بیری کے پتوں سے نہانے کی حقیقت!

محترم قارئین ! عبقری تسبیح خانہ لاہور میں حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ پچھلے 15 برس سے جادو کوختم کرنے ، جنات سے چھٹکارا حاصل کرنےاورنظربداور بیماریوں کو جسم سے دھونے کیلئےاکابر واسلاف کا آزمودہ بیری کے پتوں کا ایک عمل ارشاد فرمارہے ہیںکہ بیری کے 7 پتے لے کر ہر ایک پر ایک ایک مرتبہ پہلا کلمہ اور ایک ایک مرتبہ آیت ِ کریمہ پڑھ کے انہیں ابال کرکسی ایسی جگہ غسل کرلیں ،جہاں پانی زمین کی مٹی اپنے اندر جذب کرلے۔ کچھ لوگ جو طب ِ نبوی ﷺ کے اسرارورموز اور اصول و قوانین سے ناآشنا ہیں ، فوراً کہتے ہیں کہ یہ کس حدیث سے ثابت ہے؟ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ روحانی طریقۂ علاج میں بیری کے پتوں پر کلمات کا پڑھنا صدیوں سے چلاآرہاہے۔ جیسا کہ کویت کے ایک معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرسعید بن علی القحطانی حفظہ اللہ بیری کے پتوں سے غسل کرنے کو "مسنون دم” کہتے ہوئےلکھتے ہیں کہ: جادو ہوجانے کی صورت میں مسنون دم کیا جائے ، جس کا سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ : بیری کے ساتھ پتے لے کر انہیں دوپتھروں کے درمیان رکھ کر پیس لیں یا کسی اور چیز سے کوٹ لیں۔پھر اس ملیدے کو پانی کی اتنی مقدار میں حل کرلیں جو غسل کیلئے کافی ہواور اس پر قرآن مجید کی درج ذیل آیات اور سورتیں پڑھی جائیں۔(1) آیۃ الکرسی (2)سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 255(3)سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 117 تا 122(4)سورۃ یونس کی آیت نمبر 79تا82 (5)سورۃ طٰہٰ کی آیت نمبر 65تا70 (7) آخری چاروں قل ۔ پھر اس دم والے پانی میں سے چند گھونٹ پی لیاجائے اور باقی سے غسل کرلیاجائے۔ یہ عمل کرنےسے ان شاء اللہ بیماری ختم ہوجائے گی ۔ مرض کے خاتمے تک یہ عمل بار بار کیا جا سکتا ہے(یعنی ہر ہفتے یا ہر دن اسی طرح نہایا جاسکتاہے)اس عمل کو کئی بار آزمایاگیاتو اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے فائدہ پہنچایا۔حتیٰ کہ یہ عمل ان میاں بیوی کیلئے تو ایک تیر بہدف نسخہ ہے جن کے درمیان ایک دوسرے کیلئےجدائی ( نفرت )ڈال دی گئی ہو ۔ (بحوالہ کتاب:دعا اور دم کے ذریعے مسنون علاج ،صفحہ 99 ناشر: مکتبہ دارالسلام ،لوئر مال سیکرٹریٹ لاہور) معلوم ہوا یہ عمل بھی شیخ الوظائف کا خود ساختہ نہیں ہے۔
کٹے ناخن دفنائیں۔۔۔ سنگین بیماریاں بھگائیں

ایک کروڑلوگوں تک جانے والی عبقری پوسٹ کی حقیقت جانیں۔۔! (مفتی محمد فرقان محمود، خصص جامعہ بنوریہ کراچی) شیخ الوظائف اپنے اکثر دروس میں ناخن کاٹنے پر خوشحالی اور نہ کاٹنے پر بد حالی کا تذکرہ فرماتے ہیں اسی طرح کچھ عرصہ قبل عبقری کے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ ناخن کاٹنے پر بیماریاں بھگانے کی ڈالی گئی جسے ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا پسند کیا اور فیض حاصل کیا تو میرے دل سے عبقری کیلئے بے ساختہ دعائیں نکلنا شروع ہو گئیں کتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے ذریعے تسبیح خانہ اور عبقری ہمیں قرآن وسنت اور تعلیمات اکابر سے جوڑ رہا ہے آپ دوستوں کیلئے ناخنوں کے ذریعے خوشحالی اور بدحالی کے کی باتیں عرض کرتا ہوں جس سے آپ عبقری کے بارے میں یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے اس پرفتن دور میں عبقری ہمارا بہت بڑا حسن ہے۔ (1) مسرج اشعریہ نے بیان کیا کہ ہمارے والد مسرج ” جو اصحاب نبی پاک سمایا کہ تم میں تھے انہوں نے ناخن کاٹا اور اس کے تراشہ کو جمع کر کے دفن کردیا اور پھر کہا کہ میں نے اسی طرح ( آپ سیلی می بینم کو ناخن کے تراشے کو دفن ) کرتے ہوئے دیکھا۔