مخدوم المشائخ حضرت مولانا شیخ سید زوار حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک واقعہ ارشاد فرمایا کہ ان کے دور میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر صاحب کا ایک مجذوب کے پاس اٹھنا بیٹھنا تھا۔ وہ مجذوب فوت ہونے لگا تو اس نے کوئی چیز کھانے کی ڈاکٹر صاحب کو دے دی اور ڈاکٹر صاحب نے وہ چیز کھا لی تو وہ بھی مجذوب بن گئے۔ اب وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر بغیر ازاربند کے صرف ایک پاجامہ پہننے لگ گئے۔ حالت یہ تھی کہ پاجامہ ہاتھ میں لے کر چلتے پھرتے تھے۔ وہ ڈاکٹر صاحب ایک حکیم صاحب کے پاس آتے جاتے تھے۔
حضرت نے فرمایا: ایک دفعہ ہم بھی حکیم صاحب سے ملنے گئے تو اوپر سے وہ ڈاکٹر صاحب بھی آگئے۔ حکیم صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر انہیں فرمایا کہ میں ذرا مصروف ہوں، ملنے والے بیٹھے ہیں، اس لئے تھوڑی دیر تشریف رکھیں۔ انہوں نے ارشاد فرمایا: ٹھیک ہے۔ اس کے بعد وہ ہمارے ہی پاس بیٹھ گئے۔ میں حیران تھا کہ جب میں ان کی طرف دیکھتا تو وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتے اور جب میں ادھر ادھر دیکھتا تو وہ فوراً میرا چہرہ دیکھنا شروع کر دیتے۔ تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے حکیم صاحب کے کاغذوں میں سے ایک کاغذ اٹھایا اور قلم لیکر کچھ گنگنانے بھی لگے اور لکھنے بھی لگے۔ جب میں نے ان کی گنگناہٹ پر تھوڑی سی توجہ دی تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ عربی کے بہت ہی عجیب اشعار پڑھ رہے ہیں۔ سمجھ میں تو نہیں آتی تھی مگر اس کی سُر ایسی بنتی تھی کہ اس سے میں نے پہچان لیا کہ وہ محبت الہیٰ کے اشعار گنگنا رہے ہیں حالانکہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو عربی سے کیا واسطہ؟ یہ بیچارے تو ٹٹ پٹ پڑھتے ہیں۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ ڈاکٹر صاحب اٹھے اور ارشاد فرمایا کہ اب میں جاتا ہوں۔ حکیم صاحب نے کہا ڈاکٹر صاحب کیا بات ہے کہ آپ اتنے دن ہمارے پاس نہیں آئے؟ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے ’’اب ہم دال ہو گئے ہیں‘‘ یہ کہہ کر ڈاکٹر صاحب چلے گئے۔ بعد میں حکیم صاحب نے سید زوار حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا، کیا آپ کو پتہ چلا کہ یہ کیا کہہ گئے ہیں؟ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرمایا، میں تو نہیں سمجھا۔ حکیم صاحب کہنے لگے کہ یہ کہہ گئے ہیں ’’اب ہم دال ہو گئے‘‘ مطلب یہ کہ اب میں ابدال بن گیا ہوں۔ صحیح بتانے کی بجائے کہ ہم ابدال ہو گئے، اس نے اب کو پہلے کہا اور دال کو بعد میں۔ حضرت فرماتے ہیں کہ مجھے بھی حیرانی ہوئی کہ واقعی بات تو ایسی ہی گر گئی لیکن حکیم صاحب نے اشارہ سمجھ لیا۔ پھر اس کے بعد انہوں نے ایک عدسہ منگوایا جو حروف کو بڑا کر کے دکھاتا ہے۔ اس کی مدد سے دیکھا تو وہ حیران رہ گیا کہ ظاہر تو نظر آتا تھا کہ انہوں نے ایسے ہی نشان سے لگا دیے ہیں لیکن جب اس سے بڑا کر کے دیکھا تو پتہ چلا کہ عربی کا شعر اتنا خوبصورت لکھا ہوا تھا کہ ایسا تو کوئی کاتب بھی نہیں لکھ سکتا تھا۔
حضرت حاجی محمد اعلیٰ صاحب خلیفہ مجاز شیخ العرب والعجم، مجذوبِ وقت حضرت مولانا شاہ عبدالغفور صاحب عباسی مہاجر مدنی نور اللہ مرقدہ مقامات زواریہ کے حاشیے میں فرماتے ہیں ’’احقر میں محمد اعلیٰ کہتا ہے کہ ڈاکٹر شوکت صاحب کو اس عاجز نے بھی بارہا دیکھا ہے عجب خوبیوں کے مجذوب تھے۔ اب تک لاپتہ ہیں۔ کچھ عرصہ ان پر یہ کیفیت بھی رہی کہ اگر کوئی شخص اپنی کوئی حاجت تحریر کر کے پیش کرتا تو وہ اسی پرچہ پر قرآن شریف کی ایسی آیت لکھ دیتے جو جواب کے لئے کافی ہوتی اور حکیم شجاعت علی صاحب بھی بڑی خوبیوں کے بزرگ تھے ان کی رسائی قطب ابدال اور رجال تکوین سے بھی بہت تھی اور مجذوب تو بکثرت ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے لیکن حق سبحانہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ تقریباً دس بارہ سال فالج کے مرض میں مبتلا رہے زبان بھی بند ہو گئی اور اسی مرض میں انتقال فرمایا۔ ڈاکٹر شوکت حکیم صاحب کا بہت احترام کرتے تھے۔ حکیم صاحب کی علالت کے زمانے میں ڈاکٹر صاحب ایک دن اس عاجز کو سرِ راہ مل گئے تو عاجز نے ہمت کر کے ان سے کہا کہ آپ کے بھائی حکیم شجاعت علی صاحب کا یہ حال ہے آپ ان کے لئے تو کچھ کریں۔ اگرچہ ڈاکٹر شوکت صاحب بہت کم صاف اور مربوط بولتے تھے مگر اس وقت جواب میں انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا ’’میاں بھیا کیا کر سکتا ہوں‘‘ بیدک الخیر انک علی کل شی قدیر۔
(مقاماتِ زواریہ بحوالہ کتاب مجاذیب کی پراسرار دنیا ص 23، تالیف: مولانا محمد روح اللہ نقشبندی غفوری، ناشر: مکتبہ عمر فاروقؒ کراچی)
آج اکابر پر اعتماد قسط نمبر 501 ذکر کردہ یہ واقعہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے فرمان کی مکمل تصدیق کرتا ہے۔
