عبقری میں ذکر کردہ اولیاء ابدالوں کے مستند دلائل

(1) ’’عبقری‘‘ میں ذکر کردہ ابدالوں کے واقعات کی پہلی دلیل: سیدنا علیؓ نے فرمایا: فتنہ ہوگا، اس میں لوگ اس طرح تپیں گے جس طرح سونا بھٹی میں تپتا ہے لہٰذا اہل شام کو برا نہ کہو کیونکہ ان میں ابدال ہیں۔ (مستدرک حاکم)۔ علامہ زبیر علی زئی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (توضیح الاحکام ج 1 ص 87)

’’عبقری‘‘ میں ذکر کردہ ابدالوں کے واقعات کی دوسری دلیل: (2) حدیث میں آیا ہے کہ اس امت میں 30 ابدال ہیں۔ (مسند احمد)

’’عبقری‘‘ میں ذکر کردہ ابدالوں کے واقعات کی تیسری دلیل: سنن ابوداؤد میں امام مہدی کے بارے میں حدیث ہے جس میں الفاظ یہ ہیں کہ جس وقت لوگ یہ دیکھیں گے تو ان (امام مہدی) کے پاس شام کے ابدال اور عراق کی ٹولیاں آئیں گے اور پھر وہ ان کی بیعت کریں گے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب المہدی حدیث نمبر 4286)

(4) ’’عبقری‘‘ میں ذکر کردہ ابدالوں کے واقعات کی چوتھی دلیل: مسند احمد کی ایک اور روایت میں آیا ہے کہ ابدال شام میں ہونگے۔

اگر آپ عبقری میں ذکر کردہ ابدالوں کے مزید حالات کی علمی آگاہی چاہتے ہیں تو علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ کی کتاب الحاوی للفتاویٰ ج 2 ص 224، الجامع الصغیر اور علامہ شمس الدین سخاویؒ کی کتاب المقاصد کا مطالعہ کرنے سے آپ پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ’’ماہنامہ عبقری‘‘ اپنی طرف سے کوئی بات بیان نہیں کرتا بلکہ ہر بات کے پیچھے اکابر کی دلیل ہے

ضرورت اپنے مطالعہ کو بڑھانے کی ہے۔۔۔!

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026