(شعب الایمان ج 5 میں 232 بحوالہ شمائل کبری ج 2 ص 405) (2) حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چاہیے۔ (فتح الباری ج 10 ص 346) (3) حافظ ابن حجر عسقلانی نے علامہ زبیدی ، شارح احیاء نے اتحاف السادۃ میں اور علامہ شامی نے ردر المختار میں ناخن کاٹنے کی ایک خاص ترتیب پر آشوب چشم کا علاج لکھا ہے کہ یہ عمل مجرب ہے اس کی وجہ سے یہ بیماری دور ہو جائے گی۔(فتح، اتحاف ج 2 ص 412 بحوالہ شمائل کبری ج 2 ص 405) (4) شیخ محمد صالح المنجد حفظہ اللہ کی نگرانی میں میں ایک فتویٰ شائع کیا گیا جس میں لکھا ہے کہ اگر ناخنوں کو دفن کر دیتے ہیں تو یہ اچھا عمل ہے۔ (5) امام بیہقی رحمہ اللہ شعب الایمان میں فرماتے ہیں کہ بالوں اور ناخنوں کو دفن کرنے کے بارے میں احادیث مختلف اسناد کے ساتھ موجود ہیں۔ ( بحوالہ نصب الرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ ج1 ص189) (6) امام خلال رحمہ اللہ نے اپنی کتاب: "الترجل : صفحہ: 19 میں نقل کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بالوں اور ناخنوں کو دفن کیا جائے۔ (7) شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ سے بالوں اور ناخنوں کو تراشنے کے بعد انہیں دفن کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا: اہل علم نے بال اور ناخن دفن کرنے کو اچھا اور بہتر عمل قرار دیا ہے، اس بارے میں صحابہ کرام سے بھی کچھ آثار ملتے ہیں۔ (مجموع فتاوی شیخ ابن عثیمین” (11 / جواب نمبر : 60) (8) ناخنوں کو نجس ( ناپاک) جگہ ڈال دینا کراہت و گناہ کا ذریعہ ہے اور اس کو دفن کر دینا بہتر ہے۔( فتاوی ہندیہ ج 5 ص 358 بحوالہ فتاوی دار العلوم فتوی نمبر 35296) (9) انسانی ناخن اور بال دفن کر دینے چاہیں یا ایسی جگہ مٹی میں ڈال دیے جائیں جہاں گندگی اور نا پا کی نہ ہو(جامعہ بنوری ٹاؤن ، فتوی نمبر 143605200009) (10) چار چیزوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ دفن کر دی جائیں۔ بال ، ناخن حیض کا لتا، خون ۔اس لئے ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چاہئے۔ پاخانہ یا نسل خانہ میں انہیں ڈالنا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔(ماخوذ از اسلامی اخلاق و آداب، مصنفہ صدر الشریعہ علامہ امجد علی قادری ، ص: ۲۳۳ تا ۲۳۸) (11) فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے کہ دانت سے ناخن کاٹنا مکر وہ اور اس سے کوڑھ کا مرض ہو جانے کا اندیشہ ہے۔(فتاوی عالمگیری جلد 5 ، صفه 358) (12) کٹے ہوئے ناخن اور بال دفن کرنا چاہیے دفن نہ کرے تو کسی محفوظ جگہ پر ڈالدے یہ بھی جائز ہے مگر نجس گندی جگہ پر نہ ڈالے اس سے بیمار ہو جانے کا اندیشہ ہے۔( بہشتی زیور : حصہ 11 ص 97) (13) مسنداحمد ، ج 9، ص 125 ، حدیث : 23539 ) جمعے کے دن ناخن تراشنے والا دس ( 10 ) دن تک اس کی برکتیں پاتا ہے۔ (14) حدیث پاک میں ہے: جو جمعہ کے دن ناخن ترشوائے ، اللہ تعالیٰ اس کو دوسرے جمعہ تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور 3 دن زائد یعنی 10 دن تک ۔ (مرقاۃ المفاتیح ، ج 8، ص212۔ کنز العمال ج 6 ص 372) (15) دانت سے ناخن کاٹنا مکروہ ہے تنگی رزق اور غربت کا باعث ہے۔ (اتحاف ج 2 ص 412) (16) علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں: دانت سے ناخن نہ کاٹے کہ اس سے برص کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے (فتاوی شامی ج 5 ص 287) (17) مولانا اختر حسین صاحب لکھتے کہ ناخن کاٹنے کے بعد تراشے ہوئے کو دفن کرنا سنت ہے ( سنت حبیب سلیم ص 189)
ناخن کاٹیں مالد ار بنیں اور بیماری بھگائیں ۔۔۔!

