(قاری محمد شعیب صاحب، فاضل جامعہ دارالقرآن، فیصل آباد)
مجھے ایک دوست کہنے لگا کہ درودِ تنجینا کا پڑھنا بدعت ہے کیونکہ یہ کسی حدیث میں منقول نہیں۔۔۔! تو میں نے اس سے ایک بات یہ کہی کہ ایک بات یہ یاد رکھیں کہ اگر درود کے معنیٰ ٹھیک ہوں تو اس کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں یہی ہمارے مفتیانِ کرام کی رائے ہے، عبقری اکابرین کا سچا ترجمان ہے جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کرتا سو فیصد تعلیماتِ اکابرین کا ہی پرچار کرتا ہے ”اکابر پر اعتماد“ کے دوستوں کیلئے چند حوالہ جات پیشِ خدمت ہیں:
جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ
وہ درود جن کے الفاظ احادیث میں منقول تو نہیں، مگر معنیٰ کے اعتبار سے درست ہیں اور درود شریف میں تنوع پیدا کرنے کے لیے بزرگوں سے منقول ہیں، اس قسم کے درود کا پڑھنا بھی جائز ہے۔ درودِ تنجینا کا پڑھنا بھی جائز ہے۔
درودِ تنجینا کا ماخذ:
مشہور ادیب اور مؤرخ امام عبدالرحمن الصفوری الشافعی رحمۃ اللہ نے اپنی مشہور کتاب "نزھۃ المجالس” میں اس درود کو ذکر فرمایا ہے کہ کسی اللہ والے کو سمندری سفر پیش آیا کہ سخت طوفان شروع ہو گیا اور سب غرق ہونے کو تھے کہ ان کو نیند کا جھونکا آیا اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سواروں سے کہو! کہ یہ (درودِ تنجینا) پڑھیں۔ چناں چہ ان کی آنکھ کھلی، پھر تمام لوگوں نے مذکورہ درود پڑھا۔ اللہ کے حکم سے طوفان تھم گیا۔ آگے مزید لکھا ہے کہ کثرت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا کریں؛ کیوں کہ اس کی برکت سے رکے معاملات حل ہو جاتے ہیں اور مصائب دور ہو جاتے ہیں۔
(نزھۃ المجالس و منتخب النفائس / جلد: 2 صفحہ: 86) بحوالہ (دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاؤن فتویٰ نمبر: 144004200315)
جامعۃ الرشید کا فتویٰ
درودِ تنجینا ہمارے بزرگوں سے منقول ہے لہٰذا اس کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے (دارالافتاء جامعۃ الرشید فتویٰ نمبر 53290)
مولانا یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ
بہر حال درودِ تنجینا درود شریف اچھا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے لیے کیا مشکل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس درود شریف کی برکت سے مشکلات آسان کر دے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل ج 4، ص 264، ط: مکتبہ لدھیانوی)
دارالافتاء دارالعلوم کا فتویٰ
مولانا عبدالرحمن صفوری شافعی رحمۃ اللہ نے اپنی مشہور کتاب نزہۃ المجالس میں اس درودِ تنجینا کو ذکر فرمایا ہے۔ (نزہۃ المجالس ومنتخب النفائس: 2 / 86) اور معانی کے اعتبار سے اس میں کوئی سقم نہیں ہے، لہٰذا اس کو پڑھ سکتے ہیں۔ ((دارالافتاء دارالعلوم 170234)
شیخ عمر بن علی بن سالم الفاکہانی نحوی مالکیؒ نے اپنی کتاب میں اس درود کو ذکر فرمایا ہے کہ کسی اللہ والے کو سمندری سفر پیش آیا، کہ سخت طوفان شروع ہو گیا اور سب غرق ہونے کو تھے کہ اس بزرگ کو نیند کا جھونکا آیا اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے شرفیابی ہوئی۔ حضور نے فرمایا: کہ سب سواروں سے کہو! کہ یہ (درودِ تنجینا) پڑھیں، چنانچہ میری آنکھ کھلی اور ہم تمام لوگوں نے مذکورہ درود پڑھا، اللہ کے حکم سے طوفان تھم گیا۔
(الفجر المنير ص 48، ط: تالیف: شیخ عمر بن علی بن سالم الفاکہانی نحوی مالکی، ناشر: دارالکتب العلمیہ بیروت)
اللہ کے فضل و کرم سے عبقری میں جو چیز بھی شائع ہوتی ہے اس کے پیچھے اہل اللہ اور اکابرینِ امت کی مہر ہوتی ہے جو کہ ہم سے زیادہ پڑھے لکھے اور سمجھدار تھے۔
