(مولانا صوفی محمد اجمل صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ)
تسبیح خانہ لاہور میں ہفتہ وار درس کے بعد ہونے والے نکاح کے موقع پر چھوہارے لٹانے کے بارے میں بہت سے لوگ پوچھتے ہیں تو آج اکابر پر اعتماد کے دوستوں کو مفتیانِ کرام کی رائے سے آگاہ کرتا ہوں کہ تسبیح خانہ لاہور میں ہونے والا یہ عمل شریعت میں جائز اور مستحب ہے۔
دارالعلوم کا فتویٰ
خوشی کے موقع پر دعوت اور شیرینی کی تقسیم مشروع ہے؛ اس لیے نکاح (جو ایک خوشی کا موقع ہے) کے موقع پر چھوہارہ یا کوئی اور چیز لٹانے یا تقسیم کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ حاضرین کو تکلیف نہ ہو۔ (دارالافتاء، دارالعلوم)
امیر اھلسنت اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان (بریلوی) صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ
نکاح کے بعد چھوہارے لٹانے کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی صاحبؒ فرماتے ہیں: ”حدیث شریف میں لوٹنے کا حکم ہے اور لٹانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔“
اور یہ حدیث دارِقطنی و بیہقی و طحاوی سے مروی ہے (السنن الکبیر للبیہقی کتاب الصداق باب ماجاء فی النثار… الخ * الحدیث 14682 / جلد 7 ص 469)
خانقاہ تسبیح خانہ لاہور میں نکاح کے موقع پر چھوہارے لٹانے کی شرعی حیثیت(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت حصہ سوم ص 347) از قلم حضرت علامہ ومولانا محمد اسماعیل خان امجدی مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہیدِ اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی)
مفتی مولانا رضا الحق صاحب کا فتویٰ
جنوبی افریقہ کے مشہور عالم دین اور مفتی مولانا رضا الحق صاحب فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص خوشی (نکاح) کے موقع پر مسجد کے احترام کا لحاظ رکھتے ہوئے اور وہاں کے لوگ بھی اس سے مانوس ہوں تو مسجد میں چھوہارے لٹانا جائز ہے۔ (فتاویٰ جنوبی افریقہ)
امیر اھلسنّت حضرت مولانا الیاس عطار قادری (بریلوی) صاحب کا فتویٰ
امیر اھلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے بیٹے حضرت مولانا ابو اسید عُبید رضا عطاری مَدَنی کا جس وقت نکاح پڑھایا تو اسکے بعد پھر چھوہارے لٹائے گئے اس کی تائید میں مولانا الیاس قادری صاحب نے فرمایا کہ نکاح کے بعد چھوہارے لٹانے کے بارے میں اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”حدیث شریف میں لوٹنے کا حکم ہے اور لٹانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔“
(احکامِ شریعت ص ۲۳۲)
مدرسہ عثمانیہ جامعہ معھد ملت، مالیگاؤں کا فتویٰ
نکاح کے بعد مسجد کے احترام اور لوگوں کو تکلیف سے بچاتے ہوئے چھوہارے بکھیرنا اور لٹانا جائز اور مستحب ہے (عثمانی فتاویٰ)
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کا فتویٰ
اگر کوئی شخص مسجد کا احترام اور تقدس کا لحاظ کرتے ہوئے نکاح کے موقع پر چھوہارے لٹاتا ہے تو یہ جائز اور مباح ہے۔
(دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری)
دارالافتاء ندوۃ العلماء کا فتویٰ
نکاح کے موقع پر حضرت حسن بصریؒ اور امام شعبیؒ چھوہارے کے لٹانے اور لوٹنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ (دارالافتاء ندوۃ العلماء)
مکتب اھلِ حدیث میں نکاح کے بعد چھوہارے لٹانے کا ثبوت
