کپڑے کا پہننا حرام لیکن اس سے فائدہ اُٹھانا حرام نہیں علامہ علاقی کی شرح ملتی میں ہے ریشمی مصلی پر نماز پڑھنا کر وہ نہیں کیونکہ اس کا صرف پہنا حرام ہے۔ لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے باقی تمام طریقے حرام نہیں جیسا کہ صلوۃ الجواہر میں مذکور ہے اس کو قہستانی وغیرہ نے برقرار رکھا ہے۔ اس کو دو عالموں یعنی علامہ شامی اور علامہ طحطاوی نے در مختار کے حواشی میں نقل کرتے ہوئے قائم رکھا ہے۔ (ت) (الدر المنتقى في شرح المنتقى على هامش مجمع انه شرح ملتقى الحركتاب الكراهية دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/۱) حواله نمبر 4 مردوں کے لیے چاندی کی انگوٹھی ( چھلہ ) پہنے کا حکم سوال: مردوں کے لیے بغیر نگینے کی انگوٹھی (یعنی چاندی کا چھلہ) پہننا کیسا ہے؟ امید ہے کہ آپ مدلل جواب عنایت فرمائیں گے!جواب: مردوں کے لیے چاندی کی انگوٹھی چھلہ پہننا جائز ہے، بشرطیکہ اس کا وزن ایک مثقال سے کم ہو۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! میں کسی دھات کی انگوٹھی پہنوں ، تو آپ سنی یا ہی ہم نے فرمایا: چاندی کی ،مگر اس کا وزن ایک مثقال تک نہ پہنچے ۔ حدیث میں چوں کہ نگینے یا بغیر نگینے والی انگوٹھی کی تفصیل نہیں ہے، اس لیے بغیر نگینے کے چھلہ پہننا بھی جائز ہوگا ، اصل بات یہ ہے کہ چاندی کا وزن ساڑھے چار ماشے تک نہ پہنچے۔ الدر المختار وحاشیة ابن عابدین ( ردالمختار ) (358/6)، (فتوی نمبر : 144008200638، دار الافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) حواله نمبر5 دھات کے چھلے، ہاتھی کا دانت گٹھلی لکڑی وغیرہ بطور علاج استعمال کرنا سوال (۱۰۳۷۷): کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : کسی بیماری کی وجہ سے کوئی کسی چیز کی گٹھلی یا خشک پھل لکڑی یا کسی قسم کا پتھر ہاتھ پیر اور گلے میں ڈال سکتے ہیں ، بہت لوگوں کو ہاتھی کا دانت جیسی چیز ، پیروں میں باندھے ہوئے دیکھا گیا ہے، اور مختلف قسم کے دھاتوں سے بنی انگوٹھی چھلہ کسی بیماری، بواسیر وغیرہ کے لیے ہاتھوں میں ڈال سکتے ہیں یا نہیں ؟ شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟جواب: مذکورہ اشیاء کو امراض کی وجہ سے دفع امراض کے لیے استعمال کرنے کا تعلق کسی فقہی مسئلے سے نہیں ہے، بلکہ فن طب اور تجربہ سے اس کا تعلق ہے، اگر تجربہ سے
ایک بادشاہ نے دوسرے بادشاہ کو کیسے بخشوایا؟

ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالمہ جنات کا پیدائشی دوست میں حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت ر کا تہم کے متعلق کشف القبور کے بچے واقعات پڑھ کر کچھ لوگ کیا، کیوں اور کیسے” کی الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔ انہی حباب کے شرح صدر کیلئے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، کہ کشف القبور کوئی نئی چیز نہیں، جس کا ہمارے اکابر و اسلاف میں وجود ہی نہیں تھا، بلکہ یہ حقائق روحانی دنیا کے شہسواروں میں صدیوں سے چلے آرہے ہیں ۔ اگر کسی کو اپنے اکابر و اسلاف کی باتوں پر یقین نہیں آتا تو خود گناہوں اور مشکوک رزق سے بچنا اور شریعت پر سوفیصد چلنا شروع کر دے۔ ان شاء اللہ کچھ ہی دنوں میں اسے بھی کشف ہونے لگے گا۔ پھر آنکھوں دیکھی حقیقت تو نہیں جھٹلائی جائے گی۔ مولانا غلام رسول مہر ای علیہ لکھتے ہیں : مولانا سید عبدالجبار شاہ ریلی علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ مولانا ولایت علیجونپوری طاری تعلیہ کی وفات کے بعد ایک صاحب مجھے ملنے کیلئے آئے، جنہیں کشف قبور میں مہارت حاصل تھی۔ میں انہیں مجاہدین کے قبرستان میں لے گیا اور مولانا ولایت علی رحیمیہ کی قبر کے پاس بٹھا کر کہا کہ فرمائیے : یہ کون صاحب ہیں اور ان کا حلیہ کیا ہے؟ وہ تقریباً آدھا گھنٹہ مراقب رہے، پھر اٹھے تو مجھے فرمایا کہ آؤ چلیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ صاحب قبر نے ان کے دل پر گہرا شر ڈالا۔ راستے میں مجھے بتایا کہ یہ بزرگ سرحد کے نہیں، ہندوستان کے ہیں اور ان کا درجہ بہت اونچا ہے۔ میں نے حلیہ پوچھا تو کہا: رنگ سانولا ہے اور ڈاڑھی کے بال رخساروں پر کم ہیں، تھوڑی پر زیادہ۔ غرض جو حلیہ بتایا، وہ مولانا ولایت علی طایلیہ کے فرزندان رجمند مولانا عبد اللہ اور مولانا عبد الکریم رحمہما اللہ سے خاصا مشابہ تھا۔ لہذا مجھے یقین ہو گیا کہ صاحب کشف کا بیان درست ہے۔( بحوالہ کتاب : سرگزشت مجاہدین، صفحہ: 344 مصنف : مولانا غلام رسول مہر دلیلی، ناشر: مکتبة الحق، ماڈرن ڈیری ممبئی) علامہ یوسف بن اسماعیل العمانی ریشی مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں : امام یافعی دایملیہ نے فرمایا کہ شہیلہ کے امام ومحدث شیخ احمد حرار شبیلی ریلی علیہ نے مجھے بتایا: جب میں مصر کی مسجدوں میں رات گزارتا تھا تو رات کے وقت جہانہ کے قبرستان میں نکل جاتا۔ اللہ کریم نے میرے سامنے قبر والوں کے احوال کھول دیے تھے۔ میں نعمت والوں کو بھی دیکھتا اور عذاب والوں پر بھی نظر ڈالتا۔ فتح کی طرف قبرستان کا جو حصہ تھا، ان قبر والوں کے حالات بہت اچھے تھے ۔( بحوالہ کتاب: جامع کرامات اولیاء صفحہ 687 ناشر: ضیاء القرآن پبلی کیشنز ، گنج بخش روڈ ، لاہور ) علامہ وحید الزماں حیدر آبادی دارایی لیہ مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں کہ دتی کا بادشاہ بہت گنہگار تھا، جب فوت ہونے لگا تو اس نے وصیت کی کہ مجھے سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء دا اہلیہ کے مزار کے پاس دفن کر دینا۔ چنانچہ اسے وہیں دفن کیا گیا۔ کچھ دن بعد ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ حضرت نظام الدین اولیاء ہی یہ بارگاہ الہی میں گڑ گڑا کر عرض کر رہے ہیں یا اللہ ! یہ بادشاہ میرے پاس اس امید سے آیا ہے کہ تو اسے بخش دے” پس اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی۔(بحوالہ کتاب: تیسیر الباری، ترجمہ صحیح بخاری، ناشر: نعمانی کتب خانہ، اردو بازار، لاہور)