’’تسبیح خانہ کا معمول ہے کہ روزانہ عصر کی نماز کے بعد ختمِ خواجگان کا عمل کیا جاتا ہے جمعرات والے دن مغرب کی نماز کے بعد بھی یہی عمل کیا جاتا ہے اس کا بنیادی مقصد بزرگانِ دین کی ارواحِ طیبات کو ایصالِ ثواب کیا جاتا ہے آج اکابرؒ پر اعتماد کے دوستوں کو اس کی وجہ بھی عرض کی جاتی ہے۔‘‘
ایصالِ ثواب ارواح سے فیض ملنے کا ذریعہ
مصنف ’’فضائلِ اعمال‘‘ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ نے ارشاد فرمایا: اکابرؒ کے لیے ایصالِ ثواب ضرور کیا کرو، اس سے ان کی ارواح متوجہ ہوتی ہیں اور ان کے فیوض و برکات ملتے ہیں۔ حاجی عبدالرحمن صاحب نو مسلم میرے تایا ابا کے زمانے میں اسلام لائے تھے ان کی بہت سی خصوصیات ہیں (جو سوانح محمد الیاسؒ میں مذکور ہیں)۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص بات عطا فرمائی تھی کہ ان کے ذریعہ بہت سے آدمی اسلام لائے۔
ایک مرتبہ دلی میں ایک تانگہ والے کے پاس گئے اس نے کہا کہ میری گاڑی میں جگہ نہیں ہے۔ بہر حال بہت جھگڑے کے بعد تانگہ والے نے بٹھایا۔ اللہ کی شان دلی سے نظام الدین پہنچے کہ وہ مسلمان ہو گیا۔ انہوں نے میرے چچا جانؒ کے انتقال پر ایک معمول یہ بنایا تھا کہ سورہ یٰسین پڑھ کر اور دو رکعت نفل پڑھ کر ایصالِ ثواب کیا کرتے تھے۔ ایک روز خواب میں دیکھا کہ چچا جانؒ نے فرمایا کہ میرے اکابرؒ کو چھوڑ دیتے ہو مجھے اس سے شرم آتی ہے کہ مجھے آپ ثواب پہنچاؤ اور دوسرے مشائخ کو نہ پہنچاؤ، ان کو بھی بخشا کرو۔۔۔!
بہر حال اکابرؒ کے لیے ایصالِ ثواب کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے تاکہ ان کے سامنے سرخروئی ہو سکے۔
(کتاب: ملفوظات شیخ الحدیثؒ، ص 281، ترتیب: مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن مدنی مدظلہ، ناشر: مکتبہ لدھیانوی)