حضرت جابر سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ سلایا کہ تم نے فرمایا کہ ناخن تراشو کہ ناخن اور اور گوشت کے درمیان شیطان دوڑتا ہے۔(خطیب فی الجامع ، اتحاف ج 2 ص 411، شمائل کبری ، سنت حبیب مالیتم ) امام غزالی احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ بڑھے ہوئے ناخن پر شیطان بیٹھتا ہے(احیاء العلوم الدین ج 2 ص 411) ملاعلی قاری نے لکھا ہے کہ ناخن نہ کاٹنا اور بڑھے ہوئے رکھناتنگی رزق کا باعث ہے(مرقات ج 4 ص 457 بحوالہ شمائل کبری ج 2 ص 404) حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب بن مفتی احمد الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ دوران درس مسلم شریف حضرت مفتی نظام الدین شامزئی ( شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن ) نے فرمایا کہ کہ امام نووی نے لکھا ہے کہ جمعرات کے دن ہاتھوں اور پیروں کے ناخن کاٹنے سے مالداری آتی ہے اور غربت وافلاس کا خاتمہ ہوتا ہے۔ حضرت مفتی نظام الدین شامزی صاحب کے اس فرمان کے بعد میں نے اس عمل کو بار ہا آزمایا میرے بعض دوستوں نے میرے بتانے پر اس پر عمل کر کے مجھے بتایا کہ جب سے اس نسخے پر عمل کیا ہے جیب کبھی بھی خالی نہیں ہوئی آپ بھی کریں انشاء اللہ آپ کو بھی فائدہ ہوگا۔ (شفاء ورحمت ،ص325، مصنف مولانا صاحبزادہ عزیز الرحمن صاحب، ناشر: حاشر پبلشرز ) محترم قارئین ! عبقری اگر چھوٹے چھوٹے اعمال پر بڑے بڑے فائدوں کا ذکر کرتا ہے تو وہ فائدے اپنی طرف سے خود ساختہ نہیں ہوتے ۔۔۔ ! بلکہ قرآن وسنت اور اکابر سے منقول ہوتے ہیں اور میں ایک بات جانتا ہوں کہ ہمارے اکابر ہم سے زیادہ سمجھ دار، ذی شعور اور باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی مشاہداتی زندگی میں بھی با کمال تھے۔
لاکھوں لوگوں کو مالدار بنادینے والی سورہ ٔکوثرکے دیگر کمالات

(ڈاکٹر فیصل شمسی صاحب، لاہور ) تسبیح خانہ میں سب سے زیادہ جو عمل مقبول ہو ا وہ سورہ کوثر سے مالدار بنیں والا عمل ہے اس سورت کے کتنے کمالات ہیں یہ تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔۔۔ سورۃ الکوثر میں عددی معجزے نے ہی مجھے حیران کر رکھا ہے، سوچا اکابر پر اعتماد کے دوستوں کے ساتھ شیر کرلوں ، سورۃ الکوثر قرآن کی سب سے چھوٹی سورت ہے اور اس سورۃ کے جملے الفاظ 10 ہیں۔ قرآن بذات خود ایک معجزہ ہے سورۃ الکوثر کی پہلی آیت میں 10 حروف ہیں۔ سورۃ الکوثر کی دوسری آیت میں 10 حروف ہیں۔۔سورۃ الکوثر کی تیسری آیت میں 10 حروف ہیں۔۔ اس پوری سورت میں جو سب سے زیادہ تکرار سے حرف آیا ہے وہ … حرف ” ” الف ہے جو 10 دفعہ آیا ہے۔۔ وہ حروف جو اس سورت میں صرف ایک ایک دفعہ آئے ہیں انکی تعداد 10 ہیں۔ اس سورت کی تمام آیات کا اختتام حرف ” را” راء پر ہوا ہے جو کہ حروف ہجا میں 10 واں حرف شمار ہوتا ہے۔۔ قرآن مجید کی وہ سورتیں جو حرف” ر” راء پر اختتام پذیر ہو رہی ہیں، انکی تعداد 10 ہے جن میں سورۃ الکوثر سب سے آخری سورت ہے۔سورت میں جو 10 کا عدد ہے اسکی حقیقت یہ ہے کہ وہ ذو الحجہ کے مہینے کا 10 واں دن ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ” فصل لربک وانحر” ” پس نماز پڑھو اور قربانی کرو وہ دراصل قربانی کا دن ہے اللہ کی شان کے یہ … سب کچھ قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورت ، جو ایک سطر پر مشتمل ہے، میں آگیا ہے۔ آپکا کیا خیال ہے بڑی سورتوں کے متعلق ! اللہ تعالی نے اسی لیئے فرمایا ” ہم نے اپنے بندے پر جو کچھ نازل کیا ہے اگر تمہیں اس میں شک ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی لے آؤ” اللہ تعالی مجھے اور آپ کو حوض کوثر سے ایسا مبارک پانی پلائے جسکے بعد ہمیں بھی پیاس نہ لگے۔ آمین محترم قارئین اتسبیح خانہ سے سورہ کوثر کا جو عمل شائع ہوا اللہ کے کلام کی برکت سے لاکھوں لوگ اس کی وجہ سے مالدار بنے ، پاکٹ منی میں برکت ہوئی اگر آپ بھی ان برکتوں کو پانا چاہتے ہیں تو ایک کپڑے کی تھیلی سلوالیں اور اس پر 129 مرتبہ صبح و شام سورہ کوثر پڑھ کر دم کریں جب بھی اس میں سے پیسے نکالیں یا اس میں ڈالیں تو ایک مرتبہ سورہ کوثر پڑھ لیا کریں اور برکتیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔۔۔ ! ہے ناں اکابر پر اعتماد کا کمال.
سورہ والضحیٰ کے ہر ’’کاف‘‘ پر 9 بار ’’یا کریم‘‘ پڑھنے والا تسبیح خانہ میں بتایا جانے والا عمل شیخ الوظائف نے کہاں ںسے گھڑ لیا!

تسبیح خانہ کے منبر سے شیخ الوظائف نے متعدد بار مختلف مسائل اور الجھنوں میں پھنسے لوگوں کے لئے سورۃ والضحیٰ کے ہر ’’کاف‘‘ پر ۹ بار ’’یا کریم‘‘ پڑھنے والا عمل بتایا‘ جس سے بے شمار لوگ مستفید ہو رہے اور اس عمل کے مشاہدات بھی بتا رہے ۔اس عمل کے حوالے سے کچھ نادان مخلصین کا کہنا ہے کہ یہ عمل’’ شیخ الوظائف ‘‘کا اپنا بنایا ہوا ہے اس کا کہیں کسی کتاب میںحوالہ موجود نہیں ہے ۔آئیے تسبیح خانہ سے جڑے بے شمار لوگوں کے اس آزمودہ عمل کا حوالہ دیکھتے ہیں کہ کیا یہ عمل تسبیح خانہ کا اپنا ہے یا اس کا بھی کسی اکابرین کی کتابوں سے حوالہ موجود ہے۔ سورۃ والضحیٰ کو عاملین نے پر تاثیر مانا ہے اس میں 9 مقام پر ’’کاف‘‘آیا ہے۔آپ نماز فجر کے بعد وہیں بیٹھیں یہ سورۃ پاک اس طرح پڑھیں کہ جب بھی کاف آئے تو ’’یا کریم‘‘ نو مرتبہ پڑھیں۔یہ عمل صرف نو ایام کریں ملازمت مل جائے گی۔ان شاءاللہ ۔ بحوالہ: (1) بکھرے موتی ‘جلد اول ‘ ص 61) (2)اسلامی وظائف کا انسائیکلوپیڈیا،ص82،تدوین و ترتیب :سید مزمل حسین نقشبندی،ربانیہ پبلیکشنز،لاہور۔ (3)شرعی علاج بحوالہ خزانہ احسال ص 1) ان حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تسبیح خانہ کا پیغام حقیقت میں’اکابر‘‘ کا ہی پیغام ہے جس پر بے شمار لوگ عمل پیراں ہو کر فیض یاب ہو رہے اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوار رہے ہیں۔
کالی دنیا کالے لوگ کالے روگ‘‘ کیا یہ عبقری کا خود ساختہ اور من گھڑت عمل ہے؟

اکابر پر اعتماد کی پوسٹ کالی دنیا کالے لوگ کالے روگ کے حصہ اول میں آپ نے اس عمل میں پڑھائے جانے والے اسماءالحسنیٰ ’’یا ودود یا لطیف ‘‘کے متعلق مختلف مدارس کے حوالہ جات پڑھے جس سے یہ بات آپ پر عیاں ہوئی کہ یہ عمل عبقری تسبیح خانہ کا خود ساختہ نہیں بلکہ اکابر کی ترتیب کے عین مطابق ہے۔آئیے اب ہم اس عمل میں استعمال ہونے والے اجزاء اور اس کو جلانے کے حوالے دیکھتے ہیں کیا ان کے بھی کوئی حوالہ جات موجود ہیں یا پھر یہ ترتیب تسبیح خانہ کی اپنی ایجاد کردہ ہے۔ اگر اکابرین کی عملیات کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مختلف عملیات میںمختلف اجزاء یعنی ہرمل‘ کالی مرچیں‘ سرخ مرچیں‘ ہلدی ‘وٖغیرہ کو جلانا ثابت ہے۔اس سلسلے میں چند مستند کتابوں کے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔ 1۔ہرمل کے طبی فوائد ہیں کہ اس کا جوشاندہ تمام بدن کے ریاح زکام اور واسطے اضطراب اطفال کے لئےمفید ہے۔اس کے علاوہ جس شخص کو نیند نہ آتی ہو اس کے لئے بھی سود مند ہے۔ہرمل کی دھونی جہاں دی جائے اس مقام پر اور وہاں قریب چالیس گھروں تک شیاطین قریب نہیں آتے۔ (بحوالہ:مجربات دیربی،تصنیف حضرت خواجہ احمد دیربیؒ ، ترجمہ مولوی بشارت علی خان ص ۲۶۸،متکبہ ایچ ایم سعید کمپنی،کراچی) 2۔برائے حُب 20 سیاہ مرچوں کے ہر ایک دانہ پر ایک بار ذیل میں دیئے گئے کلمات کو پڑھ کر ان مرچوںکو آگ میں جلادیں۔ان شاءاللہ کامیابی حاصل ہو گی۔یُحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ-وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ-یَا حَفِیْظُ -یَا نَاصِرُ اُحْضُرُوْنِیْ- (بحوالہ:آسان عملیات و تعویذات، جلد دوم ، ص ۲۵۷، مرتب :عامل کامل اعجاز احمد خان سنگھانوی،کتب خانہ انور شاہ،کراچی۔) 3۔ اکیس دانہ بنولہ کے ہر ایک دانہ پر سورہ قدر ایک بار پڑھ کر اسے آگ میں جلادیں‘ ان شاءاللہ ایک ہفتہ میں مقصد پورا ہو جائے گا۔(ایضاً) 4۔نظر بد کے لئے دو تین ہلدی کی گرہ پر تین تین مرتبہ یہ کلمہ پڑھ کر پھونکیں ان شاءاللہ نظر بد ختم ہو جائے گی۔ اَلْاِسْلَامُ حَقٌّ وَالْکُفْرُبَاطِلٌ(بحوالہ:گنجینہ اسرار،تحریر:مولانا مظفر الحسن قاسمی،ص111،ناشر:ادارہ اسلامیات ،لاہور۔ آئیے اسی ضمن میں اب دارالعلوم انڈیا کا فتویٰ پڑھیں اور تسبیح خانے کے بتائے اعمال پر دلجمعی سے عمل کریں کیونکہ یہ نہ تو شرک اور نہ ہی بدعت بتاتے ہیں۔ سوال نمبر: 165373عنوان: لال مرچوں پر دم كركے نظر اتارنا:سوال: حضرت میں نے دیکھا کہ نظر اتارنے کے لئے ۷ ثابت سوکھی لال مرچ پر الگ الگ ۷ مرتبہ سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھ کر دم کر کے بیمار کے اوپر سے ۷ مرتبہ گھما، اُتار کر آگ میں جلاتے ہیں، دھنس نہیں پیدا ہوتی ہے، بیمار صحت یاب بھی ہو جاتا ہے یہ کیا ہے؟ تفصیل سے واضح کریں اور نظر (بد)دور کرنے کے لئے معتبر عمل بھی بتائیں۔ جواب نمبر: 165373بسم الله الرحمن الرحيم ۔نظر آتارنے کے لئے مذکورہ عمل کی گنجائش ہے، شرعاً اس میں حرج نہیں، اسی طرح سات لال مرچوں پر ایک ایک مرتبہ یہ آیت کریمہ: وَإِن یَّکَادُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَکَ بِاَ بْصَارِہِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ وَیَقُوْلُوْنَ إنَّہٗ لَمَجْنُوْنٌ۔ وَمَا ہُوَ إلَّا ذِکْرٌ لِّلْعَالَمِیْنَ۔ (سورہ قلم ،آیت نمبر 52،51)پڑھ کر دم کرکے بیمار کے جسم کے اوپر سر تا پیر تین مرتبہ گھما کر جلا دینا بھی نظر دور کرنے کے لئے مجرب عمل ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم انڈیا۔Fatwa:81-81/M=1/1440
زندگی خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو آپﷺ کی خدمت میں اعمال کا ہدیہ ضرور پیش کریں ۔۔۔!

