روضۂ رسول ﷺ کی جالیوں میں خط ڈالا جنات کی چیخیں اور وعدوں پر اتر آئے

(مرکزی رہنما اور سفیر ختمِ نبوت۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب)

تسبیح خانہ کی آواز ایک عالمی آواز ہے شیخ الوظائف کی بنیادی کوشش ہی یہ ہے کہ ہمارے تانے مخلوق سے ہٹ کر اللہ اور اس کے رسول سے جڑ جائیں شیخ الوظائف نے اپنے دروس میں ایک بات فرمائی تھی کہ جب بھی روضۂ اقدس پر حاضری دیں تو امامِ انبیاء ﷺ کو اپنے دکھڑے سنائیں۔۔۔! کیا درج ذیل واقعہ شیخ الوظائف کے اس بیان کی بھرپور تائید نہیں کرتا۔۔۔؟

مولانا کاظمی کے والد گرامی مولانا سید بشیر احمد کاظمی دارالعلوم کے تلمیذِ رشید تھے۔ 46-1947ء میں دارالعلوم سے دورۂ حدیث شریف کیا اور اس دوران تقسیمِ ہند کا عمل ہوا۔ مولانا سید بشیر احمد شاہ کاظمیؒ نے 1950ء میں جامعہ سراج العلوم کے نام سے لودھراں شہر میں مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ اس وقت جامعہ کے مہتمم مولانا محمد میاں مدظلہ انہیں کے تلمیذِ رشید ہیں۔ مشکوٰۃ شریف تک کتابیں حضرت شاہ صاحبؒ سے پڑھیں۔ لودھراں کے قریب ایک قصبہ ”گوگڑاں شریف“ ہے، جہاں ایک بزرگ مولانا سید امام شاہؒ ہوتے تھے، جو پنجاب کے معروف بزرگ حضرت پیر مہر علی شاہؒ کے خلیفہ مجاز تھے۔ مولانا سید بشیر احمد شاہؒ نے انہیں سے مشکوٰۃ شریف تک کتابیں پڑھیں اور اپنے استاذ محترم مولانا سید امام شاہ کے حکم پر دارالعلوم میں داخلہ لیا اور سند و دستارِ فضیلت حاصل کی۔ مولانا سید بشیر احمد شاہؒ نے وقتاً فوقتاً تین نکاح کیے۔ پہلی بیوی سے مولانا سید احمد سعید کاظمی مدظلہ ہیں، نیز ایک اور بیوی سے معروف خوش الحان خطیب مولانا سید محمد اسماعیل شاہ کاظمی ہیں۔ نیز مولانا قاری سید عبدالکفیظ بھی ان کے فرزند ارجمند ہیں، مؤخر الذکر عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت لودھراں کے نائب امیر ہیں۔ سید احمد سعید کاظمی مدظلہ نے ایک عجیب واقعہ سنایا کہ جب ہمارے والدین گوگڑاں شریف میں رہائش پذیر تھے تو ہمارے گھر میں جنات کا بسیرا ہو گیا۔ بہت عامل حضرات نے کوششیں کیں، لیکن وہ جان و مکان نہیں چھوڑتے تھے۔ ملتان میں ایک عامل ماہرِ جنات و عملیات تھے۔ ان کی خدمت میں والد صاحب تشریف لے گئے، انہوں نے اپنی تلوار دی اور فرمایا کہ گھر میں لٹکا دیں۔ ان شاء اللہ العزیز جنات چھوڑ جائیں گے اور نہ چھوڑیں تو میری تلوار واپس کر دیں، چنانچہ شاہ صاحبؒ وہ تلوار لے کر آئے اور گھر میں لٹکا دی۔

دوسرے دن عامل تشریف لائے تو نیام خالی تھی اور تلوار نہ تھی، کچھ دن بعد تلوار نیام میں واپس آ گئی، تو عامل نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔ مولانا سید بشیر احمد شاہؒ عامل کو ملتان چھوڑ کر ٹرین کے ذریعہ لودھراں واپس آئے تو دیکھا کہ اسٹیشن پر کچھ حضرات گاڑی کے انتظار میں تشریف فرما ہیں اور وہ سفرِ حج کے لیے روانہ ہونے والے تھے، شاہ صاحبؒ نے رحمتِ عالم ﷺ کے نام خط لکھ کر حجاج کے سپرد کیا کہ یہ خط روضۂ اطہر ﷺ کی جالی کے اندر ڈال دیں، اس میں شاہ صاحبؒ نے اپنا دکھڑا تحریر کیا۔ حجاج کرام نے مدینہ طیبہ جا کر وہ خط جالی مبارک کے اندر ڈال دیا، ان دنوں اتنی سختی نہیں ہوتی تھی۔ شاہ صاحبؒ کی ہمشیرہ جو نہایت عابدہ وصالحہ سید زادی تھیں، انہیں خواب میں چند حضرات کی زیارت ہوئی، جن میں خلیفۃ الرسول بلا فصل سیدنا صدیقِ اکبر، سیدنا فاروقِ اعظم، سیدنا عثمانِ غنی، سیدنا علی المرتضیٰ اور حسنین کریمین (رضی اللہ عنہم اجمعین) انہوں نے فرمایا کہ آپ کے بھائی کا خط رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو مل چکا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجا ہے، ہم ایک ضروری کام کے لیے جا رہے ہیں، عنقریب جلد واپس ہوں گے اور جنات کو نکالیں گے۔ ایک رات گھر میں خوب شور بپا ہوا اور چیخ و پکار کی آوازیں بھی آئیں، ہمسائے تک گھروں سے نکل آئے اور انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ شاہ صاحبؒ کے گھر یہ آوازیں کیسی ہیں؟ سارے گھر والے جاگ گئے، لیکن وہ محترمہ جنہیں حضراتِ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی زیارت نصیب ہوئی، انہیں نہ جگایا گیا، کچھ دیر بعد وہ شور ختم ہوا، اتنے میں مائی صاحبہ بھی بیدار ہو گئیں اور انہوں نے بتلایا کہ حضراتِ کرام نے یہ پیغام ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے جنات کو مار کر بھگا دیا ہے، آئندہ کے لیے نہیں آئیں گے۔

وضاحت: ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اکابرین کی زندگی کو ضرور پڑھا کریں۔۔۔! وگرنہ اعتراض کا نشانہ ہمارے ہی اکابر بن جائیں گے۔۔۔۔!

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026