شیخ الوظائف مجاذیب کے ادب کا کیوں فرماتے ہیں ۔۔۔؟

مجذوب حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے فیض کا ذریعہ

شیخ الوظائف دامت برکاتہم تمام اولیائے کرامؒ کا ادب سکھاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ مجاذیب کے ساتھ کبھی بے ادبی نہ کرنا یہی حقیقت ہے اور یہ ادب ہمارے تمام اکابرؒ کی زندگی میں تھا۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ فرماتے ہیں حافظ مرتضیٰ مجذوب مقیم پانی پتؒ سالک مجذوب تھے، حالتِ سلوک میں ان کو جذب ہوگیا تھا ہماری بستی میں اکثر آیا کرتے تھے۔ ایک غل ہوا کہ غلام مرتضیٰ پتھر مار رہے ہیں۔ میں ان کے پاس گیا۔ مجھ کو دیکھ کر انہوں نے پتھر مارنا چھوڑ دیئے اور مجھے قریب بلایا میرے ہاتھ میں کوئی کتابِ عشق تھی، اس کے اوراق کھلوائے گئے جب اس شعر پر نظر پڑی۔

عشق اوّل! عشق آخر! عشق کل! عشق شاخ وعشق نخل وعشق گل

مجھ کو اشارہ کیا اور بشارتِ غلبہء توحید کی دی، فرمایا کہ جو اسرارِ توحید میری زبان سے بے ساختہ نکل جاتے ہیں یہ اسی بشارت کا ثمرہ ہے۔

شیخ الوظائف دامت برکاتہم تعلیماتِ اکابرؒ کے علمبردار ہیں اور مجاذیب کا ادب تمام مکاتبِ فکر کے اکابرین کی زندگی میں موجود ہے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026