تسبیح خانہ کا پیغام اعمال سے بچنے کا یقین بالکل صحیح احادیث مبارکہ کی روشنی میں

تحریر : مولانا ابوعون محمد غزالی، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد دکھ، دردوں، پریشانیوں اور تکلیفوں سے نکلنے کیلئے فوائد اور فضائل کے ذریعے اعمال کی طرف مائل کرنے کے حوالے سے تسبیح خانہ اور عبقری پوری دنیا میں مشہور ہے یہ ترتیب تسبیح خانہ کی کوئی خود ساختہ ترتیب نہیں بلکہ قرآن سنت سے ماخوذ ہمارے اسلاف واکابر کا طریقہ کا ر ہے چند احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں جس سے آپ کو تسبیح خانہ کے پیغام کی صداقت بآسانی سمجھ میں آجائے گی۔ اعمال سے بچنے کی پہلی دلیل : حضرت عثمان ابی العاص فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضور صلی,اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں شکایت کی کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے میرے جسم میں دردیں رہتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں درد ہو وہاں ہاتھ رکھ کر تین بار بسم شریف اور سات مرتبہ یہ پڑھا کرو۔ أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِن شَرِ مَا أَجِدُ وَ أُحَاذِرُ (صحیح مسلم، ابواب الطب، حدیث نمبر : 5867) اعمال سے بچنے کی دوسری دلیل : ام المؤمنین اماں سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر ایک بچی کو دیکھا جس کے چہرے پر دھبے پڑے ہوئے تھے تو فرمایا اسے کسی سے دم کرواؤ سے نظر لگی ہے۔ (بحوالہ صحیح بخاری) اعمال سے بچنے کی تیسری دلیل : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعے حضرات حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دم فرمایا کرتے تھے۔ أُعِيذ كُم بِكَلِمَاتِ الله القامة مِن كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَّامَّةٍ (صحیح بخارى ) محترم قارئین:عبقری کا پیغام اعمال سے پہنچنے کا یقین سو فیصد توحیدی عقیدہ ہے ہے جس سے جڑنے والا ہر شخص اللہ کے فضل و کرم سے کامیاب ہے اللہ کریم میں اکابر پر مکمل اعتماد عطا فرمائے۔ آمین
تسبیح خانہ میں ماہانہ کیا جانے والا دم تعلیمات اکابر کی روشنی میں

ہر مہینے کی آخری اتوار کو تسبیح خانہ لاہور میں اسم اعظم کا دم کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں بیماروں کو شفاء، دکھی لوگوں کو سکھ ، پریشان حال لوگوں کو اللہ کے فضل و کرم سے عافیت ، برکت اور صحت ملتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دم کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل سنت مبارکہ، تمام صحابہ کرام اور اولیائے کرام کا روز مرہ کا معمول تھا چند مثالیں پیش خدمت ہیں: (1) آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو اور صحابہ کرام کو دم فرمایا کرتے تھے ( بحوالہ بخاری شریف، ناشر قدیمی کتب خانہ ) (2) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے تو اسے چاہیے کہ اٹھنے کے بعد تین مرتبہ پھونک مار دیا کرے ( بحوالہ صحیح بخاری ) ۔ (3) اماں عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر معوذات پڑھ کر دم کیا کرتی تھی۔ بخاری شریف ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر دم فرماتے تو اس پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے چند کلمات ادا فرماتے (بحوالہ صحیح بخاری )۔ (4) حضرت ابوسعید خدری نے سفر کے دوران ایک بیمار تشخص کو بکریوں کے ریوڑ کے عوض دم کیا تو اللہ کے کرم سے اسے شفاء مل گئی (صحیح بخاری) (5) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو جبریل امین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ کلمات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے (صحیح مسلم ) وضاحت: حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی صاحب، حضرت مولانا شاہ محمد حفظ الرحمن صاحب حضرت مولانا شاہ رفیع الدین صاحب، حضرت مولانا یعقوب نانوتوی صاحب اور ان جیسے ہزاروں علمائے کرام دم کرنے کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔ ( تحریر مولانا خلیل الرحمن فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد) محترم قارئین! آپ حضرات ان چند مثالوں سے بخوبی سمجھ گئے ہونگے کہ تسبیح خانہ لاہور میں ہونے والا ماہانہ دم توکل کے عین مطابق ہی ہے کیونکہ اس میں ہر بیماری دُکھ تکلیف میں اللہ کے کلام ہی کی طرف نظر جاتی ہے۔ اللہ میں اسلاف پر اعتماد عطا فرمائے ۔ آمین
تسبیح خانہ میں کیا جانے والا اصحاب بدر بین کا مستند عمل ۔۔۔ ہر مشکل کا حل

اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے تسبیح خانہ لاہور میں بیشمار لوگوں کے مشاہدات ہیں کہ یہاں پر آنے اور یہاں کے اعمال میں شریک ہونے کی وجہ سے دعائیں قبول ہوتی ہیں ، بندشیں ٹوٹتی ہیں ، جادو جنات سے نجات ملتی ہے ، بیماروں کو شفا ملتی ہے اس کی بنیادی وجہ مسنون اور اولیائے کرام سے منقول مستند اعمال ہیں ان اعمال میں سے ایک عمل اصحاب بدر بین کا عمل ہے جس کی سند محدثین کرام ،علمائے عظام اور بزرگان دین سے تصدیق شدہ ہے۔ (1) شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا اور دیگر اکابرین فرماتے ہیں اس عمل کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے قبول ہوتی ہے. (بحوالہ اسماء بدر بین سے پریشانیوں کاحل) (2) مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ علماء وصلحاء میں زمانہ دراز سے مصائب، حوادث، امراض و آفات سے نجات حاصل کرنے کیلئے یہ عمل مجرب مانا گیا ہے۔ ( بحوالہ اسماء البدر بین ، ناشر حاجی فرید الدین احمد ) (3) حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری قدس سرہ نے بخاری شریف کے حاشیے پر شرح مشکوہ شیخ عبدالحق دہلوی کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ اسماء البدرین کا ذکر کرنے کے بعد دعا قبول ہوتی ہے۔ (بحوالہ بخاری شریف ج 2 ص 574 ناشر: قدیمی کتب خانہ کراچی) (4) شیخ الحدیث مولانا محمد سالم قاسمی صاحب فرماتے ہیں میں نے بارہا اس کا تجربہ کیا ہے کہ اصحاب بدر بین کا نام لے کر جو دُعا کی جائے قبول ہوتی ہے۔ ( بحوالہ: سیرت حلبیہ اردو تر جمہ ) جی ہاں تسبیح خانہ میں کیا جانے والا ہر عمل ایسا ہی جاندار اور شاندار ہے اللہ پاک تاقیامت اس کی نظر بد سے حفاظت فرمائیں اور زیادہ سے زیادہ ان طاقت ور ترین اعمال کے فیض کو عام فرمائیں ۔ آمین
بہترین پوسٹ اور اعلیٰ منصب چاہئے تو یہ آیت پڑھیں

