محترم قارئین! حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے درس میں ارشاد فرمایا تھا کہ جس شخص نے اپنی کوئی ناممکن دعا قبول کروانی ہو تو وہ روزانہ چند نوافل پڑھ کر حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایصالِ ثواب کرتے ہوئے دعا کرے کہ وہ اپنے والد محترم حضور خاتم النبیین ﷺ کے سامنے میری سفارش کریں اور آپ ﷺ اللہ پاک کی بارگاہ میں میرے لیے دعا مانگ کر میرا مسئلہ حل کروا دیں۔ ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ مشاہدات کبھی دلیل کے محتاج نہیں ہوتے، بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ عمل شریعت کے خلاف نہ ہو۔ ایک دنیا دار بیوروکریٹ نے اس عمل سے اپنی حاجت کیسے پوری کروائی؟ آئیے دیکھتے ہیں:
گزشتہ صدی کے نامور ادیب جناب قدرت اللہ شہاب مرحوم لکھتے ہیں: ایک بار میں کسی دور دراز علاقے میں گیا ہوا تھا۔ جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد گیا تو وہاں کے مولانا صاحب نے دورانِ خطبہ ایک ایسی بات سنائی جو سیدھی میرے دل میں اتر گئی۔ وہ بتا رہے تھے کہ حضور نبی کریم ﷺ جب اپنے صحابہ کرامؓ کی کوئی درخواست یا فرمائش منظور نہ فرماتے تھے تو بڑے بڑے برگزیدہ صحابہ کرامؓ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی منت کرتے کہ وہ ان کی درخواست حضور ﷺ سے منظور کروا دیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کے دل میں بیٹی کا اتنا پیار اور احترام تھا کہ ان کی سفارش کی ہوئی ہر بات خوش دلی سے منظور فرما لیتے تھے۔ اب بھی جس کو کوئی حاجت ہو، وہ دو نفل پڑھ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کرے اور کہے کہ اپنے والد محترم ﷺ سے میرے لیے دعا کی سفارش کر دیں، تو اس شخص کی مطلوبہ حاجت پوری ہو جاتی ہے۔
جمعہ کی نماز کے بعد میں نے اسی مسجد میں بیٹھ کر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روح مبارک کو ایصالِ ثواب کی نیت سے نوافل پڑھے۔ پھر میں نے پوری یکسوئی سے گڑگڑا کر دعا مانگی: یا اللہ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روح مبارک کو اجازت مرحمت فرمائیں کہ وہ میری ایک درخواست اپنے والد محترم ﷺ کے حضور پیش کر کے منظور کروا دیں۔ اس بات کا میں نے اپنے گھر میں یا باہر کسی سے ذکر تک نہ کیا۔ چھ سات ہفتے گزر گئے اور میں اس واقعہ کو بھول گیا۔ پھر اچانک میری جرمن بھابھی کا ایک عجیب خط موصول ہوا۔ جو مشرف بہ اسلام ہو چکی تھیں اور نہایت اعلیٰ درجہ کی پابند صوم و صلوٰۃ خاتون تھیں۔
خط میں لکھا تھا: رات میں نے خوش قسمتی سے سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ انہوں نے میرے ساتھ نہایت شفقت سے باتیں کیں اور فرمایا کہ اپنے دیور ’’قدرت اللہ شہاب‘‘ کو بتا دو کہ میں نے اس کی درخواست اپنے محترم والد گرامی ﷺ کی خدمت میں پیش کر دی تھی اور انہوں نے اسے ازراہِ نوازش منظور فرما لیا ہے۔ یہ خط پڑھتے ہی میرے ہوش و حواس پر خوشی اور حیرت کی دیوانگی سی طاری ہوگئی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ میرے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے بلکہ ہوا میں چل رہے ہیں۔ یہ تصور کہ اس برگزیدہ محفل میں ان باپ بیٹی کے درمیان میرا ذکر ہوا۔ کیسے عظیم باپ ﷺ! اور کیسی عظیم بیٹی رضی اللہ عنہا!
(بحوالہ کتاب: شہاب نامہ، صفحہ 765)