کیا آپ ﷺ کو ہمارے ایصال ثواب کی ضرورت ہے ۔۔! تسبیح خانہ لاہور میں ہر ہفتہ ختم خواجگا ن کے نام پر اور دیگر تمام سلاسل (چشتی ، قادری ، نقشبندی، سہروردی، شاذلی وغیرہ)میںآپ ﷺ سے ایصال ثواب کی ابتداء کی جاتی ہے بعض کم علم رکھنے والے یا اسلاف سے بیزار احباب سوال یہ کرتے ہیں کہ ہمارے ایصالِ ثواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ جبکہ آپﷺ تودونوںجہانوں کے سردار ہیں اور جنت کے اعلیٰ ترین مقام آپ کے لئے یقینی ہیں،آپ ﷺ تووجہ تخلیق کائنات ہیں۔۔۔! اس سوال کا جواب ہم اپنی طرف سے دینے کے بجائے حضرت مولانا محمد یوسف صاحب رحمہ اللہ کی طرف سے پیش کرتے ہیں جس سے آپ کو تسلی اور تشفی ہوجائے گی۔ جواب : اُمت کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایصالِ ثواب نصوص سے ثابت ہے، چنانچہ ایصالِ ثواب کی ایک صورت آپ کے لئے ترقی درجات کی دُعا،اور مقامِ وسیلہ کی درخواست ہے، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے: (1) ”جب تم موٴذّن کو سنو تو اس کی اذان کا اسی کی مثل الفاظ سے جواب دو، پھر مجھ پر دُرود پڑھو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک بار دُرود پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں، پھر میرے لئے اللہ تعالیٰ سے ”وسیلہ“ کی درخواست کرو، یہ ایک مرتبہ ہے جنت میں، جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے شایانِ شان ہے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، پس جس شخص نے میرے لئے وسیلہ کی درخواست کی اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔“ (مشکوٰة ص:۶۴) (2) ”چاور صحیح بخاری میں ہے:جو شخص اذان سن کر یہ دُعا پڑھے: “اے اللہ! جو مالک ہے اس کامل دعوت کا اور قائم ہونے والی نماز کا عطا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت اور کھڑا کر آپ کو مقامِ محمود میں جس کا آپ نے وعدہ فرمایا ہے” قیامت کے دن اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔“ (مشکوٰة ص:۶۵) (3) ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ عمرہ کے لئے تشریف لے جارہے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلبی کے لئے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رُخصت کرتے ہوئے فرمایا:”بھائی جان! ہمیں اپنی دُعا میں نہ بھولنا اور ایک روایت میں ہے کہ: بھائی جان! اپنی دُعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا ۔“ (ابوداوٴد ج:۱ ص:۲۱۰، ترمذی ج:۲ ص:۱۹۵) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح حیاتِ طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دُعا مطلوب تھی، اسی طرح وصال شریف کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دُعا مطلوب ہے۔ایصالِ ثواب ہی کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کی جائے، حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم فرمایا تھا: (4) ” حضرت حنش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مینڈھوں کی قربانی کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: یہ کیا؟ فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپﷺ کی طرف سے قربانی کیا کروں، سو میں آپﷺ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔“ (ابوداوٴد، باب الاضحیة عن المیّت ج:۲ ص:۲۹) (5) ”ایک روایت میں ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، سو میں آپ کی طرف سے ہمیشہ قربانی کرتا ہوں۔ “”ایک روایت میں ہے کہ میں اس کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ (مسندِ احمد ج:۱ ص:۱۰۷)(ایضاً ج:۱ ص:۱۴۹) علاوہ ازیں زندوں کی طرف سے مرحومین کو ہدیہ پیش کرنے کی صورت ایصالِ ثواب ہے، اور کسی محبوب و معظم شخصیت کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ اس ہدیہ سے اس کی ناداری کی مکافات ہوگی، کسی بہت بڑے امیر کبیر کو اس کے احباب کی طرف سے ہدیہ پیش کیا جانا عام معمول ہے اور کسی کے حاشیہٴ خیال میں بھی یہ بات نہیں کہ ہمارے اس حقیر ہدیہ سے اس کے مال و دولت میں اضافہ ہوجائے گا، بلکہ صرف ازدیادِ محبت کے لئے ہدیہ پیش کیا جاتا ہے، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں گناہگار اُمتیوں کی طرف سے ایصالِ ثواب کے ذریعہ ہدیہ پیش کرنا اس وجہ سے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حقیر ہدایا کی احتیاج ہے، بلکہ یہ ہدیہ پیش کرنے والوں کی طرف سے اظہارِ تعلق و محبت کا ایک ذریعہ ہے، جس سے جانبین کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے، اور اس کا نفع خود ایصالِ ثواب کرنے والوں کو پہنچتا ہےاور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجاتِ قرب میں بھی اس سے اضافہ ہوتا ہے۔ علامہ ابنِ عابدین شامی رحمہ اللہ نے ردالمحتار میں باب الشہید سے قبیل اس مسئلے پر مختصر سا کلام کیا ہے، اتمامِ فائدہ کے لئے اسے نقل کرتا ہوں: (6) ” علامہ ابنِ حجررحمہ اللہ (مکی شافعی) نے فتاویٰ فقہیہ میں ذکر کیا ہے کہ فلاں عالم دین کا خیال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاوت کے ثواب کا ہدیہ کرنا ممنوع ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں صرف اسی کی جرأت کی جاسکتی ہے جس کا اذن ہو، اور وہ ہے آپ پر صلوٰة و سلام بھیجنا اور آپ کے لئے دُعائے وسیلہ کرنا۔ حضرت ابنِ حجررحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: حضرت امام سبکی رحمہ اللہ وغیرہ نے ان اعتراض کرنے والے عالم دین پر پر خوب خوب رَدّ کیا ہے کہ ایسی چیز اذنِ خاص کی محتاج نہیں ہوتی، دیکھتے نہیں ہو کہ حضرت ابنِ عمررضی اللہ عنہ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عمرے کیا کرتے تھے، جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی وصیت بھی نہیں فرمائی تھی۔ ابن الموفق رحمہ اللہ نے جو حضرت جنید رحمہ اللہ کے ہم طبقہ ہیں، آپ ﷺ
شیخ الوظائف کا فرمان زندہ لوگوں کو بھی ایصال ثواب کریں !

(مولانا محمد نیاز صاحب، لاہور )الوظائف اپنے بہت سے بیانات میں زندہ اور مردہ دونوں لوگوں کو ایصال ثواب کا فرماتے میں اس پر عبقری سوشل میڈیا کے تاثرات میں بعض دوستوں نے یہ بات کہی ہے کہ ایصال ثواب تو لاف مردوں یعنی دنیا سے جانے والوں کو کیا جا سکتا ہے زندوں کو نہیں۔ تو ایسے بھائیوں کی خدمت میں احناف کی معتبر کتاب ” فتاوی شامی“ سے ماخوذ فتوی پیش کرتے ہیں :سوال: کیا زندہ لوگوں کو ایصال ثواب کر سکتے ہیں؟جواب : جی ہاں، زندہ لوگوں کو ایصال ثواب کر سکتے ہیں۔وفي البحر من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة، كذا في البدائع، ثم قال: وبهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجهول له ميتاً أو حياً. (شامی اشرفی : ۳/ ۱۴۲) (و اللہ تعالیٰ اعلم، دارالافتاء، دارالعلوم :179853) شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی ایک ایک بات کے پیچھے قرآن وسنت اور اکابرین ملت کے حوالہ جات موجود ہیں.
