جن لوگوں پر مشکل جتنی تیزی سے آتی ہے ایسے ہی تیزی سے بھاگے گی (انشاء اللہ تعالیٰ)!
شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے دنیا کے 200 سے زائد ممالک بمع جزیروں میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کو ایک بھولا ہوا پیغام یاد کروایا جو کہ حضور ﷺ کے وسیلے سے صحابہ کرامؓ، اہل بیت عظام، علمائے کرام اور بزرگانِ دین سے ہوتا ہوا ہم تک پہنچا تھا وہ پیغام تھا اعمال سے پلنے، اعمال سے بننے اور اعمال سے بچنے کا یقین۔۔۔! آج اس ضرورت کو تمام محقق اہل علم تسلیم کر رہے ہیں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا مفتی زرولی خان صاحب دامت برکاتہم وظائف اور عملیات کو انسانیت کی فلاح کیلئے کس قدر اہم سمجھتے ہیں، پڑھیے۔۔۔! اور شیخ الوظائف کی سوچ کو داد دیجئے جو اس پیغام کے ذریعے دکھی انسانیت کی دادرسی کر رہے ہیں۔
شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا مفتی زرولی خان صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ سورہ تغابن کے عجیب و غریب احوال ہیں، یہ سورہ لا علاج بیماریوں کیلئے تیر بہدف ہے اور اس شخص کا علاج ہے جو کہ آپ کے ساتھ زیادتی کر رہا ہو پریشان کرتا ہو، ایسے شخص سے اپنے حق میں فیصلہ کروانے میں یہ سورہ نہایت ہی اکسیر ہے، ماحول کو سازگار بنانے کیلئے، گھر کے ماحول میں خوش رنگی پیدا کرنے کیلئے یہ سورہ تیر بہدف اور نسخہ کیمیا ہے، تریاقِ عظیم ہے بلیات اور آفات کو دور کرنے، دعاؤں کو قبول کروانے، اور مرادیں پانے کیلئے یہ سورہ تریاق مجرب ہے۔
ذاتی مشاہدہ: اس سورہ کی تلاوت کے بعد میرے لیے فضا سازگار ہو جاتی ہے، تمام رکاوٹیں ختم ہو جاتی ہیں، ہمت بڑھ جاتی ہے، بیماریاں پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔
پڑھنے کا طریقہ: بزرگانِ دین سے اس سورہ کے پڑھنے کا وظیفہ اس طرح منقول ہے کہ پہلے اس کو 41 مرتبہ ایک نشست میں پڑھ لیا جائے اور اس کے بعد روزانہ ایک مرتبہ پڑھنے کی عادت ڈالی جائے، یہ عمل فجر سے پہلے کرنا ’’یاقوت‘‘ اور ’’مرجان‘‘ ہے، فجر کے وقت کرنا ’’سونا‘‘ ہے، فجر کے بعد کرنا ’’چاندی‘‘ ہے، اس کے علاوہ یہ دن میں کسی وقت بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
یاد رہے: 41 مرتبہ پڑھنے والا سورہ تغابن کا یہ عمل کئی سال پہلے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ عبقری اور تسبیح خانہ کے ذریعے مخلوقِ خدا کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں یعنی بات وہی ہے کہ حضرت صاحب وظیفہ بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں۔۔۔! اگر یہی وظیفہ شیخ الوظائف بتائیں تو بدعت دیگر علماء بتائیں تو کمال ہے۔۔۔۔! یہ عجیب فلسفہ ہے جسے دنیا کا کوئی فلسفی ساری زندگی حل نہ کر سکے۔۔۔!
