اب زمانہ بدل گیا ہے اب اللہ جل شانہ کی پناہ مانگنی چاہئے

حضرت رافع بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات میں ریگستان میں سفر کر رہا تھا۔ جب نیند کا غلبہ ہوا تو میں نے سونے سے پہلے اپنی اونٹنی کے متعلق دورِ جاہلیت کے مطابق یہ الفاظ کہے کہ میں اس وادی کے بڑے جن کی پناہ لیتا ہوں۔ اسی رات میں میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہتھیار ہے، جسے وہ میری اونٹنی کے گلے پر پھیرنا چاہتا ہے۔ میری آنکھ کھل گئی۔ دیکھا تو اونٹنی صحیح سلامت کھڑی تھی۔ دوبارہ سو گیا تو پھر وہی خواب دیکھا کہ وہ شخص میری اونٹنی کو ذبح کرنا چاہتا ہے۔ اتنے میں ایک بوڑھے آدمی نے آکر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اس اونٹنی کے بدلے ان خچروں میں سے ایک لے لو اور اونٹنی کو چھوڑ دو۔ وہ شخص اس بات پر راضی ہوا اور چلا گیا اس بوڑھے آدمی نے مجھے کہا: اے بے وقوف! جب تم کسی جنگل میں ٹھہرو اور وہاں کے جنات سے خطرہ ہو تو یہ کلمات کہا کرو: اعوذ باللہ رب محمد من ھذا الوادی یعنی میں اس وادی کے شر سے رب محمد ﷺ کی پناہ میں آتا ہوں۔ کیونکہ وہ زمانہ چلا گیا ہے، جب انسان جنات کی پناہ مانگا کرتا تھا۔ میں نے پوچھا: حضرت محمد ﷺ کون ہیں؟ اس نے کہا: یثرب میں ایک نبی مبعوث ہوئے ہیں، جو عربی ہیں۔ لہٰذا میں نے مدینہ منورہ کا راستہ لیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی بات کرتا، حضور ﷺ نے میرا سارا واقعہ خود ہی کہہ سنایا اور میں نے اسلام قبول کرلیا

محترم قارئین! اس سے ثابت ہوا کہ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے بیان کردہ جنات کے تمام واقعات سو فیصد حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں۔ جو لوگ جنات کے وجود کا انکار کرتے ہیں، درحقیقت وہ قرآنِ مجید کی بیسیوں آیات اور درجنوں احادیث کے منکر ہونے کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں راہِ ہدایت کی طرف واپس پلٹا دے۔ آمین

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026