علامہ عبدالرحمن محدث مبارکپوریؒ، شیخ الکل حضرت میاں سید نذیر حسین دہلویؒ کے نامور شاگرد ہیں۔ آپ اپنے وقت کے بہت بڑے محدث، مفسر، محقق، مدرس، مفتی، ادیب اور نقاد تھے۔ جامع الترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی ان ہی کی تصنیف ہے۔ آپ اپنی کتاب ”النکاح والطلاق“ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ: حضرت ابو بکر اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی درخواست کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پیغمبر خدا ﷺ سے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا پیغام اپنے واسطے دیا، تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا: میرے رب نے بھی مجھے یہی حکم دیا ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ پھر مجھ کو آنحضرت ﷺ نے کئی روز بعد بلا کر فرمایا: اے انس! تم ابو بکر، عمر، عثمان، عبدالرحمن اور کچھ لوگ انصار میں سے بلا لاؤ۔ پھر جب یہ حضرات تشریف لائے اور اپنے اپنے مقام پر بیٹھے اور حضرت علیؓ وہاں موجود نہ تھے، تو آنحضرت ﷺ نے یہ خطبہ پڑھا:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الْمَحْمُودِ بِنِعْمَتِهِ، الْمَعْبُودِ بِقُدْرَتِهِ، الْبَالِغِ سُلْطَانُهُ، الْمَرْهُوبِ مِنْ عَذَابِهِ، الْمَرْغُوبِ إِلَى مَا عِنْدَهُ، النَّافِذِ أَمْرُهُ فِي سَمَائِهِ وَأَرْضِهِ، الَّذِي خَلَقَ الْخَلْقَ بِقُدْرَتِهِ، وَمَيَّزَهُمْ بِأَحْكَامِهِ، وَأَعَزَّهُمْ بِعِزَّتِهِ، وَأَكْرَمَهُمْ بِدِينِهِ، وَأَكْرَمَهُمْ بِنَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ ﷺ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ الْمُصَاهَرَةَ نَسَبًا لَاحِقًا وَأَمْرًا مُفْتَرَضًا، وَشَبَّجَ بِهِ الْأَرْحَامَ، وَأَلْزَمَ الْأَنَامَ، فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا ۗ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا﴾. فَأَمْرُ اللَّهِ تَعَالَى يَجْرِي إِلَى قَضَائِهِ، وَقَضَاؤُهُ يَجْرِي إِلَى قَدَرِهِ، وَقَدَرُهُ يَجْرِي إِلَى أَجَلِهِ، وَلِكُلِّ قَضَاءٍ قَدَرٌ، وَلِكُلِّ قَدَرٍ أَجَلٌ، وَلِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ، يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ
اس کے بعد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ کو فاطمہؓ کا نکاح علیؓ کے ساتھ کر دینے کا حکم دیا ہے۔ سو تم لوگ اس بات پر گواہ رہو کہ میں نے اس کا نکاح علیؓ کے ساتھ کر دیا۔ اور چار سو مثقال چاندی اس کا مہر ٹھہرایا۔ بشرطیکہ علیؓ بھی اس پر راضی ہو۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے ایک طباق بھر کر خشک چھوہارے منگوائے اور حاضرینِ مجلس سے فرمایا کہ ان کو لوٹ لو۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی وجہ سے وہ چھوہارے لوٹ لیے۔ اتنے میں حضرت علیؓ بھی آپہنچے، تو آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ کے روبرو مسکرائے، پھر فرمایا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے حکم بھیجا ہے کہ فاطمہ کا نکاح تمھارے ساتھ چار سو مثقال چاندی کے مقابلے میں کر دوں۔ کیا تم اس پر راضی ہو؟ انھوں نے کہا کہ بے شک یا رسول اللہ، میں اس پر راضی ہوں۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
جَمَعَ اللَّهُ شَمْلَكُمَا وَأَعَزَّ جَدَّكُمَا، وَبَارَكَ عَلَيْكُمَا وَأَخْرَجَ مِنْكُمَا كَثِيرًا طَيِّبًا
ترجمہ: ”اللہ تم دونوں کی کوشش کو عزیز کرے اور تم پر برکت نازل کرے اور تم کو اچھی یا پاکیزہ اولاد دے۔“
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ خدا کی قسم! ان دونوں سے اللہ تعالیٰ نے بہت پاکیزہ اور بہتر اولاد پیدا کیں۔
بحوالہ: مواھب لدنیہ، بحوالہ کتاب: النکاح والطلاق، صفحہ 148 مطبوعہ: دار الکتب الاسلامیہ، نئی دہلی
تسبیح خانہ اہل علم حضرات کی سرپرستی میں ہے اور اس پر اکابرینِ امت کی چھاؤں ہے اور تعلیماتِ اکابرین ہی اس کیلئے سرمایۂ افتخار ہے۔
