سمندر میں ہونے والی محفل نعت سن کر مچھلیاں بھی تڑپ گئیں

محترم قارئین! کچھ لوگ ماہنامہ عبقری کے وظائف پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر کسی بزرگ یا عالمِ دین نے موقع کی مناسبت سے کسی شخص کو مسئلے کے حل کیلئے کوئی تعویذ دیا تھا یا وظیفہ بتایا تھا تو یہ صرف انہی تک محدود تھا۔ ہم اکابر و اسلاف کے ایسے اعمال نہیں اپنا سکتے۔ کیونکہ ان کی تاثیر انہی کے ساتھ خاص تھی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ 9 صدیاں پہلے لکھے گئے قصیدے نے کچھ سال پہلے اپنی تاثیر کیسے دکھائی۔

مولانا فداء الرحمٰن درخواستتی ایڈیٹر: ماہنامہ انوار القرآن کراچی لکھتے ہیں کہ حضرت حافظ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستتی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ بنگلہ دیش کا سفر کیا۔ اس سفر میں حضرت مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا اجمل خان رحمہم اللہ اجمعین بھی ساتھ تھے۔ حضرت درخواستتی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: جس کو آقا سرورِ کونین ﷺ کی شان میں جو اشعار آتے ہیں، وہ سنائے۔ سب نے مختلف اشعار سنائے۔ جب حضرت درخواستتی رحمۃ اللہ علیہ کی باری آئی تو انہوں نے مولانا عبدالرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ کا وہ قصیدہ سنایا، جسے انہوں نے کشتی میں سفر کرتے ہوئے پڑھا تھا اور پڑھنے کے دوران ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی اچھل اچھل کر کشتی میں آ کے تڑپنا شروع ہوگئیں حضرت مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب حضرت درخواستتی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ قصیدہ سب کے سامنے سنانا شروع کیا تو دریا کی مچھلیاں پانی کی سطح پر آ کر کشتی کے اردگرد جھومنا شروع ہو گئیں۔ پھر بے خود ہو کر کشتی کے اندر اچھل کر آئیں اور وہاں آ کر تڑپنا شروع ہو گئیں۔ کشتی میں موجود بڑے بڑے علماء پر سناٹا طاری ہو گیا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور حضرت درخواستتی رحمۃ اللہ علیہ حبیبِ کبریا ﷺ کی شان میں قصیدہ پڑھتے رہے

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026