آپ ﷺ کے روحانی فیوضات اور برکات کے خواہشمند ضرور پڑھیں

تسبیح خانہ میں آپ ﷺ کو ایصالِ ثواب کیوں کیا جاتا ہے۔۔۔ راز سے پردہ ہٹ گیا۔۔۔!

آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی تمام خیروں اور بھلائیوں کا خزانہ ہے ہر نیکی کا راستہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی سے شروع ہوتا ہے تسبیح خانہ میں روزانہ آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں لاکھوں مرتبہ ذکر اور درود کا ہدیہ پیش کیا جاتا ہے اس پر شیطان اگر یہ وسوسہ ڈالے کے ایصالِ ثواب تو گناہ گاروں کو کیا جاتا ہے سرکارِ ﷺ کو ہمارے ایصالِ ثواب کیا ضرورت تو اس کا جواب ہم اپنی طرف سے دینے کے بجائے ایک علمی دارالافتاء کی جانب سے دیتے ہیں۔

ایصالِ ثواب کا معنی ہے "ثواب پہنچانا”۔ ایصالِ ثواب زندہ لوگوں کے لیے بھی جائز ہے، اور جو دنیا سے رحلت فرما چکے ہیں ان کے لیے بھی جائز ہے، ایصالِ ثواب مسلمان گناہ گار شخص کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے اور نیکوکار، متقی شخص کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے، ایصالِ ثواب کا مقصد صرف یہی نہیں ہے کہ اس سے مرنے والے کے گناہ معاف ہوں گے یا عذاب میں تخفیف ہو گی، بلکہ یہ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے، ایصالِ ثواب جہاں عذاب میں تخفیف کے لیے ہوتا ہے وہیں درجات کی بلندی کے لیے بھی ہوتا ہے، اس کا ثواب جس طرح اس شخص کو پہنچتا ہے جس کے لیے ایصالِ ثواب کیا گیا ہے بالکل اسی طرح نیک عمل کر کے ثواب پہنچانے والے کو بھی ملتا ہے، بہت سی احادیثِ مبارکہ یہ مضمون وارد ہے کہ جو نیک عمل یا سورۂ اخلاص وغیرہ پڑھ کر تمام وفات پا جانے والے مسلمان مرد اور عورتوں کو بخش دیتا ہے تو ان سب کے بقدر اس کو بھی اجر ملتا ہے، نیز جس کے لیے ایصالِ ثواب کیا جائے اس تک فرشتے پیغام پہنچاتے ہیں کہ فلاں شخص نے آپ کے لیے یہ تحفہ بھیجا ہے، جس سے وہ خوش ہوتا ہے، یہ ایک محبت، قربت، تعلق کی علامت ہوتی ہے، نیک لوگوں کو ایصالِ ثواب کرنے سے ان کے روحانی فیوضات اور برکات حاصل ہوتی ہیں۔

اب آپ ہی بتائیے جس جگہ کروڑوں سے زیادہ اعمال کا ہدیہ سرکارِ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہو اس جگہ سرکارِ ﷺ کے فیوضات اور انوارات کس قدر ہوں گے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026