مجذوب حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے فیض کا ذریعہ
شیخ الوظائف دامت برکاتہم تمام اولیائے کرامؒ کا ادب سکھاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ مجاذیب کے ساتھ کبھی بے ادبی نہ کرنا یہی حقیقت ہے اور یہ ادب ہمارے تمام اکابرؒ کی زندگی میں تھا۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ فرماتے ہیں حافظ مرتضیٰ مجذوب مقیم پانی پتؒ سالک مجذوب تھے، حالتِ سلوک میں ان کو جذب ہوگیا تھا ہماری بستی میں اکثر آیا کرتے تھے۔ ایک غل ہوا کہ غلام مرتضیٰ پتھر مار رہے ہیں۔ میں ان کے پاس گیا۔ مجھ کو دیکھ کر انہوں نے پتھر مارنا چھوڑ دیئے اور مجھے قریب بلایا میرے ہاتھ میں کوئی کتابِ عشق تھی، اس کے اوراق کھلوائے گئے جب اس شعر پر نظر پڑی۔
عشق اوّل! عشق آخر! عشق کل! عشق شاخ وعشق نخل وعشق گل
مجھ کو اشارہ کیا اور بشارتِ غلبہء توحید کی دی، فرمایا کہ جو اسرارِ توحید میری زبان سے بے ساختہ نکل جاتے ہیں یہ اسی بشارت کا ثمرہ ہے۔
(شمائم امدادیہ، ملفوظات حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ناشر: دو قومی پریس لکھنو۔ کتاب: بیس بڑے مسلمان ص 104، مصنف: حافظ عبدالرشید ارشد، ناشر: مکتبہ رشیدیہ لاہور۔ مجاذیب کی پراسرار دنیا ص 83، تالیف: مولانا محمد روح اللہ نقشبندی غفوری، ناشر: مکتبہ عمر فاروقؒ کراچی)
