کچھ عرصہ قبل ماہنامہ عبقری جو کہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی سرپرستی میں شائع ہونے والا ہر دلعزیز رسالہ ہے اس میں ایک درود پاک شائع کیا گیا
’’ اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ اجْزِ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ھُوَ اَھْلُہٗ ‘‘
اس درود پاک کی علمی اور سندی حیثیت جانتے ہیں۔
اس درود شریف کو امام ابن حجر ہیتمی رحمۃ اللہ نے اپنی تصنیف "الدر المنضود فی الصلاۃ والسلام علی صاحب المقام المحمود” میں اور امام سخاوی رحمۃ اللہ نے اپنی تصنیف "القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع” میں نقل کرتے ہوئے بعض اہل علم کے قول کے مطابق اسے افضل ترین درود قرار دیا ہے۔
جب کہ امام سیوطی رحمۃ اللہ نے "الحاوی للفتاوی” میں بروایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ مرفوعاً مذکورہ درود مع فضیلت نقل کیا ہے، تاہم مذکورہ تینوں محدثین نے مذکورہ درود شریف کی روایتی حیثیت سے تعرض نہیں کیا ہے، بلکہ سکوت اختیار کیا ہے، لہٰذا مذکورہ درود شریف کو بے اصل قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، امام سیوطی رحمۃ اللہ نے چوں کہ مرفوعاً نقل کیا ہے، لہٰذا اسے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرار دینا درست ہوگا۔
نیز جمہور محدثین وفقہاء کرام کے نزدیک ضعیف حدیث کو فضائلِ اعمال، ترغیب و ترہیب، قصص اور مغازی وغیرہ میں نقل بھی کیا جاسکتا ہے اور اس پر عمل بھی جائز ہوتا ہے، بشرطیکہ موضوع (من گھڑت) نہ ہو، ایسا ہی امام عبدالرحمان بن مہدی اور امام احمد رحمہم اللہ سے منقول ہے، امام بیہقی رحمۃ اللہ نے امام عبدالرحمان بن مہدی رحمۃ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حلال و حرام اور احکام کے سلسلہ میں کچھ نقل کرتے ہیں، تو ہم سندِ حدیث کی چھان بین میں خوب سختی کرتے ہیں، اور راویوں پر خوب جرح و نقد کرتے ہیں، اور جب ہم فضائلِ اعمال، ثواب و عقاب کے حوالے سے روایت کرتے ہیں تو اسنادِ حدیث میں نرمی کرتے ہیں، اور راویوں کے بارے میں تسامح سے کام لیتے ہیں۔
امام نووی رحمۃ اللہ نے فضائلِ اعمال کے حوالے سے ضعیف حدیث پر عمل کے جواز پر محدثین و دیگر اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے۔ (محترم قارئین دیکھا آپ نے عبقری کا ہر عمل قرآن سنت اور تعلیماتِ اکابر کا علمبردار ہے)
