شیخ الوظائف کی طرح لوگوں کی دادرسی کرنے والے بزرگ کا کیا انجام ہوا۔۔۔!

(محمد لبیب شبلی ، لاہور ) 

شیخ الوظائف کی کوشش ہوتی ہے کہ دکھیارے ، غموں کے مارے حالات کے اجاڑے یعنی بے سہارے لوگ کسی نہ کسی طرح سکھی ہو جائیں۔۔۔! آپ اپنی ہر دعا میں یہ جملہ ارشاد فرماتے ہیں یا اللہ مخلوق میرے پاس آتی ہے میں تیرے در پر بھیج دیتا ہوں میرا اور خالی ہے تیرا در بھرا ہوا ہے تو انھیں خالی نہ لوٹانا۔۔۔! تاریخ میں گزرے ہر بزرگ کی یہی کوشش ہوا کرتی تھی اکابرین کے بکھرے جھر کوں سے ایک واقعہ پیش خدمت ہے: حضرت ابو اسحاق ابراہیم بن شہریار گاز رونی نے انتقال کے وقت اپنے مریدین سے فرمایا کہ میں بہت جلد دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں اس لیے تمہیں چار صیحتیں کرتا ہوں انہیں سن کر ان پر عمل پیرا رہنا.

اول یہ کہ میرے بعد میرے جانشین کی اطاعت کرنا ، دوم صبح کو روزانہ تلاوت قرآن پاک کرتے رہنا، سوم یہ کہ مسافر کی اچھی طرح مدارات کرنا ، چہارم یہ کہ باہم پیار محبت سے رہنا۔ آپ نے اپنے تمام ارادت مندوں کے نام درج رجسٹر کر لیے تھے اور آخری وقت یہ وصیت فرمائی کہ اس رجسٹر کو میری قبر میں رکھ دینا چنانچہ آپ کی وصیت پر عمل کر کے رجسٹر قبر میں رکھ دیا گیا۔ انتقال کے بعد خواب میں کسی نے دیکھ کر آپ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے معمولی بخشش تو یہ فرمائی کہ میرے رجسٹر میں درج شده تمام مریدین کی مغفرت فرمادی، آپ ہمیشہ یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! جو میرے پاس اپنی کوئی حاجت لے کر آئے اس کی مراد پوری فرما دے۔

اکابر پر اعتماد سے دین و دنیا بھی ہوگی خوشحال اور آخرت بھی پر جمال بے مثال و با کمال

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026