275 کلو میٹر، چندگھنٹوں میں پیدل سفر مگر کیسے؟

قارئین ! عبقری میں دیئے گئے کالم جنات کا پیدائشی دوست میں بعض اوقات تھوڑے وقت میں زیادہ فاصلہ طے کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ یہ دراصل ایک کرامت ہے جو ہمارے اکابر و اسلاف اولیائے کرام کو اللہ جل شانہ کی طرف سے حاصل رہی ہے ۔ آئیے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ طے الوقت کی کرامت کیسے ملتی ہے؟ حضرت مولانا شمس الرحمان عباسی صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے استاد حضرت مولانا عزیز گل رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کی بڑی خدمت کی ۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے پاؤں دبا کر، سر پہ مالش کر کے، انہیں سلانے کے بعد خود آرام کرتا تھا۔ ایک رات حضرت شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: دہلی میں میرے کچھ کاغذات دفتر میں موجود ہیں اور مجھے ان کی اشد ضرورت ہے مگر دہلی بہت دور ہے، اب کہاں سے لاؤں ؟“ دیکھو جب انسان ادب کی دنیا میں آتا ہے اور اپنے استاد کا احترام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال ہو جاتی ہے۔ لہذا انہوں نے جب اپنے شیخ کے پاؤں کی مالش کر کے انہیں سلا دیا تو خود روانہ ہو گئے۔ پیسے تو جیب میں تھے نہیں، پیدل ہی چل پڑے۔ "سہارن پور کے قصبے اور دہلی کے درمیان 80 میل کا فاصلہ تھا اور آنا جانا 160 میل بن جاتا ہے ( تقریباً 257 کلومیٹر بن جاتا ہے۔ )” مگر اللہ تعالیٰ جب کام لینے پر آتا ہے تو کرامات الاولیا حق کا معاملہ ہو جاتا ہے۔ مولانا عزیز گل صاحب دہلی والے دفتر پہنچے، کاغذات لیے اور اسی وقت واپس تشریف لے آئے۔ جب حضرت شیخ الہند تہجد کیلئے بیدار ہورہے تھے ۔ انہوں نے حضرت شیخ الہند کو وضو کروایا اور کاغذات ان کے سامنے پیش کیے، تو دیکھتے ہیں حضرت شیخ الہند نے پوچھا: بھئی یہ کیسے لے آئے؟ عرض کرنے لگے: شیخ! آپ نے ایک خواہش ظاہر کی تھی تو میں اس خواہش کے احترام میں اللہ کا نام لے کر روانہ ہو گیا اور یوں یہ کاغذات لے آیا۔ (بحوالہ: ماہنامہ بینات کراچی، جنوری 2019 صفحہ 24 ایڈیٹر : مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، ناشر : جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی ) ایسے کئی واقعات ہمارے اکابر کی زندگی سے ملتے ہیں، جو حلال حرام، جائز نا جائز اور شریعت ہم سے زیادہ سمجھتے تھے۔
اگر وظیفے پڑھنے سے کچھ ملتا تو حضور صلی اہلیہ میدان جہاد میں نہ جاتے
قارئین! آج کچھ کم عقل اور اپنے اکابر و اسلاف کے طرز زندگی سے لا علم لوگ عبقری میگزین پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایسا خواب ناک جہان ہے، جس میں ہر مسئلے کا حل اور ہر مشکل سے نجات ملتی ہے، اگر وظائف ہی سے کچھ ملنا ہوتا تو حضور صلی اللہ میدان جنگ میں تشریف نہ لے جاتے۔ حالانکہ محترم قارئین! ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ حضور سرور کونین ﷺ تو میدان جنگ میں بھی وظیفہ پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔ اگر وظیفے پڑھنے سے کچھ نہ ملنا ہوتا تو حضور ﷺ میدان جہاد میں حم لا يُنْصَرُوْنَ کا وظیفہ نہ پڑھتے ۔ بحوالہ کتاب: مسند احمد بحوالہ کتاب: برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش صفحه 202 ناشر: مکتبہ قدوسیہ اردو بازارلاہور ۔ بحوالہ کتاب مجربات اکابر ص 126 ، ناشر: اداره تالیفات اشرفیہ چوک فواره ملتان پاکستان خبر دار ! لوگوں کو وظائف بتانے میں کبھی غفلت نہ کرنا: مولانا عبد القیوم حقانی صاحب ( جامعہ ابوہریرہ نوشہرہ) لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی رحمتہ اللہ علیہ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اگر صیح العقیدہ لوگ دم وغیرہ کے سلسلے میں لوگوں کی کفایت نہیں کریں گے تو مجبور لوگ اپنے مقصد کے حصول کیلئے بد عقیدہ ، گمراہ ، شریر اور خواہشات پرست لوگوں کے پاس جا کر اپنا ایمان ، عزت اور مال ضائع کر بیٹھیں گے۔ اس لیے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تم اس سلسلے میں کبھی غفلت نہ برتنا۔ پھر فرمایا: "یا باسط یا حفیظ” کو خود بھی پڑھنا اور لوگوں کو بھی پڑھنے کی تلقین کرنا۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : یا باسط پڑھنے سے مال ، اعمال علم ، عزت ، اولاد، دنیا اور آخرت میں کشائش (وسعت) ملے گی اور یاحفیظ پڑھنے سے جان ، مال ، اولاد، عزت ، قبر اور آخرت کی حفاظت ہوگی۔ (بحوالہ کتاب: مرد قلندر صفحه 146 ناشر : القاسم اکیڈمی ، جامعہ ابوہریرہ خالق آباد، نوشہرہ )