مولا نا مفتی محمد قاسم صاحب لکھتے ہیں کہ امام الموحدین، رئیس المفسرین والمحدثین عارف باللہ حضرت مولانا حسین علی واں بھچراں رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا نصیر الدین غورغشتوی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی طالب علم نے لاحول ولاقوۃ الا بالله العلى العظیم پڑھنے کی اجازت مانگی تو ارشاد فرمایا: بالکل اجازت ہے اسے روزانہ دو سومرتبہ پڑھا کرو۔ پھر فرمایا کہ حضرت ابو ہریرہ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وظیفہ کثرت سے پڑھنے کا حکم دیا تھا کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ اسی طرح ایک مجلس میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے صحیح بخاری کی بعض شروح میں پڑھا ہے کہ اگر کوئی شخص سورۃ الملک کو نیا چاند دیکھتے وقت پڑھ لے تو وہ پورا مہینہ تمام بلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ رہے گا کیونکہ عارفین کاملین نے فرمایا ہے کہ سورۃ یاسین کے اسرار اس کے آخر میں ہیں اور سورۃ الملک کے اسرار اس کے شروع میں ہیں ۔ بعض خواص اہل دل نے سورۃ الملک کی اس آیت اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ کے فوائد میں لکھا ہے کہ اس کا وظیفہ پڑھنے سے بلائیں دور ہوتی ہیں، مشکلات اور تکالیف ختم ہوتی ہیں، مریض کو شفاء ملتی ہے اور حتیٰ کہ اس کو پڑھنے سے بڑے بڑے منصب ملتے ہیں۔اس آیت کو عشاء کی نماز کے بعد دوسو مرتبہ پڑھنا چاہئے (بحوالہ کتاب: مجالس غورغشتوی صفحہ 90 ناشر: مدرسہ فاروقیہ لالہ زار کالونی، پشاور) محترم قارئین! درج بالا مضمون میں غور کریں کہ اتنے بڑے شیخ الحدیث پر جب قرآنی سورتوں اور وظائف کے فوائد کھلے تو ان پر کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ آپ پر اس وظیفے اور اس کی مخصوص تعداد کی وحی نازل ہوتی ہے؟ بلکہ شریعت کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے علماء و مشائخ پر اعتماد کرتے ہوئے قرآن وحدیث اور ماثورہ دعاؤں پرمشتمل وظائف کے ذریعے مسائل اور مشکلات حل کروانی چاہئیں۔
تسبیح خانہ میں اربوں مرتبہ پڑھے جانے والے درود کی سندی حیثیت

تسبیح خانہ سے جڑے لاکھوں سے زائد لوگوں میں سے ہر شخص کو یہ تعلیم ہے کہ کم از کم روزانہ صبح و شام 100 مرتبہ اس درود پاک کو پڑھنے کا اہتمام کریں تسبیح خانہ میں بھی اربوں سے زائد مرتبہ یہ درود پڑھا جا چکا ہے آج اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے اس دورہ پاک کی سندی حیثیت نقل کی جاتی ہے جس سے آپ کو انداز ہ ہو گا کہ یہ در و دکتنا با کمال ہے۔ ایک شخص حضورا نو رسل السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی نما یہ تم نے انھیں اپنے اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے درمیان بٹھا لیا۔ اس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعجب ہوا کہ یہ کون ذی مرتبہ ہے! جب وہ چلا گیا تو حضور پاک سی سی ایم نے فرمایا: یہ جب مجھ پر درود پاک پڑھتا ہے تو یوں پڑھتا ہے: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى لَه القول البدیع ، الباب الاول، ص ۱۲۵) محترم ناظرین اور لکھا آپ نے تلی خانہ میں خیر و برکت حاصل ہونے کی اصل وجہ یہی مسنون اعمال ہیں۔۔۔!
ماہنامہ عبقری میں بیان کردہ احادیث کی علمی تحقیق

