پیرانِ پیر کو ’’غوث اعظم‘‘ کہنا ٹھیک ہے یا نہیں؟؟ شیخ الوظائف غوث الاعظم کیوں کہتے ہیں۔۔۔!

شیخ الوظائف اپنے حلقہ کشف المحجوب جو کہ ہر انگریزی مہینے کے آخری اتوار کو تسبیح خانہ لاہور میں صبح 8 بجے ہوتا ہے اس میں پیرانِ پیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ کو کئی مرتبہ غوث اعظم کے لقب سے یاد فرماتے ہیں جو کہ تعلیماتِ اکابر کے عین مطابق ہے۔

  • حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب ’’امداد المشتاق‘‘ کے صفحہ 44 پر حضرت امداد اللہ مہاجر مکیؒ کا قول بیان فرماتے ہیں کہ حضور سیدنا غوث الاعظم رحمۃ اللہ کے کچھ مریدین کشتی میں سفر کر رہے تھے، آپ اس وقت کچھ اولیاء کے ہمراہ بغداد میں موجود تھے، کشتی طوفان میں غرق ہونے لگی تو حضور غوث الاعظم رحمۃ اللہ نے توجہِ باطنی سے اس کشتی کو غرق ہونے سے بچا لیا۔
  • حضرت حکیم الامتؒ لکھتے ہیں: ایک دن حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ سات اولیاء اللہ کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے، ایک دم نظرِ بصیرت سے ملاحظہ فرمایا کہ ایک جہاز قریب غرق ہونے کے ہے، آپ نے توجہِ باطنی سے اس کو غرق ہونے سے بچا لیا۔

شیخ الوظائف دامت برکاتہم تو اولیائے کرام رحمہم اللہ کے القابات بھی اپنی مرضی سے نہیں دیتے وہی دیتے ہیں جو کہ تعلیماتِ اکابر میں منقول ہوں۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026