سوال: مولانا صاحب! کیا عبقری کے وظائف پڑھنا جائز ہیں؟ ان کے فیس بک پیج پر جو پوسٹیں لگائی جاتی ہیں ان میں کوئی بات بھی عالمانہ دلائل کے مطابق نہیں ہوتی۔ نہ ان وظائف کی سند بیان کی جاتی ہے اور نہ ہی قرآن و حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے (سائل: دانش رضا، ٹیکسلا)
جواب: محترم بھائی! آپ کے دل میں یہ وسوسہ کس نے ڈال دیا کہ عبقری کے وظائف کی کوئی سند نہیں؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ عبقری کا کوئی ایک وظیفہ بھی عبقری کا اپنا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں تمام اکابر و اسلاف کے آزمودہ وظائف ڈالے جاتے ہیں۔ اگر وہ وظائف غیر مستند ہوتے یا عالمانہ دلائل کے خلاف ہوتے تو ہزاروں اکابرینِ علماء کے معمولات میں ان کا ذکر نہ ملتا۔ رہی بات قرآن و حدیث کے حوالے کی، تو گزارش یہ ہے کہ عبقری میں دیے جانے والے تمام اسمائے حسنیٰ یا مسنون دعائیں یا آیات بھی قرآن و حدیث میں موجود ہیں اور ان کے پڑھنے کی تعداد اور طریقہ بھی ہم تک قرآن و حدیث پہنچانے والے اکابرینِ عظام رحمہم اللہ اجمعین ہی سے منقول ہے۔ مثلاً کچھ عرصہ پہلے زیارتِ رسول ﷺ کیلئے عبقری میں سورۃ التوبہ کی آخری آیات کا عمل دیا گیا تھا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا وہ ترتیب اور تعداد عبقری نے خود لکھی تھی؟ ہرگز نہیں! بلکہ یہ عمل ہمارے درج ذیل اکابرین نے اپنی اپنی کتب میں لکھا ہوا ہے جہاں سے چن کر عبقری نے قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا۔
- نواب صدیق حسن خان نے لکھا ہے کہ جس دن یہ آیات پڑھ لی جائیں، اس دن کوئی نقصان نہیں ہوگا (دیکھیں کتاب: الداء والدواء، ناشر: مشتاق بک کارنر، افضل مارکیٹ، اردو بازار لاہور)
- پیرِ طریقت مولانا ظفر احمد قادری نے لکھا ہے کہ ان آیات کو پڑھنے والے کی شفاعت حضور ﷺ فرمائیں گے (دیکھیں کتاب: شرعی علاج، صفحہ 376، ناشر: عمران اکیڈمی، اردو بازار لاہور)
- علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیات پڑھنے سے رزق وسیع ہو جاتا ہے۔ (دیکھیں کتاب: گنجینۂ اسرار، ناشر: مکتبہ دیوبند، اتر پردیش)
- شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ فرماتے ہیں کہ ان آیات کے ذریعے زیارتِ رسول ﷺ ہو جاتی ہے (دیکھیں کتاب: فضائلِ درود شریف، صفحہ 95)
- حضرت خواجہ احمد دیربیؒ نے انہی آیات کو مشکلات کے حل کیلئے نفع بخش بتایا ہے۔ (بحوالہ کتاب: مجرباتِ دیربی، صفحہ 106، ناشر: مشتاق بک کارنر، اردو بازار لاہور)
