کیا روضہ اقدس ﷺ کی زیارت کیلئے سفر کرنا جائز ہے؟ شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے ایک بڑا ثواب بتا دیا۔۔!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے 22 اکتوبر 2020ء کو تسبیح خانہ لاہور میں ہونے والے درس میں ایک علمی بحث سے پردہ اٹھایا اور فرمایا کہ لوگوں کو چاہیے کہ روضہ اقدس ﷺ کی زیارت کی نیت سے مدینہ منورہ کا سفر کریں۔ اہل علم حضرات کیلئے ایک علمی بحث پیش خدمت ہے:

جمہور اُمت کے نزدیک قبرِ اطہر ﷺ کی زیارت میں سے ہے اور بڑا کارِ ثواب ہے؛ کیونکہ روضہ میں روایات بہ کثرت وارد ہیں، دوسری ہر حاجی مکہ کا ایک لاکھ نمازوں کا ثواب چھوڑ ظاہر ہے کہ حجاج صرف مسجدِ نبوی ﷺ کی روضہ اقدس ﷺ پر حاضری ہوتی ہے اور چنانچہ ابن ہمام رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔

کے لیے سفر کرنا نہ صرف جائز ہے؛ بلکہ اہم عبادتوں اقدس ﷺ کی زیارت کی فضیلت کے بارے بات یہ کہ پوری امت کا یہ تعامل چلا آرہا ہے کہ کر چار سو میل طویل سفر کر کے مدینہ جاتا ہے، زیارت کے لیے نہیں جاتے؛ بلکہ ان کا مقصود تعامل ایک مستقل دلیل ہے،

یعنی میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ خالص زیارت کی نیت کرے؛ کیونکہ حدیث لا تعملہ حاجة الا زیارتی (کہ میری زیارت کے سوا کوئی حاجت اس کو نہ لائی ہو) کے ظاہر کے موافق ہے (فتح القدیر: 3 / 180) اور شیخ الحدیث مولانا خلیل احمد سہارنپوری علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہی علماء اہلسنت کا مسلک نقل کیا ہے:

عندنا و عند مشائخنا زیارة قبر سید المرسلین (روحی فداہ) من أعظم القربات و أہم المثوبات و أنجح لنیل الدرجات بل قریبة من الواجبات، و إن کان حصولہ بشد الرحال و بذل المہج و الأموال و ینوی وقت الارتحال زیارة علیہ الف الف تحیة و سلام و ینوی معہا زیارة مسجدہ صلی اللہ علیہ وسلم

یعنی ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک زیارتِ قبرِ سید المرسلین ﷺ (ہماری جان آپ پر قربان) اعلیٰ درجہ کی قربت اور نہایت ثواب اور سببِ حصولِ درجات ہے؛ بلکہ واجب کے قریب ہے، گو شدِ رحال اور بذلِ جان و مال سے نصیب ہو اور سفر کے وقت آپ کی زیارت کی نیت کرے اور ساتھ میں مسجد نبوی وغیرہ کی نیت کرے۔ (المہند علی المفند: 27)

جی ہاں! شیخ الوظائف کی سو فیصد کوشش ہے کہ اکابر کی تعلیمات سے بال برابر بھی انحراف نہ کیا جائے اور یہی آپ کا پیغام ہے بس ضرورت اپنے اکابر کو پڑھنے اور سمجھنے کی ہے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026