کفر کی توپ چلانے والے علمائے کرام کے نام مفتی محمود صاحب کا پیغام

(مفتی محمد فرقان متخصص جامعہ بنوریہ کراچی )

آج ساری دنیا میں مہنگائی کا رونا ہے روتی ہے کوئی کہتا ہے بچوں کی تعلیم مہنگی ، کوئی بجلی و گیس کے بلوں پر روتا ہے، کوئی اجناس کی بڑھتی قیمت پر نالاں ہے، کوئی شخص مکان اور اس میں استعمال ہونے والی چیزوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں پر دکھی دکھائی دیتا ہے۔۔۔۔! لیکن آج کے دور میں ایک چیز سب سے سستی ہوتی جارہی ہے وہ ہے ایک دوسرے پر کفر کی مہر لگانا۔۔۔۔ ! جبکہ ہمارے اکابر کا تو یہ طریقہ نہ تھا ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔

قائد ملت امیر جمعیت حضرت مولانا مفتی محمود صاحب ایک مرتبہ قاہرہ تشریف لے گئے وہاں کا نفرنس ہو رہی تھی ۔ حضرت بنوری ، حضرت مفتی صاحب اور حضرت مولانا ہزاروی ، بیٹھے ہوئے تھے مولا نا ہزاروی نے فرما یا مفتی صاحب آپ فلاں شخص کے بارے میں کفر کا فتوی کیوں نہیں دیتے ، بڑے جلال بڑے جوش سے باتیں کر رہے تھے اور دلائل پیش کر رہے ہیں۔ مفتی صاحب مسکرا رہے ہیں اور مسکرانے کے بعد فرمایا کہ مولا نا مصیبت یہی ہے کہ میں مفتی ہوں ،مشکل بات تو یہی ہے کہ میں مفتی ہوں اس لئے میں فتویٰ نہیں دے سکتا ۔۔۔! ان کی طبیعت میں کوئی جذباتیت نہیں تھی اور جانتے تھے کہ فتویٰ کیا چیز ہے اور کب کس موقع پر دیا جاتا ہے۔ قاسم العلوم میں 25 سال تک آپ نے 22000 فتاویٰ جات صادر کیے۔۔۔ کتاب:

محترم قارئین! آج سوشل میڈ یا پر دیکھیں کہ ہماری اس کفر کی توپ سے کوئی بچا بھی ہے۔۔۔! اگر آج ہم کسی ایک شخص کو اپنے کردار، اخلاق سے مسلمان نہیں بنا سکے تو خدارا کچھ تو احتیاط کریں۔ ہم زیادہ سمجھ دار ہیں ۔۔۔ یا ہم ان اکا بڑ سے بھی بڑے ہو گئے ہیں۔۔۔۔!

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026