عبقری میں وظائف کہاں سے آتے ہیں؟

السلام علیکم! مولانا صاحب اللہ تعالیٰ آپ کو عمرِ دراز اور توفیقِ مزید عطا فرمائے کہ آپ یونہی فتنوں کا خاتمہ کرنے میں کوشاں رہیں۔ آپ کا پیج "اکابر پر اعتماد” ماشاء اللہ بالکل درست نہج پر جا رہا ہے اور لوگوں کو صراطِ مستقیم کی طرف واپس بلا رہا ہے۔ ایک صاحب نے مجھ سے بھی ایسا ہی سوال کیا تھا کہ آپ جو عبقری کے وظائف ہمیں بتاتے ہیں، اس کا SOURCE کیا ہے؟ یعنی اب تک اس میں ہزاروں وظیفے چھپ چکے ہیں، کیا ان پر وحی آتی ہے؟ میں نے ان صاحب سے پوچھا: بھائی کیا آپ اہلسنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہو؟ کہنے لگے : جی ہاں۔

میں نے پوچھا: کیا آپ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کو جانتے ہو؟

کہنے لگے : جی ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا آپ مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کو جانتے ہو؟ کہنے لگے جی ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا آپ مولانا اشرف علی تھانویؒ کو جانتے ہو؟ کہنے لگے : بالکل۔ میں نے پوچھا: کیا آپ امام غزالیؒ کو جانتے ہو؟ کہنے لگے : بہت زیادہ۔ میں نے پوچھا: کیا آپ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کو جانتے ہو؟ کہنے لگے : وہ تو میرے آئیڈیل ہیں۔

میں نے پوچھا: کیا آپ مفتی محمد شفیع صاحبؒ کو جانتے ہو؟ کہنے لگے : جی بالکل۔ میں نے پوچھا: کیا آپ مفتی محمد حسن صاحب امرتسریؒ کو جانتے ہو؟ کہنے لگے : اچھی طرح۔ میں نے پوچھا: کیا آپ مفتی محمود الحسن صاحبؒ کو جانتے ہو؟ کہنے لگے : جی ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا آپ حضرت انور شاہ کاشمیریؒ کو جانتے ہو؟ کہنے لگے : بہت زیادہ۔ میں نے پوچھا: کیا آپ نواب صدیق حسن خانؒ کو جانتے ہو؟ کہنے لگے : ان کی چند کتابیں پڑھی ہیں۔ میں نے پوچھا: مولانا داؤد غزنوی صاحبؒ کو جانتے ہو؟ کہنے لگے، وہ تو میرے پسندیدہ خطیب تھے۔ میں نے پوچھا: صوفی محمد عبداللہ کا نام سنا ہے؟ کہنے لگے : ان کی تو ہمارے پیچھے دعا ہے۔ میں نے پوچھا: حافظ محمد گوندلویؒ کو جانتے ہو؟ کہنے لگے : میرے بھائی صاحب ان کے شاگردِ خاص ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا یہ تمام حضرات نبی تھے؟ کہنے لگے : توبہ توبہ نعوذ باللہ ایسا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ میں نے پوچھا: کیا ان تمام اکابر و اسلاف پر وحی نازل ہوتی تھی؟ کہنے لگے : چھوڑیں مولوی صاحب! آپ کیسی باتیں کرتے ہیں؟ میں نے پوچھا: کیا ان تمام حضرات کے وظائف اور عملیات آج تک عوام میں مقبول نہیں ہیں؟ کہنے لگے : جی وہ تو بہت زیادہ ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا ان کے بتائے ہوئے وظائف کی تعداد اور طریقے کا ذکر قرآن و حدیث سے ملتا ہے؟ کہنے لگے : جی طریقے اور تعداد کا تعلق بزرگوں کے تجربات سے ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا آج تک تم نے عبقری میں کوئی وظیفہ ایسا پڑھا جو ان تمام اکابرین کی ترتیب سے ہٹ کر ہو؟ کچھ دیر سوچ کر بولے: نہیں مولوی صاحب میں سمجھ گیا۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ بھلا پہلے ہی یہ بات بول دیتے۔ اتنا لمبا انٹرویو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

میں نے عرض کی : بھائی اگر آپ کے سامنے یہ جلیل القدر علمائے عظام کے نام نہ پیش کرتا تو آپ کو بات کی سمجھ کیسے آتی؟ ایک طرف تو ہم انہی اکابرین کے ساتھ اپنی نسبت جوڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حق پر تھے، دوسری طرف انہی کے وظائف و عملیات کو مخلوقِ خدا کی خیرخواہی کی نیت سے شائع کرنا یا منبر پر بیان کرنا اپنے لیے حقارت کا باعث سمجھتے ہیں۔ پھر اس سے بڑا ظلم یہ کہ عبقری جیسے رسالے پر غلط قسم کے اعتراض کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ رسالہ تو ایسا ہے جسے پڑھ کر لاکھوں لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے مانگنے اور لینے کا سلیقہ آ گیا ہے۔ اسی کو تو توحید کہتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے اپنی چھوٹی بڑی تمام مشکلات کا حل مانگا جائے اور اسی کو سنت کہتے ہیں کہ قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے۔ اب مجھے بتاؤ کہ عبقری کے وظائف میں کیا قباحت ہے؟ کہنے لگے : مولوی صاحب! آپ نے تو میری آنکھیں کھول دی ہیں۔

میں نے کہا: فوراً اردو بازار جاؤ اور وہاں سے اکابر علماء کی عملیات اور وظائف والی کتابیں خرید کر پڑھو، تاکہ تمہیں پتہ چلے کہ عبقری میں وظائف کہاں سے آ رہے ہیں (مفتی ابو الکلام نعمانی۔ کراچی)

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026