( مولانا صوفی اجمل صاحب ، جہلم) ماہنامہ عبقری کا عنوان فضائل اور اعمال کے کمالات ہیں مسائل کیلئے شروع دن ہی سے یہ تعلیم اکابر پر اعتماد دی جاتی ہے کہ اپنے قریب کے علمائے کرام سے یا کسی دار الافتاء سے رجوع کیا جائے۔۔۔ کچھ عرصہ قبل ماہنامہ عبقری میں ایک روایت جو کہ عاشوراء کے فضائل میں بیان کی گئی تھی اس پر کچھ لوگوں نے سندی اعتراض کرنے کی کوشش کی جبکہ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ کس درجہ کا سطحی اعتراض تھا ۔۔۔ ! لیکن ضرورت محسوس ہوئی کہ اکابر پر اعتماد” پیج کے دوستوں کیلئے یہ تحقیق یقینا فائدہ مند ہوگی کہ عبقری کے پلیٹ فارم سے شائع ہونے والی کوئی بھی چیز خود ساختہ نہیں ۔۔۔! فَاعْتَبِرُوا يا أولى الأبصار ایک روایت میں وسعت رزق کی امید سے اپنے اہل وعیال کے لیے دستر خوان وسیع کرنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے اگر کوئی شخص وسعت رزق کی امید سے اپنے اہل وعیال کے لیے محرم کی دسویں تاریخ کو دستر خوان وسیع کرتا ہے تو یہ جائز ؛ بلکہ مستحسن و مندوب ہے۔ (۲) جی ہاں! بیہقی نے شعب الایمان (رقم: ۳۵۱۵) میں طبرانی نے المعجم الکبیر – (رقم ۷ ۱۰۰۰ ) میں ان الفاظ کے ساتھ محرم کی دسویں تاریخ کو دستر خوان وسیع کرنے کی فضیلت کے سلسلے میں حدیث وارد ہوئی ہے: من وسع على عياله يوم عاشوراء وسع الله عليه فى سائر سنته (شعب) لم يزل فى سعة سائر سنته "جو شخص عاشوراء کے دن اہل وعیال کے لیے وسعت اختیار کرے گا، اللہ تعالی پورے سال اس کے لیے وسعت کرے گا۔ یہ حدیث فضائل کے باب میں قابل عمل ہے، متعدد محدثین اور شراج حدیث نے اس کی تصریح کی ہے۔ علامہ سخاوی رحمہ اللہ المقاصد اصہ” میں لکھتے ہیں: حدیث مَنْ وَشَعَ عَلَى عِبَالِهِ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَشَعَ الله عَلَيْهِ السَّنَةَ كُلَّهَا. الطبراني في الشعب وفضائل الأوقات، وأبو الشيخ عن ابن مسعود، والأولان فقط عن أبي سعيد، والثاني فقط فى الشعب عن جابر وأبي هريرة، وقال: إن أسانيده كلها ضعيفة ولكن إذا ضم بعضها إلى بعض أفاد قوة بل قال العراقي في أماليه لحديث أبي هريرة طرق، صحح بعضها ابن ناصر الحافظ. وأورده ابن الجوزي في الموضوعات من طريق سليمان ابن أبي عبد الله عنه وقال: سلیمان مجهول و سلیمان ذکره ابن حبان في الثقات، فالحديث حسن على رأيه، قال: ولہ طریق عن جابر على شرط مسلم، أخرجها ابن عبد البر من رواية الزبير عنه، وهي أصح طرقه ورواه هو والدار قطى فى الأفراد بسند جيد، عن عمر موقوفا والبيهقى فى الشعب من جهة محمدين المنتشر ، قال: كأن يقال، فذكره قال: وقد جمعت طرقه فى جزء، قلت: واستدرك عليہ شیخنا – رحمه الله- کثیر المیذ کره و تعقب اعتماد ابن الجوزی في الموضوعات قول العقيلى فى هيضم بن شداخ راوی حدیث ابن مسعود : إنه مجهول بقوله: بل ذكره ابن حبان في الثقات والضعفاء. (المقاصد الحي : ۶۷۵/۴، ط: دار الکتاب العربي ، ط: بیروت) حافظ بن حجر نے الأمالي المطلقة میں اس حدیث پر تفصیلی بحث کے ضمن میں فرمایا: وله شواهد عن جماعة من الصحابة .. منهم عبد اللہ بن مسعود وعبد الله بن عمر وجابر وأبوهريرة وأشهرها عبد الله بن مسعود الخ الأمالي المطلقة ۲۸/۱۰، ط: المکتب ال اسلامی، بیروت) نیز دیکھیں: الیواقیت الغالية (۱/ ۲۰۷، ط: برطانیہ ) و امداد الفتاوی (۲۸۹/۵،ط: زکریا) و فتاوی دار العلوم (۱۸/ ۵۳۹ ) و احسن الفتاوی (۱ / ۳۹۵، ط: زکریا)
تسبیح خانے میں ہونے والی محفل ذکر حسین کا اکابر علماء سے ثبوت

