عبقری فیس بک پر شائع ہونے والے تعویذ پہننا کیسا ہے۔۔۔؟

(مولانا اجمل قادری صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ، فیصل آباد)

بہت سے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ عبقری رسالے، فیس بک اور سوشل میڈیا پر تعویذات شائع ہوتے ہیں کیا ان کا پہننا جائز ہے تو ایسے لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ عبقری میں وہی چیز شائع ہوتی ہے جو کہ اکابرین کی زندگی سے ثابت ہوتی ہیں یہ وہی لوگ اعتراض کرتے ہیں جنہوں نے اکابرین کی زندگی کو اور ان کی تعلیمات کو پڑھا نہیں ہوتا ایسے لوگوں کو ہم اپنی طرف سے کوئی جواب دینے کے بجائے ایک معتمد دارالافتاء کا جواب پیش کرتے ہیں:

سوال: کیا تعویذ کا باندھنا بدعت ہے چاہے وہ قرآن کی آیات ہو یا اور کچھ کیا نبی ﷺ نے کبھی کسی کو تعویذ دیا ہے

جواب نمبر: 43720 بسم اللہ الرحمن الرحیم

فتویٰ: 338-130 /3=L /1434 رقیہ اور تعویذ تین شرطوں کے ساتھ جائز ہے:

(1) یہ کہ وہ آیاتِ قرآنیہ اسمائے حسنیٰ وغیرہ پر مشتمل ہو۔

(2) عربی یا اس کے علاوہ ایسی زبان میں ہو جو معلوم المراد ہو۔

(3) یہ عقیدہ ہو کہ یہ تعویذ مؤثر بالذات نہیں ہے (اس کی حیثیت صرف دوا کی ہے) مؤثر بالذات صرف اللہ رب العزت ہیں۔

وقال ابن حجر: وقد أجمع العلماء على جواز الرقى عند اجتماع ثلاثة شروط أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه وصفاته وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى (فتح الباري: الطب والرقى بالقرآن والمعوذات: ۳۵۷/۳۵)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحتاً ایسے رقیے اور تعویذ کی اجازت دی ہے جس میں شرک نہ ہو:

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ، لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ. رواہ مسلم (مشکاۃ: ۲/۳۸۸)

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو تعویذ کے کلمات لکھ کر دیئے تھے جس کی وجہ سے ان کو پریشان کرنے والا شیطان ہلاک ہو گیا۔

وأخرج البيهقي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : فَقَالَ لِعَلِيٍّ رضی اللہ عنہ ا كْتُبْ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ رَبِّ الْعَالَمِينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. إِلَى مَنْ طَرَقَ الدَّارَ مِنَ الْعُمَّارِ وَالزُّوَّارِ وَالصَّالِحِينَ، إِلَّا طَارِقاً يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ لَنَا وَلَكُمْ فِي الْحَقِّ سَعَةً، فَإِنْ تَكُ عَاشِقاً مُولَعاً، أَوْ فَاجِراً مُقْتَحِماً أَوْ رَاغِباً حَقّاً أَوْ مُبْطِلاً، هَذَا كِتَابُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْطِقُ عَلَيْنَا وَعَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ، إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ وَرُسُلُنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ، اتْرُكُوا صَاحِبَ كِتَابِي هَذَا، وَانْطَلِقُوا إِلَى عَبَدَةِ الْأَصْنَامِ، وَإِلَى مَنْ يَزْعُمُ أَنَّ مَعَ اللَّهِ إِلَهاً آخَرَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ يُغْلَبُونَ، حم لَا يُنْصَرُونَ، حم عسق تَفَرَّقَتْ أَعْدَاءُ اللَّهِ، وَبَلَغَتْ حُجَّةُ اللَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (دلائل النبوة ما يذكر من حرز أبي دجانة: ۷/۱۱۸)

ایک اور حدیث میں ہے: عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ … وَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنِي هَذَا بِهِ لَمَمٌ مُنْذُ سَبْعِ سِنِينَ يَأْخُذُهُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَدْنِيهِ فَأَدْنَتْهُ مِنْهُ فَتَفَلَ فِي فِيهِ وَقَالَ: اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ. (رواه الحاکم فی المستدرک)

اس کے علاوہ صحابہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ وغیرہ اور ان کے علاوہ تابعین میں حضرت عطا وغیرہ اس کے جواز کے قائل تھے، اور آج بھی اس پر لوگوں کا عمل ہے:

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعلمهم من الفزع كلمات: أعوذ بكلمات الله التامة، من غضبه وشر عباده، ومن همزات الشياطين وأن يحضرون. وكان عبد الله بن عمر يعلمهن من عقل من بنيه، ومن لم يعقل كتبه فأعلقه عليه. (أبوداؤد: ۳۸۹۳، والترمذی: ۳۵۲۸ وقال:) حسن غریب، اور علامہ شامی لکھتے ہیں: اخْتُلِفَ فِي الِاسْتِشْفَاءِ بِالْقُرْآنِ بِأَنْ يُقْرَأَ عَلَى الْمَرِيضِ أَوْ الْمَلْدُوغِ الْفَاتِحَةُ، أَوْ يُكْتَبَ فِي وَرَقٍ وَيُعَلَّقَ عَلَيْهِ أَوْ فِي طَسْتٍ وَيُغْسَلَ وَيُسْقَى. وَعَنْ النَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنَّهُ كَانَ يُعَوِّذُ نَفْسَهُ قَالَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-: وَعَلَى الْجَوَازِ عَمَلُ النَّاسِ الْيَوْمَ، وَبِهِ وَرَدَتْ الْآثَارُ (شامی: ۹/۵۲۳)

واضح رہے کہ تعویذ میں جس طرح پڑھ کر دم کرنا جائز ہے اسی طرح قرآنی آیات وغیرہ کو کسی کاغذ پر لکھ کر اس کو باندھنا بھی جائز ہے، علامہ سیوطی تحریر فرماتے ہیں: وأما قول ابن العربي: السُّنَّة في الأسماء والقرآن الذکر دون التعلیق فممنوع (فیض القدیر: ۶/۱۰۷)

جہاں تک ان احادیث کا تعلق ہے جن میں تمیمہ کو لٹکانے پر شرک کا حکم مذکور ہے، جیسا کہ امام سیوطی کی جامع صغیر میں ہے: من تعلق شيئا وكل إليه (فیض القدیر: ۶/۱۰۷)

اسی طرح دوسری حدیث میں ہے: من علق ودعة فلا ودع الله ومن علق تميمة فلا تمم الله له (فیض القدیر: ۶/۱۸۱) تو یہ اس صورت پر محمول ہیں جب کہ اسی تعویذ کو نافع و ضار سمجھا جائے، جیسا کہ لوگ زمانہ جاہلیت میں اعتقاد رکھتے تھے، یا ان سے مراد ایسے تعویذ ہیں جن میں الفاظ شرکیہ یا ایسے الفاظ ہوں جن کے معنی معلوم نہ ہوں۔

ان حدیثوں کی شرح کرتے ہوئے علامہ سیوطی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: أو المراد من علق تميمة من تمائم الجاهلية يظن أنها تدفع أو تنفع فإن ذلك حرام والحرام لا دواء فيه وكذا لو جهل معناها وإن تجرد عن الاعتقاد المذكور فإن من علق شيئا من أسماء الله الصريحة فهو جائز بل مطلوب محبوب فإن من وكل إلى أسماء الله أخذ الله بيده. (فیض القدیر: ۶/۱۰۷)

واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026