انبیاءِ کرام اور اولیاءِ عظام کا وسیلہ دے کر دعا مانگنا شرک نہیں بلکہ قبولیت کا ایک ذریعہ ہے جس پر سالہا سال کے اولیاءِ کرام کا عمل تواتر سے چلا آ رہا ہے تمام اولیاءِ کرام کے سلاسل میں یہ توسل ذکر کیا جاتا ہے قرآن و سنت کے ساتھ چند حوالہ جات پیشِ خدمت ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ تسبیح خانہ سو فیصد اکابر کی ترتیب کو لے کر ہی چل رہا ہے۔
توسل بالذوات: یعنی اللہ سے کسی نبی علیہ السلام، صحابی رضی اللہ عنہ یا کسی ولی سے اپنے تعلق کا واسطہ دے کر دعا کرنا۔ یہ صورت بھی جمہور اہل سنت والجماعت کے نزدیک جائز ہے، چنانچہ قرآنِ کریم کی آیت سے ثابت ہے کہ بنوقریظہ اور بنونضیر کے یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے فتح و نصرت کی دعا کیا کرتے تھے۔ (البقرۃ: 89)
خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فقراءِ مہاجرین کے توسل سے دعا فرماتے تھے۔
(مشکوٰۃ: 2/ 447 قدیمی)
اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ قحط سالی کے سال حضرت عباس رضی اللہ عنہ (جو اس وقت حیات تھے) کے وسیلے سے دعا فرماتے تھے۔
(نیل الاوطار: 4/ 8 طبع مصر)
صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: "عن أنس بن مالك أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب رضي الله عنه فقال: اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا ﷺ فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا! قال: فيسقون.”
(صحیح البخاری، کتاب العیدین، ابواب الاستسقاء، باب سؤال الناس الامام الاستسقاء إذا قحطوا، (1/ 137) وکتاب المناقب، ذکر عباس بن عبد المطلب، (1/ 526) ط: قدیمی)
ترجمہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے دعا فرماتے تھے، چنانچہ یوں کہتے تھے: اے اللہ ہم آپ سے اپنے نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا کر کے بارش طلب کرتے تھے، اب آپ ﷺ کے چچا کے وسیلے سے آپ سے بارش کی دعا کرتے ہیں، چنانچہ بارش ہو جاتی۔
نیز رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اس نے اپنی تکلیف کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اسے اہتمام سے وضو کر کے دو رکعت پڑھنے کے ساتھ اپنے وسیلے سے دعا کرنے کے الفاظ تلقین فرمائے، چنانچہ اسی مجلس میں اس کی بینائی لوٹ آئی۔
(جامع ترمذی، معجم کبیر للطبرانی)
لہذا رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے دعا کرنا جائز، بلکہ اجابتِ دعا میں مؤثر ہے، دعا میں توسل کا ثبوت متعدد احادیث سے ہے۔ شفاء السقام للسبکی (ص: ۳۵۸) میں ہے:
"إن التوسل بالنبي صلى الله عليه وسلم جائز في كل حال قبل خلقه و بعد خلقه في مدة حياته في الدنيا و بعد موته في مدة البرزخ”۔
ترجمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا توسل ہر حال میں جائز ہے، چاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق سے پہلے ہو یا تخلیق کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیاوی زندگی میں ہو یا وصال کے بعد حیاتِ برزخی میں ہو۔ (سنن الدارمی 227/1)
"حدثنا أبو النعمان، حدثنا سعيد بن زيد، حدثنا عمرو بن مالك النكري، حدثنا أبو الجوزاء أوس بن عبد الله، قال: قحط أهل المدينة قحطًا شديدًا، فشكوا إلى عائشة فقالت: "انظروا قبر النبي صلى الله عليه وسلم فاجعلوا منه كوى إلى السماء حتى لا يكون بينه وبين السماء سقف، ففعلوا، فمطرنا مطرًا حتى نبت العشب، وسمنت الإبل حتى تفتقت من الشحم، فسمى عام الفتق۔”
ترجمہ اوس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے لوگ سخت قط (قحط) میں مبتلا ہو گئے تو انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اپنے حالات کی شکایت کی، آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس جاؤ اور اس کی ایک کھڑکی آسمان کی طرف اس طرح کھول دو کہ قبر مبارک اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ نہ رہے، راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو خوب بارش ہوئی۔ اور اس سال خوب سبزہ اُگا جس کی وجہ سے اونٹ اتنے موٹے ہو گئے کہ محسوس ہوتا کہ چربی کی وجہ سے پھٹ پڑیں گے۔ اس لیے اس سال کا نام ہی عام الفتق یعنی پیٹ پھٹنے کا سال رکھ دیا گیا۔
(تفسیر الآلوسی = روح المعانی (297/3):)
"وبعد هذا كله أنا لا أرى بأسا في التوسل إلى الله تعالى بجاه النبي صلى الله عليه وسلّم عند الله تعالى حيّا وميّتا، ويراد من الجاه معنى يرجع إلى صفة من صفاته تعالى، مثل أن يراد به المحبة التامة المستدعية عدم رده وقبول شفاعته، فيكون معنى قول القائل: إلهي أتوسل بجاه نبيك صلى الله عليه وسلّم أن تقضي لي حاجتي، إلهي اجعل محبتك له وسيلة في قضاء حاجتي. ” فقط والله اعلم
(فتویٰ نمبر: 144201201331 دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)
تسبیح خانہ کے ممبر سے ہر وہ چیز بیان کی جاتی ہے
جو قرآن وسنت اور تعلیماتِ اکابر میں موجود ہو۔