محترم قارئین ! اکابر کی ترتیب کے مطابق حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ گزشتہ بر سے تسبیح خانہ قادری ہجویری میں 9 اور 10 محرم الحرام کو محفل ذکر کا انعقاد کر رہے ہیں۔ جس میں دنیا بھر سے بے شمار عاشقان اہل بیت شامل ہو کر شہدائے کربلا اور اہل بیت اطہار سلام الله ورضوانہ علیہ کی خدمت میں ذکر تسبیح ، درود شریف اور دیگر اعمال کا ایسال ثواب کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ اس دو روزہ محفل میں کیے جانے والے اعمال اور اہل بیت عظام کی تو جہات کی برکت سے مخلوق خدا گھر یلو پریشانیاں اور معاشی الجھنیں بہت جلد ختم ہو جاتی ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر و اسلاف میں کون کون سے علماء اپنے ہاں ہر سال اس مقدس و بابرکت محفل کا انعقاد کیا کرتے تھے؟ آج تم نے کتنا ایصال ثواب کیا ؟ شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف مدظلہ فرماتے ہیں : قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث مولانامحمد زکریا کاندھلویؒ نے عاشوراء کے روز مدینہ منورہ میں ہم لوگوں سے سوال کیا کہ آج شہدائے کربلا کیلئے تم نے کتنا قرآن مجید پڑھا؟ الحمدللہ میں ن کیلئے مکمل قرآن پڑھ چکا ہوں. (بحوالہ کتاب: کرامات دکمالات اولیا صفحه 20 ناشر: مکتبہ دارالاشاعت، کراچی) مسجد میں ہزاروں لوگوں کا اجتماع : مولانا محمد اسحاق بھٹی مرحوم لکھتے ہیں : اتر پردیش کے شہر سنجل ” میں ایک بہت بڑے بزرگ سائیں عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ بھی رہتے تھے، جو عبادت گاہوں اور رفاہ عامہ کے کاموں میں کافی دلچسپی لیا کرتے۔ انہوں نے ایک بہت بڑی مسجد بھی تعمیر کروائی جس میں ہر سال دس محرم الحرام کو ایک جلسے کا اہتمام کرتے اور سیرت النمی سی ہی نہیں کی مشہور کتاب رحمۃ للعالمین مال کے مصنف علامہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری ریشہ سے شہادت حسین اور واقعہ کربلا کے موضوع پر تقریر کرواتے ۔ ارد گرد کے ہزاروں لوگ اس جلسے میں شریک ہو کر قاضی صاحب کی تقریر سے متاثر ہوتے (حوالہ کتاب: تذکر قاضی محمدسلیمان منصور پوری صفحه 148 ناشر: مکتبہ قدوسیہ اردو بازارلا ہور) مختلف علاقوں میں ہونیوالی محافل ذکر حسین: حضرت مولانا قاضی مظہر حسین رحمتہ اللہ چکوال میں ہر سال 9 اور 10 محرم کو شان حسنین کریمین کے عنوان پر بیان کیا کرتے تھے۔مولاناسید ظہیر احمد ہاشمی ہے یہ شاہ پور، سرگودھا میں سالانہ جلسہ شہدائے کربلا منعقد کیا کرتے تھے۔مولانا عبد الشکور لکھنوی میں یہ لکھنو میں نو اور دس محرم الحرام کو شہدائے کربلا کی خدمت میں ایصال ثواب کیلئے جلسے کا انتظام فرمایا کرتے ۔ جانشین امیر شریعت مولانا سید عطاء احسن بخاری بید یہ مجلس احرار کے زیر انتظام ہر سال مجلس ذکر حسین کا انعقاد کیا کرتے اور اس دوران سرخ رنگ کا لباس پہنتے ۔ حضرت خواجی پیر فضل علی قریشی حمتہ اللہ کی خانقاہ مسکین پور شریف میں بھی اہل بیت اور شہدائے کربلا کے ایصال ثواب کیلئے ہر سال 10 محرم کو پروگرام کا انعقاد کیا جا تا۔ آپ ہری بیعہ کے بعد آپ کے خلیفہ مولانا غلام دستگیر صاحب نے بھی اسی ترتیب کو قائم رکھا اور اب ان کے بھتیجے محترم ڈاکٹر نثار احمد ۲۱، صاحب بھی ہر سال دس محرم الحرام کو پروگرام کا انعقاد کرتے ہیں ۔ ان کے علاوہ کئی نامور اور گمنام اکا بر علمائے کرام ہیں، جو اپنی زندگی میں اہل بیت اطہار کے فضائل و مناقب بیان کرنے اور ان کی خدمت میں ایصال ثواب کی خاطر بڑے پیمانے پر ملے نعقد فرمایا کرتے۔ پھر ان کے جانشین حضرات نے بھی اس ترتیب و قائم رکھا یا کہ گوجرانوالہ کی کی سالوں سے دس محرم الحرام کو ایک بہت بڑی کا نفرنس ہوتی ہے، جس میں مختلف علماء کرام شان اہل بیت کے موضوع پر اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ بیت الخلاء جانے سے پہلے جنات سے بچ جائیں عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی گیارہویں دلیل جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی دسویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لیا جائے تو ” جنات“ گھر میں داخل ہو جاتے ہیں۔۔۔! آج گیارہویں دلیل میں آپ پڑھیں گے کہ ہمارے بیت الخلاء بھی جنات کے مورچے ہیں اور وہاں بیٹھے جنات ہر وقت ہماری گھات میں رہتے ہیں "ماہنامہ عبقری میں علامہ لاہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس جناتی حملے کی دلیل سنن ابوداود، اور مسند امام احمد کی وہ روایت ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ بیت الخلاء میں داخل ہونے سے قبل دعا پڑھنے سے جنات سے فاقت ہوتی ہے؟ حضور اکرم مالی ہی ہم نے ارشاد فر مایا کہ یہ قضائے حاجت کی جگہیں (بیت الخلاء) ایسی ہیں جن میں شیاطین حاضر ہوتے ہیں۔ پس تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کی جگہ ( بیت الخلاء ) داخل ہونے لگے تو یہ پڑھ لے: اَللّٰھُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ تسبیح خانہ کا پیغام اعمال سے پلنے، بننے اور بچنے کا یقین اسلامی تعلیمات کے سو فیصد موافق ہے۔۔۔!
ایسا تعویذ جسکا ذکر نہ قرآن میں نہ حدیث میں

مین تاثیر با کمال اکابر پر اعتماد عبقری کے تعویذات کو من گھڑت اور افسانہ کہنے والے اس تعویذ کو کیا کہیں گے۔۔۔ عقل کی ترازو میں تو لیں گے یا اکا بڑ کی نقل پر اعتماد کریں۔۔۔! امروہہ میں ایک ہندو تھا، وہ حضرت عبد الباری رحمتہ اللہ علیہ سے کمال اعتقاد رکھتا تھا۔ اس نے آپ سے عرض کیا کہ میرے کوئی اولاد نہیں ہے تعویذ دیجیے۔ حضرت نے تعویذ دے کر فرمایا کہ ابھی تو اپنی بیوی کے بازو پر باندھ دو بیٹا پیدا ہونے کے بعد بیٹے کے بازو پر باندھ دینا۔ تعویذ کی برکت سے اس کے لڑکا پیدا ہوا۔ جب وہ لڑکا جوانی کی دہلیز پر پہنچا تو اس نے بغض کی بناء پر اس تعویذ کوکھول ڈالا۔ اس میں لکھا تھا اُٹری بھنیری ساون آیا یہ پڑھ کر اس نے تعویذ پھینک دیا۔ پھینک کر وہ نہانے کو گیا اور دریا میں ڈوب کر مر گیا۔ ( مولانا اشرف علی تهانوی، امداد المشتاق الى اشرف الاخلاق، ص : 118) یا درکھیں شیخ الوظائف دامت بر کاتہم عملیات و تعویزات بناتے نہیں بلکہ جاتے ہیں
شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ ہر وقت باوضور ہنے کا کیوں فرماتے ہیں؟

آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ شیخ الوظائف روحانیت میں ترقی ، کامیابی، پریشانیوں سے نجات، ہر قسم کے جادو جنات اور سفلی عمل کی کاٹ کیلئے با وضور ہنے پر بہت زور دیتے ہیں اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے آج اس کی وجہ بیان کی جاتی ہے خود بھی عمل کریں اور زیادہ سے زیادہ اپنے دوستوں تک پہنچا ئیں۔۔۔! (قسط نمبر 438) (الف) ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم مجھ سے پہلے جنت میں کیسے داخل ہو گئے؟ بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب بھی اذان کہتا ہوں تو دورکعت نماز ضرور پڑھ لیتا ہوں اور ہر وقت باوضور ہتا ہوں۔ (ب) با وضو نماز کیلئے چلنے والا احرام باندھے حاجی کی طرح ہے (ابوداؤد ) ۔ (ت) نماز کیلئے باوضو چلنے پر فرشتوں کی دعا ملتی ہے (شمائل کبری)۔ (ث) ہر قدم پر دس نیکیاں ملتی ہیں (ابن خزیمہ )۔ (ج) با وضو مسجد کی طرف چلنے والا اللہ کا مہمان ہوتا ہے۔ (ح) ہر قدم پر ایک گناہ مٹایا جاتا ہے۔ (خ) اللہ پاک اس سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے کوئی بچھڑے ہوئے شخص اچانک گھر لوٹنے پر گھر والے ہوتے ہیں ( منتخب احادیث ) ۔ (د) باوضو روح قبض ہونے پر شہادت کا رتبہ ملتا ہے ( کنز العمال)۔ (3 ) وضو پر وضو کرنا زیادتی نور کا ذریعہ ہے اور 10 نیکیاں حاصل ہوتی ہیں (احیاء، ابوداؤد)۔(ر) با وضو سونے پر خواب بچے آتے ہیں (عمدۃ القاری )۔ (ز) مصیبتوں سے محفوظ رہتا ہے (شعب الایمان)۔
علمائے اہل حدیث اور شب برات کی عظمت

محترم قارئین! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ ہر سال پندرہ شعبان کی رات کو یعنی شب برات میں خصوصی اعمال کرواتے ہیں ، آئیے دیکھتے ہیں قرآن وسنت کی روشنی میں شب برات میں کیسے جانے والے اعمال کا کیا مقام ہے۔ (1) حضرت مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیائی (اہل حدیث ) اور شب برات کی بزرگی : حضرت مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی صاحب (ایڈیٹر ہفت روزہ الاعتصام اہل حدیث و بانی مکتبۃ السلفیہ شیش محل لاہور ) فرماتے ہیں کہ شعبان کی پندرہویں رات کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ اپنے اہل توحید بندوں پر خصوصی توجہ فرماتا ہے ، برکتیں نازل ہوتی ہیں، تجلیات ربانی کا ظہور ہوتا ہے۔ اس رات تلاوت قرآن مجید ( نفلی نماز میں یا اس کے علاوہ ) اور دعا یاذکر الہی کی طرف ہمیں بھی مصروف ہونا چاہیے ۔ اس رات اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے (مسند احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ) ۔ رحمت کے طلبگاروں کو رحمتوں سے نوازتا ہے ( الترغیب والترھیب ) ۔ اس رات ہر سائل کی امنگ پوری کر دی جاتی ہے سوائے زانیہ عورت اور مشرک آدمی کے (ابن ماجہ ) ۔ شب برات کی فضیلت حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو اپنے کردار کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔ شب برات کی رات کو غفلت سے نہیں گزارنا چاہیے، ذکر الہی میں مشغولیت ، الحاح وزاری سے اپنے گناہوں کی مغفرت کی طلب، اپنی جائز ضرورتوں کیلئے بارگاہ الہی میں دعا ئیں ، نماز میں یا نماز کے علاوہ تلاوت قرآن مجید ۔ خوش نصیب ہیں وہ سعید روحیں جو اس فیضان رحمت سے مستفیض ہوں اور اس رات اپنے گناہوں کی طرف دھیان کریں حسد اور کینہ کو خیر باد کہہ دیں شرک اور کفر کے جراثیم سے اپنے آپ کو پاک وصاف کرلیں۔ ا (قسط نمبر 436) آثار حنیف ج1 ص173) (پارٹ -1) (2) شیخ عبدالرحمن محدث مبارکپوری (اہل حدیث) اور شب برات کی بزرگی : شیخ عبدالرحمن محدث مبارکپوری فرماتے ہیں کہ شیخ ملاعلی القاری کہتے ہیں: اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نصف شعبان کی رات میں فرق ( طے شدہ معاملہ کا بٹوارہ ) ہوتا ہے۔ (تحفۃ الاحوذی)۔(3) شیخ مبارکپوری (اہل حدیث) کہتے ہیں کہ نصف شعبان کی رات کی فضیلت کی بابت کچھ احادیث آئی ہیں جو مجموعی طور پر بتاتی ہیں کہ ان احادیث کی کچھ نہ کچھ اصل ہے۔ (ایضا ) ۔ (4) نواب صدیق حسن خان صاحب (اہل حدیث ) اور شب برات کی فضیلت : نواب صدیق حسن خان نے اپنی کتاب ”السراج الوہاج میں لکھا ہے کہ شعبان میں روزے کی کثرت کی تخصیص کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس ماہ میں بندوں کے اعمال کی پیشی ہوتی ہے۔ (5)۔ پندرہ شعبان کا روزہ مستحب اور باعث برکات ہے تفصیل کیلئے دیکھیں۔ ( اشعۃ اللمعات (ص:588) مطبوعہ نول کشور، لکھنو، فتاوی ہندیہ (1/ 203) ، ماشبت بالشنتہ فی ايام الشنتة (ص:80) تحفة الأحوذی (532) الموعظة الحسنة للنواب صدیق حسن خان (ص: 162) مطبوعہ مصر 1300ھ ، نصاب اہل خدمات شرعیہ (ص:382 ) منظور محکمہ صدارت عالیه، مطبوعہ: سلطان بک ڈپو، کالی کمان حیدرآباد، دکن، فتاوی دار العلوم (500/6)، بہشتی زیور تیسرا حصہ (ص: 10) تعلیم الاسلام حصہ چہارم (ص: 66 ) (6) شیخ ابن تیمیہ اور شب برات کی فضیلت : شیخ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ بہت سارے علماء یا ہمارے بیشتر حنبلی علماء اور ان کے علاوہ دیگر حضرات کی رائے یہی ہے کہ اس رات کی فضیلت ہے۔ امام احمد کی بات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ چونکہ اس رات کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث آئی ہیں، سلف کے آثار سے اس کی تصدیق ہوتی ہے ، مسانید اور سنن میں اس کی بعض فضیلتیں مروی ہیں۔ (اقتضاء الصراط المستقیم)۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ ہر سال پندرہ شعبان کی رات کو یعنی شب برات میں کو ہے کہ شیخ العالیہ کو یعنی خصوصی اعمال کرواتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں قرآن وسنت کی روشنی میں شب برات میں کیے جانے والے اعمال کا کیا مقام ہے۔ (7) علمائے حنابلہ اور شب برات کی بزرگی: امام احمد اور بعض حنابلہ سے منقول ہے کہ نصف شعبان کی رات فضیلت والی ہے (الفروع) – علامہ منصور السموتی امیلی فرماتے ہیں کہ نصف شعبان کی رات کو بیدار رہ کر عبادت میں مشغول رہنے کے وہی فضائل ہیں جو عیدین کی رات کے ہیں۔ (کشاف القناع عن متن الاقتاع ج 1 ص 445) (8) امام شافعی اور شب برات کی اہمیت: امام شافعی” سے مروی ہے کہ 5 راتوں میں خاص طور پر دعا قبول کی جاتی ہے جن میں نصف شعبان کی رات بھی ہے (السنن الکبری لم یقی)۔ (9) علامہ ابن رجب حنبلی اور شب برات کی بزرگی : علامہ ابن رجب صلاح شاگر در شید علامہ ابن تیمیہ تحریر فرماتے ہیں کہ خصوصیت کے ساتھ نصف شعبان کے روزے کے بارے میں حکم وارد ہوا ہے۔ آگے فرماتے ہیں کہ نصف شعبان کی مبارک رات کو نماز میں کھڑے رہو! اس مہینے کی افضل ترین رات اس کی پندرہویں رات ہے۔ کتنے جوان شب برات کی رات میں سکون و چین سے سو جاتے ہیں اور اُدھر سے ان کی موت کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ اور ان کو پتہ بھی نہیں ہوتا ۔ لہذا زندگی کے ختم ہونے سے پہلے ہی نیک عمل کی طرف دوڑو۔ اور زندگی کے ختم ہونے سے پہلے لوگوں کی اموات سے ڈرو۔ اور اللہ کیلئے اس دن کا روزہ رکھو اور اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھو تا کہ ان کے لطف و کرم سے موت کے وقت کامیاب رہو۔ (10) محدث عبدالرزاق اور شب برات کی فضیلت: شیخ محدث عبدالرزاق نے بیان کیا ہے کہ شیخ زیاد منقری ” جو ایک قاضی تھے، کہا کرتے تھے کہ نصف شعبان کی رات ( کی عبادت ) کا اجر شب قدر کے اجر کی مانند ہے (المصنف لعبد الرزاق ) ۔ (11) امام نووی اور شب برات کی برکت : امام نوویٹی کی