محترم قارئین! حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کی ترتیب میں ہے کہ اکثر سیاہ عمامہ پہنتے ہیں اور اس کا شملہ نہیں لٹکاتے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ صحیح احادیث میں اس عمل کا کیا ثبوت ہے؟ اور حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ مسنون حلیہ اپنانے کا کتنا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ ﷺ کے سرِ مبارک پر سیاہ رنگ کا عمامہ تھا (ترمذی، وقال ھٰذا حدیث حسن صحیح، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، بحوالہ کتاب الوفاء لا مام ابن جوزی صفحہ 527 جلد 2)
اس حدیث کی شرح میں حضرت مولانا روح اللہ نقشبندی صاحب لکھتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ سیاہ عمامہ باندھنا بھی شرعاً جائز بلکہ سنت ہے (بحوالہ کتاب: عمامہ کے فضائل و مسائل صفحہ 47 ناشر: مکتبہ دارالاشاعت، اردو بازار کراچی)
حضرت علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: جنگ اور غزوہ کے موقع پر حضور ﷺ کے سر پہ سیاہ عمامہ ہوتا تھا (بحوالہ: ایضاً)
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ جبریلؑ حضور ﷺ کے پاس تشریف لائے تو ان کے سر پہ کالا عمامہ تھا (بحوالہ: مجمع الزوائد جلد 5 صفحہ 123)
مصنف ابن ابی شیبہ میں بہت سارے صحابہ کرامؓ کے عمامے کا ذکر ہے، مثلاً راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علیؓ کے سر پہ کالا عمامہ دیکھا (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 8 صفحہ 234)
حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے دن حضرت علیؓ کالا عمامہ پہنے ہوئے تھے (ایضاً)
حضرت عمارؓ کے سر پہ بھی سیاہ عمامہ تھا (ایضاً)
حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے بھی سیاہ عمامہ پہنا ہوا تھا (ایضاً)
حضرت ابو الدرداءؓ کے سر پہ سیاہ عمامہ ہوتا تھا (ایضاً)
حضرت سلیمان بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اولین مہاجرین صحابہ کرامؓ کو دیکھا کہ وہ سر پہ کالے، سفید، سرخ، سبز اور پیلے رنگ کے سوتی عمامے باندھے ہوئے تھے (ایضاً)
حضرت واثلہؓ سر پہ سیاہ عمامہ باندھتے تھے (ایضاً)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے سر پہ کالا سوتی عمامہ باندھا (بحوالہ: عمدۃ القاری جلد 21 صفحہ 307)
اسی طرح حضرت عبداللہ بن بسرؓ فرماتے ہیں کہ خیبر کے موقع پر حضور ﷺ نے حضرت علی المرتضیٰؓ کو بھیجا تو ان کے سر پہ سیاہ عمامہ باندھا (ایضاً)
حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ بن سعد رازیؒ فرماتے ہیں کہ میرے دادا نے بخارا میں ایک صحابیؓ کو دیکھا، جو خچر پہ سوار تھے اور کالا عمامہ پہنے ہوئے فرما رہے تھے: یہ عمامہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے پہنایا ہے (بحوالہ: سنن ترمذی جلد 2 صفحہ 69)
وضاحت: ان صحابی کا نام حضرت عبداللہ بن خازمؓ تھا، جو خراسان کے امیر مقرر ہوئے۔۔
(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 8 صفحہ 236)
حضرت اسودؒ، حضرت حسن بصریؒ اور حضرت محمد بن حنفیہؒ کے سر پہ بھی سیاہ عمامہ ہوتا تھا (ایضاً)
حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: عمامہ باندھنے میں شملہ لٹکانا بہتر ہے، لیکن علماء نے شملہ نہ لٹکانے کو بھی جائز قرار دیا ہے (بحوالہ کتاب: جمع الوسائل جلد 1 صفحہ 168)
اسی طرح صاحبِ مرقاۃ المفاتیح لکھتے ہیں کہ: سیرتِ نبوی ﷺ کی صحیح روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضور ﷺ بعض اوقات عمامے کا شملہ لٹکاتے تھے اور بعض اوقات شملے کے بغیر ہی عمامہ باندھتے تھے (بحوالہ: مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8 صفحہ 146)
اور یہی فتویٰ دارالافتاء والتحقیق متصل جامعہ دارالتقویٰ چوہبرجی پارک لاہور کے مفتیانِ عظام کا ہے کہ بغیر شملے کے عمامہ باندھنا بھی جائز ہے۔
