شیخ الوظائف کا فرمان اگر آپ کا عقیقہ نہیں ہوا تو فوراً کرلیں۔۔!

(مولانا محمد نیاز صاحب، فاضل: جامعہ مظاہر العلوم)

شیخ الوظائف دامت برکاتہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ بلاؤں، مصیبتوں، اور آفتوں سے محفوظ رہیں اور ان کا ایک طریقہ عقیقہ بھی ہے۔ بہت سے لوگ جن کا عقیقہ نہیں ہوا وہ آپ دامت برکاتہم سے یہ پوچھتے تھے کہ اب جوانی یا بڑھاپے میں ہم عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں تو ایسے لوگوں کیلئے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم حضرات کے علمی جوابات پیشِ خدمت ہیں:

عقیقے کا سب سے اچھا وقت پیدائش سے ساتویں دن ہے، پھر چودہویں، پھر اکیسویں، اگر ان دنوں میں بھی نہ کر سکے تو عمر بھر میں کسی بھی دن عقیقہ کیا جاسکتا ہے؛ البتہ بہتر ہے جب بھی عقیقہ کیا جائے پیدائش سے ساتویں دن کا لحاظ کیا جائے۔

”عن ابن عباسؓ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عقّ عن الحسن والحسین کبشاً کبشاً“

(ابوداؤد، رقم: 2841) ثم إن الترمذی أجاز بہا إلی یوم أحد وعشرین قلت بل یجوز إلی أن یموت لما رأیت فی بعض الروایات أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم عق عن نفسہ بنفسہ (فیض الباری: 4 / 337 کتاب العقیقہ ، ط: اشرفی) (واللہ تعالیٰ اعلم، دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند)

ساتویں دن ”عقیقہ“ کرنا بہتر ہے اگر ساتویں دن نہ ہو سکے تو زندگی میں جب چاہیں کر سکتے ہیں سنت ادا ہو جائے گی، البتہ ساتویں دن کا لحاظ رکھا جائے تو بہتر ہے، اس کے یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہوا، اس دن سے ایک دن قبل ساتواں دن بنے گا۔ مثلاً بچہ جمعہ کو پیدا ہوا تو جمعرات ساتواں دن ہے۔

حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ اس سلسلے میں لکھتے ہیں: والظاہر أن التقیید بذلک استحباب، وإلا فلو ذبح عنہ فی الرابع أو الثامن أو العاشر أو ما بعدہ أجزأت۔ ”معلوم یہ ہوتا ہے کہ ساتویں دن کی قید استحباب کے طور پر ہے، ورنہ اگر کوئی شخص بچے کی طرف سے چوتھے، آٹھویں، دسویں یا بعد والے کسی دن عقیقہ کر دے تو وہ کفایت کر جائے گا۔“ (تحفۃ الودود لابن القیم: ص 50)

جب بھی عقیقہ کرے، بہتر یہ ہے پیدائش کے دن کے حساب سے ساتویں دن کرے، اگر بچپن میں عقیقہ نہ ہوا تو بڑی عمر میں اپنا عقیقہ خود بھی کیا جاسکتا ہے، عقیقہ ادا ہو جائے گا۔

عن محمد [ابن سیرینؒ] قال: ”لو أعلم أنه لم یعق عنی لعققت عن نفسی۔“

(12 / 319، حدیث: 24718، کتاب العقیقہ ، ط: المجلس العلمی افریقا) (دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)

عقیقہ ساتویں دن، چودہویں یا پھر اکیسویں دن کریں اگر ان دنوں میں نہ کر سکے تو عمر بھر میں کسی بھی دن عقیقہ کیا جاسکتا ہے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026